🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ وَالْالْتِرَامِ
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان¤مصافحہ اور معانقہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8308
عَنْ أَبِي دَاوُدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ وَأَخَذَ بِيَدِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي قَالَ تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ هَذَا بِكَ قَالَ قُلْتُ لَا أَدْرِي وَلَكِنْ لَا أَرَاكَ فَعَلْتَهُ إِلَّا لِخَيْرٍ قَالَ إِنَّهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ بِي مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ فَسَأَلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي فَقَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيُسَلِّمُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا
۔ ابو داؤد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8308]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابوداود نفيع بن الحارث الاعمي متروك، أخرجه الطبراني في الاوسط: 7626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18747»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8309
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَلَغَنِي حَدِيثٌ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الشَّامَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُلْتُ نَعَمْ فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ قُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8309]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 437، والبخاري في الادب المفرد: 970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16138»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں قیامت کے دن قصاص اور بدلا دلانے کا ذکر ہے، یہاں اس کو ذکر کرنے کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ نے آپس میں معانقہ کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ أَوَّلِ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةً وَكَرَاهَةِ مُصَافَحَةِ النِّسَاءِ
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8310
عَنْ حُمَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ فَلَمَّا أَنْ قَدِمُوا تَصَافَحُوا فَكَانُوا هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کل تمہارے پاس وہ لوگ آنے والے ہیں، جن کے دل اسلام کے لئے تم سے بھی زیادہ رقت آمیز ہیں۔ پس اشعری قبیلہ کے لوگ آئے، ان میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو وہ یہ رجز پڑھنے لگے: غَدًا نَلْقَی الْأَحِبَّہْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہْ … (کل ہم اپنے پیاروں کو ملیں گے، یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ)، پس جب وہ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا، یہ سب سے پہلے لوگ تھے، جنہوں نے مصافحہ کا طریقہ ایجاد کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8310]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 7193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12610»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا وفد مدینہ منورہ میں فتح خیبر کے بعد آیا تھا یہ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں بغیر غزوہ میں شرکت کئے حصہ غنیمت ملا تھا۔ان کے دل خشیت الٰہی سے لبریز اور قبول حق میں تیز تھے وعظ و نصیحت سے جلد متاثر ہوئے تھے اور قسوت و سختی سے صحیح و سلامت تھے۔ اس لئے انہیں بہت زیادہ رقت والے قرار دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8311
عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَاءٍ نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا مَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا [سورة الممتحنة: ١٢] قَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُصَافِحُنَا قَالَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ
۔ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8311]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27549»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8312
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ فِي الْبَيْعَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیعت کرتے وقت عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8312]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6998»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8313
عَنْ عُرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسَاءَ بِالْكَلَامِ بِهَذِهِ الْآيَةِ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا [سورة الممتحنة: ١٢] قَالَتْ وَمَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں سے صرف زبانی بیعت لیا کرتے تھے اور اس آیت پر بیعت لیتے تھے کہ خواتین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گی … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا تھا، ما سوائے اس عورت کے کہ جس کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالک ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8313]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7214، ومسلم: 1866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25713»
وضاحت: فوائد: … چونکہ غیر محرم خاتون کو ہاتھ لگانا حرام ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت خواتین کے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7214
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب مَا جَاءَ فِي تَقْبِيْلِ الْيَدِ وَالْجَبْهَةِ
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8314
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبِي وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ قِيلَ لَهُمْ هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًا
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں:میرے باپ اور ان کے ساتھی ربذہ مقام میں اترے،وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے، انہیں بتلایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی یہاں ہیں، پس ہم ان کے پاس آئے ہم نے انہیں سلام کہا، پھر ان سے کچھ سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے اپنی پر گوشت ہتھیلی ہماے سامنے ظاہر کی، پس ہم ان کی طرف اٹھے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8314]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه الطبراني في الاوسط: 661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16666»

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8315
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً وَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ فَقُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ تَوْبَةٌ وَإِلَّا ذَهَبْنَا فَأَتَيْنَاهُ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ قَالَ لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ أَنَا فِئَتُكُمْ وَأَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ حَتَّى قَبَّلْنَا يَدَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8315]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد، أخرجه الترمذي: 1716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5384»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8316
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ يُقَبِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے رہا ہوں، میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کو ان پر پیش کیا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8316]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطراب اسناده ومتنه، أخرجه عبد الرزاق: 2394، والنسائي في الكبري: 7631، وابن ابي شيبة: 11/ 78، والطبراني: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22207»
وضاحت: فوائد: … مسئلہ کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہوں حدیث نمبر (۸۳۰۹)کے فوائد

الحكم على الحديث:
ضعيف لاضطراب اسناده ومتنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بابُ مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْقَادِمِ
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8317
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ قَالَ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ حُكْمَ الْمَلِكِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ کے یہودی سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر متفق ہو گئے،(یعنی وہ جو فیصلہ کریں گے، ان کو منظور ہو گا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، پس وہ گدھے پر سوار ہو کر آ گئے اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! یہ بنو قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں (اور بیویوں) کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد تم نے تو وہ فیصلہ کیا ہے، جو اللہ بادشاہ کا فیصلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8317]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4121، ومسلم: 1768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11185»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4121
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں