🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفيل
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10452
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مَا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَحَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح کے زیریں مقام پر ملے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی سے پہلے کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک تھیلا پیش کیا، اس میں گوشت تھا، لیکن اس نے اس سے کھانے سے انکارکر دیا اور کہا: بیشک میں وہ چیز نہیں کھاتا جوتم اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہ چیز کھاتا ہوں، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماماما نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10452]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3826، 5499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6110»
وضاحت: فوائد: … زید بن عمرو بن نفیل، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے چچا زاد تھے، انھوں نے نے بتوں کی عبادت کو ترک کر دیا تھا اور مشرکوں کے دین سے الگ تھلگ ہو گئے تھے اور صرف اس جانور کا گوشت کھاتے تھے، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا جاتا تھا۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں زید بن عمرو کو ملی، وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے: اے قریشیو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں زید کی جان ہے! تم میں سے کوئی آدمی دین ِ ابراہیمی کا پیروکار نہیںہے، ما سوائے میرے، پھر وہ کہتے: اے اللہ! اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کون سا چہرہ تجھے سب سے پسند ہے تو میں اس کے ذریعے تیری عبادت کرتا۔ … یہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور کہتے: ابراہیم علیہ السلام کا معبود میرا معبود ہے اور ابراہیم علیہ السلام کا دین میرا دین ہے، یہ بچیوں کو زندہ درگور نہیں کرتے تھے، بلکہ جب کوئی آدمی اپنی بچی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس کو کہتے: اس کو قتل نہ کر، بلکہ مجھے دے دے، میں اس کی کفالت کروں گا، پھر جب یہ بالغ ہو جائے گی تو مجھ سے لے لینایا میرے پاس چھوڑ دینا، جیسے تیری مرضی ہو گی۔
ایک بار یہ اہل کتاب میں دینِ ابراہیمی تلاش کرنے کے لیے شام کی طرف نکلے، مختلف لوگوں سے سوال کرنے کے لیے موصل اور جزیرہ کا گشت کیا، پھر شام کی طرف واپس پلٹے اور بلقاء کی سرزمین میں ایک گرجا گھر میں ایک پادری کے پاس آئے، لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پادری نصرانیت کا مکمل علم رکھتا تھا، انھوں نے اُس سے ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: تو ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے کہ آج کوئی بھی اس پر پابند نہیں ہے، اس دین کا علم مٹ چکا ہے اور اس کی معرفت رکھنے والے فوت ہو چکے ہیں، ہاں اب ایک نبی کے ظہور کا وقت ہو چکا ہے، زیدبن عمرو یہودیت اور نصرانت کی طلب میںنکلے تھے، لیکن ان دو ادیان کی کوئی چیز ان کو پسند نہ آئی، پھر وہ وہاں سے نکلے اورمکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے جلدی کی، لیکن جو لخم کے علاقے سے گزرے توان لوگوں نے ان پر حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا، ورقہ بن نوفل نے ان کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا:
رَشَدْتَّ وَ اَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو وَاِنَّمَا تَجَنَّبْتَ تـَــنُّـــــورًا مِّــــنَ النَّارِ حَامِیَا
بِدِیْنِکَ رَبًّــا لَــیْــسَ رَبٌّ کَـــمِثْــــــلِہِ وَتَرْکِکَ اْوَثَانَ الطَّوَاغِیْ کَمَا ھِیَا
اے ابن عمرو! تو ہدایت پا گیا اور تو نے بہت اچھا کیا اور تو بچ گیا دہکتی ہوئی آگ کے تنور سے ایسے ربّ کو لائقِ عبادت سمجھ کر کہ جس کی طرح کا کوئی ربّ نہیں ہے اور بتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ کر۔
(ملخص از البدایۃ والنھایۃ لا بن کثیر)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَرْقَةَ بْنِ نَوفَلِ بْنِ عَمِّ خَدِيجَةَ زَوْجِ النَّبِي ﷺ و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10453
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ خَدِيجَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَ بَيَاضٍ فَأَحْسِبُهُ لَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10453]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه عبد الرزاق: 9709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24871»
وضاحت: فوائد: … ورقہ بن نوفل، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یہ بھی زید بن عمرو کی طرح فطرت پر برقرار تھے، لیکن انھوں نے نصرانیت کو پسند کر کے قبول کر لیا اور مختلف پادریوں کو ملے، انھوںنے اسی مذہب کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حوصلہ افزائی کی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں