الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّدَاسِيَّاتِ
سداسیات کا بیان
حدیث نمبر: 9628
عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُودُهُ مِنْ شَكْوًى أَصَابَهُ وَامْرَأَتُهُ تُحَيْفَةُ قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ قُلْتُ كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ بَاتَ بِأَجْرٍ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا بِتُّ بِأَجْرٍ وَكَانَ مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ عَلَى الْحَائِطِ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونَنِي عَمَّا قُلْتُ قَالُوا مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسَبْعُمِائَةٍ وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ أَوْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ مَازَ أَذًى فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ
۔ عیاض بن غطیف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے اور ان کی بیوی تُحیفہ ان کے سر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی رات کیسے گزری ہے؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم! انھوں نے اجر و ثواب کے ساتھ رات گزاری ہے، لیکن اُدھر سے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے خود کہا: میں نے اجر کے ساتھ نہیں گزاری، جبکہ وہ دیوار کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جو بات میں نے کہی ہے، تم لوگ اس کے بارے میں سوال کیوں نہیںکرتے؟ انھوں نے کہا: تم نے کوئی قابل تعجب بات ہی نہیں کی کہ ہم اس کے بارے میں سوال کریں، پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے زائد چیز اللہ کی پناہ میں خرچ کی، اس کو سات سو گنا ثواب ملے گا، اور جس نے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا،یا کسی مریض کی تیمار داری کی، کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دی تو اس کو اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا اور روزہ ڈھال ہے، لیکن جب تک وہ روزے دار اسے پھاڑ نہ لے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی آزمائش کے ذریعے آزمایا تو اس تکلیف سے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔‘ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9628]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 4/ 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1690»
وضاحت: فوائد: … روزے کو پھاڑنے سے مراد یہ ہے کہ غیبت اور دوسرے گناہوں کے ذریعے اس کو زخمی اور متاثر کر دیا جائے، جیسے ڈھال میں سوراخ ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
11. بابُ السَّدَاسِياتِ الْمَبْدُوءَ وَ بَعَدَدٍ
عدد سے ابتداء ہونے والی سداسیات کا بیان
حدیث نمبر: 9629
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر نیکی کی صورت میں چھ حقوق ہیں، جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے، جب وہ چھینکے تو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، جب وہ اس کو دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو نماز جنازہ میں شرکت کرے، جو کچھ اپنے لیے پسند کرے، وہ اس کے لیے بھی پسند کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیرخواہی کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9629]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1433، والترمذي: 2736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 673»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9630
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱)جب بات کرو تو سچ بولو (۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو (۳)جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اداکرو (۴) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو (۵) اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو (۶) اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9630]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 271، والحاكم: 4/ 358، والبيھقي: 6/ 288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23137»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9631
عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ وَأَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَفْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
۔ سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اعمال چھ ہیں اور لوگ چار ہیں، دو واجب کرنے والے ہیں، دو ہم مثل ہیں، ایک نیکی دس گناہ ہے اور ایک نیکی سات سو گناہے، دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس حال میں مرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ دو ہم مثل یہ ہیں: جس نے نیکی کرنے کا اتنا ارادہ کیا کہ اس کے دل کو سمجھ آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جان لیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو ایک برائی کرے گا، اس کی ایک برائی ہی لکھی جائے گی، جو ایک نیکی کرے گا، اس کو ثواب دس گنا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے ایک نیکی کرے گا، اس کا اجر سات سو گنا ہو گا، رہا مسئلہ لوگوں کا، تو جس پر دنیا میں وسعت کی جائے گی، آخرت میں اس پر تنگی کی جائے گی، جس پر دنیا میں تنگی کی جائے گی، آخرت میں اس پر وسعت پیدا کی جائے گی اور بعض ایسے ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان پر وسعت اختیار کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9631]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 4151، والحاكم: 2/ 87، وأخرجه مختصرا الترمذي: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19107»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے میں مذکورہ وسعت سے مرادوہ مال و دولت وغیرہ ہے، جس کے ساتھ شریعت کا حق ادا نہ کیا گیا ہو، اسی طرح جو آدمی دنیا میں تنگی میں مبتلا ہو تو اس کو چاہیے کہ اس آزمائش میں شریعت کے تقاضے پورے کرے۔
آخری جملے میں (اما الناس …) لوگوں کی چار قسمیں بیان ہوئی ہیں۔
۱۔ مال دار ہیں لیکن اس کے حقوق ادا کرنے سے غافل رہے تو آخرت میں ان پر تنگی ہو گی۔
۲۔ دنیا میں مالی لحاظ سے تنگی والے لیکن آخرت میں ان کے لیے فراخی ہو گی کیونکہ وہ مالی لحاظ سے تنگ دست ہونے کے با وصف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔
۳۔ دنیا میں فقیر و محتاج اور اللہ کے نافرمان، اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے آخرت میں تنگی والے۔
۴۔ دنیا میں مالدار اور اللہ کے مطیع اور صحیح مسلم، ان کے لیے آخرت میں فراخی ہی فراخی ہے۔
آخری جملے میں (اما الناس …) لوگوں کی چار قسمیں بیان ہوئی ہیں۔
۱۔ مال دار ہیں لیکن اس کے حقوق ادا کرنے سے غافل رہے تو آخرت میں ان پر تنگی ہو گی۔
۲۔ دنیا میں مالی لحاظ سے تنگی والے لیکن آخرت میں ان کے لیے فراخی ہو گی کیونکہ وہ مالی لحاظ سے تنگ دست ہونے کے با وصف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔
۳۔ دنیا میں فقیر و محتاج اور اللہ کے نافرمان، اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے آخرت میں تنگی والے۔
۴۔ دنیا میں مالدار اور اللہ کے مطیع اور صحیح مسلم، ان کے لیے آخرت میں فراخی ہی فراخی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّبَاعِيَّاتِ
سباعیات کا بیان
حدیث نمبر: 9632
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دن سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا، (۱)منصف حکمران، (۲) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھا، (۳) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو، (۴) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، (۵) وہ آدمی نے جس نے صدقہ کیا اور اس کو اس طرح چھپایا کہ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا، اس کے بائیں ہاتھ کو اس کا علم نہ ہوا، (۶) وہ آدمی جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑھیں اور (۷) وہ آدمی جس کو منصب اور حسن والی عورت نے اپنے وجود یعنی برائی کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9632]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 660، 1423، ومسلم: 1031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9663»
وضاحت: فوائد: … اگر آدمی غور کرے تو اس حدیث ِ مبارکہ میں بیشتر اعمال بہت آسان ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 660
حدیث نمبر: 9633
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ بِهِ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمَيْثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں کا حکم دیا، وہ یہ تھیں: بیمار کی تیمارداری کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں سے منع فرمایا، وہ یہ تھیں: چاندی کے برتن، سونے کا کڑا، استبرق، ریشم، دیباج، ریشم و دیباج سے آراستہ سوارییا کشتی، قسِّیّ۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9633]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1239، 2445، 5650، 5863، ومسلم: 2066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18698»
وضاحت: فوائد: … دیباج: ریشمی قیمتی کپڑا جس کا تانا بانا ریشم کا ہوتا ہے۔ استبرق سے مراد موٹا ریشم ہے۔
قسِّیّ: یمن کی ایک بستی کا نام قَسّ ہے، اس میں ایک کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اس پر ریشمی پٹیاں لگائی جاتی ہیںیا اس کا تابا یا اس کا بانا ریشم کا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کپڑا ریشم کی ملاوٹ کی وجہ سے حرام ہے۔
قسِّیّ: یمن کی ایک بستی کا نام قَسّ ہے، اس میں ایک کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اس پر ریشمی پٹیاں لگائی جاتی ہیںیا اس کا تابا یا اس کا بانا ریشم کا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کپڑا ریشم کی ملاوٹ کی وجہ سے حرام ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1239
حدیث نمبر: 9634
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ قَالَ فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلَمَةٍ فَيَصْبِرُ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عِزًّا وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ لَهُ بَابَ فَقْرٍ وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ فَإِنَّهُ قَالَ إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حَقَّهُ قَالَ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا قَالَ فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقَّهُ فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ هِيَ نِيَّتُهُ فَوِزْرُهُمَا فِيهِ سَوَاءٌ
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں اور تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پس اس کو یاد کرو۔ وہ تین چیزیں، جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں، یہ ہیں: (۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا، (۲) جس آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور پھر وہ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کر دیتاہے اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقیری کا دروازہ کھول دیتاہے۔ اب میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس کو یاد کر لو: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9634]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18194»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9635
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کے قریب ہوا کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ذکر کروں،کیونکہ یہ عرش کے نیچے موجود ایک خزانے میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9635]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البيھقي: 10/ 91، وابن حبان: 449، ووالطبراني في الكبير: 1648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21745»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّمَانِيَّاتِ
ثمانیات کا بیان
حدیث نمبر: 9636
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ الرَّجُلُ أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلِينُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ الطَّعَامِ وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ خُلُقٍ قَالَ الرَّجُلُ أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَلَا تَتَّهِمُ اللَّهَ نَفْسَكَ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، تصدیق کرنا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اور حج مبرور۔ اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو زیادہ چیزوں کا ذکر کردیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر نرم کلام کرنا، کھانا کھلانا، درگزر کرنا اور حسن اخلاق۔ اس بندے نے کہا: میں تو صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلا جا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی سے بچانا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9636]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين لشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17967»
وضاحت: فوائد: … اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی سے بچانا یعنی اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کرے، اس پر راضی ہو جا۔
ہم نے ترجمہ میں سَمَاح کا صرف ایک معنی ذکر کیا ہے، اس کے مزید معانییہ ہیں: معاف کرنا، نرمی، چشم پوشی، فراخ دلی، سخاوت۔
ہم نے ترجمہ میں سَمَاح کا صرف ایک معنی ذکر کیا ہے، اس کے مزید معانییہ ہیں: معاف کرنا، نرمی، چشم پوشی، فراخ دلی، سخاوت۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين لشواھده
14. بَاب مَا جَاءَ فِي الْعُشَارِيَّاتِ وَمَا زَادَ عَنْهَا
عشاریات اور اس سے بھی زائد امور کا بیان
حدیث نمبر: 9637
عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ السُّلَمِيَّ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَسَةَ هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا كَذِبٌ وَلَا تُحَدِّثْنِيهِ عَنْ آخَرَ سَمِعَهُ مِنْهُ غَيْرُكَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَصَافَوْنَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَبَلَغَ مُخْطِئًا أَوْ مُصِيبًا فَلَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَرَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ وَأَيُّمَا رَجُلٍ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهِيَ لَهُ نُورٌ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَكُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقِ فِدَاءٌ لَهُ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَكُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقَةِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقَةِ فِدَاءٌ لَهَا مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صُلْبِهِ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَوِ امْرَأَةٌ فَهُمْ لَهُ سِتْرَةٌ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وُضُوءٍ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَأَحْصَى الْوُضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَوْ خَطِيئَةٍ لَهُ فَإِنْ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا فَقَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ عَبَسَةَ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ فَانْتَهَى عِنْدَ سَبْعٍ مَا حَلَفْتُ يَعْنِي مَا بَالَيْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي عَدَدَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ ابو ظبیہ کہتے ہیں: شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم ایسی حدیث بیان کرسکتے ہو، جو تم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی زیادتی اور جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو، نیز تم نے وہ حدیث کسی اور آدمی سے بیان نہیں کرنی، جو اُس نے سنی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تحقیق میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی، جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ خالص تعلق رکھتے ہیں، میری محبت میری وجہ سے ایک دوسرے کی زیارت اور ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، میری محبت میری وجہ سے خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری وجہ سے ایک دوسروں کی مدد کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔ پھر سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس آدمی نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکا، وہ نشانے پر لگا یا نہ لگا، اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، جو آدمی اللہ کے راستے میں بوڑھا ہو گیا تو یہ عمل اس کے لیے نور ہو گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو آزاد شدہ کے ہر ایک عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو جائے گا، جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو آزاد شدہ عورت کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جائے گا، جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی اولاد میں سے تین نابالغ بچے آگے بھیج دیے (یعنی فوت ہو گئے) تو وہ اس کے لیے آگ کے سامنے آڑ بن جائیں گے (یعنی وہ جہنم میں داخل نہیںہو گا)، جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے اٹھا اور اس نے وضو کے پانی کو اس کی جگہ تک پہنچایا تو وہ ہر گناہ یا خطا سے پاک ہو جائے گا۔ اب اگر وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرے گا اور اگر ویسے ہی بیٹھ جاتا ہے تو (گناہوں سے) پاک ہو کر بیٹھے گا۔ شرحبیل نے تصدیق کرنے کے لیے کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایکیا دو یا تین یا چار یا پانچ یا چھ یا سات یا آٹھیا نو دفعہ سنی ہوتی تو میں قسم نہ اٹھاتا، یعنی کسی آدمی کو یہ بیان نہ کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا، اللہ کی قسم! بات یہ ہے کہ مجھے وہ تعداد ہییاد نہیں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی دفعہ یہ حدیث سنی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9637]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديثيشتمل علي الحديثين، الحديث الأول الي قوله: يتناصرون من اجلي، وھما صحيحان، دون قوله في الحديث الثاني من ولد اسماعيل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19438، 19439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19662»
وضاحت: فوائد: … اس قسم کی احادیث ِ مبارکہ اس لائق ہیں کہ ان کو بار بار پڑھا جائے، ان میں مذکورہ امور پر غور کیا جائے اور ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
الحكم على الحديث:
ھذا الحديثيشتمل علي الحديثين