🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. خَاتِمَةٌ فِي أَحَادِيثَ جَرَتْ مَجْرَى الْمِثَالِ
خاتمہ: مثال کے طور پر بیان کی جانے والی باتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9658
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ( (بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ) )
۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبد اللہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زَعَمُوْ ا کے متعلق کیا فرماتے سنا؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زَعَمُوا آدمی کی بری سواری ہے، (یعنی براتکیہ کلام ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9658]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17203»
وضاحت: فوائد: … زَعَمُوْا کے لفظی معانییہ ہیں: انھوں نے گمان کیا، ان کا خیال ہے،انھوں نے جھوٹ بولا، انھوں نے کہا، انھوں نے بے حقیقت دعوی کیا، انھوں نے یقین رکھا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کو وہی بات یا حدیث بیان کرنی چاہیے جس کے سچا ہونے کا یقین ہو، ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْیُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔)) … آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے، اسے (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کردے۔ (مسلم)
چونکہ عصر حاضر میں لوگوں میں گپ شپ لگانے، باتوں کے بتنگڑ بنانے اور دنیا کے مختلف خطوں اور ان کے باسیوں کے تذکرے کرنے کی جنون کی حد تک رغبت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی بات کو سہارا دینے کے لیےیوں کہتے ہیں: آج بازار میں یہ بات ہو رہی تھی، لوگوں کو یہ بات کہتے ہوئے سنا گیا ہے، فلاں اخبار میں اس قسم کی بات شائع ہوئی ہے۔ یہ انداز زَعَمُوا کا مصداق ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں زَعَمُوْا کے کلمے کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے، اگرچہ یہ قَالَ کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن مجید میں جہاں مذموم اقوام کے مذمت والے امور کا تذکرہ کیا گیا، وہاں اس لفظ کا استعمال ہوا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا } (سورۂ تغابن: ۷) اس کے بعد کہا گیا: {بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ} (سورۂ تغابن: ۷) اس قسم کی کئی آیات ہیں۔
امام طحاوی نے بعض آیات ذکر کرنے کے بعد کہا: ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مذموم قوموں کے مذموم حالات اور ان کی جھوٹی باتوں کا ذکر کیا۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کیا گیا ہے کہ وہ اخلاق و ادیان اور اقوال و افعال میں قابل مذمت لوگوں کی عادات کو اپنائیں۔ اہل ایمان کو تو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اخلاق، ان کے قابل تعریف منہج اور سچے اقوال کو اسوہ بنائیں جو ایمان کی حالت میں سبقت لے جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔
امام بغوی نے شرح السنۃ: ۱۲/ ۳۶۲ میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کی مذمت اس لیے کی ہے،
کہ زیادہ تر اس لفظ کا استعمال ایسی باتوں کے لیے ہوتا ہے، جو زبانوں پر مشہور ہوتی ہیں، لیکن ان کی کوئی سند یا ثبوت نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کو سواری سے تشبیہ دی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس لفظ کے ذریعے اپنی مقصود بات تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ ماحصلیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں بیانات و روایات میں تحقیق کرنے کا حکم دے رہے ہیں،یعنی اگر کوئی شخص حدیث بیان کرنا چاہتا ہے تو صرف ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث روایت کرنی چاہئیں، وگرنہ وہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق بن جائے گا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔ (صحیحہ: ۸۶۶)

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9659
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يَلْقَ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدے کی طرح نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو خبر دی کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے ساتھ یہ کچھ کر دیا ہے، تو انھوں نے تختیوں کو نہیں پھینکا، لیکن جب انھوں نے اپنی قوم کے کیے کو دیکھا تو پھر تختیاں ڈال دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9659]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 321، وابن حبان: 6213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2447»
وضاحت: فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان دیکھنے اور سننے میں فرق محسوس کرتا ہے، ابراہیم علیہ السلام کتنے جلیل القدر پیغمبر تھے، ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ ان کی ایمانی اور اعتقادی کیفیت و کمیت کیا ہو گی، لیکن انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا: {وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُرَبِّاَرِنِیْ کَیْفَ تُـحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَیِنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تو نے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ فرمایا پھر چار پرندے پکڑ اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کر لے، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے، پھر انھیں بلا، دوڑتے ہوئے تیرے پاس آجائیں گے اور جان لے کہ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ بقرہ: ۲۶۰)
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۸۰)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں