الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ
مال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10057
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ فَحَدَّثَنِي صَاحِبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَاذَا نَدَّخِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ
۔ عبد اللہ بن ابو ہذیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ایک ساتھی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے، اب ہم کیا خزانہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور ایسی بیوی، جوآخرت کے معاملے میں اپنے خاوند کا تعاون کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10057]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23489»
وضاحت: فوائد: … ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور امورِ آخرت کو آسان بنا دینے والی بیوی، ان تین نعمتوں کی وجہ سے نہ صرف دنیا میں تسکین ملتی ہے، بلکہ آخرت بھی آسان ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 10058
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ بِالْكُوفَةِ أَمِيرٌ قَالَ فَخَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةٌ وَبِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ
۔ مطرف بن عبد اللہ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں، وہ کوفہ کے امیر تھے، انھوں نے ایک دن خطاب کیا اور کہا: بیشک اس مال کو دینے میں بھی فتنہ ہے اور اس کو روکنے میں بھی فتنہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی موضوع پر اپنا خطبہ دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے اور نیچے اتر آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10058]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20862»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10059
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِي أُبَيٌّ أَلَا تَرَى النَّاسَ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ وَاللَّهِ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيَذْهَبَنَّ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَنْ عَفَّانَ
۔ عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کو اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10059]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21583»
وضاحت: فوائد: … یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2895
حدیث نمبر: 10060
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ میں سے ایک آدمی دو دیناریا دو درہم چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10060]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 788»
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 10061
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ كَيَّةٌ قَالَ ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَتَرَكَ دِينَارَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں ایک آدمی ایک دینار چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ ایک داغ ہے۔ پھر ایک اور آدمی دو دینار چھوڑ کر فوت ہو گیا، ایک روایت میں ہے: اس کے ازار میں دو دینار پائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10061]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 372، والطبراني في الكبير: 8011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22525»
وضاحت: فوائد: … دو دیناروں کو دو داغ کیوں قرار دیا گیا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۲۰)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10062
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَتْ فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَ مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا، میں نے سمجھا کہ شاید آپ کو کوئی تکلیف ہو گی، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے، جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور ابھی تک بچھونے کے کونے میں پڑے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10062]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 5160، والطبراني في الكبير: 23/ 752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27049»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10063
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَا عَائِشَةُ مَا فَعَلَتِ الذَّهَبُ فَجَاءَتْ مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوِ الثَّمَانِيَةِ أَوِ التِّسْعَةِ فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ لَقِيَهُ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: عائشہ! اس سونے کا کیا بنا؟ یہ سن کر سیدہ چھ سات یا آٹھ یا نو دینار نکال لائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمایا: محمد کا اللہ کے بارے میں کیا گمان ہو گا، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ دینار اس کے پاس ہوں، ان کو خرچ کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10063]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحميدي: 283، وابن ابي شيبة: 3/ 238، وابن حبان: 3212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24726»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10064
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَتْ أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ قریشیوں میں سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے اور اب میں نے چالیس ہزار دینار کی ایک زمین بیچی ہے، سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا مال خرچ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک میرے بعض ساتھی ایسے ہیں کہ جب میں (وفات کے وقت) ان سے جدا ہوں گا تو وہ بعد میں مجھے نہیں مل سکیں گے۔ پس میں عبد الرحمن، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ حدیث سنائی، وہ سیدہ کے پاس پہنچے اور کہا: اللہ کی قسم! کیا میں ان میں سے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اور آپ کے بعد میں ہر گز کسی کو بری نہیں کروں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10064]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 2496، وابويعلي: 7003، والطبراني في الكبير: 23/ 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27229»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10065
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِينَ يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ هَذَا الْمَالُ
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اہل دنیا جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10065]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23378»
وضاحت: فوائد: … ہر ایک کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس وقت منقبت و عظمت اور معرفت و شناخت کی بنیاد مال و دولت پر ہے، پچھلے ادوار میں اسلام اور نسب کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا، لوگ مال سے متأثر نہیں ہوتے تھے، لیکن اب نظام مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اب مال و دولت اور سرمائے کا عروج ہے، یہی شان ہے، یہی آن ہے، یہی نسب ہے، یہی حسب ہے، غریب رشتہ دار کیا، محتاج بھائی کو بھی کوئی قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 10066
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفِضَّةٍ فَقَالَ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَتَكُونُ مَعَادِنُ يَحْضُرُهَا شِرَارُ النَّاسِ
۔ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ چاندی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ ہماری ایک کان کی چاندی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کانیں ہوں گی، لیکن بدترین لوگ ان پر حاضر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10066]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الصغير: 426، وفي الاوسط: 3556، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24045»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانیjکہتے ہے: معادن (کانیں) ان مقامات کو کہتے ہیں، جہاں سے سونے، چاندی اور تانبے جیسے زمینی جواہر برآمد ہوتے ہیں، اس کی واحد معدِن ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کافر لوگ ہی بدترین ہوتے ہیں۔ عربوں کے زمینی خزانے نکالنے کے لیےیورپیوں اور امریکیوں کو وہاں لانے کی وجہ سے مسلمان جس آزمائش میں مبتلا ہیں، اس حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۱۸۸۵)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره