الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالتَّعْلِيطِ فِي ذَلِكَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9908
عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُرْفُطَةَ قَالَ الْمُخْتَارُ هَذَا رَجُلٌ كَذَّابٌ وَلَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ) )
۔ سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ مختار جھوٹا آدمی ہے اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9908]
تخریج الحدیث: «متن ھذا الحديث متواتر، واسناده ضعيف لجھالة مسلم مولي خالد، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 760، وابويعلي: 6868، والحاكم: 3/ 280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22868»
الحكم على الحديث:
متن ھذا الحديث متواتر
حدیث نمبر: 9909
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ كِذْبَةً مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ أَوْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ) )
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر ایک دفعہ جھوٹ بولا، پس وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے یا گھر جہنم میں تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9909]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15482/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15561»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ وَالتَّرْهِيبِ مِنَ الْكَذِبِ فيه
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9910
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَةِ وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا) )
۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، اگرچہ وہ اس جھگڑے میں سچا ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9910]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، ومنصورُ بن آذِين مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8615»
وضاحت: مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمُ بَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا وَبَیْتٍ فِی وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَإِنْ کَانَ مَازِحاً وَبَیْتٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُہُ۔)) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں، جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دیا (اور اپنے حق سے دستبردار ہو گیا) اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میںایک گھر کا ضامن ہوں جس نے مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولا اور اس شخص کے لیے جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہوا۔ (ابوداود: ۴۸۰۰)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 9911
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ لِصَبِيٍّ تَعَالَ هَاكَ ثُمَّ لَمْ يُعْطِهِ فَهِيَ كَذْبَةٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے بچے سے کہا: اِدھر آ اور یہ چیز لے لے، پھر اس کو وہ چیز نہیں دی تو یہ جھوٹ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9911]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9835»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 9912
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا وَأَنَا صَبِيٌّ قَالَ فَذَهَبْتُ أَخْرُجُ لِأَلْعَبَ فَقَالَتْ أُمِّي يَا عَبْدَ اللَّهِ تَعَالَ أُعْطِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ قَالَتْ أُعْطِيهِ تَمْرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذْبَةٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے، میں اس وقت بچہ تھا، جب میں کھیلنے کے لیے جانے لگا تو میری ماں نے کہا: اے عبد اللہ! ادھر آ، میں تجھے کچھ دینا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں اس کو کھجور دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اس کو کچھ نہ دینا ہوتا تو یہ تیرا ایک جھوٹ لکھ لیا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9912]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15793»
وضاحت: فوائد: … ماں کی گودبچے کی پہلی تعلیم گاہ اور تربیت گاہ ہے، اسی ادارے میں فطرتیں سنورتییا بگڑتی ہیں، اگرچہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فطرت کے تحفظ کے لیے اتنے سخت اقدامات کئے کہ جھوٹ کی حقیقت سے ناواقف بچے کے ساتھ جھوٹ بولنے کو بھی جرم قرار دیا، اسی فطرت کو سالم رکھنے کے لیے بچے کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، غور فرمائیں کہ ہمارے ہاں دس سال کی عمر کے بچے پر نماز فرض نہیں ہوتی، کیونکہ وہ نابالغ ہوتا ہے، لیکنیہ اس کی فطرت کے حفاظتی اقدامات کے تقاضے ہیں کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس برس کی عمر کے بعد بچے کو نماز کی عدمِ ادائیگی پر زدو کوب کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چائیے کہ ان نبوی سنہری اصولوں کی روشنی میں اپنے بچوں کے قلوب و اذہان کی تعمیر کریں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9913
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ثُمَّ يَكْذِبُ لِيُضْحِكَهُمْ وَيْلٌ لَهُ وَوَيْلٌ لَهُ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہے، جو لوگوں سے بات کرتا ہے اور ان کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9913]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4990، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20270»
وضاحت: فوائد: … عوام تو کجا، خواص بھی مذاق میں جھوٹ بولنے اور جھوٹے واقعات بیان کرنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 9914
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مِنَ الثُّرَيَّا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اپنے ہم مجلسوں کو ہنسانے کے لیے ایسی بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے ثریا ستارے سے بھی دور تک جا گرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9914]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 5716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9209»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9915
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ وہ اس میں حرج بھی محسوس نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے آگ میں ستر سال کی مسافت تک گر جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7214»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9916
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ يَرْفَعُهَا إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی ایسی بات کر جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے پھسل کر آگ میں اتنی دوری تک چلا جاتا ہے، جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9916]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2988 (8923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8909»
وضاحت: فوائد: … لوگ مذاق میں ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں نکالتے ہیں، ایک دوسرے کو عیسائی،یہودی اور کراڑ تک کہہ دیتے ہیںاور سنتوں کا مذاق کرتے ہیں۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اختیار کرے اور شریعت نے تفریح کے اسباب کی جتنی اجازت دی ہے، ان ہی پر اکتفا کرے
مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اختیار کرے اور شریعت نے تفریح کے اسباب کی جتنی اجازت دی ہے، ان ہی پر اکتفا کرے
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2988 (8923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8909
حدیث نمبر: 9917
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ فَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی ایک بات کرتا ہے،وہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہنسائے، پس وہ اس کی وجہ سے آسمان تک کی مسافت سے بھی دور تک جا گرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9917]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2988 (8923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11351»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2988 (8923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11351