🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي النِّسَاءِ وَمَا يُدْخِلُهُنَّ الْجَنَّةَ
عورتوں اور ان کو جنت میں داخل کرنے والے اعمال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9648
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ اسْتَأْذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ جِهَادُكُنَّ أَوْ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کے لیے جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا جہاد حج ہے یا تمہیں حج کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9648]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2875، 2876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24887»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2875
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9649
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَيْكُنَّ بِالْبَيْتِ فَإِنَّهُ جِهَادُكُنَّ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بیت اللہ کو لازم پکڑو، یہی تمہارا جہاد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9649]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24897»
وضاحت: فوائد: … خواتین، جہاد بالسیف کے حکم سے مستثنی ہیں، اتفاقاً اور ضرورت کے پیش نظر کسی مسلم خاتون کا کسی کافر کو قتل کر دینا اور بات ہے، مزید اگلی حدیث دیکھیں۔
حج مشقت کے اعتبار سے جہاد سے ملتا جلتا عمل ہے، اس لیےیہ خواتین کے لیے حج کا حکم رکھتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24897
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9650
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ أَنَّ أُخْتَهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَتْ أُخْتِي غَزَوْتُ مَعَهُ سِتَّ غَزَوَاتٍ قَالَتْ كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى فَسَأَلَتْ أُخْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ فَقَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَسَأَلْتُهَا أَوْ سَأَلْنَاهَا هَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا إِلَّا قَالَتْ بِيَبَا فَقَالَتْ نَعَمْ بِيَبَا قَالَ لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوْ قَالَتْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى فَقُلْتُ لِأُمِّ عَطِيَّةَ الْحَائِضُ فَقَالَتْ أَوَ لَيْسَ يَشْهَدْنَ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا
۔ حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: ہم اپنی نوجوان عورتوں کو نکلنے سے منع کرتی تھیں، ایک خاتون آئی، بنوخلف کے محل میں اتری اور یہ بیان کیا کہ اس کی بہن، ایک صحابی کی بیوی تھی، اس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوے کیے تھے، میری بہن نے کہا: میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے، ہم زخمیوں کا علاج اور بیماروں کی نگہداشت کرتی تھیں، میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: جس عورت کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو عید کے لیے نہ جانے کی صورت میں اس پر کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی سہیلی اس کو چادر دے دے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرے۔ پھر جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا تھا، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو بِیْبًا کہتی تھیں، اس لیے انھوں نے کہا: بِیْبًا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوجوان اور پردہ نشین، بلکہ حائضہ عورتیں بھی نکلیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ خواتین جائے نماز سے دور رہیں۔ میں نے سیدہ ام عطیہ سے کہا: حائضہ بھی؟ انھوں نے کہا: کیا حائضہ عورت حج کے موقع پر عرفہ اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جاتی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9650]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1652، ومسلم: 890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21070»
وضاحت: فوائد: … مجاہدین اور ان میں سے زخمی اور بیمار ہو جانے والے افراد کی خدمت کے لیے بعض خواتین جا سکتی ہے۔
بِیْبًا کے معانی ہیں:میں ان پر اپنا باپ قربان کرتا ہوں یا میرا باپ ان پر قربان ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. خَاتِمَةٌ فِي أَحَادِيثَ جَرَتْ مَجْرَى الْمِثَالِ
خاتمہ: مثال کے طور پر بیان کی جانے والی باتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9651
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ ( (أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِنَّ طَوِيلًا ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنْ أَعَاجِيبَ فَقَالَ النَّاسُ حَدِيثُ خُرَافَةَ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات اپنی بیویوں کو ایک بات بیان کی، ایک ام المؤمنین نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ یہ بات تو حدیث ِ خرافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تم جانتی ہو کہ خرافہ کیا ہے؟ خرافہ عذرہ قبیلے کاآدمی تھا، جنوں نے اس کو جاہلیت میں قید کر لیا تھا، وہ کافی عرصہ تک جنوںمیں رہا، پھر وہ اس کو انسانوں میں چھوڑ گئے تھے، تب وہ لوگوں کو جنوں کی عجیب عجیب باتیں بیان کرتا تھا، اس کو لوگ حدیث ِ خرافہ کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضف مجالد بن سعيد وللاختلاف عليه في وصله وارساله، والمرسل اشبه بالصواب، أخرجه الترمذي في الشمائل: 250، والبزار: 2475، وابويعلي: 4442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25758»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضف مجالد بن سعيد وللاختلاف عليه في وصله وارساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9652
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ) )
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے جو کلام پہلے والی جاہلیت میں پایا، اس میں یہ بات بھی تھی: جب تو شرمائے نہیں تو جو چاہے کر گزر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9652]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 4797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22345م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22702»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۲۲) والا باب اور اس میں مذکورہ احادیث و فوائد۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 4797
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9653
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ وَإِنَّ آخِرَ مَا تَعَلَّقَ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ) )
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے، اور آخری چیز جو اہلِ جاہلیت نے نبوت کے کلام سے حاصل کی ہے، وہ یہ ہے: جب تو شرم و حیا کو چھوڑ دے تو جو چاہے کر گزر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9653]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي خلاف في صحابيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23834»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي خلاف في صحابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9654
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُصُ إِلَّا الشَّرَّ فَإِنَّهُ يُزَادُ فِيهِ) )
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کم ہو رہی ہے، ما سوائے شرّ کے، اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن مصعب، وابي بكر ابن ابي مريم، ولابھام الراوي عن ابي الدرداء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28031»
وضاحت: فوائد: … مشاہدہ یہی ہے کہ شرّ بڑھ رہا ہے اور خیر کم ہوتی جا رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف محمد بن مصعب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9655
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ ( (وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: جس پر تو نے کچھ نہیں خرچا، وہ خبر لائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9655]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 712، والنسائي في الكبري: 10834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24524»
وضاحت: فوائد: … پورا شعر یوں ہے:
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9656
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کو ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9656]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6133، ومسلم: 2998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8915»
وضاحت: فوائد: … یہ خبر بمعنی نہی ہے، یعنی مؤمن کو محتاط اور دور رس ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی،، غافل اور نا عاقبت اندیش، دینی معاملہ ہو یا دنیوی، ہر ایک اقدام کرتے وقت اس کے مثبت اور منفی پہلو پر غور کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6133
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9657
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ) )
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کسی چیز سے محبت کرنا اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9657]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم، أخرجه ابوداود: 5130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22036»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب آدمی کسی سے محبت کرنے لگتا ہے تو نہ اس کو اس کے معائب نظر آتے ہیں اور نہ اس کو اس کی قباحتیں سنائی دیتی ہیں، بس وہ ہر وقت اس کے گن گاتے ہوئے نظر آتا ہے، مسلمان کو کبھی بھی اعتدال اور میانہ روی کی راہ سے دور نہیں ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں