🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَرْبِ الْعَارِبَةِ وَالْمُسْتَعْرِبَةِ وَإِلَى مَنْ يَنتَسِبُونَ وَذِكْرِ قَحْطَانَ وَقِصَّةِ سَبَا
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ¤عاربہ: خالص عرب¤مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10442
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُ بِمُقْبِلِ قَوْمِي مُدْبِرَهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَاتِلْ بِمُقْبِلِ قَوْمِكَ مُدْبِرَهُمْ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ لَا تُقَاتِلْهُمْ حَتَّى تَدْعُوَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ سَبَأً أَوَادٍ هُوَ أَوْ جَبَلٌ مَا هُوَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ وُلِدَ لَهُ عَشَرَةٌ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ تَيَامَنَ الْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَحِمْيَرٌ وَكِنْدَةُ وَمَذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ بَجِيلَةُ وَخَثْعَمُ وَتَشَاءَمَ لَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ
۔ سیدنا عروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے مسلمان ہونے والے افراد کو لے کر اس کے اسلام قبول نہ کرنے والے افراد سے جہاد کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، تو اپنی قوم کے مسلمانوں کو لے کر اپنی قوم کے کافروں سے لڑائی کر۔ پھر جب میں جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: تو نے اس وقت تک ان سے قتال نہیں کرنا، جب تک ان کو اسلام کی دعوت نہ دے دے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سبأ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، یہ وادی کا نام ہے یا کوئی پہاڑ ہے؟ یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو ایک آدمی تھا، اس کے دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں بسے، یمن میں آباد ہونے والے ازد، اشعری، حمیر، کندہ، مذحج اور انمار ہیں، مؤخر الذکرکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بجیلہ اور خثعم بھی ان میں سے ہیں، اور شام میں آباد ہونے والے لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10442]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 000/88 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24306»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10443
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَسَيَعُودُ إِلَيْهِمْ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٌ وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الْإِسْتَوَاءِ
۔ سیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریبیہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخریالفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10443]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الطبراني في الكبير: 4227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16952»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔ حمیریمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ تبِعِ مَلِكُ الْيَمْنِ وَقِصَّتُهُ مَعَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10444
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَسُبُّوا تُبَّعًا فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ أَسْلَمَ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تبع کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ وہ مسلمان ہو گیا تھا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10444]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23268»
وضاحت: فوائد: … اس تبع کا نام تبان اسعد ابو کرب تھا، یمن کے بادشاہ کو تبع کہتے تھے، جیسے حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی اور مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے تھے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ قِصَّةِ خُزَاعَةً وَخُرُوجِ وَلَايَةِ البَيتِ مِنْهُمْ إِلَى قُضَى بن كِلابِ وَخَيْرِ عُمَرِو بْنِ لَّحَى وَعِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10445
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ أَبُو خُزَاعَةَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ فِي النَّارِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑنے والا اور بتوں کی عبادت کرنے والا عمرو بن عامر ہے، یہ خزاعہ قبیلے کا باپ ہے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاںگھسیٹ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10445]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4258»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10446
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّائِبَةَ وَبَحَرَ الْبَحِيرَةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا، وہ پہلا شخص ہے، جس نے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑا اور اونٹنیوں کے کان کاٹ کر ان کو چھوڑا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10446]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3521، 4623، ومسلم: 2856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8773»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَائِبَۃٍ وَّلَا وَصِیْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَاَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۔} … اللہ نے نہ کوئی کان پھٹی اونٹنی مقرر فرمائی ہے اور نہ کوئی سانڈ چُھٹی ہوئی اور نہ کوئی اوپر تلے بچے دینے والی مادہ اور نہ کوئی بچوں کا باپ اونٹ اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۳)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:
صحیح بخاری میں ہے: سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے، اسے کوئی دو ہتا نہ تھا، سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے، جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے، سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے، وصیلہ وہ اونٹنی ہے، جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں، ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو، اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ حام اس نر اونٹ کو کہتے تھے جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں، پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3521
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَاتِمِ نِ الطَّائِيِّ
حاتم طائی کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10447
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفْعَلُ كَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا اور دیگر کئی امور سر انجام دیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے جس چیز کا ارادہ کیا، اس کو پا لیا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10447]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابوداود الطيالسي: 1033، وابن حبان: 332، والطبراني في الكبير: 17/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19591»
وضاحت: فوائد: … حاتم کی سخاوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں تھا، بلکہ شہرت طلبی تھا،اوروہ پورا ہو چکا ہے، ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں رائیگاں اور قابل مذمت ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُدْعَانَ
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10448
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ قَالَ لَا يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان دورِ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلاتا تھا، آیایہ نیکیاں اس کے لئے نفع مند ثابت ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عائشہ! اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! روزِ قیامت میرے گناہوں کو بخش دینا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10448]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25128»
وضاحت: فوائد: … ابن جدعان کی صلہ رحمی اور سخاوت وغیرہ اس کوفائدہ نہیں دے گی، کیونکہ وہ کافر تھا، اس کے یہ دعا نہ کرنے سے مقصودیہ ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس کے عمل ضائع ہو گئے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 214
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِمْرَدُ الْقَيْسِ بْنِ حَجْرِ الشَّاعِرِ الْمَشْهُورِ
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10449
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امرؤ القیس جہنم کی طرف شعراء کا جھنڈا اٹھانے والا ہو گا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10449]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،ابو الجھم الواسطي لايعرف الا بھذا الحديث، وقال ابوزرعة: واھي الحديث، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7127»
وضاحت: فوائد: … امرؤ القیس بن حُجْر بن حارث کندی دورِ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا،یہ وہ پہلا شخص تھا، جس نے قصیدے ترتیب دیئے۔
اس نے قابل مذمت امور پر مشتمل اشعار ایجاد کیے،بعد والے شعراء اور مشرکین نے اس کی پیروی کی، لہٰذا جیسے وہ دنیا میں ان لوگوں کا قائد تھا، اسی طرح آخرت میں قائد ہو گا، لیکن قیادت جہنم کی طرف کرے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَشَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10450
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَشْعَرُ بَيْتٍ وَفِي رِوَايَةٍ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: أَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے) اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10450]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9072»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2256
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10451
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ فَأَنْشَدَهُ مِائَةَ قَافِيَةٍ قَالَ فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ إِيهْ إِيهْ حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَةِ قَافِيَةٍ قَالَ كَادَ أَنْ يُسْلِمَ
۔ سیدنا شرید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے شعر پڑھے، پس میں نے سو قافیے پڑھ دیئے، میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا کوئی کلام سناتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ، اور سناؤ۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10451]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19693»
وضاحت: فوائد: … امیہ بن ابی صلت نے اتنے عمدہ اشعار کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اشعار پسند کیے، لیکن اس شخص کو اسلام نصیب نہ ہو سکا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2255
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں