🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ نُزُولِ الْقُرْآنِ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8440
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں کے مطابق نازل کیا گیاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8440]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20441»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8441
عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَيُّهَا قَرَأْتِ أَجْزَأَكِ
۔ سیدنا ام ایوب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، تم ان میں سے جو بھی پڑھو گی، وہ تجھے کفایت کرے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8441]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 340، وابن ابي شيبة: 10/ 515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28175»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الحميدي: 340
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8442
عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8442]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 742، والطبراني في الاوسط: 5246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21407»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابن حبان: 742
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8443
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: قراء توں کا یہ اختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے بارے میں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8443]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3219، 4991، ومسلم: 819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2375»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3219
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8444
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا وَفِي رِوَايَةٍ عَلِيمٌ حَكِيمٌ عَفُوٌّ رَحِيمٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر اتارا گیا ہے، جیسے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھنا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8444]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8372»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 3101
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ آخِرِ مَا نَزَلَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ وَآيَاتِهِ
اس کا بیان کہ قرآن کی سو رتوں اور آیات میں سے کون سا حصہ آخر میں نازل ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8445
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَامِلَةً بَرَاءَةُ وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ يَسْتَفْتُونَكَ إِلَى آخِرِهَا
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کامل سورت جو آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی وہ سورۂ براء ت ہے اور سب سے آخرمیں نازل ہونے والی آیت سورۂ نساء کی آخری آیت{یَسْتَفْتُونَکَ … } ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8445]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4364، 6744، ومسلم: 1618، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18841»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4364
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8446
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْقُرْآنُ
۔ سیدنا جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے،لہٰذا اس میں جو حلال پاؤ، اسے حلال سمجھو اورجس چیز کو اس میں حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو۔ پھر میں نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا: آپ کا اخلاق قرآن مجید تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8446]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مسلم: 1233 بلفظ: فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَ نْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَتْ أَ لَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلٰي قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم كَانَ الْقُرْآنَ۔ في حديث طويل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26063»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه مسلم: 1233 بلفظ: فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَ نْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَتْ أَ لَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلٰي قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم كَانَ الْقُرْآنَ۔ في حديث طويل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8447
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن مجید کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سود والی ہے، لیکن ہوا یوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک اس کی تفسیر نہیں کی تھی، پس سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو، اس کوبھی چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8447]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 246»
وضاحت: فوائد: … قرآن کے آخر میں نازل ہونے والے حصے کے بارے میں مزید روایات: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے آخر میں سورۂ توبہ کی آیت {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ … } نازل ہوئی، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۶۲۸)، لیکنیہ حدیث ضعیف ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آخِرُ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} … سب سے آخر میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم: ۵۳۴۹)
یہ کل چار پانچ روایات ہیں، ان میں جمع تطبیق کی صورت کیا ہے؟ جبکہ حافظ سیوطی نے الاتقان فی علوم القرآن میں اس قسم کے کئی آثار ذکر نے کے بعد کہا: ان اقوال کے ساتھ ساتھ اس آیت {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} کا مسئلہ بھی اشکال والا ہے، کیونکہیہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں نازل ہوئی، اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اس سے پہلے تمام فرائض اور احکام کی تکمیل ہو چکی تھی، …، حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ سود، قرض اور کلالہ والی آیت اس کے بعد نازل ہوئیں۔ قاضی ابو بکر نے الانتصار میں کہا: یہ اقوال ہیں، مرفوع احادیث نہیں ہیں، ہر صحابی نے اجتہاد اور ظن
غالب کی روشنی میں بات کی ہے (کہ فلاں سورت یا آیت سب سے آخر میںنازل ہوئی)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان اقوال کے قائلین کے مقاصد مختلف ہوں، مثلافلاں مضمون سے متعلقہ سب سے آخری آیتیہ ہے، سب سے آخر میں نازل ہونے والی مکمل سورت فلاں ہے، آیت فلاں ہے۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 2276
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مُعَارَضَةِ جِبْرِيلَ وَالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْقُرآن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8448
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْكِتَابَ عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ فَإِذَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ أَصْبَحَ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ فَلَمَّا كَانَ فِي الشَّهْرِ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ عَلَيْهِ عَرْضَتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6، 3220، 3554، ومسلم: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2042»
وضاحت: فوائد: … رمضان، قرآن مجید کا دور اور جبریل علیہ السلام سے ملاقات، ان امور کی برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ وفات والے سال دو بار دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ اور ہر قسم کی تبدیلی کا اچھی طرح پتہ چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ میں مزید جلاء آ جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: أَسَرَّ إِلَیَّ أَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَإِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَ جَلِی۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رازدارانہ انداز میں بات کی کہ جبریل علیہ السلام ہر سال مجھ سے قرآن مجید کا ایک بار دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال دو بار دور کیا ہے، میرایہی خیال ہے کہ میری وفات کا وقت آچکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۵۳)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8449
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ والی آخری ہے، انہوں! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزار: 2683، والحاكم: 2/ 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2494»
وضاحت: فوائد: … اس میںسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بھی بیان ہے، کیونکہ ان کی قراء ت اِس آخری دور اور پیشی کے مطابق تھی۔

الحكم على الحديث:
صحيح ۔ أخرجه البزار: 2683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں