الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بابُ مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْقَادِمِ
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8317M
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا طَلَعَ يَعْنِي سَعْدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْكُمْ فِيهِمْ الْحَدِيثَ
۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو اور انہیں نیچے اتارو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا سید اور سردار تو اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو۔ پس انھوں نے ان کو اتارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ …۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8317M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11703»
وضاحت: فوائد: … ذہن نشین کر لیں کہ صحابہ کرام کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑا ہونا محض ان کی تعظیم کے لیے نہیں تھا، بلکہ ان کو گدھے سے اتارنے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا، کیونکہ وہ غزوۂ خندق کے موقع پر زخمی ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11703
حدیث نمبر: 8318
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کو کوئی شخص زیادہ پیارا نہ تھا، لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے تھے تو وہ کھڑے نہ ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کو پسند نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8318]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12370»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12370
حدیث نمبر: 8319
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ بَيْتًا فِيهِ ابْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ اجْلِسْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الْعِبَادُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ وَفِي لَفْظٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
۔ ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ابن عامر اور ابن زبیر بھی موجود تھے، ابن عامر تو کھڑے ہو گئے، لیکن ابن زبیر بیٹھے رہے، ان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بھی بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کی یہ خواہش ہو کہ بندے اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا گھر دوزخ میں تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8319]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16955»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث کے فوائد میں اس حدیث کا ذکر کیا جا چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16955