🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصِّدْقِ وَالأَمَانَةِ
سچائی اور امانت کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9232
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی کو لازم پکڑو، پس بیشک سچائی نیکی کی طرف اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صِدِّیق لکھ دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9232]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4108»
وضاحت: فوائد: … سچائی ممتاز انسانی خصائل حمیدہ میں سے ہے، یہ وہ صفت ہے،جس کی وجہ سے انسان خیر و بھلائی کی طرف مائل اور شرّ و فساد سے دور ہوتا ہے اور اسی وصف کی بدولت آدمی جھوٹ، دروغ گوئی، بدکلامی، فحش گوئی، سب و شتم، لعن طعن اور چغلی غیبت جیسے اوصاف ِ ذمیمہ سے اجتناب کرتاہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2607
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9233
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ قَالَ الصِّدْقُ وَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ وَإِذَا بَرَّ آمَنَ وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَمَلُ النَّارِ قَالَ الْكَذِبُ إِذَا كَذَبَ فَجَرَ وَإِذَا فَجَرَ كَفَرَ وَإِذَا كَفَرَ دَخَلَ يَعْنِي النَّارَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جنت کے اعمال کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سچائی، جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے، جب نیکی کرتا ہے تو ایمان دار بن جاتا ہے اور جب ایماندار بنتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آگ کے اعمال کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو برائی کرتا ہے، جب برائی کرتا ہے تو کفر کرتا ہے اور جب کفر کرتا ہے تو آگ میں داخل ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9233]
تخریج الحدیث: «تخريج صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6641»

الحكم على الحديث: تخريج صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9234
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ
۔ علقمہ بن عبد اللہ مزنی بعض صحابۂ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور سچی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9234]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20551»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9235
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُقَالُ لَهُ يُوسُفُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَلِي مَالَ أَيْتَامٍ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ ذَهَبَ عَنِّي بِأَلْفِ دِرْهَمٍ قَالَ فَوَقَعَتْ لَهُ فِي يَدِي أَلْفُ دِرْهَمٍ قَالَ فَقُلْتُ لِلْقُرَشِيِّ إِنَّهُ قَدْ ذَهَبَ لِي بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَقَدْ أَصَبْتُ لَهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ فَقَالَ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ
۔ اہل مکہ میں سے یوسف نامی آدمی کہتا ہے: میں اور ایک قریشی آدمی کچھ یتیموں کے مال کی سرپرستی کرتے تھے، ہوا یوں کہ ایک آدمی (خیانت کرتے ہوئے) مجھ سے ایک ہزار درہم لے گیا، پھر اس کا ایک ہزار درہم میرے ہتھے لگ گیا، میں نے قریشی سے کہا: فلاں بندہ میرا ایک ہزار درہم لے گیا تھا، اب اس کا ایک ہزار درہم مجھے مل گیا تو کیا اب میں یہ رقم دبا لوں؟ اس نے کہا: میرے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجھے امین بنائے تو تو اس کو اس کی امانت ادا کر دے اور اس کے ساتھ خیانت نہ کر، جس نے تجھ سے خیانت کی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9235]
تخریج الحدیث: «مرفوعه حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لابھام ابن الصحابي الذي روي عنه يوسف، أخرجه ابوداود: 3534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15502»
وضاحت: فوائد: … شریعت تمام کی تمام امانت ہے، کسی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے اور کسی کا بندوں کے حقوق سے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں امانت کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کی ادائیگی نہ کرنے والے کو منافق کہا گیا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امانت مسلمان کا مستقل وصف ہونا چاہیے، نہ کسی کی امانت کے بدلے میں اس صفت کو اپنایا جائے اور نہ کسی کی خیانت کے عوض اس کو ترک کیا جائے۔ اس معاملے میں اپنے پرائے، امین و خائن اور مسلم و کافر کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا، بلکہ ہر ایک کی امانت ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ہمارے ہاں انتقام لینے کی فضا عام ہے، مثلا اگر وقت کی حکومت اپنے حقوق ادا نہ کر رہی ہو تو عوام اس کی املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں، مثلا بجلی اور گیس چوری کرنا، حکومت کی ملکیت کا کسی قسم کا مال چوری کرنا، ٹرین کے ذریعے سفر کرنے پر کرایہ نہ دینا، دفاتر، سکولز، کالجز اور مختلف حکومتی اداروں میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنا، سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنا۔ شریعت میں یہ تمام گناہ کی بدترین اقسام ہیں۔ یہی معاملہ کسی انسان کی خیانت کے مقابلے میں اس سے خیانت کرنے کا ہے۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ شریعت میں نیکی اور گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور نافرمانی سے ہے، کسی کی دوستی اور دشمنی سے نہیں۔ درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَرُّوا الْاِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنْ ابْتَاعَھَا بَعْدُ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظَرِیْنَ بَعْدَ اَنْ یَّحْلُبَھَا، اِنْ شَائَ اَمْسَکَھَا، وَاِنْ شَائَ رَدَّھَا وَصَاعًا مِّنْ تَمْرٍ۔)) (بخاری: ۲۱۵۱، مسلم: ۱۵۲۴) … اونٹنیوں اور بکریوں (کو فروخت کرتے وقت) ان کا دودھ مت روکو، اگر کوئی آدمی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دو اختیار ہیں، اگر وہ چاہے تو اسے اپنے پاس رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی واپس کرے۔
مسلم کی روایت میں ہے: ((فَھُوَ بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) … اسے (واپس کرنے کا) تین دنوں تک اختیار ہے۔ دیکھیں کہ جانور بیچنے والے نے دھوکہ کیا اور دو تین دن جانور کو چارہ ڈالتا رہا، لیکن اس کا دودھ نہیں دوہا۔ جب خریدنے والے نے دودھ دوہ کر استعمال کر لیا اور ایک دو دنوں تک اس پر حقیقت ِ حال واضح ہو گئی تو شریعت نے اسے سودا واپس کرنے کا تین دن تک اختیار دیا ہے اورساتھ یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر وہ جانور واپس کرتا ہے تو کھجوروں کا ایک صاع بھی ساتھ واپس کرے، تاکہ بیچنے والا جو چارہ ڈالتا رہا، لیکن دودھ نہیں دوہا، اس کا عوض ہو جائے۔
سبحان اللہ! جانور کا دودھ روکنے والے نے ظلم کیا اور دھوکہ کیا، لیکن شریعت نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ اس کے دھوکے کے عوض اس کو نقصان پہنچایا جائے یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے، بلکہ یہ حکم صادر فرمایا کہ اس کے دھوکے کو اس پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے چارے یا محنت کے عوض اس کو کھجوروں کا ایک صاع دے دیا جائے۔

الحكم على الحديث: مرفوعه حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9236
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ فَهُوَ أَمَانَةٌ وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی سے کوئی بات سنی اور وہ آدمی یہ نہ چاہتا ہو کہ وہ بات اس کے حوالے سے ذکر کی جائے تو وہ بات امانت ہو گی، اگرچہ بات کرنے والا اس کو راز رکھنے کی ہدایت نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9236]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن الوليد الوصافي، وعبدُ الله بن عبيد بن عمير لم يذكروا له سماعا من ابي الدرداء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28059»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بندے کو خود بخود سمجھ جانا چاہیے کہ کون سی بات یا چیز امانت ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ یہ تاکید کی جائے کہ فلاں بات امانت ہے، اس کا خیال رکھنا، درج ذیل مثال پر غور کریں:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِیْثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ أَمانَۃٌ۔)) … جب کوئی آدمی بات کرے، پھر ادھر ادھر دیکھنے لگے (کہ کوئی سن یا دیکھ تو نہیں رہا) تو اس کی بات امانت ہو گی۔ (ابوداود: ۲/۲۹۷، ترمذي: ۱/۳۵۵)
امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن ہمارے ہاں تو تاکید کے باوجودمخصوص مجالس کو امانت نہیں سمجھاجاتا اور بات کو بتنگڑ بنا کر نشر کر دیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن الوليد الوصافي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي شُكْرِ الْمُنْعِم وَالْمُكَافَاةِ عَلَى الْمَعْرُوفِ
منعِم کا شکر ادا کرنے اور نیکی کا بدلہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9237
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ حَمَلْتُكَ عَلَى الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَزَوَّجْتُكَ النِّسَاءَ وَجَعَلْتُكَ تَرْبَعُ وَتَرْأَسُ فَأَيْنَ شُكْرُ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑے اور اونٹ پر سوار کیا اور عورتوں سے تیری شادی کروائی، پھر تجھے ایسا بنا دیا کہ تو خوشحال ہوا اور بلند رتبے والا بنا، پس اب ان چیزوں کا شکر کہاں ہے؟ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9237]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10383»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ نے اس دور میں انسان کی ظاہری شان و شوکت پر دلالت کرنے والی بے شمار چیزیں عطا کر دی ہیں، پرشکوہ کوٹھیاں، خوبصورت اور قیمتی لباس، حسن میں اضافہ کرنے کے اسباب، قسما قسم کے مشروبات اور مأکولات، گاڑیاں، ٹرانسپورٹ، دنیوی تعلیم، باغات، فصلیں اور صاحب ِ اختیار لوگوںکے ساتھ رابطے۔ شرعی حکم یہ تھا کہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا جائے، لیکن معاملہ برعکس ثابت ہوا اور جس کو جتنا زیادہ دیا گیا، وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا گیا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2968
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9238
عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ قَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4836، ومسلم: 2819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18384»
وضاحت: فوائد: … یہ معصوم ہستی کا شکر ادا کرنے کا انداز ہے کہ کثرت ِ عبادت کی وجہ سے جن کے پاؤں میں ورم آ جاتا تھا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تعلق دنیا سے ہو یا دین سے، وہ اس لائق ہے کہ ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4836
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9239
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9239]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4836، ومسلم: 2819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8092»
وضاحت: فوائد: … احادیث نمبر (۹۳۳۵ تا ۹۳۳۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا مفہوم درست ہے، نعمت کا اثر نظر آنے کے دو معانی ہیں، بندے کو نعمتوں کے مطابق اچھے لباس اور اچھی حالت میں رہنا چاہیے، حدیث نمبر (۹۳۳۶) سے یہی معنی ثابت ہوتا ہے، دوسرا معنییہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے عوض اعمال صالحہ سر انجام دینے چاہئیں اور برے اعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔} … اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپناحصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (سورۂ قصص: ۷۵) دونوں معانی ہی مراد لینے چاہئیں،یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال بھی کرے اور ان کے عوض نیک عمل بھی کرے۔
اس آیت ِ مبارکہ میں خزانوں کے مالک قارون سے خطاب کیا جا رہا ہے کہ اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے بدلے احسان کرے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4836
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9240
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے والا اور شکر ادا کرنے والے صبر کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9240]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2486، وابن ماجه: 1764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7793»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9241
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9241]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4811، والترمذي: 1954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7495»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ حقیقی محسِن ہے اور احسان کرنے والا آدمی مجازی محسِن ہوتا ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے کے لیے اس کو سبب بناتا ہے، اس لیے محسِنِ حقیقی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے اور محسِنِ مجازی کا بھی۔
تمام انعامات کا سرچشمہ اور منعمِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہر وقت اور ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے کے بعد کی دعاؤں، سوتے اور بیدار ہوتے وقت کی دعاؤں، سواری پر سوار ہونے کی دعاؤں وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی گئی ہے۔
بسا اوقات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست نعمت ملتی ہے، لیکن بعض اوقات ربّ جلیل اپنے بندوں پر انعام کرنے کے لیے اپنے بندوں کو ہی استعمال کرتے ہیں، جیسے وہ لوگ جو ہماری روزی کا سبب بنتے ہیں، ہمیں صدقہ و خیرات دیتے ہیں، ہمیں تحائف و ہدایا عطا کرتے ہیں، ہم کو دعوت دیتے ہیں، وغیرہ۔ ایسی صورت میں لوگوں کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں