الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مُعَارَضَةِ جِبْرِيلَ وَالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْقُرآن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8449M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8449M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 559، وابويعلي: 2562، والنسائي في الكبري: 7994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3422»
وضاحت: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 559
6. بَابُ جَوَازِ نَسْحَ بَعْضِ الْقُرْآنِ وَالدَّلِيلِ عَلَى ذَلِكَ
قرآن مجید کے نسخ کا بیان
حدیث نمبر: 8450
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يَعْرِضُ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8450]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9179»
وضاحت: فوائد: … بعض آیات منسوخ ہو چکی تھیں، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کے نسخ کے قائل نہیں تھے، ممکن ہے کہ ان کو نسخ پر دلالت کرنے والی احادیث نہ ملی ہوں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں ایک آیت بھی پیش کر دی کہ قرآن مجید کا بعض حصہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ قرآن مجیدمیںنسخ کی درج ذیل صورتیںہیں: (۱)۔ قراء ت کا منسوخ ہو جانا، لیکن حکم کا باقی رہنا، جیسے اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِنْ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ (جب شیخ اور شیخہیعنی شادی شدہ مر دو زن زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے کمال حکمت والا ہے۔) (۲)۔ تلاوت کاباقی رہنا، لیکن حکم کا ختم ہو جانا، جیسے {وَعَلَی الَّذِینَیُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ} (اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں، مسکین کا فدیہ دینا) (۳)۔ قرائت اور حکم دونوں کا ختم ہو جانا، جیسے عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ (دس بار دودھ پینا حرام کرتا ہے)
پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4998
حدیث نمبر: 8451
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلِيٌّ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ كَثِيرًا مِنْ لَحْنِ أُبَيٍّ وَأُبَيٌّ يَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ أَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ لِشَيْءٍ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا [سورة البقرة: ١٠٦]
(8451م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا وَإِنَّ أُبَيًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ وَأُبَيٌّ يَقُولُ لَا أَدَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ
(8451م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا وَإِنَّ أُبَيًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ وَأُبَيٌّ يَقُولُ لَا أَدَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریں یا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیں یا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8451]
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8451]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4481، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21400»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سماع کے بعد بھی قرآن مجید کا ایسا حصہ یا حکم نازل ہوا، جس نے ان کی سنی ہوئی چیز کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن ان کو اس کا علم نہیں تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4481
حدیث نمبر: 8452
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَتَرَكَ آيَةً فَجَاءَ أُبَيٌّ وَقَدْ فَاتَهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَوْ أُنْسِيتَهَا قَالَ لَا بَلْ أُنْسِيتُهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8452]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21458»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہو گئیں تھی، بعض صحابہ کو ان کے نسخ کا علم نہیں تھا، لیکن ہمیشہ علم کو عدم علم پر مقدم سمجھا جاتا ہے، یعنی جس کو زائد چیز کا علم ہے، اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن خزيمة: 1647
7. بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ كَانَتْ فِي الْقُرْآنِ وَنُسِخَتْ
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
حدیث نمبر: 8453
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَمْ تَقْرَءُونَ سُورَةَ الْأَحْزَابِ قَالَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ آيَةً قَالَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الْبَقَرَةِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْهَا وَإِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8453]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضف يزيد بن ابي زياد الكوفي، وعاصم بن بھدلة، وان كان صدوقا، تقع له اوھام بسبب سوء حفظه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21525»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8453M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ أَوْ كَأَيِّنْ تَعُدُّهَا قَالَ قُلْتُ لَهُ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً فَقَالَ قَطُّ لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُعَادِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِيهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8453M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عاصم بن بھدلة، وان كان صدوقا، له اوھام بسبب سوء حفظه، فلايحتم تفرده بمثل ھذا المتن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 359، والطيالسي: 540، وابن حبان: 4428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21526»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8454
عَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ ابْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْتُبَانِ الْمَصَاحِفَ فَمَرُّوا عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَقَالَ زَيْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَكْتِبْنِيهَا قَالَ شُعْبَةُ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَا تَرَى أَنَّ الشَّيْخَ إِذَا لَمْ يُحْصَنْ جُلِدَ وَأَنَّ الشَّابَّ إِذَا زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ
۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص رضی اللہ عنہ اورسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8454]
تخریج الحدیث: «رجال ثقات۔ أخرجه الدارمي: 2323، والنسائي في الكبري: 7145، والحاكم: 4/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21932»
وضاحت: فوائد: … اس منسوخ آیت میں بوڑھے مرد اور عورت کا ذکر اتفاقاً کیا گیا ہے، کیونکہ عام طور پر اس عمر کے لوگ شادی شدہ ہی ہوتے ہیں، وگرنہ رجم کی سزا اس زانی کے لیے ہے، جو شادی شدہ ہو۔
الحكم على الحديث:
رجال ثقات ۔ أخرجه الدارمي: 2323
حدیث نمبر: 8455
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرًا فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ وَدَخَلَتْ دُوَيْبَّةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8455]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرّد محمد بن اسحاق، وفي متنه نكارة۔ أخرجه ابن ماجه: 1944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 36316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26847»
وضاحت: فوائد: … رضاعت کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ۔ … اس بارے میں جو قرآن میں نازل کیا گیا وہ دس بار مقرر شدہ دودھ پینا تھا، جو حرام کر دیتا تھا، پھر ان کو پانچ بار دودھ پینے سے منسوخ کردیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ان کو قرآن مجید میں پڑھا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۳۴)
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتفرّد محمد بن اسحاق
حدیث نمبر: 8456
عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ قَالَ فَقَرَأَ عَلَيَّ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ [سورة البينة: ١-٦] قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
(8456م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [سورة البينة: ١] قَالَ فَقَرَأَ فِيهَا وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ الْقَيِّمَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
(8456م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [سورة البينة: ١] قَالَ فَقَرَأَ فِيهَا وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ الْقَيِّمَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8456]
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8456]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3793، 3898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21522»
وضاحت: فوائد: … اس سورت کی درج ذیل آیات کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے: إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ … … لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ}
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 3793
حدیث نمبر: 8457
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَيُحَدِّثُنَا فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ … بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8457]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ھشام بن سعد المدني،يعتبر به في المتابعات والشواھد۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3300، والبيھقي في الشعب: 10277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22251»
وضاحت: فوائد: … یہ تمام آیات منسوخ ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل ھشام بن سعد المدني