الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفُقَرَاءِ الْمَسَاكِينِ والتَّرْغِيْبِ فِي حُبِّهِمْ وَمُجَالَسَتِهِمْ
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9320
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ جنتی لوگ یہ ہیں: ہر کمزور، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے، پراگندہ بالوں والا اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والا، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دے تو وہ بھی اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ اور جہنمی لوگ یہ ہیں: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا اور دوسرے لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9320]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 3987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12504»
وضاحت: فوائد: … غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔ نیز اس حدیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9321
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَإِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ فَكَفَّ الْقَارِئُ فَقَالَ ( (مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ) ) فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَحَلَّقَ بِهَا يُومِئُ إِلَيْهِمْ ( (أَنْ تَحَلَّقُوا) ) فَاسْتَدَارَتِ الْحَلْقَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي قَالَ فَقَالَ ( (أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، صورتحال یہ تھی کہ پردہ کرنے کے لیے بعض لوگ بعض کی اوٹ میں چھپ رہے تھے اور ایک قاری ہم پر تلاوت کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کا کلام سن رہے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، تاکہ اپنے نفس کو ان میں شمار کروائیں، پس قاری نے تلاوت بند کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک قاری ہم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنایا اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح حلقہ بنا لو۔ پس لوگ گھوم کر حلقے میں بیٹھ گئے، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فقیروں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، تم مالدار لوگوں سے نصف دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9321]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3666،والترمذي: 2351، وابن ماجه: 4123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11626»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9322
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ) ) فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ قَالَ قُلْتُ هَذَا قَالَ ( (انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ) ) قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ قَالَ قُلْتُ هَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهَذَا أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! دیکھ، مسجد میں کون آدمی سب سے زیادہ رفعت والا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا، اچانک ایک آدمی نظر آیا، اس نے عمدہ پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی تھی، میں نے کہا: یہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اب دیکھ، مسجد میں کون سا آدمی سب سے کم درجہ ہے؟ میں نے دیکھا، ایک آدمی نے چیتھڑے پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: جی یہ ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ (کم درجہ) آدمی روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس (رفعت والے) زمین بھر افراد سے بہتر ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9322]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 222، والبزار: 3979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21825»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9323
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْأَغْنِيَاءَ وَالنِّسَاءَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا، پس وہاں کے اکثر لوگوں کو فقیر دیکھا، پھر جب میں نے جہنم میں جھانکا تو وہاں کے اکثر لوگوں کو مالدار اور عورتیں پایا۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9323]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله الاغنيائ، أخرجه ابن حبان: 7489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6611»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9324
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَحُجُّونَ قَالَ ( (وَأَنْتُمْ تَصُومُونَ وَتُصَلُّونَ وَتَحُجُّونَ) ) قُلْتُ يَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ ( (وَأَنْتَ فِيكَ صَدَقَةٌ رَفْعُكَ الْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَهِدَايَتُكَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ وَعَوْنُكَ الضَّعِيفَ بِفَضْلِ قُوَّتِكَ صَدَقَةٌ وَبَيَانُكَ عَنِ الْأَرْتَمِ صَدَقَةٌ وَمُبَاضَعَتُكَ امْرَأَتَكَ صَدَقَةٌ) ) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأْتِي شَهْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ قَالَ ( (أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي حَرَامٍ أَكَانَ تَأْثَمُ) ) قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ( (فَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنی لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اس طرح وہ اجر میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی روزہ رکھتے ہو، نماز پڑھتے ہو اور حج کرتے ہو۔ میں نے کہا: جی وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری اندر بھی صدقہ کی صورتیں موجود ہیں، مثلا راستے سے ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے، راستے کی رہنمائی کر دینا صدقہ ہے، زائد طاقت کے ساتھ کمزور کی مدد کر دینا صدقہ ہے، واضح الفاظ ادا نہ کر سکنے والے کی طرف سے وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے جماع کر لینے میں صدقہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی شہوت کو پورا کریں اوراس میں ہمارے لیے اجر بھی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتلا کہ اگر تو اس عضو خاص کو حرام کام پر لگا دے تو کیا تو گنہگار ہو گا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم شرّ سے بچ کر ثواب کی نیت کرتے ہو، اور کہ خیر والا کام کر کے ثواب کی نیت نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9324]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البيھقي: 6/ 82، وفي الشعب: 7619، وأخرجه بنحوه الترمذي: 1956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21690»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9325
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اصْبِرْ يَا أَبَا سَعِيدٍ فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ أَسْرَعُ مِنَ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ) )
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9325]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني أخرجه البيھقي في الشعب: 1473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11399»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اسْتَعِدَّ لِلْفَاقَۃِ۔)) تو پھر فقر و فاقہ کے لیے تیار ہوجائو۔ (مسند بزار: ۴/۲۲۹/۳۵۹۵، صحیحہ:۲۸۲۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین پیروکاروں میں غریب اور فقیر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اہل کتاب کے مذہبی ادب سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ انبیا و رسل کی اطاعت کرنے والوں کا حال بھییہی تھا۔ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تلک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرنے والوں کی اکثریت فقر و فاقہ اور غربت و افلاس میں مبتلا رہی۔
قارئین کرام! بلا شک و شبہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اس نعمت کے تقاضے پورے نہیں کیے اور یہی دولت ان کے لیے اسلام سے غفلت برتنے کا سبب بن گئی اور ان کے مزاج تبدیل ہو گئے اور علم
شریعت سے جاہل ہونے کے باوجود اسلام کو اپنی مرضی اور سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اسلام کے دفاع کے لیے جن لوگوں نے جانوںکے نذرانے پیش کیے، طویل طویل سفر کیے، علم شریعت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا، قرآن مجید کو سمجھنے، اسے یاد کرنے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کے لیے خوب تگ و دو کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کا عملی اور علمی دفاع کیا، چشم فلک گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد کا تعلق غریبوں سے رہا ہے۔
اگر آج بھی جائزہ لیا جائے تو جو لوگ جہاد کرنے، قرآن و حدیث کی تعلیم دینے، شرعی تعلیمات کی تبلیغ کرنے، قرآن مجید حفظ کرنے، مساجد کی صفائی کرنے اور ان میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور خلقِ خدا کی خدمت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کی اکثریتکا تعلق غربت سے ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ہم کسی مخصوص امیریا غریب فرد پر نہیں، بلکہ ماحول پر بحث کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں، جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین پیروکاروں میں غریب اور فقیر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اہل کتاب کے مذہبی ادب سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ انبیا و رسل کی اطاعت کرنے والوں کا حال بھییہی تھا۔ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تلک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرنے والوں کی اکثریت فقر و فاقہ اور غربت و افلاس میں مبتلا رہی۔
قارئین کرام! بلا شک و شبہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اس نعمت کے تقاضے پورے نہیں کیے اور یہی دولت ان کے لیے اسلام سے غفلت برتنے کا سبب بن گئی اور ان کے مزاج تبدیل ہو گئے اور علم
شریعت سے جاہل ہونے کے باوجود اسلام کو اپنی مرضی اور سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اسلام کے دفاع کے لیے جن لوگوں نے جانوںکے نذرانے پیش کیے، طویل طویل سفر کیے، علم شریعت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا، قرآن مجید کو سمجھنے، اسے یاد کرنے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کے لیے خوب تگ و دو کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کا عملی اور علمی دفاع کیا، چشم فلک گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد کا تعلق غریبوں سے رہا ہے۔
اگر آج بھی جائزہ لیا جائے تو جو لوگ جہاد کرنے، قرآن و حدیث کی تعلیم دینے، شرعی تعلیمات کی تبلیغ کرنے، قرآن مجید حفظ کرنے، مساجد کی صفائی کرنے اور ان میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور خلقِ خدا کی خدمت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کی اکثریتکا تعلق غربت سے ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ہم کسی مخصوص امیریا غریب فرد پر نہیں، بلکہ ماحول پر بحث کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں، جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9326
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ) ) وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ ( (أَنَّ أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ إِلَّا أَصْحَابَ النَّارِ فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا النِّسَاءُ) )
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، پس دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں عام لوگ مساکین تھے اور مرتبے والوں کو (جنت سے باہر) روک لیا گیا تھا، البتہ جہنمیوں کے بارے میں یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ان کو جہنم میں لے جایا جائے، پھر میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں سے عام خواتین تھیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9326]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5196، 6547، ومسلم: 2736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22125»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا اور اس میں فقراء کی اکثر تعداد دیکھی، پھر میں نے آگ میں اوپر سے دیکھا اور اس میں اکثر تعداد عورتوں کی دیکھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9327]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2737، وعلقه البخاري: 6449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2086»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9328
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ كَانَا فِي الدُّنْيَا فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ فَيَقُولُ أَيْ أَخِي مَا ذَا حَبَسَكَ وَاللَّهِ لَقَدِ احْتُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ فَيَقُولُ أَيْ أَخِي إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ مَحْبَسًا فَظِيعًا كَرِيهًا وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي الْعَرَقُ مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ كُلُّهَا آكِلَةُ حَمْضٍ لَصَدَرَتْ عَنْهُ رِوَاءً) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مؤمن جنت کے دروازے پر ملیں گے، ایک مالدار ہو گا اور دوسرا فقیر، وہ دنیا میں دوست ہوں گے، پس فقیر کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور مالدار کو اتنی دیر کے لیے روک لیا جائے گا، جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر جب اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہ فقیر اس کو ملے گا تو وہ کہے گا: اے میرے بھائی! کس چیز نے تجھے روک لیا تھا؟ اللہ کی قسم! تجھے اتنی دیر کے لیے روکا گیا کہ مجھے تو تیرے بارے میں ڈر محسوس ہونے لگا، وہ کہے گا: اے میرے بھائی! مجھے تیرے بعد ایسی جگہ پر روک لیا گیا، جو بڑی ہولناک اور مکروہ تھی اور تیرے پاس پہنچنے تک مجھ سے اس قدر پسینہ نکلا کہ اگر حَمْض پودا کھانے والے ایک ہزار اونٹ اس کو پینے کے لیے آتے تو وہ سیراب ہو کر واپس جاتے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9328]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دويد مجھول، وسلم بن بشير، قال الحسيني: مجھول، وقال ابن معين: ليس به بأس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2770»
وضاحت: فوائد: … حَمْض: یہ ایک ساق پر کھڑا ہونے والا نمکین اور ترش پودا ہوتا ہے اور مویشیوں کے لیے ایسے ہی خوش گوار چارہ ہوتا ہے، جیسے انسان کے لیے پھل، یہ پودا کھانے سے جانوروں کو پیاس لگتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث پر غور کیا جائے، ان میں کسی خاص فقیر اور کسی خاص امیر کو موضوع نہیں بنایا گیا۔
حقیقتیہ ہے کہ مال و دولت ایک نعمت ِ عظمی ہے،لیکن اس نعمت کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل کام ہے اور عملی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جوں جوں سرمایہ بڑھتا جائے گا، مزاج میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ کسی کی رائے کی روشنی میں نہیں، شرعی نصوص کی روشنی میں کیا جائے گا کہ سرمایہ دار پر کون کون سے حقوق عائد ہوتے ہیں، صرف ایک مثال پر غور کریں:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ فضیلت والے امتی ہیں، عظمت و منقبت میں سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، دوسرا نقطہ ذہن نشین کریں کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بیس اکیس سالہ اسلام دشمنی کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، لیکنیہ بھی اللہ کریم کا فضل ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہو
گئی، ہر مسلمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بطورِ صحابی قبول کرے، لیکن جب سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اسلام دشمنی اور اذیتوں کو سامنے رکھ کر یہ تبصرہ کیا کہ اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، ان کی مراد یہ تھی کہ ابو سفیان قبولیت ِ اسلام سے پہلے قتل ہو جاتا تو بہتر تھا، حقیقت میں تو یہ تبصرہ شرعی اصولوں کے مطابق مناسب نہیں تھا، اسی بنا پر جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اِن فقیر صحابہ سے صرف یہ کہا کہ کیا تم یہ بات قریشکے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو (کچھ تو خیال کرو)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بات انتہائی مناسب تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فقیر صحابہ کا خیال کر کے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو وعید سناتے ہوئے یوں خطاب فرمایا: اے ابو بکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صرف اس چیز کا خیال رکھا گیا کہ کہیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے کہ فقیروں اور غریبوں کے حقوق کیسے ہیں۔ کیا آج ان کی ادائیگی کی جا رہی ہے؟ صرف صدقہ و خیرات کرنے سے یہ حق ادا نہیں ہو گا، صدقہ تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بڑا کرتے تھے، ہمارا معاشرہ اسلامی نہیں رہا، ہم اسلامی تعلیمات کو اپنے لیے باعث ِ ناز نہیں سمجھتے، اسلام صرف نماز کی ادائیگی اور حج و عمرہ کے سفروں کا نام نہیں ہے، اسلام کی سب سے بڑی خوبییہ ہے کہ دل کو ہر قسم کی آلائش سے پاک کر کے اس میں ایسی طہارت لانا چاہتا ہے کہ جس کی وجہ سے ہر اسلامی حکم کو قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
لیکن ہائے افسوس! ہمارے معاشرے میں احترام و اکرام، مودّت و محبت اور دوستی و یاری کا معیار کسی کا ایمان و ایقان اور اسلام و استسلام نہیں رہا، بلکہ ہم یا تو اپنے بڑوں کییاریوں کو برقرار رکھیں گے یا پھر کسی کے مال و منال اور جاہ و منصب کو کسوٹی بنائیں گے۔ فقر و فاقہ اور تنگ دستی و بدحالی میں مبتلا لوگوں سے ملاقات کرتے وقت تو ہمارے چہروں پر مسکراہٹ کا اظہار نہیں ہو سکتا، لیکن جب کوئی دنیا دار اور جاگیر دار ہمارے گھرکا رخ کرے گا تو اس کا استقبال کرنے کے لیے تو گلاب کی پتیاں بکھیر دی جائیں گی،
پرتکلف انداز اختیار کیا جائے گا اور حیثیت سے بڑھ کر اس کی ضیافت کی جائے گی۔ بہرحال ایسا کرنا کسی انسان کا بحیثیت ِ انسان کوئی کمال نہیں ہے، بحیثیت ِ مسلمان تو کجا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث پر غور کیا جائے، ان میں کسی خاص فقیر اور کسی خاص امیر کو موضوع نہیں بنایا گیا۔
حقیقتیہ ہے کہ مال و دولت ایک نعمت ِ عظمی ہے،لیکن اس نعمت کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل کام ہے اور عملی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جوں جوں سرمایہ بڑھتا جائے گا، مزاج میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ کسی کی رائے کی روشنی میں نہیں، شرعی نصوص کی روشنی میں کیا جائے گا کہ سرمایہ دار پر کون کون سے حقوق عائد ہوتے ہیں، صرف ایک مثال پر غور کریں:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ فضیلت والے امتی ہیں، عظمت و منقبت میں سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، دوسرا نقطہ ذہن نشین کریں کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بیس اکیس سالہ اسلام دشمنی کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، لیکنیہ بھی اللہ کریم کا فضل ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہو
گئی، ہر مسلمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بطورِ صحابی قبول کرے، لیکن جب سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اسلام دشمنی اور اذیتوں کو سامنے رکھ کر یہ تبصرہ کیا کہ اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، ان کی مراد یہ تھی کہ ابو سفیان قبولیت ِ اسلام سے پہلے قتل ہو جاتا تو بہتر تھا، حقیقت میں تو یہ تبصرہ شرعی اصولوں کے مطابق مناسب نہیں تھا، اسی بنا پر جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اِن فقیر صحابہ سے صرف یہ کہا کہ کیا تم یہ بات قریشکے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو (کچھ تو خیال کرو)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بات انتہائی مناسب تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فقیر صحابہ کا خیال کر کے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو وعید سناتے ہوئے یوں خطاب فرمایا: اے ابو بکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صرف اس چیز کا خیال رکھا گیا کہ کہیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے کہ فقیروں اور غریبوں کے حقوق کیسے ہیں۔ کیا آج ان کی ادائیگی کی جا رہی ہے؟ صرف صدقہ و خیرات کرنے سے یہ حق ادا نہیں ہو گا، صدقہ تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بڑا کرتے تھے، ہمارا معاشرہ اسلامی نہیں رہا، ہم اسلامی تعلیمات کو اپنے لیے باعث ِ ناز نہیں سمجھتے، اسلام صرف نماز کی ادائیگی اور حج و عمرہ کے سفروں کا نام نہیں ہے، اسلام کی سب سے بڑی خوبییہ ہے کہ دل کو ہر قسم کی آلائش سے پاک کر کے اس میں ایسی طہارت لانا چاہتا ہے کہ جس کی وجہ سے ہر اسلامی حکم کو قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
لیکن ہائے افسوس! ہمارے معاشرے میں احترام و اکرام، مودّت و محبت اور دوستی و یاری کا معیار کسی کا ایمان و ایقان اور اسلام و استسلام نہیں رہا، بلکہ ہم یا تو اپنے بڑوں کییاریوں کو برقرار رکھیں گے یا پھر کسی کے مال و منال اور جاہ و منصب کو کسوٹی بنائیں گے۔ فقر و فاقہ اور تنگ دستی و بدحالی میں مبتلا لوگوں سے ملاقات کرتے وقت تو ہمارے چہروں پر مسکراہٹ کا اظہار نہیں ہو سکتا، لیکن جب کوئی دنیا دار اور جاگیر دار ہمارے گھرکا رخ کرے گا تو اس کا استقبال کرنے کے لیے تو گلاب کی پتیاں بکھیر دی جائیں گی،
پرتکلف انداز اختیار کیا جائے گا اور حیثیت سے بڑھ کر اس کی ضیافت کی جائے گی۔ بہرحال ایسا کرنا کسی انسان کا بحیثیت ِ انسان کوئی کمال نہیں ہے، بحیثیت ِ مسلمان تو کجا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
4. بَابُ فِي ذِكْرِ قِصَّةِ الرَّجُلِ وَزَوْجَتِهِ الْفَقِيرَينِ المُتَعَفِّقَينِ وَمَا أَكَرَمَهُمَا اللَّهُ بِه
فقیر لیکن سوال سے بچنے والے میاں بیوی کے قصے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی کی گئی تکریم کا بیان
حدیث نمبر: 9329
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي لَا يَقْدِرَانِ عَلَى شَيْءٍ فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ جَائِعًا قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ أَعِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ نَعَمْ أَبْشِرْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ فَاسْتَحَثَّهَا فَقَالَ وَيْحَكِ ابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ نَعَمْ هُنَيَّةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوَى قَالَ وَيْحَكِ قُومِي فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَأْتِينِي بِهِ فَإِنِّي قَدْ بَلَغْتُ وَجَهَدْتُ فَقَالَتْ نَعَمْ الْآنَ يَنْضَجُ التَّنُّورُ فَلَا تَعْجَلْ فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا سَاعَةً وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ لَهَا قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلَآى جُنُوبَ الْغَنَمِ وَرَحَيَيْهَا تَطْحَنَانِ فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَنَفَضَتْهَا وَأَخْرَجَتْ مَا فِي تَنُّورِهَا مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحَيَيْهَا وَلَمْ تَنْفُضْهَا لَطَحَنَتْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گزرے ہوئے زمانے کی بات ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تھے، (یعنی ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی)، ایک دن وہ آدمی سفر سے واپس آیا اور اپنی بیوی پر داخل ہوا، جبکہ وہ سخت بھوک میں مبتلا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، خوش ہو جاؤ، بس ابھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رزق آیا، پھر اس شخص نے اس خاتون کو ترغیب دلائی اور کہا: تو ہلاک ہو جائے، اگر تیرے پاس کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر؟ اس نے کہا: جی بالکل، لیکن تھوڑی دیر، ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں، لیکن پھر جب بھوک کا وقفہ زیادہ ہوا تو اس نے کہا: او تو مر جائے، کھڑی ہو، کوئی روٹی تلاش کر کے میرے سامنے پیش کر، میں تھک چکا ہوں اور مجھ پر مشکل بن رہی ہے، اس نے کہا: جی ابھی تنور کھانے پکانے کے قابل ہوتا ہے، جلدی نہ کرو، پھر جب خاوند تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا اور اس عورت نے سمجھا کہ وہ پھر بات کرے گا تو اب کی بار وہ خود سے ہی کہنے لگی کہ اگر میں کھڑی ہو کر اپنے تنور کو دیکھ ہی لوں (کیا پتہ کہ واقعی اس میں کوئی چیز پک رہی ہو)، پس وہ اٹھی اور اپنے تنور کو اس حال میں پایا کہ وہ بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی دونوں چکیاں غلہ پیس رہی تھیں، پس وہ چکی کی طرف گئی اور اس کا جائزہ لیا اور تنور سے بکری کی دستیاں نکالیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ دونوں چکیوں سے آٹا نکال لیتی اور ان کا جائزہ نہ لیتی تو وہ قیامت کے دن تک غلہ پیستی رہتیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9329]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9445»
الحكم على الحديث: ضعیف