🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّنَائِبَاتِ
ثنائیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9558
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ ( (مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) ) قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ( (مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9558]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11142»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1888
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9559
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی ایسی دو نعمتیں ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے گھاٹے میں مبتلا ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9559]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2340»
وضاحت: فوائد: … بہت سے لوگ صحت اور فراغت سے فائدہ حاصل نہیں کرتے، بلکہ جب وہ ان دو نعمتوں کو ان کے غیر محل میںصرف کرتے ہیں، تو یہی دو بڑی نعمتیں ان کے حق میں وبال جان بن جاتی ہیں، جبکہ اگر وہ ان کا صحیح استعمال کرتے تو یہ ان کے لیے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا سبب بنتیں، گویا کہ انھوں نے خیر کے عوض وبال حاصل کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6412
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9560
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ ( (اعْبُدِ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَكُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ) )
۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے جسم کا ایک حصہ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبی یامسافر ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9560]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6156»
وضاحت: فوائد: … جیسے آدمی سفر کے دوران یا اجنبی لوگوں کے درمیان نہ دل لگاتا ہے اور نہ اپنے وجود کا خاص خیال رکھتاہے، اسی طرح کامعاملہ دنیا کا ہے، یہ دل لگانے کی جگہ نہیں ہے اور یہاں کسی کی پروا نہیں ہونی چاہیے، سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے۔
اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو حدیث ِ جبریل میں عابد کی اس کیفیت کو احسان کہا گیا ہے۔
حافظ ابن حجرl نے کہا: عبادت کے اس انداز یا احسان کا معنی و مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عبادت کو پرخلوص بنایا جائے، اس میں خشوع و خضوع کا خوب اہتمام کیا جائے، عبادت کے دوران اسی کی طرف مکمل توجہ کی جائے اور دل میں معبودِ برحق کا خوف رکھا جائے۔ سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دو کیفیتوں کو بیان کیا گیا ہے، سب سے اعلی کیفیت اور حالت یہ ہے کہ عبادت کرنے والے پر یہ تصور غالب آجائے کہ وہ دل سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا تھا اور یہ تصور اتنا مضبوط ہو کہ بالآخر اسے یوں محسوس ہو کہ وہ اپنی آنکھوں سے حق تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کأنک تراہ کا یہی معنی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کم از کم وہ یہ حقیقت تو ذہن نشین کر لے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل سے آگاہ ہے، فانہ یراک کا یہ مفہوم ہے۔ ان دونوں حالتوں کا نتیجہیہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ سے معرفت ہو گی اور دل میں اس کی خشیت پیدا ہو گی۔
امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰) امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9561
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ تمہارے بد ترین لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہی جملہ دوہرایا، بالآخر ایک بندے نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید رکھی جاتی ہو اور تم میں بدترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید نہ رکھی جاتی ہو اور جس کے شرّ سے امن بھی نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9561]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8798»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کے وجود میں خیر بھی ہو اور وہ ایسا خیر رساں بھی ہو کہ کسی کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو، ہر کوئی اس اپنی جان و مال او رعزت و عظمت کا محافظ سمجھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9562
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بردبار کوئی نہیں ہوتا، مگر لغزشوں والا اور دانا کوئی نہیں ہوتا، مگر تجربے والا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9562]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الترمذي: 2033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11684»
وضاحت: فوائد: … بہرحال لغزشوں اور تجربوں کے بعد ہی بردباری اور دانائی نصیب ہوتی ہے، اسی لیے اچھے معاشرے میں بزرگوں کے پند و نصائح کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9563
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقوی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9563]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4219، والترمذي: 3271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20362»
وضاحت: فوائد: … لوگوں کے ہاں جس چیز کی وجہ سے آدمی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے، وہ مال ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں جس چیز کی وجہ سے عظمت ملتی ہے، وہ تقوی ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9564
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يُخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کو خزانہ نہ کیا جاتا اور اگر سیدہ حوا علیہاالسلام نہ ہوتیں تو کوئی بیوی اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9564]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8019»
وضاحت: فوائد: … بنواسرائیل پر من و سلوی نازل ہوتا تھا، امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بنو اسرائیل نے سلوی کا گوشت ذخیرہ کیا، جبکہ ان کو ایسا کرنے سے روکا گیا تھا، سو ان کو اس چیز کا بدلہ دیا گیا۔
جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حواء علیہا السلام نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حواء علیہا السلام دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1470
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الثَّنَانِيَاتِ الْمَبْدُوءَ ةِ بِعَدَدٍ
عدد سے شروع ہونے والی ثنائیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9565
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَمَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِهَا يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو غیرتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ایک کو پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند، اسی طرح دو بڑائیاں ہیں، اللہ تعالیٰ ایک بڑائی کو پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند، شک اور تہمت کی بنا پر کی جانے والی غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند کرتاہے، اس کے علاوہ غیرت کی دوسری صورتیں اس کو ناپسند ہیں، صدقہ کرتے وقت کی بڑائی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور تکبر والی بڑائی اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9565]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17533»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۹۷۳)

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بابُ مَا جَاءَ فِي الثلاثيات
ثلاثیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9566
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ ثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ زُهَيْرٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نیک سیرت اور مناسب وقار و تمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9566]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 12608، والبيھقي في الشعب: 6555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2698»
وضاحت: فوائد: … نہ نبوت کے اجزاء بنائے جا سکتے ہیں اور نہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان صفات سے متصف آدمی پچیسویں درجے کا نبی ہوتا ہے یا اس کے اندر کا پچیسواں حصہ پایا جاتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی درج ذیل توجیہات کی جا سکتی ہیں:
۱۔ یہ صفات انبیائے کرام کے فضائل کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۲۔ انبیائے کرام جو شریعت لائے اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی،یہ صفات اس کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۳۔ ان صفات سے متصف آدمی اس چیز کا حقدار ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس مقدار کے مطابق تقوی کا لباس پہنا دے۔
بہرحالیہ صفات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہیں کہ اس نے انبیائے کرام کو ان سے متصف کیے رکھا، اس لیے ہمیں بھی خصالِ حمیدہ سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9567
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ أَوْ قَارَبَ وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی آگ میں اس طرح جمع نہیںہو سکتے کہ ان میں سے کسی ایک کو نقصان ہو، وہ مسلمان جو کافر کو قتل کرے اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے اور میانہ روی اختیار کرے، دو چیزیں بندے کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتیں، اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں، کسی آدمی کے دل میں دو چزیں جمع نہیں ہو سکتیں، ایمان اور لالچ۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9567]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 12، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8460»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں