🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الدُّنْيَا
دنیا کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10077
- عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: ( (الْفَقْرَ تَخَافُونَ أَوِ الْعَوَزَ أَوْ تُهِمُّكُمُ الدُّنْيَا، فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَتُصَبُّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ) ) .
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تمہیں غربت و افلاس کا ڈر ہے، کیا تمہاری پریشانی دنیا ہے، پس بیشک اللہ تعالیٰ تم پر فارس اور روم کی سلطنتیں تمہارے لیے فتح کروانے والا ہے، دنیا تم پر اس طرح بہہ پڑے گی کہ کوئی چیز تم کو گمراہ کرنے والی نہیں ہو گی، مگر یہی دنیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10077]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 93، والبزار: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24482»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں تھا، بلکہ مال کی کثرت کا اندیشہ تھا، کیونکہیہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کییاد سے غافل کر دیتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10078
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ فَقَالَ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی، اس کا نام عضباء تھا، کوئی دوسرا اونٹ اس سے سبقت نہیں لے جا سکتا تھا، پس ایک دن ایک بدّو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے گزر گیا،یہ چیز مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے چہروں سے ان کی پریشانی کو محسوس کیا تو اتنے میں انھوں نے خود کہہ دیا کہ عضباء تو پیچھے رہ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو بلند کرے گا، اس کو نیچے بھی کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10078]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 93، والبزار: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12033»
وضاحت: فوائد: … شاید ہی کوئی بشر ایسا ہو، جس نے اپنی زندگی میں دنیوی اعتبار سے عروج اور زوال کو نہ پایا ہو، وگرنہ عام طور پر دیکھایہ گیا ہے کہ غربت کے بعد امیری اور امیری کے بعد غربت، محرومی کے بعد بڑے بڑے عہدے اور بڑے بڑے عہدوں کے بعد محرومی، ایک وقت میں آدمیاپنی بڑی عزت دیکھتا ہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ معاشرے کا بے وقعت فرد بنا ہوا ہوتا ہے، فرعون، قارون، نمرود، ابو جہل اور ابولہب جیسے بڑے بڑے سرکش اپنے آپ کو اس قانون سے مستثنی نہ کر سکے۔
یہ دنیا اور اہل دنیا سے متعلقہ قانون ہے، نہ کہ دین اور اہل دین کے بارے میں، دین اور اس پر عمل کرنے والوں کا مقدر ایسی رفعت و بلندی ہے کہ جس میںہمیشہ عروج رہتا ہے، اس کو کوئی زوال نہیں ہے۔
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ صاحب نے کہا: اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی دلائی گئی ہے کہ اس میں جو چیز بھی رفعت اختیار کرتی ہے، وہ بالآخر پست ہو جاتی ہے۔ حافظ منذری کہتے ہیں: بعض نے کہا کہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کا مقام بیان کی گیا ہے کہ یہحقیر اور پست چیز ہے۔ در حقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے مال و متاع کی بنا پر فخر و مباہاۃ کرنا ترک کردیں اور ہر اہل دین و دانش کو چاہئے کہ وہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرے اور اس کو پا کر دوسروں پر برتری جتانا چھوڑ دے، کیونکہدنیوی سازو سامان بہت قلیل ہے اور اس کا حساب و کتاب بڑا طویل ہے۔ (عون المعبود)

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10079
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس شخص کا گھر ہے، جس کا کوئی گھر نہیں ہوتا اور وہ آدمی اس کے لیے جمع کرتا ہے، جو عقل سے خالی ہوتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10079]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دويد غير منسوب، و زرعة شيخ ابي اسحاق لم يتبين لنا من ھو، ثم انه قد اختلف فيه علي حسين بن محمد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24923»
وضاحت: فوائد: … بہرحال آخرت والا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔} … اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔ (سورۂ عنکبوت: ۶۴)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. فَضْلُ مِنْهُ فِي مثل الدُّنْيَا عِنْدَ اللهِ وَهَوَانِهَا عَلَيْهِ
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10080
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، جس کو اس کے مالکوں نے پھینک دیا تھا، اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی اہمیت اس بکری کی اس کے مالکوں کے ہاں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی اہمیت اس سے بھی کم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10080]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3691، وابويعلي: 2593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3047»
وضاحت: فوائد: … اگر دنیا و آخرت میں صرف یہ فرق ہوتا کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے، تب بھی آخرت کو ترجیح دی جاتی، جبکہ آخرت دائمی بھی ہے اور بہت قیمتی بھی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10081
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا فَقَالَ ( (أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا) ) قَالُوا نَعَمْ قَالَ ( (لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10081]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8445»
وضاحت: فوائد: … جب آدم علیہ السلام اور حواm نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو ان کی توبہ تو قبول ہو گئی، لیکن پھر بھی ان کو زمین پر اتار دیا گیا اور کہا گیا کہ کھوئے ہوئے ورثے کو پانے کی کوشش کریں، درحقیقت انسان جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا، نہ کہ دنیا کو سب کچھ سمجھ لینے کے لیے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10082
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْعَالِيَةَ فَمَرَّ بِالسُّوقِ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَرَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ ( (بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ) ) قَالُوا مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ قَالَ ( (بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ) ) قَالُوا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا لَكَانَ عَيْبًا فِيهِ أَنَّهُ أَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَ ( (فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالائی علاقے میں تشریف لائے اور وہاں چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے ایک مردار بچے کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کو پکڑا اور بلند کیا اور پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض لینا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس کے عوض کوئی چیز دینا بھی گوارا نہیں کریں گے، بھلا ہم نے اس کو کیا کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض خریدنا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو اس کو اس بنا پر معیوب سمجھا جاتا کہ اس کے کان چھوٹے چھوٹے ہیں، اب تو سرے سے ہے ہی مردہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10082]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2957، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14992»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2957
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10083
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (وَاللَّهِ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (فَلْيَنْظُرْ بِمَا يَرْجِعُ أَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (يَعْنِي الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ) ) قَالَ وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ أَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدِ ارْتَحَلُوا عَنْهُ فَإِذَا سَخْلَةٌ مَطْرُوحَةٌ فَقَالَ ( (أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا) ) قَالُوا مِنْ هَوَانِهَا عَلَيْهِمْ أَلْقَوْهَا قَالَ ( (فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا) )
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور پھر اس کو باہر نکالے اور دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگشت ِ شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس قافلے کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم کے مقام کے پاس سے گزرے، وہ وہاں سے کوچ کر چکے تھے، وہاں ایک بکری کا بچہ پڑا ہوا تھا، جس کو ان لوگوں نے پھینک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس کے مالکوں نے اس کو حقیر سمجھ کر ہی چھوڑ دیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی اس کی کم اہمیت کی وجہ سے وہ اس کو پھینک گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10083]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مسلم: 2858 دون قصة سخلة، وأخرج ھذه القصة الترمذي: 2321، وابن ماجه: 4111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18184»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10084
عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ الْكِلَابِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ( (يَا ضَحَّاكُ مَا طَعَامُكَ) ) قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّبَنُ وَاللَّحْمُ قَالَ ( (ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا) ) قَالَ إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا) )
۔ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ضحاک! کون سی چیز تمہارا کھانا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ اور گوشت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: بالآخر یہ کیا بن کر وجود سے نکلتا ہے؟ انھوں نے کہا: جناب آپ جانتے ہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے خارج ہونے والی چیز کو دنیا کے لیے بطورِ مثال بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10084]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 8138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15839»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10085
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ فَانْظُرُوا إِلَى مَا يَصِيرُ) )
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے بطورمثال بیان کیا گیا ہے،، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، پس دیکھو کہ وہ (بالآخر) کیا ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10085]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 702، والطبراني في الكبير: 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21559»
وضاحت: فوائد: … مطلب یہ ہے کہ ابن آدم کو لالچی اور حریص او رزبان کے چسقوں کاغلام اور گرویدہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ان چیزوں کا تعلق حلق سے اوپر تک ہے۔ حلق سے نیچے کھانے کا کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیںکیا جاتا کہ وہ مزیدار تھا یا بے مزہ۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَامَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَائً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ ُصْلَبٗہ،فَاِنْکَانَلَامَحَالَۃً، فَثُلُثٌ لِطَعَامِہِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ،وَثُلُثٌلِنَفَسِہِ۔)) (ترمذی) … کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ اپنے کھانے کے لیے، تیسرا حصہ پانی کے لیے اور تیسرا حصہ سانس لینے کے لیے ہو۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْبُنْيَانِ
عمارتوں کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10086
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ فَقَالَ ( (لِمَنْ هَذِهِ) ) فَقُلْتُ لِفُلَانٍ فَقَالَ ( (أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ) ) أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ شَكَّ أَسْوَدُ ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَرَهَا فَقَالَ ( (مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ) ) قُلْتُ بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ فَهَدَمَهَا قَالَ ( (رَحِمَهُ اللَّهُ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک راستے میں جا رہا تھا، راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اینٹوں کا ایک گنبد دیکھا اور پوچھا: یہ کس کا ہے؟ میں نے کہا: جی،یہ فلاں آدمی کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت کو قیامت والے دن اس کے مالک پر گرا دیا جائے گا، مگر وہ جو مسجد کی تعمیر میں لگا دیا جائے، یا پھر فلاں فلاں امور میں۔ بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی راستے سے گزر ہوا تو وہ گنبد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر نہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس گنبد کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جب آپ کی بات اس کے مالک تک پہنچی تو اس نے اس کو گرا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10086]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين لطرقه وشواھده، أخرجه ابن ماجه: 4161، وأخرجه ابوداود بنحوه: 5237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13334»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کی تفصیل درج ذیل ہے:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ خَرَجَ فَرَاٰی قُبَّۃً مُشْرِفَۃً، فَقَالَ: ((مَاھٰذِہٖ؟)) قَالَلَہُأَصْحَابُہُ: ھٰذِہٖلِفُلَانٍرَجُلٍمِنَالْاَنْصَارِفَسَکَتَوَحَمَلَھَافِیْ نَفْسِہٖ،حَتّٰی
إِذَا جَائَ صَاحِِبُھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُسَلِّمُ عَلَیْہِ فِی النَّاسِ، أَعْرَضَ عَنْہُ، صَنَعَ ذَالِکَ مِرَارًا حَتّٰی عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِیْہِ وَالْاِعْرَاضَ عَنْہُ فَشَکـٰی ذَالِکَ اِلٰی اَصْحَابِہٖوَقَالَوَاللّٰہِاِنِّیْ لَاُنْکِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالُوْا خَرَجَ فَرَاٰی قُبَّتَکَ۔ فَرَجَعَ الرَّجُلُ اِلٰی قُبَّتِہٖفَھَدَمَھَاحَتّٰی سَوَّاھَا بِالْاَرْضِ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَلَمْ یَرَھَا قَالَ: ((مَا فَعَلَتِ الْقُبَّۃُ۔)) قَالُوْا شَکـٰی اِلَیْنَا صَاحِبُھَا اِعْرَاضَکَ فَاَخْبَرْنَاہُ فَھَدَمَھَا، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بِنَائٍ وَبَالٌ عَلٰی صَاحِبِہٖاِلَّامَالَا۔)) یَعْنِیْ: مَالَا بُدَّ مِنْہُ۔ … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے، ایک بلند گنبد دیکھا اور فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا: یہ فلاں انصاری آدمی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا۔ جب اس کا مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اُس سے اعراض کیا، اُس نے کئی مرتبہ سلام کہا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعراض کرتے رہے)۔ بالآخر اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی اور اعراض کا اندازہ ہو گیا، اُس نے صحابہ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: بخدا! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عجیب و اجنبی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ باہر نکلے تھے اور تیرا گنبد دیکھا تھا۔ سو وہ آدمی فوراً اپنے گنبد کی طرف لوٹا اور اُس کو گرا کر زمین کے برابر کردیا۔ (پھر) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: گنبدکو کیا ہوا؟ صحابہ نے کہا: اس نے ہمارے سامنے آپ کے اعراض کرنے کا شکوہ کیا، ہم نے (آپ کی ناپسندیدگی کی ساری صورتحال) اس پر واضح کر دی، اس لیے اس نے اس کو منہدم کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار!ہر عمارت اپنے مالک کے حق میں وبال ہے، سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ (ابوداود: ۲/۳۴۷، صحیحہ: ۲۸۳۰)
یہ صحابۂ کرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا، جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی، وہ ان کو بھی پسند تھی اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناپسند تھی، وہ ان کو بھی ناپسند تھی۔

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين لطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں