الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَخْلَاصِ فِي الْعَمَلِ وَمُضَاعَفَةِ الآخر بِسَبِهِ
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 8894
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8894]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، بقية بن الوليديدلس تدليس التسوية، وخالد بن معدان كان يرسل، ولم يذكروا في الرواة عن ابي ذر، ولم يصرح بسماعه من ابي ذر، أخرجه البيھقي في الشعب: 108، والطبراني في مسند الشاميين: 1141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7814»
وضاحت: فوائد: … تقوی، خلوص، مختلف جواہر اور معرفت کے خزانوں کا مرکز دل ہے، اسی طرح بندے کا کمال عمل صالح میں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں صورت اور مال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8895
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ الْوَاحِدَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ قَالَ فَقُضِيَ أَنِّي انْطَلَقْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّكَ تَقُولُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ أَلْفَ أَلْفٍ حَسَنَةٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِيهِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ ثُمَّ تَلَا {يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [سورة الحديد: ١١] فَقَالَ إِذَا قَالَ {أَجْرًا عَظِيمًا} فَمَنْ يَقْدِرُ قَدْرَهُ
۔ ابو عثمان کہتے ہیں: مجھے یہ بات موصول ہوئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یوں کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کے عوض دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر ہوا یوں کہ مجھے حج یا عمرہ کرنے کا موقع مل گیا، پس میں گیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے کہا: مجھے تمہارے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی کہ تم کہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کی وجہ سے دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، (یہ حدیث تو میں نے بیان نہیں کی)، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اللہ تعالیٰ اس نیکی کو بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر ِ عظیم عطا کرتا ہے۔ اب کون ہے جو اجر ِ عظیم کا اندازہ کر سکے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8895]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10770»
وضاحت: فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھ کر اجر میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃًیُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اللہ تعالیٰ ذرا برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو گی تو وہ اس کو بڑھا دے گا اور اپنی طرف سے اجرِ عظیم بھی عطا کرے گا۔ (سورۂ نسائ: ۴۰)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8896
(وَعَنْهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى بِنَحْوِهِ وَفِيهَا) فَقَالَ (يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَمَا أَعْجَبَكَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَيُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کس چیز نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کی قسم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بیس لاکھ گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8896]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7932»
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَزْمِ وَالنِّةِ عَلَى الشَّرْ
برائی کا عزم اور نیت کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 8897
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قِيلَ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: یہ تو قاتل ہے، لیکن مقتول (کے جہنم میں جانے) کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8897]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 31، 6875، ومسلم: 2888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20711»
وضاحت: فوائد: … جب آدمی گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے،بلکہ اس کا ارتکاب کرنے کے لیے کوشش شروع کر دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس طرح کے مجرم کی ہی ہوتی ہے، اگرچہ وہ گناہ اس سے سرزد نہ ہو پائے، ہاں اگر وہ اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کا معاملہ اور ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ إِحْسانِ النِّيَّةِ عَلَى الْخَيْرِ وَمُضَاعَفَةِ الْآخِرِ بسبب ذلِكَ وَمَا جَاءَ فِي الْعَزْمِ وَالْهَمْ
خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
حدیث نمبر: 8898
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو اس کی کی ہوئی ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کی کی ہوئی ہر برائی کو اس کی مثل ہی لکھا جاتا ہے، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جا ملتا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8898]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 42، ومسلم: 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8201»
وضاحت: فوائد: … اسلام کے حسن سے مراد یہ ہے کہ وہ ظاہر و باطن سے اور اخلاص کے ساتھ اسلام میں داخل ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8899
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَةٌ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةٌ أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8899]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 131، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2519»
وضاحت: فوائد: … اگر نیکی اور برائی کا یہ معیار ہو اور یقینا ہے بھی تو پھر وہی ہلاک ہو سکتا ہے، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8900
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً
۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8900]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2827»
وضاحت: فوائد: … برائی کا خیال آنا اور عملی طور پر اس کا ارتکاب کرنا، اس کے کل چار مراتب ہیں:
۱۔ محض کسی چیز کا خیال آ جانا اور پھر اس خیال کا ختم ہو جانا، یہ محض انسان کا جبلی اور فطرتی خیال ہے
۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا
۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا
۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا
پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔
۱۔ محض کسی چیز کا خیال آ جانا اور پھر اس خیال کا ختم ہو جانا، یہ محض انسان کا جبلی اور فطرتی خیال ہے
۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا
۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا
۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا
پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8901
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8901]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 128، 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7195»
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِيثِ النَّفْسِ وَوَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 8902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِالشَّيْءِ لَأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَقْدِرْ مِنْكُمْ يَعْنِي الشَّيْطَانَ إِلَّا عَلَى الْوَسْوَسَةِ) ) وَقَالَ الْآخَرُ ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی بہ نسبت یہ چیز ہمیں زیادہ پسند ہے کہ ہم کوئلہ بن جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اِس شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی طاقت دی ہے۔ ایک راوی کے الفاظ یہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شیطان کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8902]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 5112، وأخرجه بنحوه النسائي: 668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3161»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8903
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي لَأَنْ أَكُونَ أَخِرُّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہے کہ ان کے بارے میں کلام کرنے کی بہ نسبت یہ چیز مجھے زیادہ پسند لگتی ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس شیطان کے مکر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8903]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2097»
الحكم على الحديث: صحیح