الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ ذِكْرِ مَاشِطَة ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْمَهْدِ
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 10432
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ فَقَالَ هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا قَالَ قُلْتُ وَمَا شَأْنُهَا قَالَ بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَتِ الْمِدْرَى مِنْ يَدَيْهَا فَقَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ أَبِي قَالَتْ لَا وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ قَالَتْ أُخْبِرُهُ بِذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا فَقَالَ يَا فُلَانَةُ وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي قَالَتْ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ (وَفِي رِوَايَةٍ رَبِّي وَرَبُّكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ) فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا قَالَتْ لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ وَمَا حَاجَتُكِ قَالَتْ أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتَدْفِنَنَا قَالَ ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ قَالَ فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنِ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ فَقَالَ يَا أُمَّهْ اقْتَحِمِي فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَاقْتَحَمَتْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةُ صِغَارٍ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَشَاهِدُ يُوسُفَ وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کی بات ہے، مجھے بڑی پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی، میں نے کہا: اے جبریل! یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے؟ اس نے کہا: یہ ماشطہ بنت فرعون اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے کہا: اس کا واقعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن وہ فرعون کی کسی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی، اچانک ہی جب کنگھی اس کے ہاتھ سے گری تو نے کہا: بسم اللہ، فرعون کی بیٹی نے کہا: بسم اللہ میں اللہ سے مراد میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے مراد میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: اس سے مراد میرا اور تیرا وہ ربّ ہے، جو آسمانوں میں ہے۔ اس نے کہا: کیا میں اپنے باپ فرعون کو یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: جی بالکل، پس اس نے اس کو بتا دی، اس نے اپنی اس مسلمان بیٹی کو بلایا اور کہا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، بلکہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: میرا اور تیرا ربّ وہ جو آسمانوںمیں ہے، پس فرعون نے تانبے کی گائے کی شبیہ تیار کروائی، اس کو گرم کیا گیا، پھر اس نے حکم دیا کہ اس کو اور اس کی اولاد کو اس گائے میں ڈال دیا جائے۔ ماشطہ نے کہا: تیرے ذمے میری ایک ضرورت ہے، اس نے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ تو میری ہڈیاں اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کروا کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کی بات ہے، مجھے بڑی پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی، میں نے کہا: اے جبریل! یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے؟ اس نے کہا: یہ ماشطہ بنت فرعون اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے کہا: اس کا واقعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن وہ فرعون کی کسی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی، اچانک ہی جب کنگھی اس کے ہاتھ سے گری تو نے کہا: بسم اللہ، فرعون کی بیٹی نے کہا: بسم اللہ میں اللہ سے مراد میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے مراد میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: اس سے مراد میرا اور تیرا وہ ربّ ہے، جو آسمانوں میں ہے۔ اس نے کہا: کیا میں اپنے باپ فرعون کو یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: جی بالکل، پس اس نے اس کو بتا دی، اس نے اپنی اس مسلمان بیٹی کو بلایا اور کہا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، بلکہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: میرا اور تیرا ربّ وہ جو آسمانوںمیں ہے، پس فرعون نے تانبے کی گائے کی شبیہ تیار کروائی، اس کو گرم کیا گیا، پھر اس نے حکم دیا کہ اس کو اور اس کی اولاد کو اس گائے میں ڈال دیا جائے۔ ماشطہ نے کہا: تیرے ذمے میری ایک ضرورت ہے، اس نے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ تو میری ہڈیاں اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کروا کر [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10432]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 12280، وابن حبان: 2903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2821»
وضاحت: فوائد: … عیسی بن مریم علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کے بعد جب لوگوں نے سیدہ مریم علیہا السلام کے بارے تہمت زدہ باتیں کیں، اس وقت عیسی علیہ السلام نے کلام کیا تھا، سورۂ مریم کے اوائل میں یہ واقعہ موجود ہے۔
صاحب ِ جریج کا ذکر حدیث نمبر (۱۰۴۳۴) میں آ رہا ہے۔
یوسف علیہ السلام کے گواہ کا واقعہ یہ ہے:
یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے یوسف علیہ السلام کو برائی کی دعوت دی تھی،یوسف علیہ السلام پاکدامن رہنے کے لیے باہر دوڑے اور کیا دیکھا کہ دروازے پر عزیز مصر موجود ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاء ُ مَنْ اَرَادَ بِاَہْلِکَ سُوْء ًا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ہِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ کَانَ قَمِیْصُہ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ۔} … اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے،یا دردناک سزا ہو۔ اس (یوسف) نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔ (سورۂ یوسف: ۲۵، ۲۶)
حافظ ابن کثیر نے کہا: یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی، پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا، اس نے زور سے اپنی طرف گھسیٹا، جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کے قریب ہوگئے، لیکن پھر آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی، اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بری طرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے، دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے، اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف علیہ السلام کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی، سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: فرمائیے حضور جو آپ کی بیوی سے بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقتیہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی،یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو، اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے، اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے، روکا منع کیا ہٹایا، اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بے گناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے، فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہو نے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی،یہ اس سے بھاگا، وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا، اس نے اپنی طرف گھسیٹا، اس نے اپنی جانب کھینچا، وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیںیہ گواہ بڑا آدمی تھا، جس کے منہ پر داڑھی تھی،یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا، زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی۔ لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے معلوم ہو رہا ہے کہہ یہ شیر خوار بچہ تھا۔
صاحب ِ جریج کا ذکر حدیث نمبر (۱۰۴۳۴) میں آ رہا ہے۔
یوسف علیہ السلام کے گواہ کا واقعہ یہ ہے:
یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے یوسف علیہ السلام کو برائی کی دعوت دی تھی،یوسف علیہ السلام پاکدامن رہنے کے لیے باہر دوڑے اور کیا دیکھا کہ دروازے پر عزیز مصر موجود ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاء ُ مَنْ اَرَادَ بِاَہْلِکَ سُوْء ًا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ہِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ کَانَ قَمِیْصُہ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ۔} … اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے،یا دردناک سزا ہو۔ اس (یوسف) نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔ (سورۂ یوسف: ۲۵، ۲۶)
حافظ ابن کثیر نے کہا: یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی، پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا، اس نے زور سے اپنی طرف گھسیٹا، جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کے قریب ہوگئے، لیکن پھر آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی، اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بری طرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے، دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے، اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف علیہ السلام کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی، سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: فرمائیے حضور جو آپ کی بیوی سے بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقتیہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی،یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو، اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے، اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے، روکا منع کیا ہٹایا، اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بے گناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے، فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہو نے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی،یہ اس سے بھاگا، وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا، اس نے اپنی طرف گھسیٹا، اس نے اپنی جانب کھینچا، وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیںیہ گواہ بڑا آدمی تھا، جس کے منہ پر داڑھی تھی،یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا، زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی۔ لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے معلوم ہو رہا ہے کہہ یہ شیر خوار بچہ تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
4. بَابُ ذِكْرِ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأَخْدُودِ وَ فِيهَا مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْمَهْدِ أَيْضًا
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 10433
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ فَلَمَّا كَبِرَ السَّاحِرُ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنِّي قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَحَضَرَ أَجَلِي فَادْفَعْ إِلَيَّ خَادِمًا فَلَأُعَلِّمَهُ السِّحْرَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ غُلَامًا فَكَانَ يُعَلِّمُهُ السِّحْرَ وَكَانَ بَيْنَ السَّاحِرِ وَبَيْنَ الْمَلِكِ رَاهِبٌ فَأَتَى الْغُلَامُ عَلَى الرَّاهِبِ فَسَمِعَ مِنْ كَلَامِهِ فَأَعْجَبَهُ نَحْوُهُ وَكَلَامُهُ فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ وَقَالَ مَا حَبَسَكَ وَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ وَقَالُوا مَا حَبَسَكَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ فَقَالَ إِذَا أَرَادَ السَّاحِرُ أَنْ يَضْرِبَكَ فَقُلْ حَبَسَنِي أَهْلِي وَإِذَا أَرَادَ أَهْلُكَ أَنْ يَضْرِبُوكَ فَقُلْ حَبَسَنِي السَّاحِرُ وَقَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى دَابَّةٍ فَظِيعَةٍ عَظِيمَةٍ وَقَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَجُوزُوا فَقَالَ الْيَوْمَ أَعْلَمُ أَمْرَ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ أَمْ أَمْرَ السَّاحِرِ فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ وَأَرْضَى لَكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَجُوزَ النَّاسُ وَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا وَمَشَى النَّاسُ فَأَخْبَرَ الرَّاهِبَ بِذَلِكَ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّي وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ فَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَسَائِرَ الْأَدْوَاءِ وَيَشْفِيهِمْ وَكَانَ يَجْلِسُ لِلْمَلِكِ جَلِيسٌ فَعَمِيَ فَسَمِعَ بِهِ فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ فَقَالَ اشْفِنِي وَلَكَ مَا هَاهُنَا أَجْمَعُ فَقَالَ مَا أَشْفِي أَنَا أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَآمَنَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ ثُمَّ أَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ مِنْهُ نَحْوَ مَا كَانَ يَجْلِسُ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ يَا فُلَانُ مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ فَقَالَ رَبِّي فَقَالَ أَنَا قَالَ لَا وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ قَالَ لَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ نَعَمْ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّهُ عَلَى الْغُلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ أَنْ تُبْرِئَ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَهَذِهِ الْأَدْوَاءَ قَالَ مَا أَشْفِي أَنَا أَحَدًا مَا يَشْفِي غَيْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنَا قَالَ لَا قَالَ أَوَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ فَأَخَذَهُ أَيْضًا بِالْعَذَابِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ فَأُتِيَ بِالرَّاهِبِ فَقَالَ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ وَقَالَ لِلْأَعْمَى ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ عَلَى الْأَرْضِ وَقَالَ لِلْغُلَامِ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَبَعَثَ بِهِ مَعَ نَفَرٍ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِذَا بَلَغْتُمْ ذِرْوَتَهُ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَدَهْدِهُوهُ مِنْ فَوْقِهِ فَذَهَبُوا بِهِ فَلَمَّا عَلَوْا بِهِ الْجَبَلَ قَالَ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَدَهْدَهُوا أَجْمَعُونَ وَجَاءَ الْغُلَامُ يَتَلَمَّسُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ فَقَالَ كَفَانِيهِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَبَعَثَهُ مَعَ نَفَرٍ فِي قُرْقُورٍ فَقَالَ إِذَا لَجَجْتُمْ بِهِ الْبَحْرَ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَغَرِّقُوهُ فَلَجَّجُوا بِهِ الْبَحْرَ فَقَالَ الْغُلَامُ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَغَرَقُوا أَجْمَعُونَ وَجَاءَ الْغُلَامُ يَتَلَمَّسُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ فَقَالَ كَفَانِيهِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ فَإِنْ أَنْتَ فَعَلْتَ مَا آمُرُكَ بِهِ قَتَلْتَنِي وَإِلَّا فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ قَتْلِي قَالَ وَمَا هُوْ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ ثُمَّ تَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ فَتَأْخُذُ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ فَأَنْتَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي فَفَعَلَ وَوَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ ثُمَّ رَمَى فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ عَلَى مَوْضِعِ السَّهْمِ وَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَقِيلَ لِلْمَلِكِ أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ فَقَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَأَمَرَ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدِّدَتْ فِيهَا الْأَخَادِيدُ وَأُضْرِمَتْ فِيهَا النِّيرَانُ وَقَالَ مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَدَعُوهُ وَإِلَّا فَأَقْحِمُوهُ فِيهَا قَالَ فَكَانُوا يَتَعَادَوْنَ فِيهَا وَيَتَدَافَعُونَ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا تُرْضِعُهُ فَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِي النَّارِ فَقَالَ الصَّبِيُّ يَا أُمَّهْ اصْبِرِي فَإِنَّكِ عَلَى حَقٍّ
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادو گر بوڑھا ہوا تواس نے بادشاہ سے کہا: میںعمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت آ چکا ہے، لہٰذا مجھے کوئی خادم دو، تاکہ میں اس کو جادو کا علم سکھا سکوں، پس اس نے اس کو ایک لڑکا دے دیا اور وہ اس کو جادو کی تعلیم دینے لگا، جادوگر اور بادشاہ کے درمیان ایک پادری تھا، ایک دن وہ بچہ اس پادری کے پاس چلا گیا اور اس کا کلام سنا، اس کا طرز و طریقہ اور کلام اس کو پسند آیا، جب وہ پادری کی وجہ سے لیٹ ہو جاتا اور پھر جادو گر کے پاس پہنچتا تو وہ اس کی پٹائی کرتا اور کہتا: کس چیز نے تجھے روکے رکھا؟ اسی طرح جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچتا تو وہ بھی اس کی پٹائی کرتے اور کہتے: کس چیز نے تجھے روکے رکھا؟ جب اس نے پادری سے یہ شکایت کی تو اس نے کہا: جب جادو گر تجھے سزا دینا چاہے تو یہ کہہ دینا کہ گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والے سزا دینے لگیں تو کہنا کہ جادو گر نے روک لیا تھا، پس یہی روٹین جاری رہی، ایک دن اس کا گزر ایک بہت بڑے جانور کے پاس سے ہوا، اس جانور نے لوگوں کو روک رکھا تھا، وہ اس سے آگے گزر جانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اس لڑکے نے کہا: آج مجھے پتہ چل جائے گا کہ پادری کا معاملہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے یا جادو گر کا معاملہ، پس اس نے پتھر لیا اور کہا: اے اللہ! اگر جادو گر کی بہ نسبت پادری کا معاملہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو اس پتھر سے قتل کر دے، تاکہ لوگ گزر سکیں، پھر اس نے وہ پتھر پھینکا اور اس نے تو واقعی جانور کو قتل کر دیا اور لوگ گزر گئے، پھر جب اس لڑکے نے پادری کو اس واقعہ کی خبر دی تو اس نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو تو مجھ سے افضل ہے اور عنقریب تجھے آزمایا جائے گا، لیکن اگر تجھ پر آزمائش آ پڑی تو میراکسی کو نہ بتلانا، پس یہ لڑکا پیدائشی اندھوں اور باقی بیماریوںکا علاج کرنے لگا اور ان کو شفا ہونے لگی۔ ایک دن ہوا یوں کہ بادشاہ کا ایک ہم نشیں اندھا ہو گیا، جب اس نے اس لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت زیادہ تحائف لے کر آیا اور اس نے کہا: تو مجھے شفا دے دے اور یہ سب کچھ تیرا ہو گا، اس نے کہا: میں تو شفا نہیں دیتا، بلکہ اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے، اگر تو اس اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اس سے دعا کروں گا اور وہ تجھے شفا دے دے گا، پس وہ آدمی ایمان لے آے اور اس لڑکے نے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس نے اس کو شفا دے دی، پھر وہ ہم نشیں بادشاہ کے پاس آیا اور سابقہ روٹین کے مطابق بیٹھنے لگا، بادشاہ نے اس سے پوچھا: اے فلاں! کس نے تیری نظر لوٹائی ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے، بادشاہ نے کہا: میں نے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میرے اور تیرے ربّ اللہ نے، اس نے کہا: کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، پس بادشاہ نے اس شخص کو سزا دینا شروع کر دی،یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کے بارے میں بتلا دیا، پس اس بادشاہ نے اس کو بلا بھیجا اور کہا: اے میرے بیٹے! تیرا جادو تو اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ تو اندھوں، پھل بہریوں اور ان بیماریوں کا علاج کرنے لگ گیا ہے، اس نے کہا: میں نے کسی کو شفا نہیں دی، صرف اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے، بادشاہ نے کہا: یعنی میں، اس لڑکے نے کہا: نہیں، بادشاہ نے کہا: کیامیرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، بادشاہ نے اس کو سزا دینا شروع کر دی،یہاں تک کہ اس لڑکے نے پادری کے بارے میں بتلا دیا، پس اس پادری کو لایا گیا، بادشاہ نے اس سے کہا: اپنے دین سے پلٹ جا، لیکن اس نے انکار کیا، پس اس کے سر کی مانگ یعنی سر کے وسط میں آری رکھ کر چلائی گئی،یہاں تک کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے گر پڑے، پھر بادشاہ نے سابق اندھے سے کہا: تو اپنے دین سے مرتد ہو جا، لیکن اس نے بھی انکار کیا، پس اس کے سر کے وسط میں بھی آری رکھ کر چلائی گئی اور اس کے وجود کے دو ٹکڑے زمین پر گر پڑے، پھر بادشاہ نے لڑکے سے کہا: تو اپنے دین سے پلٹ جا، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس بادشاہ نے اس کو چند افراد کے ساتھ ایک مخصوص پہاڑ کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ جب تم لوگ اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ تو اس سے پوچھنا، اگر یہ اپنے دین سے پلٹ آئے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو وہاں سے لڑھکا دینا، پس وہ اس کو لے گئے اور جب پہاڑ پر چڑھنے لگے تو اس لڑکے نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو جس چیز کے ساتھ چاہے، مجھے کفایت کر، پس پہاڑ پر زلزلہ طاری ہو گیا اور وہ سارے کے سارے لڑھک پڑے (اور مرگئے)، وہ لڑکا تلاش کرتے کرتے دوبارہ بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، اس نے پوچھا: تیرے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے کفایت کیا ہے، پھر بادشاہ نے اس کو ایک جماعت کے ساتھ ایک بڑی کشتی میں بھیجا اور کہا: جب تم سمندر میں گھس جاؤ تو اس سے پوچھنا، اگر یہ اپنے دین سے باز آجائے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو غرق کر دینا، پس جب وہ سمندر میں گھسے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو جس چیز کے ساتھ چاہتا ہے، مجھے اس کے ساتھ ان سے کفایت کر، پس وہ سارے کے سارے غرق ہو گئے اور وہ لڑکا تلاش کرتے کرتے بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، اس نے پوچھا: تیرے ساتھیوںکا کیا بنا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے کفایت کیا ہے، پھر اس بچے نے بادشاہ سے کہا: تو اس وقت تک مجھے قتل نہیں کر سکتا، جب تک میرے حکم پر عمل نہیں کرے گا، اگر تو نے میرے حکم پر عمل کیا تو تب مجھے قتل کر سکے گا، وگرنہ تو مجھے قتل نہیں کر سکتا، بادشاہ نے کہا: وہ کون سا حکم ہے؟ اس نے کہا: تو لوگوں کو ایک میدان میںجمع کر، پھر مجھے ایک تنے پر سولی چڑھا، پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکال اور کہہ: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ (اللہ کے نام کے ساتھ، جو اس لڑکے کا ربّ ہے)، اگر تو یہ طریقہ اپنائے گا تو مجھے قتل کر لے گا، پس اس بادشاہ نے ایسے ہی کیا اور تیر کو کمان پر رکھا اور کہا: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، پس وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی پر لگا، اس نے اپنا ہاتھ تیر والی جگہ پر رکھا اور فوت ہو گیا، لوگوں نے یہ منظر دیکھ کر کہا: ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے ہیں، کسی نے بادشاہ سے کہا: کیا تجھے پتہ چل گیا ہے کہ جس چیز سے تو ڈرتا تھا، اللہ کی قسم! تو اسی چیز میں پھنس گیا ہے، سارے لوگ مؤمن ہو گئے ہیں، پس بادشاہ نے سزا دینے کے لیے حکم دیا کہ جہاں سے گلیاں شروع ہوتی ہیں، وہاں کھائیاں کھودی جائیں اور پھر ان میں آگ جلائی جائے، پھر اس نے کہا: جو آدمی اپنے اِس دین سے مرتد ہو جائے، اس کو چھوڑ دو، وگرنہ اُس کو اِس آگ میں دھکیل دو، پس وہ دوڑ کر آتے اور دھکم دھکا ہو کر آگ میں گھس جاتے، یہاں تک ایک خاتون اپنے شیر خوار بچے کو لے کر آئی اور یوں لگ رہا تھا کہ وہ آگ میں گھسنے سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے، لیکن اس بچے نے کہا: اے میری ماں! صبر کر، بیشک تو حق پر ہے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10433]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 3005، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24428»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ اہل حق پر کیسی کیسی آزمائشیں آ سکتی ہیں، بسا اوقات اللہ تعالیٰ معجزاتی طور پر تائید و نصرت کرتا ہے اور بسا اوقات حق والوں کو تکلیفیں سہنا پڑتی ہیں۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو سورۂ بروج کی تفسیر میں ذکر ہے، اسی سورت کے شروع میں ان خندقوں اور کھائیوں والوں کا اجمالاً ذکر کیا گیا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو سورۂ بروج کی تفسیر میں ذکر ہے، اسی سورت کے شروع میں ان خندقوں اور کھائیوں والوں کا اجمالاً ذکر کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 3005
5. بَابُ ذِكْرِ قِصَّةِ جُرَيْجٍ أَحَدٍ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ فِيْهِ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْمَهْدِ أَيْضًا
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
حدیث نمبر: 10434
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَكَانَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ عَابِدٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ فَابْتَنَى صَوْمَعَةً وَتَعَبَّدَ فِيهَا قَالَ فَذَكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا عِبَادَةَ جُرَيْجٍ فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْهُمْ لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُصِيبَنَّهُ قَالُوا قَدْ شِئْنَا قَالَ فَأَتَتْهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَمْكَنَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَاعٍ كَانَ يُؤْوِي غَنَمَهُ إِلَى أَصْلِ صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالُوا مِمَّنْ قَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ فَشَتَمُوهُ وَضَرَبُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا إِنَّكَ زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالُوا هَا هُوَ ذَا قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْغُلَامِ فَطَعَنَهُ بِإِصْبَعِهِ وَقَالَ بِاللَّهِ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ أَنَا ابْنُ الرَّاعِي فَوَثَبُوا إِلَى جُرَيْجٍ فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَهُ وَقَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ابْنُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ قَالَ وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ تُرْضِعُهُ إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَى ثَدْيَهَا يَمُصُّهُ (قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَلَى صَنِيعِ الصَّبِيِّ وَوَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا) ثُمَّ مَرَّ بِأَمَةٍ تُضْرَبُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الْأَمَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَذَلِكَ حِينَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ الرَّاكِبُ ذُو الشَّارَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمَرَّ بِهَذِهِ الْأَمَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ يَا أُمَّتَاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ ذُو الشَّارَةِ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ يَقُولُونَ زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے، (۱) عیسی بن مریم، (۲)بنو اسرائیل میں جریج نامی ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس نے گرجا گھر بنایا اور اس میں عبادت کی، ایک دن بنو اسرائیل نے جریج کی عبادت کا ذکر کیا، لیکن ان کی ایک زانیہ عورت نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کو آزمائش میں ڈالتی ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں، پس وہ خاتون آئی، اس کے درپے ہوئی، لیکن جب اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، تو اس نے اس چرواہے کو اپنے ساتھ زنا کرنے کا موقع دیا، جو اپنی بکریوں کو جریج کے گرجا گھر کے ساتھ بٹھاتا تھا، پس وہ حاملہ ہو گئی، پھر جب اس نے بچہ جنم دیا اور لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس سے ہے تو اس بدکار خاتون نے کہا: یہ جریج کا ہے، (یعنی جریج نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا تھا)، پس لوگ جریج کے پاس آئے، اس کو نیچے اتار کر برا بھلا کہا، اس کی پٹائی کی اور اس کا گرجا گھر گرا دیا، اس نے پوچھا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: تو نے فلاں زانیہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اب اس نے بچہ بھی جنم دیا ہے، جریج نے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: وہ یہ ہے، پس جریج کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اور دعا کی، پھر اس بچے کی طرف آئے، اس کو اپنی انگلی ماری اور کہا: اللہ کی قسم! اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میں چرواہے کا بیٹا ہوں، یہ سن کر لوگ جریج پر ٹوٹ پڑے اور اس کے بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سونے سے تیرا گرجا گھر بنائیں گے، لیکن اس نے کہا: مجھے سونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تم اس کو پہلے کی طرح مٹی سے بنا دو۔ (۳) ایک خاتون اپنی گودی میں ایک بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ اس کے پاس سے حسن و جمال والا ایک سوار گزرا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا بنا دے، بچے نے ماں کا پستان چھوڑ دیا اور سوار کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا نہ بنانا، پھر وہ پستان کو چوسنے لگ گیا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کے کیے کو بیان کیا اور اپنی انگلی کو منہ میں ڈال کر چوسا۔ اتنے میں اسی خاتون کے پاس سے ایک ایسی لونڈی کو گزارا گیا، جس کی پٹائی کی جا رہی تھی، اس خاتون نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ بنانا، بچے نے اس کا پستان چھوڑا اور لونڈی کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اللہ! مجھے اسی کی طرح کا بنانا، پھر جب انھوں نے بات کو دوہرایا تو اس خاتون نے اپنے بیٹے سے کہا: میں سر منڈی، حسن و جمال والا سوار گزرا اور میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا بنا دے تو تو نے کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا نہ بنانا، پھر جب اس لونڈی کو گزارا گیا اور میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ بنانا تو تو نے کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا بنانا، اب کی بار اس بچے نے کہا: اے میری ماں! وہ حسن و جمال والا سوار سرکشوں میں سے ایک سرکش تھا اور یہ لونڈی، لوگ کہتے تھے: اس نے زنا کیا ہے، جبکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا، لوگ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے، جبکہ اس نے چوری نہیں کی تھی، اور وہ کہہ رہی تھی: اللہ مجھے کافی ہے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10434]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري3436، ومسلم: 2550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8057»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري3436
حدیث نمبر: 10435
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَانِ جُرَيْجٍ وَصَبِيٌّ آخَرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا جُرَيْجٌ فَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ وَكَانَ يَوْمًا يُصَلِّي إِذَا اشْتَاقَتْ إِلَيْهِ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ الصَّلَاةُ خَيْرٌ أَمْ أُمِّي آتِيهَا ثُمَّ صَلَّى وَدَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ وَصَلَّى فَاشْتَدَّ عَلَى أُمِّهِ وَقَالَتْ اللَّهُمَّ أَرِ جُرَيْجًا الْمُومِسَاتِ ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَةً لَهُ وَكَانَتْ زَانِيَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے: (۱) عیسی بن مریم علیہ السلام، (۲) جریج کے زمانے کا ایک بچہ اور (۳) ایک اور بچہ، … …،پھر باقی حدیث ذکر کی، اس میں کچھ تفصیل یوں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جریج بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس کی ماں بھی حیات تھی، ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اُدھر ماں کو اپنے بیٹے کا اشتیاق پیدا ہوا اور اس نے کہا: اے جریج! اس نے نماز کے اندر ہی کہا: اے میرے ربّ! اب نماز بہتر ہے یا اپنی ماں کے پاس چلا جاؤں؟ پھر اس نے نماز جاری رکھی، ماں نے دوبارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا، ماں نے سہ بارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا اور نماز جاری رکھی،یہ چیز ماں پر بڑی گراں گزری، چنانچہ اس نے کہا: اے اللہ! زانی عورتوں سے جریج کا واسطہ پڑے، پھر وہ اپنے گرجا گھر کی طرف چڑھا اور بنی اسرائیل کی زانی عورت، … …۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10435]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8058»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8058
حدیث نمبر: 10436
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً وَيَزِيدُ أُخْرَى قَالَ مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ أَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کا ایک آدمی تاجر تھا، کبھی اس کا مال کم ہو جاتا اور کبھی زیادہ، بالآخر اس نے کہا: اس تجارت میں کوئی خیر نہیں ہے، میں اس سے بہتر کوئی اور تجارت تلاش کرتا ہوں، پس اس نے ایک گرجا گھر بنایا اور رہبانیت اختیارکر کے اس میں بیٹھ گیا، اس کو جریج کہا جاتا تھا، … …۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10436]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9601»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9601
6. بَابُ ذكر قِصَّةِ الثَّلاثَةِ الَّذِينَ آوَرُ إِلَى الْغَارِ فَانْطَبَقَ عَلَيْهِمْ
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
حدیث نمبر: 10437
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرَقِ الْأَرُزِّ فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا صَاحِبُ فَرَقِ الْأَرُزِّ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فَغَيَّمَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَجَاءَتْ صَخْرَةٌ مِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ حَتَّى طَبَّقَتِ الْبَابَ عَلَيْهِمْ فَعَالَجُوهَا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِي أَمْرٍ عَظِيمٍ فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُنْجِيَنَا مِنْ هَذَا (فَقَالَ أَحَدُهُمْ) اللَّهُمَّ أَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكُنْتُ أَحْلُبُ حِلَابَهُمَا فَأَجِيئُهُمَا وَقَدْ نَامَا فَكُنْتُ أَبِيتُ قَائِمًا وَحِلَابُهُمَا عَلَى يَدَيَّ أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِأَحَدٍ قَبْلَهُمَا أَوْ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا وَصِبْيَتِي يَتَضَاغَوْنَ حَوْلِي فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ قَالَ وَقَالَ الثَّانِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِمَّا خَلَقْتَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهَا فَسُمْتُهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ دُونَ مِائَةِ دِينَارٍ فَجَمَعْتُهَا وَدَفَعْتُهَا إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ فَقَالَتْ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَزَالَتِ الصَّخْرَةُ حَتَّى بَدَتِ السَّمَاءُ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنْ أَرُزٍّ فَلَمَّا أَمْسَى عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ وَتَرَكَنِي فَتَحَرَّجْتُ مِنْهُ وَثَمَّرْتُهُ لَهُ وَأَصْلَحْتُهُ حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيهَا فَلَقِينِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَأَعْطِنِي أَجْرِي وَلَا تَظْلِمْنِي فَقُلْتُ انْطَلِقْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا فَخُذْهَا فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْخَرْ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَسْتُ أَسْخَرُ بِكَ فَانْطَلَقَ فَاسْتَاقَ ذَلِكَ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ خَشْيَةً مِنْكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَتَدَحْرَجَتِ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی ایک فرق چاول والے آدمی کی طرح ہونے کی طاقت رکھتا ہے، پس چاہیے کہ وہ اس کی طرح ہو جائے۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک فرق چاول والے آدمی کا کیا قصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سفر پر نکلے، آسمان ابر آلودہوگیا، اس لیے وہ ایک غار میں داخل ہو گئے، لیکن ہوا یوں کہ پہاڑ کے اوپر والے حصے سے ایک چٹان گری اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا، انھوں نے اس کو ہٹانے کی کوشش تو کی، لیکن یہ ان کے بس کا کام نہیں تھا، پھر بعض افراد نے بعض سے کہا: تم بڑی مصیبت میں پڑ گئے ہو، اب ہر آدمی سب سے بہترین عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اس مصیبت سے نجات دے، پس ان میں ایک نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے والدین بڑی عمر کے ہو گئے تھے، میں ان کے لیے دودھ دوہ کر ان کو پلاتا تھا، ایک دن جب میں ان کا دودھ لے کر آیا تو وہ سوچکے تھے، میںنے ان کے انتظار میں کھڑے ہو کر رات گزار دی، جبکہ ان کا دودھ اٹھایا ہوا تھا، میں اس چیز کو ناپسند کرتا تھا کہ ان سے پہلے کسی کو پلاؤں یا ان کو جگاؤں اور حال یہ تھا کہ میرے بچے بھوک کی وجہ سے میرے ارد گرد چلاتے رہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری خشیت کی وجہ سے کیا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے، پس اس کا یہ کہنا تھا کہ چٹان کچھ حد تک سرک گئی، دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی، وہ تیری مخلوق میں مجھے سب سے پیاری لگتی تھی، میں نے اس سے اس کے نفس کا سودا کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! سو دیناروں سے کم پر کچھ نہیں ہو گا، پس جب میں نے یہ مقدار جمع کر کے اس کو دی اور اس سے برائی کرنے کے لیے خاوند کی طرح بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور اس مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ، پس یہ سننا تھا کہ میں اس سے کھڑا ہو گیا، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری خشیت کی وجہ سے کیا ہے تو اس چٹان کو ہم سے دور کر دے، پس چٹان تھوڑی سی مزید سرک گئی اور ان کو آسمان نظر آنے لگا، اب تیسرے فرد نے کہا: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں ایک فرق چاول کے عوض ایک مزدور رکھا، جب شام ہوئی تو میں نے اس پر اس کا حق پیش کیا، لیکن اس نے کسی وجہ سے اپنا حق وصول کرنے سے انکار کر دیا اور مجھے چھوڑ کر چل دیا، پس میں نے اس سے حرج محسوس کیا اور اس کے اس سرمائے کو ثمر آور بنایا اور اس کی اصلاح کی،یہاں تک کہ میں نے اس سے گائیں اور ان کا چرواہا خرید لیا، جب وہ کچھ عرصے کے بعد ملا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور میری مزدوری مجھے دے دے اور مجھ پر ظلم نہ کر، میں نے کہا: ان گائیوں اور چرواہے کی طرف جا اور ان کو لے جا، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق تو نہ کر، میں نے کہا: بیشک میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، پس وہ چلا اور ان کو ہانک کر لے گیا، پس اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری خوشنودی تلاش کرنے کے لیےیہ کام کیا تھا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے، پس چٹان لڑھک گئی اور وہ باہر نکل کر چلنے لگے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10437]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: من استطاع منكم ان يكون مثل صاحب فرق الارز فليكن مثله، وھذا اسناد ضعيف، لضعف عمر بن حمزة العمري، أخرجه بنحوه البخاري: 2215، 2333، 3465، 5974، ومسلم: 2743، وليس في روايات الشيخين ذكر الجملة الضعيفة ولا في اسانيدھما عمر بن حمزة العمري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5973»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: من استطاع منكم ان يكون مثل صاحب فرق الارز فليكن مثله
حدیث نمبر: 10438
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَقَالَ إِنَّ ثَلَاثَةً كَانُوا فِي كَهْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأَوْصَدَ عَلَيْهِمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ تَذَاكَرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ فَجَاءَ عُمَّالٌ لِي فَاسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسْطَ النَّهَارِ فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَطْرِ أَصْحَابِهِ فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِّمَامِ أَنْ لَا أَنْقُصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ لِمَا جَهَدَ فِي عَمَلِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَتُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ نَهَارٍ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئًا مِنْ شَرْطِكَ وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئْتُ قَالَ فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ قَالَ فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبٍ مِنَ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ بَقَرٌ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخًا ضَعِيفًا لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ إِيَّاكَ أَبْغِي هَذَا حَقُّكَ فَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ جَمِيعَهَا فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْخَرْ بِي إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَسْخَرُ بِكَ إِنَّهَا لَحَقُّكَ مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ وَأَبْصَرُوا قَالَ الْآخَرُ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ وَذَكَرَتْ لِزَوْجِهَا فَقَالَ لَهَا أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي فَقُلْتُ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَقُلْتُ لَهَا خِفْتِهِ فِي الشِّدَّةِ وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ بِمَا تَكَشَّفْتُهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ قَالَ الْآخَرُ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ فَأَصَابَنِي يَوْمُ غَيْثٍ حَبَسَنِي فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَأَخَذْتُ مَحْلَبِي فَحَلَبْتُ غَنَمِي قَائِمَةً فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَشَقَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمَحْلَبِي عَلَى يَدَيَّ حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ النُّعْمَانُ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَبَلُ طَاقٌ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک غار میں تین آدمیوں نے پناہ لی، پہاڑ کا کچھ حصہ غار کے دروازہ پر گرا اور اس کا راستہ بند کر دیا۔ ایک نے کہا: یاد کرو، تم میں سے کس نے نیک عمل کیا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بسبب ہم پر رحم کر دے۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے ایک دفعہ ایک نیکی کی تھی، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) میرے کچھ مزدور کام کرتے تھے، میرے عمال میرے پاس آئے، میں نے ہر ایک کو معین مزدوری دی۔ ایک دن ایک آدمی نصف النھار کے وقت میرے پاس آیا، میں نے اسے مزدوری پر تو لگا دیا، لیکن (نصف دن) کی وجہ سے دوسرے مزدوروں کی مزدوری کے نصف کے بقدردینے کا طے کیا، لیکن اس نے اس نصف دن میں اتنا کام کیا، جو دوسروں نے پورے دن میں کیا تھا، اس لیے میں نے اپنی ذمہ داری سمجھی کہ اسے اس کے ساتھیوں کی طرح پوری اجرت دوں، کیونکہ اس نے اپنا کام کرنے میں پوری محنت کی ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے (اعتراض کرتے ہوئے) کہا: کیا تو اس کو وہی اجرت دے رہا ہے جو مجھے دی، حالانکہ اس نے نصف دن کام کیا ہے؟میں نے کہا: اللہ کے بندے! جو کچھ تجھ سے تیرے بارے میں طے ہوا تھا، اس میں میں نے کوئی کمی نہیں کی،یہ میرا مال ہے، میں جیسے چاہوں اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہوں۔ (میری اس بات سے) اسے غصہ آیا اور وہ اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں اس کا حق رکھ دیا، پھر ایک دن میرے پاس سے گائے گزری، میں نے اس کی اجرت والے مال سے دودھ چھڑایا ہوا گائے کا بچہ خرید لیا، (اس کی نسل بڑھتی رہی اور) گائیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایکدن وہی مزدور میرے پاس سے گزرا، وہ بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا، اس لئے میں نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے کہا: میرا حق تیرے پاس ہے، جب اس نے مجھے یاد کرایا تو بات میری سمجھ میں آ گئی۔ میں نے کہا: میں تو تیری ہی تلاش میں تھا، میں نے اس پر (ساری گائیں) پیش کرتے ہوئے کہا: یہ تیرا حق ہے۔ اس نے کہا: او اللہ کے بندے! میرے ساتھ مذاق تو نہ کر، اگر میرے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتا تو میرا حق تو مجھے دے دے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، یہ تیرا ہی حق ہے، اس میں کوئی چیز میری نہیں ہے، سو میں نے وہ سارا مال اسے دے دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیری ذات کے لئے کی ہے تو اس سے ہمارے لئے گنجائش پیدا کر۔ (اس دعا کی وجہ سے) پتھر اتنا ہٹ (یا پھٹ) گیا کہ باہر کا ماحول انھیں نظر آنے لگ گیا۔ دوسرے نے کہا: میں نے بھی ایک دفعہ ایک نیکی کی تھی۔ (تفصیل یہ ہے کہ) میرے پاس زائد از ضرورت مال تھا، لوگ شدت میں مبتلا ہو گئے، ایک عورت میرے پاس کچھ مال طلب کرنے کے لئے آئی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تیری شرمگاہ کے علاوہ اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس نے (ایسا کرنے سے) انکار کر دیا اور وہ چلی گئی، پھر وہ لوٹ آئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیا، لیکن میں انکار پر تلا رہا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تیری شرمگاہ کے علاوہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس نے میرے مطالبے کا انکار دیا اور چلی گئی۔ اس نے یہ بات اپنے خاوند کو بتلائی تو اس نے کہا: تو اسے اپنا نفس دے دے (یعنی اسے زنا کرنے دے) اور (کچھ لے کر) اپنے بچوں کی ضرورت پورا کر۔ وہ آئی اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی، لیکن میں نے (پہلے کی طرح) انکار ہی کیا اور کہا: پہلے اپنا نفس فروخت کرنا ہو گا (یعنی اپنی عزت لٹانی ہو گی)۔ جب اس نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا۔ جب میں نے اسے ننگا کیا اور بدکاری کا ارادہ کر لیا تو اس پر میرے نیچے کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے اسے کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں جہانوں کے پالنہار اللہ سے ڈر رہی ہوں۔ میں نے اسے کہا: تو تنگدستی کے باوجود اس سے ڈرتی ہے اور میں تو خوشحالی میں بھی نہیں ڈرتا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا اور اسے ننگا کرنے کے جرم میں جو کچھ مجھ پر عائد ہوتا تھا، میں نے اسے دے دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیری ذات کے لئے کی تھی تو آج اس (چٹان) کو ہٹا دے۔ (اس دعا کی وجہ سے) وہ مزید ہٹ گئی، حتی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے لگ گئے۔ تیسرے نے کہا: میں نے بھی ایک نیکی کی تھی۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے پاس بکریاں تھیں۔ میں اپنے والدین کو کھانا کھلاتا اور دودھ پلاتا تھا اور پھر اپنی بکریوں کی طرف لوٹ جاتا تھا۔ ایک دن بارش نے مجھے (وقت پر) لوٹنے سے روک لیا، وہیں شام ہو گئی۔ جب میں گھر پہنچا، برتن لیا، بکریوں کا دودھ دوہا اور اپنے والدین کے پاس لے کر گیا، لیکن وہ (میرے پہنچنے سے پہلے) سو چکے تھے۔ ایک طرف ان کو بیدار کرنا مجھ پر گراں گزر رہا تھا اور دوسری طرف بکریوں کو (یوں ہی بے حفاظت چھوڑ آنا) پریشان کر رہا تھا۔ بہرحال میں برتن تھامے ان کے انتظار میں بیٹھا رہا، حتی کہ وہ صبح کو بیدار ہوئے اور میں نے ان کو دودھ پلایا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیرے لئے کی تھی تو (اس چٹان کو) ہٹا دے۔ سیدنا نعمان کہتے ہیں: گویا کہ میں یہ الفاظ اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن رہا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس (پتھر کو غار کے دہانے سے) ہٹا دیا اور وہ نکل گئے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10438]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 3178، والطبراني في الدعائ: 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18607»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا جائز ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی ذات کا وسیلہ پکڑنا ایک بدعی عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر کوئی شرعی دلیل نہیںہے اور یہ خیر القرون کے تعامل کے خلاف ہے۔
جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی اور صفاتِ علیا کا وسیلہ پکڑنا، (۲) اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا اور (۳) نیک لوگوں سے دعا کروانا۔
ان تین کے علاوہ وسیلہ کی مزید صورتیں بدعت کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، مثلا: والدین کی خدمت کو ہر دوسرے رشتہ دار اور دوستوں پر ترجیح دینا، اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گناہ سے رک جانے کا فضیلت والا عمل ہونا، مزدوروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا اور کسی کا حق رہ جانے کی صورت میں اسے بہترین طریقے سے ادا کرنا، انبیائے کرام کے معجزات کی طرح اولیاء کی کرامات کا برحق ہونا، اخلاص اور خشوع و خضوع اور الحاح و زاری سے کی گئی دعا کا قبول ہونا، مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا۔
جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی اور صفاتِ علیا کا وسیلہ پکڑنا، (۲) اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا اور (۳) نیک لوگوں سے دعا کروانا۔
ان تین کے علاوہ وسیلہ کی مزید صورتیں بدعت کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، مثلا: والدین کی خدمت کو ہر دوسرے رشتہ دار اور دوستوں پر ترجیح دینا، اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گناہ سے رک جانے کا فضیلت والا عمل ہونا، مزدوروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا اور کسی کا حق رہ جانے کی صورت میں اسے بہترین طریقے سے ادا کرنا، انبیائے کرام کے معجزات کی طرح اولیاء کی کرامات کا برحق ہونا، اخلاص اور خشوع و خضوع اور الحاح و زاری سے کی گئی دعا کا قبول ہونا، مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
7. بَابُ ذِكْرِ قِصَّةِ الْكِفْلِ وَذِي الْكِفْلِ
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
حدیث نمبر: 10439
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مِرَارٍ وَلَكِنْ قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ يَطَأَهَا فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ أَرْعَدَتْ وَبَكَتْ فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ أَكْرَهْتُكِ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ هَذَا عَمَلٌ لَمْ أَعْمَلْهُ قَطُّ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَيْهِ الْحَاجَةُ قَالَ فَتَفْعَلِينَ هَذَا وَلَمْ تَفْعَلِيهِ قَطُّ قَالَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ اذْهَبِي فَالدَّنَانِيرُ لَكِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَعْصِي اللَّهَ الْكِفْلُ أَبَدًا فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لِلْكِفْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بار، یا دو بار، یہاں تک کہ انھوں سات بار کا ذکرکیا، بلکہ میں نے اس سے بھی زیادہ دفعہ سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کفل کا تعلق بنو اسرائیل سے تھا، وہ کسیگناہ سے نہیں بچتا تھا، ایک دن ایک خاتون اس کے پاس آئی، اس نے اس کو اس شرط پر ساٹھ دینار دیئے کہ وہ اس سے زنا کرے گا، پس جب وہ اس خاتون سے خاوند کی طرح بیٹھ گیا تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئی، اس نے کہا: تو کیوں رو رہی ہے، کیا میں نے تجھے مجبور کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ میں نے یہ جرم کبھی بھی نہیںکیاتھا، بس آج حاجت نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، اس نے کہا: تو اب یہ جرم کر رہی ہے، جبکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسے نہیں کیا، پھر وہ اس سے ہٹ گیا اور کہا: تو چلی جا اور یہدینار بھی تیرے ہیں، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! اب کفل کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرے گا، پھر وہ اسی رات کو مر گیا، صبح کے وقت اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا ہے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10439]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعد مولي طلحة، لايعرف الا بحديث واحد، وھو حديث الكفل، قاله ابو حاتم، أخرجه الترمذي: 2496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4747»
وضاحت: فوائد: … کفل اور ذوالکفل دو الگ الگ نام ہیں، اللہ تعالیٰ نے سورۂ انبیاء اور سورہ ٔ ص میں انبیائے کرام کے ساتھ ذوالکفل کا ذکر کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی نبی تھا، بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ذوالکفل کوئی نیک اور انصاف پرست حکمران تھا، نبی نہیں تھا۔
کفل کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ یہ کوئی گنہگار آدمی تھا، پھر اس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی، مذکورہ بالا ضعیف حدیث میں اسی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
کفل کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ یہ کوئی گنہگار آدمی تھا، پھر اس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی، مذکورہ بالا ضعیف حدیث میں اسی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
8. بَابُ ذِكْرِ قِصَّةِ الْمَلِكَيْنِ اللَّذِينَ تَخَلَّيَا عَنِ الدُّنْيَا وَزُخْرُفِهَا
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
حدیث نمبر: 10440
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ فِي مَمْلَكَتِهِ فَتَفَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ وَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ وَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ وَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْأَجْرِ فَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ وَعِبَادَتُهُ وَفَضْلُهُ فَأَرْسَلَ مَلِكُهُمْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ فَأَعَادَ ثُمَّ أَعَادَ إِلَيْهِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ وَقَالَ مَا لَهُ وَمَا لِي قَالَ فَرَكِبَ الْمَلِكُ فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ فَلَمْ يُدْرِكْهُ قَالَ فَنَادَاهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ لَهُ مَنْ أَن
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم سے پہلے ایک آدمی اپنی مملکت میں موجود تھا، اس نے سوچا اور پھر جان لیا کہ یہ سارا کچھ اس سے منقطع ہونے والا ہے اور اس مملکت نے مجھے اپنے ربّ کی عبادت سے روک رکھا ہے، پھر وہ گھسا (یعنی گھر میں الگ تھلک ہو گیا) اور ایک رات کو اپنے محل سے نکلا اور بے روک چلتا رہا، یہاں تک کہ صبح کے وقت کسی اور کی سلطنت میں پہنچ گیا، پھر وہ سمندر کے ساحل پر آیا،وہاں اجرت پر اینٹیں بناتا، اس طرح رزق حاصل کرتا اور زائد مال کا صدقہ کر دیتا، اس کا معاملہ اسی طرح رہا، یہاں تک کہ بادشاہ کو اس کے معاملے، عبادت اور فضیلت کا پتہ چل گیا، بادشاہ نے اس کو اپنے پاس آنے کا پیغام بھیجا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا، اس نے دوبارہ پیغام بھیجا، لیکن اس نے اس بار بھی انکار کر دیا اور اس نے کہا: اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟ پھر ایک دن بادشاہ سوار ہوا اور اس کے پاس پہنچ گیا، لیکن جب اس نے بادشاہ کو دیکھا تو اس نے بھاگنا شروع کر دیا، جب بادشاہ نے اس کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے بھی سواری کو ایڑ لگائی، لیکن وہ اس کو نہ پا سکا، بالآخر بادشاہ نے کہا: او اللہ کے بندے! میری طرف سے تجھ پر کوئی حرج نہیں ہو گا، پس وہ کھڑا ہو گیا،یہاں تک کہ اس نے اس کو پا لیا اور کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے، تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں اور فلاں بادشاہت والا ہوں، میں نے اپنے معاملے میں غور کیا اور یہ جان لیا کہ جو کچھ میرے آس پاس ہے، یہ ختم ہونے والا ہے، لیکن اس نے مجھے اپنے ربّ کی عبادت سے مشغول کر رکھا ہے، اس لیے میں اُس چیز کو چھوڑ کر یہاں آگیا اور اب اپنے ربّ کی عبادت کر رہا ہوں، یہ سن کر بادشاہ نے کہا: جو کچھ تو نے کیا ہے، اس معاملے میں تو مجھ سے زیادہ محتاج نہیںہے، پھر وہ آدمی اپنی سواری سے اترا اور اس کو چھوڑ دیا اور وہ بادشاہ بھی اپنی سواری سے اترا اور اس کو چھوڑ دیا اور اس آدمی کی پیروی کرنے لگا، پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ ان کو اکٹھا فوت کرے، پس پھر وہ وفات پا گئے۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں مصر کے رُمیلہ میدان میں ہوتا تو تم کو ان دونوںکی قبریں ان صفات سے پہچان کر دکھاتا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بیان کی تھیں۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10440]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يزيد بن ھارون سمع من المسعودي بعد الاختلاط، وعبد الرحمن بن عبد الله لم يسمع من ابيه الا شيئايسيرا، أخرجه ابويعلي: 5051، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4312 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَرْبِ الْعَارِبَةِ وَالْمُسْتَعْرِبَةِ وَإِلَى مَنْ يَنتَسِبُونَ وَذِكْرِ قَحْطَانَ وَقِصَّةِ سَبَا
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ¤عاربہ: خالص عرب¤مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
حدیث نمبر: 10441
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَإٍ مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ فَقَالَ بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنییہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شامییہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10441]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2898»
وضاحت: فوائد: … دس بچے ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دس آدمی سبا کی نسل میں سے ہیں،کوئی اس کا بیٹا ہے، کوئی پوتا اور پڑپوتا وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن