🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَزُخْرُفِهَا و نَعِيمِها
دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9275
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ ( (إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ) )
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: خوش عیشی سے بچو، پس بیشک اللہ تعالیٰ کے بندے خوش عیش نہیں ہوتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9275]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22469»
وضاحت: فوائد: … بڑی قابل تعجب بات ہے کہ ایک طرف تو منشائے شریعتیہ ہے کہ انسان کے وجود پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے آثار نظر آنے چاہئیں، لیکن دوسری طرف خوش عیشی کی مذمت کی جا رہی ہے، در اصل خوش عیشی فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، لیکن جب اس کے اثرات اور نتائج پر نگاہ ڈالی جائے، تو کئی طرح سے اس میں فساد نظر آتا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال فکر ِ آخرت کی کمی ہے۔
ہم اس ضمن میں کچھ اقتباسات نقل کرنا چاہتے ہیں:
دنیوی آسائشیں، اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ہیں، وہ مال و دولت کی صورت میں ہوں یا عہدہ و منصب کی صورت میں۔ بہرحال دنیا نے اکثر لوگوں کو اپنے اثرات کا پابند کر دیا اور ان کو اسلامی مزاجوں کا نہیں رہنے دیا۔ وہ آسائشوں اور سہولتوں کے اس قدر غلام بن جاتے ہیں کہ فقر و فاقہ میں مبتلا لوگوں کے مصائب کو پہچاننا ان کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔ ان کے رویے میں ناز نخرے آجاتے ہیں، ان کی مسکراہٹوں اور حسن سلوک کے لیے شخصتیں خاص ہو جاتی ہیں۔ بہرحال کوئی دولتمند ان حقائق سے اتفاق نہیں کرے گا، کیونکہ وہ اپنے دماغ کے فیصلے کے مطابق انسانِ کامل ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ فیکٹریوں اور صنعتوں کے مالکان، اعلی پیمانے کے تجار، مساجد و مدارس کی انتظامیہ، جن کے گھروں کے ماہوار اخراجات لاکھوں روپوںپر مشتمل ہوتے ہیں، لیکنیہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے ماتحتوں کو تین چار ہزار فی مہینہ پر ہی گزارا کرنا چاہیے اور اس پر مستزاد یہ کہ اتنی معمولی تنخواہ دے کر اپنا رعب جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے آقا اپنے غلام سے سلوک روا رکھتا ہے۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ
دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! ذہن نشین رہے کہ جب قلت ِ مال کی مدح اور کثرت ِ مال کی مذمت کی جاتی ہے تو اس وقت کسی خاص امیریا غریب فرد کو سامنے نہیں رکھا جاتا، بلکہ مطلق ماحول پہ نگاہ ڈال کر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن بوڑھا آسمان اور پرانی زمین شاہد ہیں کہ اکثر لوگ اس نعمت کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہے اور من پسند اور عیش پرست زندگی میں پڑ کر کئی مفاسد میں مبتلا ہو گئے۔ مصیبتیہ ہے کہ ان بیچاروں کو ان حقائق کا اندازہ ہی نہ ہو سکا، جن کی وضاحت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار کرنے کے لیے اچھا لباس پہننا اور اچھے ماکول و مشروب کا انتظام کرنا پسندیدہ ہے، لیکن اس پر دوام اختیار کرنا اور تکلف کرنا کسی طرح خطرے سے خالی نہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسا اوقات جان بوجھ کر سادہ لباس پہننے، کنگھی نہ کرنے اور ننگے پاؤں چلنے کا حکم دیا ہے۔
اگر شریعت کی روشنی میں مال و دولت کے تقاضوں کو سمجھ کر ان کو ادا کیا جائے تو اس کو اللہ کی نعمت ِ عظمی سمجھا جائے گا، آخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی تو مالدار تھے، ان کو اسی وجہ سے غنی کا لقب ملا اور انھوں نے اسی کے بل بوتے پر تائید ِ دین کی ایسی مثالیں قائم کر دیں، جو رہتی دنیا تک مال داروں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت سے زندہ رہیں گی۔
اگر خوش عیشی، اللہ تعالیٰ کی کوئی پسندیدہ چیز ہوتی تو یقینا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے بھی پسند کیا جاتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تکیہ چمڑے کا تھا اور اس کی بھرتی کھجور کے درخت کی چھال کی تھی۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9276
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ ( (أَطْعِمْنَا بُسْرًا) ) فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ ( (لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) قَالَ فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ( (نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حِجْرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ) )
۔ سیدنا ابو عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9276]
تخریج الحدیث: «حشرج بن نباتة الاشجعي مختلف فيه، وثقه غير واحد، وقال ابو حاتم: صالح يكتب حديثه ولا يحتج به، وقال النسائي في رواية: ليس بالقوي، وفي اخري: ليس به بأس، وانظر الحديث الآتي، فانه يشھد لبعضه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21049»

الحكم على الحديث:
حشرج بن نباتة الاشجعي مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9277
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَطْعَمْتُهُمْ رُطَبًا وَأَسْقَيْتُهُمْ مَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے، میں نے ان کو تازہ کھجوریں کھلائیں اور پانی پلایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں ان نعمتوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں تم سوال کیے جاؤ گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9277]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1799، وابويعلي: 1790، وابن حبان: 3411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14692»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی بڑی نعمتیں عطا کی ہیں، اگرچہ فقرو فاقہ کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی معقول ہے، ہر ایک کے لیے شریعت ِ مطہرہ نے قواعد مقرر کر دیئے ہیں تاکہ نعمتوں والوں کو کسی نعمت سے اور فاقہ مستوں کو فقیری کی وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9278
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق وہ کامیاب ہو گیا، جس نے اسلام قبول کیا اور پھر اس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ دیا، اس کو اس پر قناعت کرنے والا بنا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9278]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1054، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6572»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1054
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9279
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9279]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24442»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلاَمِ، وَکَانَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنِعَ۔)) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی گزران برابر برابر تھی، لیکن اس نے اس پر قناعت کی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۳)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9280
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ وَجِلْفِ الْخُبْزِ وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَالْمَاءِ فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گھر، موٹی اور خشک روٹی اور شرمگاہ کو چھپانے والا کپڑا، جو چیز ان کے علاوہ ہے، وہ زائد ہے اور ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9280]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ولا يصح عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم، حريث بن السائب مختلف فيه، أخرجه الترمذي: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 440»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9281
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَلْبِسُهُمَا وَأَنَا مِنْ أَكْسَى أَصْحَابِي
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لباس طلب کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو موٹے سے کپڑے پہنا دیے، لیکن جب میں نے ان کو زیب ِ تین کیا تو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں میں زیادہ لباس والا میں ہی تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9281]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17806»
وضاحت: فوائد: … یعنی دوسرے صحابۂ کرام کے تن پر اتنا لباس بھی نہیں تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9282
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ قَالَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے میرے پیارے بیٹے عبد اللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لشکر میں بھیجتے تھے، ہمارا زادِ راہ صرف چمڑے کے تھیلوں میں ہوتا تھا، وہ اس طرح تقسیم کیا جاتا کہ ہر ایک کو ایک ایک لپ آتی تھی، پھر ایک ایک کھجور تک نوبت جا پہنچی۔ بیٹے نے کہا: اے ابا جان! وہ ایک کھجور تم سے کیا کفایت کرتی ہو گی؟ انھوں نے کہا: بچو! یہ بات نہ کرو، جب وہ بھی نہیں ملتی تھی تو ہمیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المسعودي اختلط،ويزيد قد سمع منه بعد الاختلاط، أخرجه البزار: 3679، وابويعلي: 7199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15780»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقَمْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَنَةً فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبُرَدُ الْمُتَفَتِّقَةُ وَإِنَّا لَيَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَهُ فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِيهِنَّ حَشَفَةٌ فَمَا سَرَّنِي أَنَّ لِي مَكَانَهَا تَمَرَةً جَيِّدَةً قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَ تَشُدُّ لِي مِنْ مَضْغِي
۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک سکونت اختیار کی، ایک دن انھوں نے مجھے کہا، جبکہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تھے: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس پھٹ جانے والی پرانی چادریں ہوتی تھیں اور ایسے دن بھی آ جاتے تھے کہ ہم کھانے کی کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے، جس کے ذریعے اپنے کمر کو کھڑا کر لیتے،یہاں تک کہ اس چیز کی نوبت آ جاتی کہ لوگ اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے پتھر اٹھا کر اپنے بھوکے پیٹ پر رکھ کر اس کو کپڑے سے کس دیتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے مابین کھجوریں تقسیم کیں، ہر انسان کو سات سات کھجوریں ملیں، ان میں خشک اور ردّی کھجوریں بھی تھیں، اور مجھے یہ بات خوش نہیں لگتی تھی کہ اس ردّی کھجور کی بجائے مجھے عمدہ کھجور ملتی، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: اس کو سختی سے چبانا پڑتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9283]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8284»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9284
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا (وَفِي رَوَايَةٍ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا تھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، لیکن آج میرے مال کی زکوۃ کی مقدار چالیس ہزار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن كعب لم يسمع من علي، وشريك النخعي سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1367»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں