🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9868
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُحَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَّارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9868]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقدعنعن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23586»
وضاحت: فوائد: … زبان کی حفاظت مومن کا عظیم وصف ہے، کسی انسان کی شخصیت کا پتہ دینے کے لیے اس کی زبان ہی کافی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9869
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فَقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9869]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19788»
وضاحت: فوائد: … کفر وشرک، کذب بیانی و دروغ گوئی، لہو و لغویات، گالی گلوچ، سب و شتم، چغلی و غیبت، دوسروں کی توہین، بڑوں کی گستاخی، چھوٹوں سے کرختگی و سختی، والدین کا دل دکھانا، بے راہ روی و بد کاری کی راہ ہموار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری، اس قسم کے سینکڑوں جرائم کا تعلق زبان سے ہے، یہ زبان ہی ہے جس کی وجہ سے صاحب ِ زبان کو کئی مجالس میں ندامت و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ زبان ہی ہے جو باوقار اور سنجیدہ انسانوں کی عظمت و وقار کو مجروح کر دیتی ہے، بہرحال جو بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، وہ کئی برائیوں سے اجتناب کرنے اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے سے محروم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خطرے والی چیز، جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو، کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زبان کا تعین کیا۔ (ترمذی)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9870
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ
۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9870]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15946»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ آدمی زبان سے ایسا کلمۂ خیر ادا کرتا ہے کہ جس سے کسی کا دل خوش ہو جاتا ہے یا کسی کی ڈھارس بن جاتا ہے یا کسی کی اصلاح ہو جاتی ہے یا کوئی ظلم و معصیت کے ارادے سے باز آ جاتا ہے، یقینا ایسا کلمہ کہنے والے کے لیے باعث ِ اجرو ثواب ہے۔ لیکن بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ بندہ کوئی کلمۂ شرّ ادا کر دیتا ہے کہ جس سے کسی کی دلآزاری ہو جاتی ہے یا کوئی اس کی وجہ سے ظلم و معصیت پر تل جاتا ہے یا وہ ایسے تنازعے کو ہوا دیتا ہے کہ طویل جھگڑا اور قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہےیا وہ کسی کی ضلالت و گمراہی کا داعی بن جاتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسی بات کہنے والے کے لیے باعث ِ وبال و عقاب ہو گی اور اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گی۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زبانوں کے سلسلے میں محتاط رہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ
خاموشی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9871
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَمَتَ نَجَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا، وہ نجات پا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9871]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6654»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب کی احادیث اور بالخصوص حدیث نمبر (۹۸۶۶) کے فوائد سے زبان کی آفتوں کا اندازہ ہو رہا ہے، ان آفات سے بچنے کا حل یہ ہے کہ زبان کو خیر والے امور کے لیے استعمال کیا جائے، نہیں تو کم از کم خاموش رہا جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9872
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنی مہمان کی قدر کرے، جس کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو، پس اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9872]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطبراني في الاوسط: 8841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9971»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9873
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ (وَفِيهِ) وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9873]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24908»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَيْبَةِ وَالْبُهتِ
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9874
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَهُ قَالَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے وہ عیوب بیان کرنا، جو اس میں ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں اپنے بھائی کے بارے میں جو کچھ کہوں، اگر وہ عیوب اس کے اندر پائے جاتے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ تو کہہ رہا ہے، اگر وہ چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ نقائص اس میں نہیں ہیں تو تو نے اس پر بہتان لگایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9874]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7146»
وضاحت: فوائد: … مطلب بن عبدالملک بن حنطب سے مرسلًا روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَجُلاً سَألَ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَاالْغِیْبَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أنْ تَذْکُرَ مِنَ الْمَرْئِ مَایَکْرَہُ أنْ یَسْمَعَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَإنْ کَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((إذَا قُلْتَ بَاطِلاً فَذٰلِکَ الْبُھْتَانُ۔)) … ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: غیبت کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کی ایسی بات بیان کرنا، جس کو وہ سننا نا پسند کرے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ بات حق (اور درست) ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے (کسی کے بارے میں) غیر حق بات کی تو وہ تو بہتان ہو گا (نہ کہ غیبت)۔ (موطا امام مالک: ۳/۱۵۰، صحیحہ: ۱۹۹۲)
اس میں غیبت اور بہتان دونوں کے معنی و مفہوم اور شناعت و قباحت کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کامیابی اور کامرانی کے لیے ہمارے سامنے ایک معیار رکھ دیا ہے کہ ہم کسی پر تبصرہ کرنے لگیں تو پہلے غور کریں کہ آیا اُس آدمی کی موجودگی میں یہ گفتگو کی جا سکتی ہے، اگر نہیں کی جا سکتی ہے تو فوراً رک جانا چاہئے۔
اگر اس روایت کے طرق اور سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لَیْسَ کے الفاظ اس حدیث کا حصہ نہیں ہیں،یہ کسی راوی سے کوئی سہو ہو گیا ہے، ترجمہ میں اس لَیْسَ کے لفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2589
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9875
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ) يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر بلند آواز دی کہ جوان عورتوں نے بھی سن لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ان افراد کی جماعت جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ابھی تک ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے پردے والے امور کی ٹوہ میں نہ لگو، جو ان کے معائب کو تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش میں پڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کی جستجو میں پڑ جاتا ہے، اس کو اس کے گھر میں رسوا کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9875]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20014»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9876
عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَكَتْ امْرَأَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ قِصَرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ اغْتَبْتِهَا مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا
۔ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت کی نقل اتاری اور اس کے کوتاہ قد کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور اس کے عوض میں مجھے اتنا کچھ عطا کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9876]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4875، والترمذي: 2502، 2503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26227»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9877
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ رَجُلًا فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَ بِيَدِهِ (يَعْنِي الرَّاوِيَ) كَأَنَّهُ يَعْنِي قَصِيرَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ مَزَجْتِ (وَفِي لَفْظٍ تَكَلَّمْتِ) بِكَلِمَةٍ لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ مَزَجَتْهُ
۔ (دوسری سند) عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک مرد کی نقل اتارنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقالی کروں، اگرچہ اس کے عوض میں مجھے بہت کچھ دیا جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک صفیہ تو چھوٹے قد والی خاتون ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ مل جائے گی (یعنی بات کی گندگی سمندر کے پانی پر غالب آکر اسے خراب کر دے گی)۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9877]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26075»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقارت آمیز انداز میں ایک عورت کی نقل اتارنا چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ آپ کسی کے عیب کا تذکرہ کریںیا از راہِ تنقیص کسی کے فعل یا قول کی نقالی کریں۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث میں غیبت سے سب سے زیادہ ڈانٹا گیا ہے، میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر مذمت کی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26075
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں