الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ الثَّلَاثِيَّاتِ الْمَبْدُوءَ ةِ بِعَدَدٍ
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
حدیث نمبر: 9598
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَانِي حِبِّي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی نصیحت کی، میں ان شاء اللہ کبھی بھی ان کو نہیں چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نمازِ چاشت پڑھنے کی، سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کی نصیحت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9598]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، أخرجه النسائي: 4/ 217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21851»
وضاحت: فوائد: … سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لینے سے اس نماز کے فوت ہو جانے کا خطرہ ٹل جاتا ہے، بہرحال رات کے آخری حصے میں یہ نماز ادا کرنا افضل عمل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9599
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ وَسُبْحَةُ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: حضرو سفر میں نمازِ چاشت پڑھنے کی وصیت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9599]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28102»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9600
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ أَمَرَنِي بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى كُلَّ يَوْمٍ وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ہر روز نمازِ چاشت پڑھنے، سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کرنے اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کا حکم دیا اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے، (جلسہ میں) کتے کی طرح بیٹھنے اور (نماز میں) لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر متوجہ ہونے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9600]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، ويزيد بن ابي زياد القرشي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8091»
وضاحت: فوائد: … مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے مراد جلدی جلدی سجدے کرنا ہے۔
کتے کی طرح بیٹھنے سے یہ کیفیت مراد ہے: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں۔
اس حدیث میں جن چھ امور کا ذکر ہے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
کتے کی طرح بیٹھنے سے یہ کیفیت مراد ہے: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں۔
اس حدیث میں جن چھ امور کا ذکر ہے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9601
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ قَدْ لَقِيتَ فَسَلْ قَالَ قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) ) قَالَ نَعَمْ فَمَا أَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُهَا قَالَ قُلْتُ مَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ( (رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ مُجَاهِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ) ) وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا} ( (وَرَجُلٌ لَهُ جَارٌ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ وَيَحْتَسِبُهُ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِمَوْتٍ أَوْ حَيَاةٍ) ) ( (وَرَجُلٌ يَكُونُ مَعَ قَوْمٍ فَيَسِيرُونَ حَتَّى يَشُقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى أَوِ النُّعَاسُ فَيَنْزِلُونَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَيَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (فَيُصَلِّي حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ) ) قَالَ قُلْتُ مَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ قَالَ ( (الْفَخُورُ الْمُخْتَالُ) ) وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} ( (وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالتَّاجِرُ الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ) ) قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا الْمَالُ قَالَ فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ يَعْنِي بِالْفِرْقِ غَنَمًا يَسِيرَةً قَالَ قُلْتُ لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ قَالَ مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ قُرَيْشٍ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا
۔ مطرف بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجھے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث موصول ہوئی تو میں ان سے ملاقات کرنے کو پسند کرنے لگا، پھر میں ان کو ملا اور کہا: اے ابو ذر! مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی اور میں نے چاہا کہ آپ کو ملوں اور اس کے بارے میں سوال کرو، انھوں نے کہا: اب ملاقات تو ہو گئی ہے، اس لیے پوچھ لو، میں نے کہا: جی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے محبت کرتا ہے اور تین افراد سے بغض رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں اور میں اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا کہ میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولوں گا، یہ بات انھوں نے تین بار دوہرائی، میں نے کہا: اچھا وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، پس دشمن سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس نے حصول ثواب کے لیے قتال کیا،یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اور تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت تلاوت کرتے ہو: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے، جو صف باندھ کر اس کے راستے میں قتال کرتے ہیں۔ اور ایک وہ آدمی کہ اس کا ہمسایہ اس کو تکلیف دیتا ہے، لیکن وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت یا حیات کے ساتھ کفایت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی ہے جو ایک قوم کے ساتھ چلتا رہتا، یہاں تک کہ نیندیا اونگھ ان پر غالب آ گئی اور انھوں نے رات کے آخری حصے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈال دیا، لیکن وہ آدمی وضو اور نماز کے لیے اٹھ پڑا اور نماز پڑھتا رہا، یہاں تک کہ ان کو وہاں سے کوچ کرنے کے لیے جگایا۔ میں نے کہا: وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے؟ انھوں نے کہا: فخر کرنے والا تکبر کرنے والا۔ تم قرآن مجید میں پڑھتے ہی ہو کہ بیشک اللہ تعالیٰتکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور احسان جتلانے والا بخیل اور وہ تاجر جو زیادہ قسم اٹھا کر سودابیچنے والا ہو۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! مال سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہماری بکریاں اور اونٹ، میں نے کہا: میں اس کے بارے میں سوال نہیں کررہا، میں آپ سے مال میں سے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، انھوں نے کہا: اس نے صبح کی نہ شام اور اس نے شام کی نہ صبح۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! آپ کو اور آپ کے قریشی بھائیوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ ان سے دنیا کا سوال کرتا ہوں اور نہ اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں ان سے کوئی بات پوچھتا ہوں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو جا ملوں گا، یہ بات انھوں نے تین دفعہ کہی۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9601]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 468، والبزار: 3908، والحاكم: 2/88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21863»
الحكم على الحديث: ضعیف
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّبَاعِيَّاتِ
رباعیات کا بیان
حدیث نمبر: 9602
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ ( (أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9602]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه الحاكم: 4/ 129، وابن حبان: 508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7919»
وضاحت: فوائد: … سلام کو عام کرنا، صلہ رحمی کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر لوگوں کو کھانا کھلانا، یہ تو انتہائی آسان امور ہیں، اگرچہ امت ِ مسلمہ کی اکثریت آسان امور میں غفلت برت رہی ہے، رات کا قیام شروع شروع میں کچھ مشقت طلب عمل لگتا ہے، بعد میں تو وہ بھی آسان ہو جاتا ہے، بہرحال اجر بہت بڑا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9603
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَلَا يَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَاءَ وَمِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ يَوْمَ وِرْدِهَا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو طاق پتھر استعمال کرے، جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو وہ اس کوسات دفعہ دھوئے، کوئی آدمی گھاس کو بچانے کے لیے زائد پانی سے نہ روکے اور اونٹوں کا حق یہ ہے کہ اس دن ان کو دوہا جائے، جس دن وہ پانی کے گھاٹ پر آئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9603]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرج القسم الرابع منه وھو حق الابل البخاري: 2378، ومسلم: 987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8710»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9604
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَنْ لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سرمہ ڈالے، وہ طاق سلائیاں ڈالے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، جو پتھروں سے استنجاء کرے، وہ طاق پتھر استعمال کرے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، اسی طرح جو آدمی کھانا کھانے کے بعد دانتوں سے کھانے کے اجزاء نکالے، وہ ان کو پھینک دے اور زبان کو منہ میں پھیر کر کھانے کے جو اجزاء اکٹھے کر لے، ان کو نگل جائے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا، جو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے اس کو کوئی چیز نہ ملے، تو وہ ڈھیر سا بنا کر اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنی آدم کی دبروں کے ساتھ کھیلتا ہے، جو ایسا کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9604]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه الحاكم: 4/ 129، وابن حبان: 508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8825»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9605
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے، اسلام میں معاہدہ نہیں ہے اور جَلَب ہے نہ جَنَب۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9605]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12687»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَغْلِقُوا أَبْوَابَكُمْ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ) ) يَعْنِي الْفَأْرَةَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے دروازوں کو بند کر دیا کرو، برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، چراغوں کو بجھا دیا کرواور مشکیزوں کو بند کر دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازہ کھولتا ہے، نہ برتن سے ڈھکن اٹھاتا ہے اور نہ مشکیزے کی ڈوری کھولتا ہے اور چوہیا گھر کو گھر والوں سمیت جلا دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9606]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14277»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9607
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ( (إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا: جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9607]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25773»
وضاحت: فوائد: … عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سے یوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح