🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب آدَابِ الْإِسْتِبْدَانَ
اجازت لینے اور اس کی کیفیت اور آداب کے ابواب¤اجازت طلب کرنے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8288
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا قَالَ مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ أَنَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8288]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6250، ومسلم: 2155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14234»
وضاحت: فوائد: … غور کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری عادات و اطوار پر، کتنی سنجیدگی اور وقار ہے، چودہ صدیوں سے زیادہ عرصہ قبل ان عادات کو متعارف کروایا جا رہا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ النَّهْي عَنْ كَشْفِ السَّيْرِ أَوِ النَّظْرِ مِنْ قَبْلِ الاذن وَ وَعِيدِ فَاعِلِهِ
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8289
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ لَهُدِرَتْ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی پردہ کھولے اور اجازت سے پہلے کسی کے گھر میں نظر ڈالے، اس نے حد جتنا جرم کیا، اس کے لئے ایسا کرنا حلال نہیں تھا، اور اگر کوئی آدمی اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو اس کی آنکھ رائیگاں اور ہدر ہے، اگر کوئی آدمی اس دروازے پر سے گزرتا ہے، جس پر پردہ نہیں اور وہ اس گھر کی پردہ والی چیز دیکھ لیتا ہے تو اس پر غلطی کا الزام نہیں لگایا جائے گا، بلکہ ایسی صورت میں غلطی گھر والوں کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8289]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة، أخرجه الترمذي: 2707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21686»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8290
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سِتْرِ حُجْرَتِهِ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْظُرُنِي حَتَّى آتِيَهُ لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ پر لٹکے ہوئے پردے سے دیکھا، آپ کے ہاتھ میں کنگھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ یہ مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کے قریب آ کر اس کی آنکھ میں یہ کنگھی مار دیتا، نظر کی وجہ سے ہی اجازت لینے کو مشروع قرار دیا گیاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8290]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23221»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8291
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اطَّلَعَ عَلَى قَوْمٍ فِي بَيْتِهِمْ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے گا، ان کو اجازت ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8291]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7605»
وضاحت: فوائد: … قرآن و حدیث میں کسی کے گھر داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے پر زور دیا گیا ہے، حتی کہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی اجازت طلبی کے بغیر داخل ہونا ممنوع ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ النَّهْي عَنْ دُخُولِ مَنْزِلِ إِلَّا بِإِذْنِ صَاحِبِهِ، وَعَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر¤ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8292
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت پر مامور تھا، سو میں آپ کے پاس اجازت کے بغیر آ جاتا تھا، میں ایک دن (روٹین کے مطابق) داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! ایک نیا حکم نافذ ہو گیا ہے، پس تو اجازت کے بغیرمیرے پاس نہ آنا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8292]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 807، والطحاوي: 4/333، والبيھقي في شعب الايمان: 7795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13208»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8293
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّارُ حَرَمٌ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْكَ حَرَمَكَ فَاقْتُلْهُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا گھر تیرے لیے حرم کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے جو آدمی تیرے حرم میں (بغیر اجازت کے) داخل ہو جائے، اس کو قتل کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8293]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير القصاب، ومحمدُ بن سيرين لم يسمع من عبادة، أخرجه ابويعلي في مسنده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23153»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8294
عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهُ فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلَى سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8294]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17919»
وضاحت: فوائد: … یعنی شادی شدہ خاتون کی اجازت دے دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے پاس جانے سے پہلے اس کے خاوند سے اجازت طلب کی جائے اور پھر اس سے اجازت مانگی جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8295
عَنْ أَبِي صَالِحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَتْ لَهُ قَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا لَا قَالَ فَرَجَعَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا نَعَمْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ
۔ ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت تو دے دی، لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اِدھر علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی وہ نہیں ہیں،پس سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے، اور پھر دوبارہ اجازت طلب کی اور پوچھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں؟ کسی نے کہا: جی ہیں، پھر وہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: جب میں نہیں تھا تو آپ کیوں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8295]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابويعلي: 7348، وابن حبان: 5584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17977»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ کسی کے پاس جانے کے لیے یا کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ الإِسْتِعْدَانِ وَلَفْظِهِ وَالسَّلَامِ قبله
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8296
أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْفَتْحِ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ قَالَ الضَّحَّاكُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَقَالَ الضَّحَّاكُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ
۔ کلدہ بن حنبل کہتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے مکہ فتح کے وقت دودھ، ہرنی کے بچے کا گوشت اور چھوٹی ککڑیاں دے کر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی بلند وادی کی جانب تھے،میں سلام کہے اور اجازت لیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، السلام علیکم کہو اور پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں۔ عمرو نے بتایا کہ یہ واقعہ مجھے امیہ بن صفوان نے بتایا تھا، میں نے کلدہ سے نہیں سنا تھا، ضحاک اور ابن حارث نے کہا: یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے، ضحاک اور عبداللہ بن حارث نے دودھ اور ہرنی کے گوشت بھیجنے کا کہا ہے، ککڑی کا ذکرنہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8296]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15503»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8297
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَأَدْخُلُ فَعَرَفَ صَوْتِي فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ إِذَا أَتَيْتَ إِلَى قَوْمٍ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَإِنْ رَدُّوا عَلَيْكَ فَقُلْ أَأَدْخُلُ قَالَ ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، میں نے ان سے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: اے بیٹے! جب کسی قوم کے پاس آؤ تو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو، اگر وہ جواب دیں تو پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں، پھر انھوں نے اپنے بیٹے واقد کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹ رہا تھا، پس انھوں نے کہا: اپنا تہبند اوپر اٹھا لے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی تکبر سے اپنا لباس گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8297]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج المرفوع منه البخاري: 5783،ومسلم: 2085، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4884»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں