الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ كَانَتْ فِي الْقُرْآنِ وَنُسِخَتْ
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
حدیث نمبر: 8458
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8458]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 5032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19495»
وضاحت: فوائد: … یہ آیات بھی منسوخ ہو گئی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 5032
حدیث نمبر: 8459
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ قَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ قَالَ فَمَرَّ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا فَأَثْبَتَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پاؤں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8459]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21428»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 8460
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
(8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ
(8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8460]
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8460]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ پھر دوسرے صحابہ کی گواہی کی وجہ سے ان آیات کو قرآن مجید سے مٹا دیا گیا ہو۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111
حدیث نمبر: 8461
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں بات کی، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8461]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مؤمل وعبد الاعلي۔ أخرجه الترمذي: 2950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2429»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مؤمل وعبد الاعلي ۔ أخرجه الترمذي: 2950
حدیث نمبر: 8462
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ [سورة آل عمران: ٧] فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوهُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے بچو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8462]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4547، ومسلم: 2665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24714»
وضاحت: فوائد: … یہ قراء صحابہ کی ایک جماعت تھی، جن کو سریۂ بئر معونہ میں قتل کر دیا گیا تھا، ان کی تفصیلیہ ہے: سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ نَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَ تَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَ نَّہُمْ قَدْأَ سْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَ مَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَ نْصَارِ، قَالَ أَ نَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُونَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَ تَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَ حْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِی لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنَا أَ نَسٌ أَ نَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِی حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۰۶۴، ۴۰۸۸، ۴۰۹۰، واللفظ لاحمد)
یہ بعض آیات کے منسوخ ہونے کی چند مثالیں تھیں۔
یہ بعض آیات کے منسوخ ہونے کی چند مثالیں تھیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4547
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَعِيْدِ مَنْ جَادَلَ بِالْقُرْآنِ أَوْ تَأَوَّلَهُ أَوْ قَالَ فِيهِ بِرَابِهِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8463
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابَ وَاللَّبَنَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْكِتَابِ قَالَ يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا فَقِيلَ وَمَا بَالُ اللَّبَنِ قَالَ أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8463]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 17/ 816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17451»
وضاحت: فوائد: … علم سے مراد یقینی دلیل، ظن غالب، نقلی دلیلیا شریعت کے مطابق عقلی دلیل ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 17/ 816
حدیث نمبر: 8464
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ قَالَ يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کی ہلاکت کا باعث کتاب اور دودھ ہے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! کتاب اور دودھ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں گے اور جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے اس کے علاوہ غلط تاویلیں کریں گے اورجانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر دیہاتوں میں چلے جائیں گے اورجماعت اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8464]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17551»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے میں جن لوگوں سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس سے مراد مذکورہ بالا آیت میں مذکور یہ لوگ ہیں: {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے۔ مسلمانوں کے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ان کی طرف توجہ نہ دھریں۔ مُحْکَمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر و نواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں، جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا، اس کے برعکس مُتَشَابِھَات ہیں، مثلا اللہ تعالی کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ،یعنی ما ورا عقل حقائق، جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لیے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں، جیسے عیسائی ہیں، قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو عبد اللہ اور نبی کہا ہے، یہ واضح اور محکم بات ہے، لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِھات کو بنیاد بناتے ہیں، ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور مُتَشَابِھات کے مفہوم کو بھی محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17551
حدیث نمبر: 8465
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اثْنَتَيْنِ الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ أَمَّا اللَّبَنُ فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ وَيَتْرُكُونَ الصَّلَوَاتِ وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ
۔ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اپنی امت پر دو چیزوں کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن مجید اوردودھ، لوگ ہریالی، سبزہ تلاش کریں گے خواہشات کی پیروی کریں گے نمازیں چھوڑ دیں گے اورقرآن مجید منافق قسم کے لوگ سیکھیں گے اور اس کو ذریعہ بنا کر ایمانداروں سے جھگڑیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8465]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17557»
وضاحت: فوائد: … دودھ کی تلاش میں دیہاتوں میں نکل جائیں گے، جس کا نتیجہ جماعت اور جمعہ کو چھوڑنے کی صورت میںنکلے گا، مزید اگلی دو روایات کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 818
حدیث نمبر: 8466
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ وَفِي رِوَايَةٍ كَمَا قَاتَلَ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی مرمت کے لئے پیچھے رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے رہے، پھر آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ اس قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کے مطابق لڑیں گے، جیسے میں لڑا ہوں۔ ہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کیونکہ ہمارے اندر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ آدمی تو جوتا مرمت کرنے والا ہے۔ پس ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری سنانے کے لیے ان کے پاس گئے، تو گویا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ پہلے ہی سنے ہوئے تھے (اس لیے خوشی کا اظہار نہیں کیا)۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8466]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 64، وابويعلي: 1086، وابن حبان: 6937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11795»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائی کی، پھر اپنے دورِ خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق خوارج سے لڑائی کی، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں بھی حق پر تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 64
حدیث نمبر: 8467
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
۔ سیّدناابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میںداخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ او رتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8467]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي له عن ابي امامة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22177، 22179)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22532»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب فیمن تأول القرآن او تدبرہ وھو جاھل بالسنۃ (اس شخص کے بیان میں، جو قرآن کی تاویل کرتا ہے یا اس میں غور و خوض کرتا ہے، جبکہ وہ سنت سے جاہل ہے) پھر انھوں نے کہا: تمام اہل بدعت نے سنتوں سے اعراض کیا اور قرآن مجید کی وہ تاویل بیان کی، جو سنتوں میں پیش کی گئی تفسیر کے مخالف ہے، پس وہ خود بھی گمراہ ہو گئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کر دیا۔ ہم اللہ تعالی کی رسوائی سے پناہ چاہتے ہیں اور اس سے توفیق اور عصمت و سا لمیت کا سوال کرتے ہیں۔ میں (البانی) کہتا ہوں: ان بدعتیوں کی گمراہی کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے اس فرمان سے غافل ہیں، جس میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منصب بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْیَتَفَکَّرُوْنَ} (سورۂ نحل: ۴۴) … اور ہم نے یہ ذکر (کتاب) آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا، آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں۔ (صحیحہ: ۲۷۷۸)
کتنے تعجب کی بات ہے کہ آج کل مخصوص فقہ کے دعویدار لوگ قرآن مجید کی آیات کا سہارا لے کر احادیث کو ردّ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سبحان اللہ! جس ہستی پر یہ کتاب ِ عظیم نازل ہوئی، جس شخصیت کو تشریحِ قرآن کا عہدہ سونپا گیا، اس کے فرمودات ِ عالیہ کا قرآن سے ٹکراؤ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ احادیث ِ نبویہ سے دوری، خواہش پرستی، مخصوص مسلک کی بے جا طرفداری اور اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ مزید اسی کتاب کے عنوان حدیث نبوی بھی حجت ہے کا مطالعہ کریں۔ رہا مسئلہ کہ دودھ کی وجہ سے ہلاکت کا، تو کیایہ درست ہو گا کہ دودھ سے مراد صرف (۱) دودھ ہی لیا جائے یا (۲) اس کی تمام مصنوعات، یایہ کہا جائے کہ (۳)دودھ کو بطور مثال ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ لوگ ماکولات و مشروبات کے پیچھے پڑ جائیں گے؟ اگر دودھ سے دودھ ہی مراد لیا جائے، تو ممکن ہے کہ ماضی میں ایسے لوگ رہے ہوں جنھوں نے دودھ کی وجہ سے مساجد سے بیزاری کا اظہار کیا ہو یا پھر مستقبل میں ایسے لوگوں کا وجود پایا جائے گا۔ اگر عصر حاضر کے لوگوں کے کردار پر
نگاہ ڈالی جائے تو تیسرا معنی زیادہ مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ لوگ ہوٹلوں، بالخصوص آبادی سے دور طعام گاہوں، آئس کریم مرکزوں اور کھیر گاہوں غرضیکہ زبان کے چسقوں اور دولت کی نمائش میں پڑ کر نماز اور جمعہ سے غافل ہو کر رہ گئے ہیں، ہر ایک مالدار کو بڑے بڑے ہوٹلوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کا علم ہے، جس کا وہ لحاظ بھی کرتا ہے، لیکن وہ جاہل ہو گا تو پانچ نمازوں کے اوقات سے، خطبۂ جمعہ کی ابتدا کے وقت سے اور ان گھڑیوں کے تقاضے پورے کرنے سے۔ مساجد کے قریب واقع ہوٹلوں میں دودھ سوڈے کے بہانے آدھی آدھی رات تک بیٹھیں رہیں گے، لیکن نمازِ عشا پڑھنے کی توفیق نہیں ہو گی۔ جنگلوں کی طرف نکل جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چراگاہوں میں جا کر دودھ تلاش کیا جائے۔
کتنے تعجب کی بات ہے کہ آج کل مخصوص فقہ کے دعویدار لوگ قرآن مجید کی آیات کا سہارا لے کر احادیث کو ردّ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سبحان اللہ! جس ہستی پر یہ کتاب ِ عظیم نازل ہوئی، جس شخصیت کو تشریحِ قرآن کا عہدہ سونپا گیا، اس کے فرمودات ِ عالیہ کا قرآن سے ٹکراؤ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ احادیث ِ نبویہ سے دوری، خواہش پرستی، مخصوص مسلک کی بے جا طرفداری اور اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ مزید اسی کتاب کے عنوان حدیث نبوی بھی حجت ہے کا مطالعہ کریں۔ رہا مسئلہ کہ دودھ کی وجہ سے ہلاکت کا، تو کیایہ درست ہو گا کہ دودھ سے مراد صرف (۱) دودھ ہی لیا جائے یا (۲) اس کی تمام مصنوعات، یایہ کہا جائے کہ (۳)دودھ کو بطور مثال ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ لوگ ماکولات و مشروبات کے پیچھے پڑ جائیں گے؟ اگر دودھ سے دودھ ہی مراد لیا جائے، تو ممکن ہے کہ ماضی میں ایسے لوگ رہے ہوں جنھوں نے دودھ کی وجہ سے مساجد سے بیزاری کا اظہار کیا ہو یا پھر مستقبل میں ایسے لوگوں کا وجود پایا جائے گا۔ اگر عصر حاضر کے لوگوں کے کردار پر
نگاہ ڈالی جائے تو تیسرا معنی زیادہ مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ لوگ ہوٹلوں، بالخصوص آبادی سے دور طعام گاہوں، آئس کریم مرکزوں اور کھیر گاہوں غرضیکہ زبان کے چسقوں اور دولت کی نمائش میں پڑ کر نماز اور جمعہ سے غافل ہو کر رہ گئے ہیں، ہر ایک مالدار کو بڑے بڑے ہوٹلوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کا علم ہے، جس کا وہ لحاظ بھی کرتا ہے، لیکن وہ جاہل ہو گا تو پانچ نمازوں کے اوقات سے، خطبۂ جمعہ کی ابتدا کے وقت سے اور ان گھڑیوں کے تقاضے پورے کرنے سے۔ مساجد کے قریب واقع ہوٹلوں میں دودھ سوڈے کے بہانے آدھی آدھی رات تک بیٹھیں رہیں گے، لیکن نمازِ عشا پڑھنے کی توفیق نہیں ہو گی۔ جنگلوں کی طرف نکل جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چراگاہوں میں جا کر دودھ تلاش کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره