الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9295
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي مَسْعُودٍ (يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا فَيُحَامِلُ فَيَجِيءُ بِالْمُدِّ وَإِنَّ لِبَعْضِهِمِ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ قَالَ شَقِيقٌ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ
۔ سیدنا عتبہ بن عمر اور سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقے کا حکم دیتے تھے، پس ہم میں سے ایک آدمی جاتا اور بوجھ اٹھانے کا کام کر کے ایک مد لے کر آتا، جبکہ آج بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم موجود ہے۔ شقیق کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ ایک لاکھ والے سے اپنے آپ کو مراد لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9295]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1415، 4668، ومسلم: 1018، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22703»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1415
حدیث نمبر: 9296
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَكَى وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا فَتَرَكْنَا مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ يَكُونَ بُلْغَةُ أَحَدِنَا مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ قَالَ ثُمَّ نَظَرْنَا فِيمَا تَرَكَ فَإِذَا قِيمَةُ مَا تَرَكَ بِضْعَةٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا أَوْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ دِرْهَمًا
۔ حسن بصری کہتے ہیں: جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی وفات کاوقت قریب ہوا تو وہ رونے لگ گئے اور انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نصیحت کی تھی، لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت یہ تھی کہ سوار کے زادِ راہ کی طرح ہماری روزی بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ پھر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ جو ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے، جب ہم نے اس کو دیکھا تو وہ پچیس چھبیس یا پینتیس چھتیس درہموں کی قیمت کا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9296]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24112»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9297
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَكْفِ أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو دنیا سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9297]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23431»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9298
عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک میں روزِ قیامت سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن وہ شخص سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا، جو دنیا سے اسی حالت پر جائے گا، جس حالت میں میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح دنیا میں ملوث ہوا ہے، ما سوائے میرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9298]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21790»
وضاحت: فوائد: … اس امت کا سب سے بہترین گروہ صحابۂ کرام کی جماعت ہے، لیکن انھوں نے دنیوی وسائل کے اعتبار سے کیسی زندگی گزاری، چند ایک مثالیں اس باب میں بھی مذکور ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
3. بابُ قِصَّةِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْجُوعِ وَفِيهَا معجزة عَظِيمَةٌ لِلنَّبِي ﷺ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
حدیث نمبر: 9299
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي فَلَمْ يَفْعَلْ فَمَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي فَلَمْ يَفْعَلْ فَمَرَّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ مَا فِي وَجْهِي وَمَا فِي نَفْسِي فَقَالَ أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَهُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْحَقْ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ قَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا اللَّبَنُ فَقَالُوا أَهْدَاهُ لَنَا فُلَانٌ أَوْ آلُ فُلَانٍ قَالَ أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي قَالَ وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَمْ يَأْوُوا إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ إِذَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةٌ أَصَابَ مِنْهَا وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِنْهَا قَالَ وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنَ اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا بَقِيَّةَ يَوْمِي وَلَيْلَتِي فَقُلْتُ أَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ الْقَوْمُ كُنْتُ أَنَا الَّذِي يُعْطِيهِمْ فَقُلْتُ مَا يَبْقَى لِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ أَبَا هِرٍّ خُذْ فَأَعْطِهِمْ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِمْ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ الْقَدَحَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدَّ الْقَدَحَ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِمْ وَدَفَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ فِي يَدِهِ وَبَقِيَ فِيهِ فَضْلَةٌ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ وَتَبَسَّمَ فَقَالَ أَبَا هِرٍّ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ فَقُلْتُ صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَاقْعُدْ فَاشْرَبْ قَالَ فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ لِي اشْرَبْ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ لِي اشْرَبْ فَأَشْرَبُ حَتَّى قُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهَا فِيَّ مَسْلَكًا قَالَ نَاوِلْنِي الْقَدَحَ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنَ الْفَضْلَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں بھوک کی وجہ سے اپنے جگر کو زمین پر ٹیک دیتا تھا، اور میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ گزرتے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پا س سے گزرے، میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں (اور کھانا کھلائیں گے)، لیکن انھوں نے ایسے نہ کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، ان سے بھی سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے، لیکن انھوں نے بھی ایسے نہ کیا، اتنے میں ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے اور میرے نفس کی بات پہچان لی اور فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ چلو۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کے اندر چلے گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر جانے کی اجازت طلب اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، پس میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے کہا: جی فلاں یا آل فلاں نے ہمارے لیے تحفہ بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ صفہ والے لوگ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی اہل خانہ تھا اور نہ مال و دولت، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کچھ حصہ ان کو بھی بھیجتے تھے، لیکن اب کی بار تو مجھے اس چیز نے غمگین کر دیا، کیونکہ مجھے امید تھی کہ میں یہ دودھ پیوں گا اور دن رات کا باقی حصہ قوت حاصل کروں گا، لیکن اب مسئلہ یہ بنا ہے کہ قاصد بھی میں ہوں، جب اہل صفہ آ جائیں گے تو میں نے ہی ان کو پلانا ہو گا اور میرے لیے دودھ باقی نہیں رہے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کی اطاعت کے بغیر بھی کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ سو میں گیا اور اُن کو بلا کر لے آیا، پس وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، وہ گھر میں آکر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! دودھ پکڑو اور اِن کو پلاؤ۔ پس میں نے پیالہ پکڑا اور اُن کو دینا شروع کیا، ایک آدمی پیالہ پکڑتا اور پیتا،یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا، پھر وہ پیالہ واپس کر دیتا اور میں دوسرے کو دیتا، پس وہ پیتا،یہاں تک سیراب ہو جاتا اور پھر پیالہ واپس کر دیتا،یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ میں آخری بندے تک پہنچ گیا، اور پھر میں نے وہ پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکڑا اور اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا، ابھی تک اس میں دودھ کی کچھ مقدار باقی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پس اس کو دیکھا اور مسکرانے لگے اور فرمایا: ابو ہر! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور تو، ہم دو باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سو بیٹھو اور پیو۔ پس میں بیٹھ گیا اور پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اور پیو۔ میں نے اور پیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ اور پیو۔ اور میں پیتا رہا، یہاں تک کہ میں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر پیالہ مجھے پکڑا دو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیالہ دے دیا، پھر باقی ماندہ دودھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پی لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9299]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10690»
وضاحت: فوائد: … پیٹ پر پتھر باندھنے کی وجوہات دو ہیں: (۱) پتھر کی ٹھنڈک سے بھوک کی تیری کو کم کرنے کے لیے،یا (۲) پتھر کی مدد سے آدمی اعتدال میں رہتا ہے اور سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے، وگرنہ خالی معدے کی صورت میں اس طرح رہنا مشکل ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح