🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِينَ الْمَدْحِ
تعریف کی ناجائز صورتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10037
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ أَتَقُولُهُ صَادِقًا قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً قَالَ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمُ الْيُسْرُ
۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10037]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 4/ 427، والطبراني في الكبير: 20/ 706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20614»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ جس شخص کو مدینہ منورہ کا اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا قرار دیا جا رہا ہے، اس کے سامنے بھی تعریفی کلمات کہنے سے منع کیا گیا، اس سے مقصود اس کی سلامت و حفاظت ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا تذکرۂ خیر کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10038
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ فَقَالَ لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس شخص کی کمر کو ہلاک کر دیا ہے، یا کاٹ دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10038]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2663، 6060، ومسلم: 3001، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19928»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2663
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10039
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنَ الْعِرَاقِ إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْثُو فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَا فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ احْثُوا فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ
۔ مجاہد کہتے ہیں: سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے عراق سے ایک وفد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، جب وہ لوگ آئے تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے ان کے چہروں پر مٹی پھینکی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔ امام سفیان نے اپنی روایت میں کہا: سیدنا مقداد نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکو۔ پھر زبیر راوی نے کہا: سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10039]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 1159، والطبراني: 20/ 570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24325»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10040
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْثِي فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ
۔ ابو معمر کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ ایک امیر کی تعریف کرنے لگا، اُدھر سے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکنا شروع کر دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10040]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 3002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24329»
وضاحت: فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے دو مفاہیم پیش کیے ہیں:(۱)زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ راوی ٔ حدیث سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کیا، وگرنہ (۲) اگر تاویل کی جائے تو اس کا معنییہ ہوگا کہ تعریف کرنے والے کو ناکام و نامراد بنا دیا جائے، اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جائے، تعریف کرنے کی وجہ سے اسے کچھ نہ دیا جائے، تاکہ اس کی زجر و توبیخ ہو سکے اور اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔ باقی تمام تاویلوں میں بُعد پایا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ تعریف کرنے والے کو مادِح اور جس کی تعریف کی جائے اس کو مَمدُوح کہتے ہیں۔)امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: کسی کی تعریف کرنے میں چھ آفات پائی جاتی ہیں، چار کا تعلق مادح سے ہے اور دو کا ممدوح سے۔
(۱)تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتے ہوئے ایسی صفات کا تذکرہ بھی کر دیتا ہے، جن سے درحقیقت متعلقہ فرد متصف نہیں ہوتا، سو وہ جھوٹا قرار پاتا ہے۔(۲) مادِح تعریف کرتے وقت ظاہری طور پر ایسی محبت و مودّت کا اظہار
کرتا ہے، جو اس کے باطن میں نہیں ہوتی، سو وہ منافق قرار پاتا ہے۔ (۳)بسا اوقات مادِ ح تحقیق کیے بغیر باتیں کر جاتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ (۴)بعض اوقات ممدوح ظالم ہوتا ہے، لیکن مادِح اس کی تعریف کرکے اس کو خوش کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے۔ (۵)تعریف و توصیف کی وجہ سے ممدوح میں تکبر اور بڑائی جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے اور (۶)بسا اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف پر اتنا اترائے کہ اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ (تحفۃ الاحوذی)
قارئین کرام! اس قسم کی سخت وعید وں کے باوجود عصرحاضر میں سامعین و حاضرین کے سامنے سجائے گئے سٹیج پر ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں حد سے تجاوز کیا جاتا ہے، اس سٹیج پر مذہبی قائدین تشریف فرما ہوںیا سیاسی لیڈر۔ ایسے ہی الیکشن، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کے مواقع پر جو اشتہار شائع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی قائدین کے القاب و اوصاف بیان کرنے میں غلوّ سے کام لیا جاتا ہے، جیسے ولی کامل، پیکر اخلاص، شہنشاہِ خطابت، قاطع شرک و بدعت، سرمایۂ اسلام، محسِنِ اسلام، عالم باعمل، شب بیدار۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 3002
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10041
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ أَوْ صُمْتُهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز اس طرح نہ کہے کہ اس نے سارے رمضان کا قیام کیا ہے یا سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں۔ راوی کہتا ہے:یہ بات مجھے سمجھ نہ آ سکی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ بندہ اپنا تزکیہ نہ کرے، یا کوئی اور ارادہ تھا، اس لیے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ غفلت اختیار کی جائے، یا سویا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10041]
تخریج الحدیث: «ضعيف، عنعنة الحسن البصري، أخرجه ابوداود: 2415، والنسائي: 4/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20677»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمُ النِّسَاءِ
عورتوں کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10042
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا تَرَكْتُ فِي النَّاسِ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے بعد لوگوں میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو مردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو، ما سوائے عورتوں کے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10042]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 2596،والنسائي في الكبري: 9270 (ا فنظر: 21829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22172»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں ایک طرف تو عورت کو کلیدی حیثیت کا مالک ٹھہرایا گیا ہے، یہ عورت ہی ہے جو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا روپ اختیار کرکے اپنے بیٹوں، اپنے باپوں، اپنے بھائیوں اور اپنے خاوندوں سے الفت و محبت اور احترام و اکرام وصول کرتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَ خَیْرُ مَتَاعِھَا اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) (مسلم: ۱۴۶۷) … دنیا ساز و سامان ہے اور دنیا کا بہترین سامان، نیک عورت ہے۔ عورتوںکے ساتھ بہترین حسن سلوک اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا، وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِھِمْ۔)) (ترمذی: ۱۱۶۲) … تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے اور تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے۔
یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو سب سے زیادہ تحفظ، احترام اور مقام عطا کیا، مردوں کو ان کی دنیوی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا، ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرے سے غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے اور بالخصوص نظرِ بد سے دیکھنے سے منع کر دیا۔
بہرحال اس مقام ومرتبہ کے باوجود عورت فتنہ باز، سازشی، مکار، ناشکری اور شکایتی ثابت ہوئی ہے۔ اس کی نالائقی اور بے صبری کو دیکھیں کہ یہ ایک خاوند، ساس سسر اور گھر میں بسنے والے چند افراد کو راضی نہیں رکھ سکتی ہے۔
عصر حاضر میں عورتوں کی نیم برہنہ حالت اور بے پردگی اچھے خاصے مومنوں کے لیے بڑی آزمائش ثابت ہوئی ہے، بازاروں میں بدکاری اور نظروں کا زنا عام ہے، گھروں سے باہر نکل کر جدھر نگاہ اٹھائیں، ہر طرف شیطانوں کے روپ میں عورتوں کے جاذبِ نظر چہرے اور بدکاری کے اسباب و وسائل نظر آتے ہیں، رہی سہی کمی میڈیا اور اشتہار بازی نے خوب پوری کر دی ہے۔ اس سے بڑا مکر و فریب کیا ہو سکتا ہے کہ شادی کے چند روز بعد ہی عورت نے اپنے خاوند کے سامنے قسما قسم کے بتول پڑھ پڑھ کے اسے خرید لیا اور اس کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں کا دشمن ثابت کر دکھایا۔ آجکل مرد حضرات اپنے مجازی خالق والدین کی گستاخی کرتے ہیں، اپنے بہن بھائیوں کی محبتوں کو ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے بھتیجے اور بھانجے ان کے میٹھے بولوں کو ترسنے لگتے ہیں، ان سب کارستانیوں کی جڑ عورت ہے۔ چشم فلک گواہ ہے کہ شادی سے پہلے رشتہ داروں کے ساتھ معاملات اور ہوتے ہیں اور شادی کے بعد رخ بدلتے ہوئے نظرآنے لگتے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟ ساس کے کردار پر نگاہ ڈالیں، اس کی سازشوں کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ اس کا داماد اس کی بیٹی کا ہو کر رہ جائے اور اپنے جنم دینے والوں کو دشمن سمجھنے لگے۔ کتنے بدبخت اور کمینے ہیں وہ لوگ، جو اپنی بیویوں اور ساسوں کے پاس بیٹھ کر اپنی ماؤں بہنوں کی بدخوئی کرتے ہیں۔
مسلم معاشرہ کے اکثر افراد بدکار، چالباز اور آوارہ عورتوں کے جال میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نے کبھی پوری دنیا میں تعلیمی میدان میں شکست کھاجانے والے ذہین نوجوانوں کے پست ہو جانے کے اسباب پر کبھی غور کیاہے؟ کالجز اور یونیورسٹیز کے آوارہ صفت ماحول کے نتائج پر کبھی غور کیا ہے؟ والدین سے بے رخی کرنے والے بیس سالہ لڑکے کے اسباب کے بارے میںدریافت کیا ہے؟ معاشرے کے اکثر نوجوان شادیوں کے قابل کیوں نہیں رہے؟ شادی کا نام سن کر ان کے رنگ پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ والدین کی طے شدہ نسبتوں کو کیوں ٹھکرا دیا گیا؟ ایک آدمی بچوں کا باپ ہونے، ان کے ناز نخرے پورے کرنے اور ان سے پیارو محبت کے دعوے کرنے کے باوجود اپنے ماں اور باپ کو کیوں بھول جاتا ہے؟ وسعت ہونے کے باوجود اپنے والدین پر خرچ کرنے کے معاملے میں کیوں کنجوسی برتی جاتی ہے؟ … … شاید ان سب سوالوں کے جوابات لفظ عورت پر آ کر رک جائیں۔
یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ خاتون کو ہر ایک کے احسانات یاد ہوتے ہیں، وہ اپنے بھائیوں اور بہنوئیوں کی تعریف کرے گی، وہ اس شخص کی مدح سرائی کرنا بھی نہیں بھولے گی، جس نے خوشی کے موقع پر اس کے بچے کو پانچ سو روپیہ دیا ہو گا، ما سوائے اپنے خاوند کے، جو مہینوں میں اس پر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے، لیکن اس کے منفی پہلو کو سامنے رکھ کر اس کی بغاوت اور احسان فراموشی کی جائے گی، الا ما شاء اللہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10043
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ وَامْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ لَا تُعْرَفُ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10043]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن خزيمة: 1699، وابن حبان: 5591، وابويعلي: 12993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11446»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فاسق عورتیں ایسا لباس زیبِ تن کرتی ہیں اور (ایسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں) جس کی وجہ سے لوگ اپنی نگاہوں کو ان کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ آج کل بھییہ مصیبت عام ہو گئی ہے کہ عورتیں اونچی ہیل والی جوتیاں پہنتی ہیں اور جوتوں کے نیچے لوہا (وغیرہ) لگواتی ہیں، تاکہ چلتے وقت پٹک پٹک کی خوب آواز ہو۔ شایدیہودیوں نے یہ چیز ایجاد کی ہو، جیساکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے جوتوں اور لباسوں سے اجتناب کریں۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۴۸۶) خواتین کی ہر چیز جاذب نظر اور پر کشش بنا دی گئی ہے، یہاں تک کہ برقعوں پر بہت ڈیزائننگ کر دی گئی، دیدہ زیب لباس بنا دیئے گئے ہیں،خوشبو کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے، زیب و زینت، بناؤ سنگھار اور حسن و جمال کے بہت اسباب پیدا کر دئیے گئے ہیں، صرف جوتوں کے ڈیزائنوں سے ہر چیز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن خزيمة: 1699
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10044
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْفُسَّاقُ قَالَ النِّسَاءُ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجَنَا قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10044]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15666/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15753»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عورتوں کے لیے بڑی عبرت کا درس موجود ہے، کاش عورتیں اپنے خاوندوں کے احسانات کو سامنے رکھ کر شکر گزار اور احسان مند بن جاتیں، جبکہ وہ ان سے مستغنی بھی نہیں ہو سکتیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10045
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا ہے اور آج کی طرح سخت منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس میں اکثریت عورتوں کی تھی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ کسی نے کہا: کیایہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوندوں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں، اگر تو زمانہ بھر کسی عورت کے ساتھ احسان کرتا رہے، لیکن پھر بھی جب وہ تجھ میں قابل اعتراض چیز دیکھے گی تو کہے گی: میں نے کبھی بھی تیرے پاس بھلائی نہیں پائی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10045]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 29، 431، 748، 1052، ومسلم: 907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2711»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 29
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10046
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَجٍّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا) قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا عَلَى هَوْدَجِهَا قَالَ فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ
۔ عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے، جب ہم مر ظہران مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے کجاوے میں تھی، ایک روایت میں ہے: ایک خاتون کے ہاتھ مزین تھے اور اس نے انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اس نے اپنے ہاتھوں کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ایک طرف مڑے اور گھاٹی میں داخل ہو گئے، پس ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: ہم اس مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے اچانک بہت زیادہ کوے دیکھے، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی، مگر سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والے کوے کی طرح بہت کم۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10046]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17980»
وضاحت: فوائد: … جس طرح سرخ چونچ اور سرخ پنجوں والے کوے تعداد میں دوسرے کوووں کی بہ نسبت بہت کم ہوتے ہیں،یہی معاملہ مذکورہ بالا عورتوں کا ہے کہ جنت میں جانے والی خواتین بہت کم ہوں گی۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں