الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ الثَّلَاثِيَّاتِ الْمَبْدُوءَ ةِ بِعَدَدٍ
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
حدیث نمبر: 9588
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا وَرَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں اور تین پسند، اس نے تمہارے لیے اِن چیزوں کو پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور یہ کہ تم اپنے امیروں کی خیرخواہی کرو اور تمہارے لیےیہ چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9588]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8316»
وضاحت: فوائد: … امراء کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔
مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔
سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔
مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔
سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1715
حدیث نمبر: 9589
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ عِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَشُهُودُ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، ہر مسلمان پر حق ہیں، مریض کی عیادت، جنازوں میں شرکت کرنا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9589]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح،أخرجه الطيالسي: 2342، وابويعلي: 5904، وابن حبان: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8660»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9590
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ يَبْقَى عَمَلُهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں میت کے پیچھے چلتی ہیں، اس کے اہل و عیال، اس کا مال اور اس کا عمل، دو چیزیں واپس آ جاتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے، اہل و عیال اور مال لوٹ آئیں گے اور اس کا عمل باقی رہ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6514، ومسلم: 2960، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12104»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6514
حدیث نمبر: 9591
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُعْطِي حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَخُورٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد مجھ پر پیش کیے گئے، پہلے پہل جنت میں داخل ہونے والے افراد یہ ہیں:(۱) شہید، (۲) وہ غلام جو اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا اور اپنے آقا کا خیر خواہ ہو، اور (۳) بچوں کے باوجود پاکدامن بننے والے اور پہلے پہل جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ ہیں: (۱) مسلط ہو جانے والا امیر، (۲) مال کا حق ادا نہ کرنے والا مالدار اور (۳) تکبر کرنے والا فقیر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9591]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عامر بن عقبة العقيلي لايُعرف، وكذا ابوه لايُعرف، أخرجه الطيالسي: 2567، وابن ابي شيبة: 14/ 124، والحاكم: 1/ 387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9488»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 9592
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ وَمِنْ شَقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ وَمِنْ شَقْوَةِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْأَةُ السَّوْءُ وَالْمَسْكَنُ السَّوْءُ وَالْمَرْكَبُ السَّوْءُ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ابن آدم کی سعادت میں سے اور تین چیزیں ابن آدم کی شقاوت میں سے ہیں، ابن آدم کی سعادت والی تین چیزیں یہ ہیں: نیک بیوی، مناسب گھر اور اچھی سواری اور ابن آدم کی بد بختی والی تین چیزیں یہ ہیں: بری بیوی، برا گھر اور بری سواری۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9592]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 210، والبزار: 1412، وابن حبان: 4032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1445»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9593
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ قَالَ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعَرَةٍ
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا اور فرمایا: تو اہل مکہ کی طرف میرا قاصد ہے، ان کو کہنا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو سلام کہا اور تین چیزوں کا حکم دیا: (۱)غیر اللہ کی قسم نہیں اٹھانی، (۲) قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے نہ پیٹھ اور (۳) ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہیں کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9593]
تخریج الحدیث: «ما ورد فيه من نھي صحيح، وھذا اسناد ضعيف، لضعف عبد الكريم بن ابي المخارق، ولجھالة الوليد بن مالك ومحمدِ بن قيس، أخرجه مختصرا الدارمي: 1/ 170، ورواه الحاكم: 3/ 412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16080»
الحكم على الحديث:
ما ورد فيه من نھي صحيح
حدیث نمبر: 9594
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمُ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مسافر، والدین اور مظلوم۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9594]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17534»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9595
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنْ طِيبٍ إِنْ وَجَدَ
۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین امور ہر مسلمان پر حق ہیں، جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور اگر گنجائش ہو تو خوشبو لگائے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9595]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 94، وابويعلي: 7168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16511»
وضاحت: فوائد: … یہ تینوں امور مستحب ہیں، لیکن ان کا اجر بہت زیادہ ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9596
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ وَالنَّصِيحَةُ لِوَلِيِّ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصائل پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرنا، اربابِ حل وعقد کی خیر خواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9596]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الحاكم: 1/ 87، وابويعلي: 7413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16875»
وضاحت: فوائد: … مومن کو ان تین امور کا خصوصی طور پر اہتمام کرنا چاہیے، اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وجود خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر امراء کی خیرخواہی اور جماعت کے ساتھ نہ رہا جائے تو معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9597
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَوْتِي وَالدَّجَّالِ وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ يُعْطِيهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں سے نجات پانے والا نجات پا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ ارشاد فرمایا، (۱) میری وفات، (۲) دجال اور (۳) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے خلافت کے حق پر ڈٹ جانے والے خلیفے کاقتل۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9597]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 134، والحاكم: 3/ 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22855»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے نجات پانے سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اس وقت زندہ ہو، وہ اپنے دین پر استقامت اختیار کرے اور راہِ صواب پر چلتا رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملے، نجات نہ پانے والا وہ شخص ہو گا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد فتنے میں مبتلا ہو جائے گا یا مرتدّ ہو جائے گا۔
ظاہریہی ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ خلیفہ سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ خلیفۂ برحق تھے اور مظلوماً شہید ہو گئے۔
ظاہریہی ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ خلیفہ سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ خلیفۂ برحق تھے اور مظلوماً شہید ہو گئے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن