الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَيْبَةِ وَالْبُهتِ
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9878
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَإِنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَا هُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا وَأَنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ ثُمَّ عَادَ (قَالَ الرَّاوِي) وَأُرَاهُ قَالَ بِالْهَاجِرَةِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ قَدْ مَاتَتَا أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا قَالَ ادْعُهُمَا قَالَ فَجَاءَتَا قَالَ فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا قِيئِي فَقَاءَتْ قَيْحًا أَوْ دَمًا وَصَدِيدًا وَلَحْمًا حَتَّى قَاءَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى قِيئِي فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَتَا تَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ
۔ مولائے رسول سیدنا عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہاں دو عورتیں ہیں، انھوں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ پیاس کی وجہ سے مرنے لگی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیایا خاموش رہے، اس نے پھر اپنی بات کو دوہرایا اور دوپہر کے وقت کا ذکر بھی کیا اور کہا: اللہ کی قسم! وہ تو مرنے لگی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو بلا۔ پس جب وہ دونوں آئیں تو ایک بڑا پیالہ بھی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا: تو قے کر۔ پس اس نے پیپ یا خون، خون ملی پیپ اور گوشت پر مشتمل نصف پیالے کے بقدر قے کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری خاتون سے فرمایا: اب تو قے کر۔ اس نے پیپ، خون، خون ملی پیپ اور کچے تازہ گوشت پرمشتمل اتنی قے کی کہ پیالہ بھر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو عورتوں نے اس کھانے پینے سے تو روزہ رکھا ہوا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز پر روزہ افطار کر رہی ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھا رہی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9878]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد، أخرجه ابويعلي في مسنده: 1576، والبيھقي في الدلائل: 6/186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24053»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد
حدیث نمبر: 9879
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَارْتَفَعَتْ رِيحُ جِيفَةٍ مُنْتِنَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بد بو دار مرداروں کی بو اٹھنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ بد بو کیسی ہے؟ یہ ان لوگوں کی بد بو ہے، جو مؤمنوں کی غیبت کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9879]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14844»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 9880
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ أَخِيهِ فِي الْغِيبَةِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو آگ سے آزاد کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9880]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن زياد، أخرجه الطيالسي: 1632، والطبراني في الكبير: 24/ 443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28162»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن زياد
حدیث نمبر: 9881
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا عَشَرَةً مِنْ أَهْلِ الشَّامِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدۂ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9881]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 27، والبيھقي: 6/ 82، وأخرجه ابوداود: 3597 دون قوله: ومن مات وعليه دين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»
وضاحت: فوائد: … اگر غیبت کا معنی و مفہوم سمجھنا مقصود ہو تو درج ذیل مثالوں پر غور کریں:
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّھُمْ ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَجُلاً فَقَالُوْا: لَایَأکُلُ حَتّٰییُطْعَمَ، وَلَا یَرْْْحَلُ حَتّٰییُرْحَلَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اغْتَبْتُمُوْہُ۔)) فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إنَّمَا حَدَّثْنَا بِمَا فِیْہِ۔ قَالَ: ((حَسْبُکَ إذَا ذَکَرْتَ أخَاکَ بِمَا فِیْہِ۔)) … وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکرکرتے ہوئے کہا:وہ اس وقت تک نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور جب تک اُسے سوار نہ کیاجائے وہ سوار بھی نہیں ہوتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اُس کی غیبت کی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے وہی (عیب) بیان کیا ہے جو اس میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: (کسی کی غیبت کے لیے) تجھے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کے اس (عیب) کا ذکر کرے جو اس میں ہے۔ (شعب الایمان: ۲/ ۳۰۴)
غور فرمائیں کہ صحابہ کرام نے ایک آدمی کی طبعی سستی اور کاہلی کا ذکر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی غیبت قرار دیا، معلوم ہوا کہ ہمیں کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی قسم کی عیب جوئی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَتِ الْعَرَبُ تَخْدِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فِی الأسْفَارِ، وَکَانَ مَعَ أبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَجُلٌ یَخْدِمُھُمَا، فَنَامَا، فَاسْتَیْقَظَا، وَلَمْ یُھَیِّئْ لَھُمَا طَعَامًا، فَقَالَ أحَدُھُمَا لِصَاحِبِہِ: إنَّ ھٰذا لَیُوَائِمُ نَوْمَ نَبِیِّکُمْ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیُوَائِمُ نَوْمَ بَیْتِکُمْ) فَأیْقَظَاہُ فَقَالَا: ائْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْ لَہُ: إنَّ أبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یُقْرِئَانِکَ السَّلَامُ، وَھُمَاَ یَسْتَأدِمَانِکَ، فَقَالَ: ((أقْرِئْھُمَا السَّلَامَ، وَأخْبِرْھُمَاأنَّھُمَا قَدِ ائْتَدَمَا)) فَفَزِعَا، فَجَائَ ا إلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَعَثْنَا إلْیکَ َنَسْتَأدِمُکَ، فَقُلْتَ: قَدِ ائْتَدَمَا۔ فَبِأیِّ شَیْئٍ ائْتَدَمْنَا؟ قَالَ: ((بِلَحْمِ أخِیْکُمَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إنِّی لَأرٰی لَحْمَہُ بَیْنَ أنْیَابِکُمَا۔)) قَالَا: فَاسْتَغْفِرْلَنَا، قَالَ: ((ھُوَ فَلْیَسْتَغْفِرْلَکُمَا۔)) … عرب کے لوگ سفر میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کیاکرتا تھا۔ (ایک دن) وہ دونوں سو کر بیدار ہوئے تو خادم نے اُن کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ خادم تمہارے نبی کی نیند کی موافقت کرتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تمہارے گھر کی نیند کی موافقت کرتا ہے۔ دونوں نے اُسے جگایا اور کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو کہہ کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے سالن طلب کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے اُن دونوں کو سلام کہنا اوران کو بتلانا کہ تم دونوں نے سالن کھا لیاہے۔ پس ابوبکر وعمریہ سن کر گھبرا گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے (فلاں آدمی کو) آپ کی طرف سالن لینے کے لیے بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سالن کھا چکے ہو، (بھلا) ہم نے کس چیز کا سالن کھا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کا، قسم ہے مجھے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اُس کا گوشت تمہاری کچلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں۔ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمارے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس خادم کو ہی تمہارے لیے بخشش طلب کرنا چاہئے۔
(مساویء الأخلاق للخرائطی: ۱۸۶،صحیحہ:۲۶۰۸)
اس حدیث میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خادم کے بارے میں، جبکہ وہ سویا ہوا تھا، یہ کہا کہ یہ تو سفر میں بھی گھر والی نیند ہی سوتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ پہلے بیدار ہوتا اور ہمارے لیے کھانا تیار کر کے رکھتا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تبصرے کو بھی غیبت شمار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ مجھے تمھارے دانتوں میں تمھارے بھائی کا گوشت نظر آ رہا ہے۔ یہ درج ذیل آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا:{وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ} (سورۂ حجرات: ۱۲) … اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتاہے، (بلکہ) تم کو تو اس سے گھن ہو گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کی غیبت کی گئی، وہی غیبت کرنے والوں کے لیے بخشش طلب کرے، تاکہ ان کا جرم بے اثر ہو جائے۔
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّھُمْ ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَجُلاً فَقَالُوْا: لَایَأکُلُ حَتّٰییُطْعَمَ، وَلَا یَرْْْحَلُ حَتّٰییُرْحَلَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اغْتَبْتُمُوْہُ۔)) فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إنَّمَا حَدَّثْنَا بِمَا فِیْہِ۔ قَالَ: ((حَسْبُکَ إذَا ذَکَرْتَ أخَاکَ بِمَا فِیْہِ۔)) … وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکرکرتے ہوئے کہا:وہ اس وقت تک نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور جب تک اُسے سوار نہ کیاجائے وہ سوار بھی نہیں ہوتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اُس کی غیبت کی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے وہی (عیب) بیان کیا ہے جو اس میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: (کسی کی غیبت کے لیے) تجھے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کے اس (عیب) کا ذکر کرے جو اس میں ہے۔ (شعب الایمان: ۲/ ۳۰۴)
غور فرمائیں کہ صحابہ کرام نے ایک آدمی کی طبعی سستی اور کاہلی کا ذکر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی غیبت قرار دیا، معلوم ہوا کہ ہمیں کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی قسم کی عیب جوئی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَتِ الْعَرَبُ تَخْدِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فِی الأسْفَارِ، وَکَانَ مَعَ أبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَجُلٌ یَخْدِمُھُمَا، فَنَامَا، فَاسْتَیْقَظَا، وَلَمْ یُھَیِّئْ لَھُمَا طَعَامًا، فَقَالَ أحَدُھُمَا لِصَاحِبِہِ: إنَّ ھٰذا لَیُوَائِمُ نَوْمَ نَبِیِّکُمْ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیُوَائِمُ نَوْمَ بَیْتِکُمْ) فَأیْقَظَاہُ فَقَالَا: ائْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْ لَہُ: إنَّ أبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یُقْرِئَانِکَ السَّلَامُ، وَھُمَاَ یَسْتَأدِمَانِکَ، فَقَالَ: ((أقْرِئْھُمَا السَّلَامَ، وَأخْبِرْھُمَاأنَّھُمَا قَدِ ائْتَدَمَا)) فَفَزِعَا، فَجَائَ ا إلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَعَثْنَا إلْیکَ َنَسْتَأدِمُکَ، فَقُلْتَ: قَدِ ائْتَدَمَا۔ فَبِأیِّ شَیْئٍ ائْتَدَمْنَا؟ قَالَ: ((بِلَحْمِ أخِیْکُمَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إنِّی لَأرٰی لَحْمَہُ بَیْنَ أنْیَابِکُمَا۔)) قَالَا: فَاسْتَغْفِرْلَنَا، قَالَ: ((ھُوَ فَلْیَسْتَغْفِرْلَکُمَا۔)) … عرب کے لوگ سفر میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کیاکرتا تھا۔ (ایک دن) وہ دونوں سو کر بیدار ہوئے تو خادم نے اُن کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ خادم تمہارے نبی کی نیند کی موافقت کرتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تمہارے گھر کی نیند کی موافقت کرتا ہے۔ دونوں نے اُسے جگایا اور کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو کہہ کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے سالن طلب کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے اُن دونوں کو سلام کہنا اوران کو بتلانا کہ تم دونوں نے سالن کھا لیاہے۔ پس ابوبکر وعمریہ سن کر گھبرا گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے (فلاں آدمی کو) آپ کی طرف سالن لینے کے لیے بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سالن کھا چکے ہو، (بھلا) ہم نے کس چیز کا سالن کھا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کا، قسم ہے مجھے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اُس کا گوشت تمہاری کچلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں۔ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمارے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس خادم کو ہی تمہارے لیے بخشش طلب کرنا چاہئے۔
(مساویء الأخلاق للخرائطی: ۱۸۶،صحیحہ:۲۶۰۸)
اس حدیث میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خادم کے بارے میں، جبکہ وہ سویا ہوا تھا، یہ کہا کہ یہ تو سفر میں بھی گھر والی نیند ہی سوتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ پہلے بیدار ہوتا اور ہمارے لیے کھانا تیار کر کے رکھتا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تبصرے کو بھی غیبت شمار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ مجھے تمھارے دانتوں میں تمھارے بھائی کا گوشت نظر آ رہا ہے۔ یہ درج ذیل آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا:{وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ} (سورۂ حجرات: ۱۲) … اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتاہے، (بلکہ) تم کو تو اس سے گھن ہو گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کی غیبت کی گئی، وہی غیبت کرنے والوں کے لیے بخشش طلب کرے، تاکہ ان کا جرم بے اثر ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النَّمِيمَةِ
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9882
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9882]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 105، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23636»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چغلی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ((نَقْلُ الْحَدِیْثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إلٰی بَعْضٍ، لِیُفْسِدُوْا بَیْنَھُمْ۔)) … لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے بعض کی باتیںبعض کو بیان کرنا۔
(بیہقی: ۱۰/۲۴۶)
ایک روایت میں ہے: ((اَلنَّمِیْمَۃُ الَّتِیْ تُفْسِدُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) … وہ چغلی جو لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دے۔
عصرِ حاضر میں ہر کوئی اپنے آپ کو بریٔ الذمہ اور معصوم قرار دے کر دوسرے پر شکوہ کناں نظر آتا ہے، شرعی تقاضا یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی شخص کو موضوعِ گفتگو بنانے لگیں تو سوچ لینا چاہئے کہ آخر اس کلام کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی بھائی پر جارحانہ کلام کرنے سے اس کے بارے میں سامعین کے دلوں میں نفرت و کدورت تو پیدا نہیں ہو گی اور اس سے بڑا معاشرتی فساد اور بگاڑ کوئی نہیں ہے کہ ایک آدمی کے بارے میں سوئے ظن پیدا کر دیا جائے۔
چغلی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
(بیہقی: ۱۰/۲۴۶)
ایک روایت میں ہے: ((اَلنَّمِیْمَۃُ الَّتِیْ تُفْسِدُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) … وہ چغلی جو لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دے۔
عصرِ حاضر میں ہر کوئی اپنے آپ کو بریٔ الذمہ اور معصوم قرار دے کر دوسرے پر شکوہ کناں نظر آتا ہے، شرعی تقاضا یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی شخص کو موضوعِ گفتگو بنانے لگیں تو سوچ لینا چاہئے کہ آخر اس کلام کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی بھائی پر جارحانہ کلام کرنے سے اس کے بارے میں سامعین کے دلوں میں نفرت و کدورت تو پیدا نہیں ہو گی اور اس سے بڑا معاشرتی فساد اور بگاڑ کوئی نہیں ہے کہ ایک آدمی کے بارے میں سوئے ظن پیدا کر دیا جائے۔
چغلی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 105
حدیث نمبر: 9883
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ قَالَ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو یہ بتلا نہ دو کہ عَضْہ کیا ہے؟ یہ لوگوں کی آپس میں چغل خوری والی باتیں ہیں۔ نیز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو سچا لکھ لیا جاتا ہے اور اس طرح بھی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9883]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج مسلم حديث العضه: 2606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4160»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 9884
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَاءَ الْعَنَتَ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے پسندیدہ لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کو دیکھنے سے اللہ یاد آ جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے شریر لوگوں کے بارے میں بتلا دوں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلخور ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان فساد برپا کرتے ہیں اور (عیوب سے) بری لوگوں کے لیے غلطیاں تلاش کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9884]
تخریج الحدیث: «حسن بشواھده، أخرجه ابن ماجه: 4119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28151»
الحكم على الحديث:
حسن بشواھده
حدیث نمبر: 9885
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صؒی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: بے شک ان کو بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9885]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 218، ومسلم: 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1980»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 218
حدیث نمبر: 9886
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ قَالَ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَالٌ فَقَسَمَهُ قَالَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ فَتَثَبَّتُّ حَتَّى سَمِعْتُ مَا قَالَا ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا وَإِنِّي مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَهُمَا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَبَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تقسیم کیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا، ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! اس تقسیم سے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ نہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور نہ آخرت کا گھر، پھر میں نے مزید توجہ کی اور ان کی باتیں سن لیں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے توہمیں یہ فرمایا تھا کہ کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے۔ لیکن اب بات یہ ہے کہ میں فلاں فلاں کے پاس سے گزرا اور وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ہم کو، پس موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9886]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ولبعضه شواھد، أخرجه الترمذي: 3896، وأخرجه الي قوله سليم الصدر ابوداود: 4860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3759»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
حدیث نمبر: 9887
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَكَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلِمَةً فِيهَا مَوْجِدَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُقِرَّنِي نَفْسِي أَنْ أَخْبَرْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَوَدِدْتُ أَنِّي افْتَدَيْتُ مِنْهَا بِكُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ فَقَالَ قَدْ آذَوْا مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّ نَبِيًّا كَذَّبَهُ قَوْمُهُ وَشَجُّوهُ حِينَ جَاءَ هُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ فَقَالَ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
۔ (دوسری سند) ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کی کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی بات محسوس کی ہوئی ہے، (بات اتنی سخت تھی کہ) میرا نفس مجھ پر قابو نہ پا سکا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا، میں نے تو چاہا کہ اس بات کے فدیے میں اپنا سارا اہل و مال قربان کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ ایذا دی، لیکن انھوں نے صبر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ ایک نبی کو اس کی قوم نے جھٹلایا اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو زخمی کر دیا، اب وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9887]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4331»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره