الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَزُخْرُفِهَا و نَعِيمِها
دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9265
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیری سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو تیری تعریف کروں گا اور تیرا شکر ادا کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9265]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22543»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 9266
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٍ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبَيْهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ) ) قَالَ وَاللَّهِ مَا أَبْكِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمَ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعِيثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ) ) قَالَ عُمَرُ بَلَى قَالَ ( (فَإِنَّهُ كَذَاكَ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا اور اس کا بھرونا کھجور کے پتے تھے، اتنے میں صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف مائل ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلوؤں اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ رسی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر نشان چھوڑ چکی ہے تو وہ رونے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کسری و قیصر کی بہ نسبت آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ تکریم اور عزت والے ہیں، لیکن وہ تو دنیا میں مال و دولت کو اڑا رہے ہیں اور اے اللہ کے رسول! آپ اس مقام میں ہیں، جو میں دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9266]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البخاري في الادب: 1163، وابويعلي: 2782، وابن حبان: 6362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12444»
وضاحت: فوائد: … اگر دنیا کوئی بہترین چیز ہوتی تو اس کے سب سے زیادہ مستحق سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، چونکہ آپ دائمی اور ابدی نعمتوں کے خواہشمند تھے، اس لیے دنیا کی عارضی نعمتوں سے دور رہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9267
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِظَهْرِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْتَ هَكَذَا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمِ الدُّنْيَا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9267]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7950»
وضاحت: فوائد: … گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج ذیل مثال پر غور کریں:
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنْ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنْ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاوں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنْ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنْ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاوں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9268
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ ( (مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں اپنا اثر چھوڑ چکی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ اس سے نرم و گداز بچھونا لے لیتے تو اچھا ہوتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے، میری اور اس دنیا کی مثال تو سوار کی سی ہے، جو گرم دن میں سفر کر رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت کا سایہ حاصل کرے اور پھر اس کو چھوڑ کر چل دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9268]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه وابن حبان: 6352، والطبراني: 11898، والحاكم: 4/ 309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2744»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9269
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحییٰ کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتاتھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9269]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17970»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 9270
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِصْرَ يَقُولُ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
۔ (دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9270]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17925»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17925
حدیث نمبر: 9271
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ) ) قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ) ) قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ) ) قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ) ) قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي قَالَ فَسَمِعْتُ لَغَطًا وَصَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتْبَعَهُ ثُمَّ تَذَكَّرْتُ قَوْلَهُ ( (لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ) ) فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ فَقَالَ ( (ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ( (وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں نےکچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9271]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2388، 6268، ومسلم: ص 687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21674»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۵۴۲۸،۸۹۳۷)۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2388
حدیث نمبر: 9272
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ جَبَلٍ هَذَا) ) قُلْتُ أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ لِي ذَهَبًا قِطَعًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا) ) قَالَ قُلْتُ قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (قِيرَاطًا) ) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي أَقَلُّ وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے کہا: احد پہاڑ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر (یہ پہاڑ) میرے لیے سونے کے سکّوں میں تبدیل کردیا جائے تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں گا اور مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ اس میں سے ایک قیراط بھی باقی رہنے دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قنطار؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیراط، قیراط۔ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: اے ابو ذر! میں کم والی بات کر رہا ہوں، زیادہ والی نہیں کر رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9272]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21655»
وضاحت: فوائد: … قیراط= (255.1) ملی گرام
اس کے دو معانی ہیں: (۱) مالِ کثیر، (۲) ایک مقدارِ وزن جو مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے، مصر میں قیراط (100) رطل کے برابر ہوتا ہے اور رطل (393.660)گرام کے برابر ہوتا ہے، اس طرح ایک قیراط (39) کلو گرام سے زیادہ وزن بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ یہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت کے وصف سے بدرجۂ اتم متصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور عملا اس وصف کو ثابت بھی کیا۔ غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے زور دے کر بات کر رہے ہیں کہ انھوں نے قیراط کی بجائے قنطار سمجھا، جس کی مقدار زیادہ ہے۔
اس کے دو معانی ہیں: (۱) مالِ کثیر، (۲) ایک مقدارِ وزن جو مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے، مصر میں قیراط (100) رطل کے برابر ہوتا ہے اور رطل (393.660)گرام کے برابر ہوتا ہے، اس طرح ایک قیراط (39) کلو گرام سے زیادہ وزن بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ یہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت کے وصف سے بدرجۂ اتم متصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور عملا اس وصف کو ثابت بھی کیا۔ غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے زور دے کر بات کر رہے ہیں کہ انھوں نے قیراط کی بجائے قنطار سمجھا، جس کی مقدار زیادہ ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21655
حدیث نمبر: 9273
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ إِلَّا أَنْ أُرْصِدَهُ لِغَرِيمٍ) )
۔ (تیسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میری وفات والے دن اس میں دیناریا نصف دینار میرے پاس پڑا ہو، البتہ اتنی مقدار جس کو میں قرضے کے لیے روک رکھوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9273]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21648»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21648
حدیث نمبر: 9274
عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ مُشْبَعَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا أَثَرُ الْمَجَاسِدِ وَلَا الْخَلُوقِ قَالَ فَقَالَ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَا تَأْمُرُنِي بِهِ هَذِهِ السُّوَيْدَاءُ تَأْمُرُنِي أَنْ آتِيَ الْعِرَاقَ فَإِذَا أَتَيْتُ الْعِرَاقَ مَالُوا عَلَيَّ بِدُنْيَاهُمْ وَإِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ دُونَ جِسْرِ جَهَنَّمَ طَرِيقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزَلَّةٍ وَإِنَّا نَأْتِي عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ أَحْرَى أَنْ نَنْجُوَ عَنْ أَنْ تَأْتِيَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ مَوَاكِيرُ
۔ ابو اسماء کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ ربذہ مقام میں تھے اور ان کے پاس کالی سیاہ ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی، اس میں زعفران اور خلوق خوشبوؤں کا کوئی اثر نہیں تھا، انھوں نے کہا: کیا تم اس چیز کی طرف نہیں دیکھتے، جس کا یہ سیاہ فام عورت مجھے حکم دے رہی ہے، یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں، اور جب میں عراق جاؤں گا تو لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے طرف مائل ہوں گے، جبکہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ جہنم والے پل صراط سے قبل ایک پھسلن والا راستہ ہے اور ہم نے وہاں سے گزرنا ہے، اگر ہم بوجھوں سے ہلکے ہوئے تو زیادہ ممکن ہو گا کہ ہم وہاں سے نجات پا جائیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم وہاں اس حال میں جائیں کہ ہم بوجھ والے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9274]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21746»
وضاحت: فوائد: … بعض نسخوں میں یہ لفظ اس طرح ہے: مُسْغِبَۃٌ اس کا معنی: بھوکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم