الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ يَعْنِي فَتَحَ مَكَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
حدیث نمبر: 10643
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ( (وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا) ) قَالَ نَعَمْ قَالَ ( (فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتْرُكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس کا معاملہ تو بڑا سخت ہے، اچھا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکوۃ دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس میں سے عطیے بھی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گھاٹ والے دن ان کا دودھ دوہ کر لوگوں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بیشک سمندروں کے اس پار عمل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ تیرے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10643]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1452، 3923، 6165، ومسلم: 1865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11121»
وضاحت: فوائد: … اس موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ آدمی ہجرت کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا، تو اس کو اس معاملے میں نہ پڑنے کی اجازت دے دی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے تھے، تمام علمائے کرام اور مبلغین اسلام کو مصلحت و حکمت کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن عوام الناس سے گزارش ہو گی کہ وہ صرف رخصت والی نصوص کو سامنے رکھ کر سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہ کریں، عزیمت والی نصوص کا بھی خیال رکھیں، پھر اگر واقعی کوئی معذور ہو تو رخصت پر عمل کر لے۔ اس مقام پر عطیے سے مراد وہ جانور ہے، جو کسی کو واپسی کی شرط پر کسی ضرورت کے لیے دیا جائے کہ وہ ضرورت پوری ہونے کے بعد لوٹا دے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1452
حدیث نمبر: 10644
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ} قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ ( (النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ) ) وَقَالَ ( (لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ) ) فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عَرَافَةِ قَوْمِهِ وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدُّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا صَدَقَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورۂ نصر {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ} نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مکمل تلاوت کی اور پھر فرمایا: لوگ ایک فریق ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک فریق ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے۔ مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، جبکہ اس کے پاس سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے اور وہ اس کے پاس تخت پر بیٹے ہوئے تھے، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اگر یہ دو چاہیں تو یہ بھی تجھے یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں، لیکن یہ اپنی قوم کی ریاست چھن جانے سے ڈرتا ہے اور اس کو زکوۃ و صدقات کی وصول کا عہد ہ چھن جانے کا ڈر ہے، پس وہ دونوں خاموش رہے، لیکن جب مروان نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو کوڑا مارنے کے لیے اٹھایا اور انھوں نے اس کاروائی کو دیکھا تو کہا: ابوسعید خدری سچ کہہ رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10644]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله الناس حيز وانا واصحابي حيز وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو البختري الطائي لم يسمع من ابي سعيد، أخرجه الحاكم: 2/ 257، والطبراني في الكبير: 4444، وابن ابي شيبة: 14/ 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21967»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد اس شہر سے ہجرت کرنے کا حکم ختم ہو گیا ہے، اسی طرح جو علاقہ پہلے سے ہی دار الاسلام ہے، اس سے بھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں ہے۔ البتہ دار الکفر سے ہجرت کرنے کا حکم باقی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله الناس حيز وانا واصحابي حيز وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه
52. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَقَاءِ ثَوَابِ الْهِجْرَةِ لِمَنْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَبْلَ الْفَتْحِ وَإِنْ أَقَامَ فِي غَيْرِهَا بَعْدُ
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
حدیث نمبر: 10645
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَدْوِ فَأَذِنَ لَهُ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیہات میں رہنے کی اجازت طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10645]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 7087، ومسلم: 1862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16622»
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 7087
حدیث نمبر: 10646
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَيَّاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحَصِيبِ فَقَالَ ارْتَدَدْتَ عَنْ هِجْرَتِكَ يَا سَلَمَةُ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي فِي إِذْنٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (ابْدُوا يَا أَسْلَمُ تَنَسَّمُوا الرِّيَاحَ وَاسْكُنُوا الشِّعَابَ) ) فَقَالُوا إِنَّا نَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَضُرَّنَا ذَلِكَ فِي هِجْرَتِنَا فَقَالَ ( (أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ) )
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے اور سیدنا بریدہ بن حصیب کو ملے، انھوں نے کہا: اے سلمہ! کیا تم نے اپنی ہجرت کو چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر آیا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہو، ہواؤں کی بو سوسنگھ کر لطف اٹھاؤ اور گھاٹیوں میں رہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ڈرتے ہیں کہ اس سے ہماری ہجرت کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10646]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 6265، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16668»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 10647
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ فَقَالَ جَابِرٌ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (ابْدُوا يَا أَسْلَمُ) ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا فَقَالَ ( (إِنَّكُمْ أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ) )
۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10647]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 6/ 166، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14953»
وضاحت: فوائد: … یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہجرت کا ثواب ملے گا، اگرچہ وہ اس شہر میں سکونت اختیار نہ کریں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 10648
عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَّانَ الْقَاصِّ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حِيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ الْهِجْرَةُ إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةٍ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ( (أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ) ) قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مِتَّ بِالْحَضْرَمَةِ) ) يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَنِيَّةِ
۔ فرزدق بن حنان قاص کہتے ہیں: کیا تم کو ایسی حدیث بیان کروں، جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے اور میں ابھی تک اس کو نہیں بھولا، میں اور عبد اللہ بن حِیدہ شام کے راستے پر نکلے اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، … … باقی حدیث ذکر کی، پھر کہا تمہاری قوم کا ایک سخت اور جری بدو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہجرت آپ کی طرف ہو گی، آپ جہاں کہیں بھی ہوں، یا کسی خاص زمین کی طرف ہو گی،یا کسی خاص قوم کی طرف ہو گی اور جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو تو مہاجر ہی ہو گا، اگرچہ تو حضرمہ میں فوت ہو جائے۔ یہ مقامیمانیہ کے علاقے میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10648]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع، أخرجه الطيالسي: 2277، والبزار: 1750، 3521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6890»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع
حدیث نمبر: 10649
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ فَحَيْثُمَا أَصَبْتَ خَيْرًا فَأَقِمْ) )
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام علاقے اللہ تعالیٰ کے علاقے ہیں اور تمام بندے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، لہٰذا جہاں بھی تجھے خیر ملے، تو وہیں اقامت اختیار کر۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10649]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه ثلاثة مجاھيل: جبير بن عمرو القرشي، وابو سعيد الانصاري، وابو يحييٰ مولي آل الزبير، أخرجه الطبراني في الكبير: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1420»
وضاحت: فوائد: … جب انسان کی روزی کا کوئی نہ کوئی سلسلہ چل رہا ہو اور وہ اپنے دین اور جان کے معاملے میں امن میں ہوتو ٹھیک، وگرنہ وہ کسی ایسے شہر کی طرف ہجرت کر جائے، جہاں اس کی جان اور دین محفوظ ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10650
عَنِ الْقَلُوصِ أَنَّ شِهَابَ بْنَ مُدْلِجٍ نَزَلَ الْبَادِيَةَ فَسَابَّ ابْنُهُ رَجُلًا فَقَالَ يَا ابْنَ الَّذِي تَعَرَّبَ بِهَذِهِ الْهِجْرَةِ فَأَتَى شِهَابٌ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَفْضَلُ النَّاسِ رَجُلَانِ رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَهْبِطَ مَوْضِعًا يَسُوءُ الْعَدُوَّ وَرَجُلٌ بِنَاحِيَةِ الْبَادِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَيُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ) ) فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُهُ قَالَ نَعَمْ فَأَتَى بَادِيَتَهُ فَأَقَامَ بِهَا
۔ قلوص کہتے ہیں: سیدنا شہاب بن مدلج نے ایک دیہات میں اقامت اختیار کی، جب اس کے بیٹے نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا تو اس آدمی نے آگے سے کہا: اے اس باپ کے بیٹے، جس نے ہجرت ِ مدینہ کو باطل کر کے دیہات میں سکونت اختیار کر لی،یہ سن کر شہاب مدینہ میں آیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے افضل دو آدمی ہیں، ایک وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کیا،یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر اترا کہ جس سے دشمن کو تکلیف ہوئی اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کونے میں مقیم ہے، پانچ نمازیں ادا کرتا ہے، اپنے مال کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا شہاب رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور کہا: اے ابو ہریرہ! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے دیہات کی طرف لوٹ آئے اور وہاں سکونت اختیار کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10650]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 4/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10776»
وضاحت: فوائد: … یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ثواب کو دیہاتوںکی طرف نکل جانے نے ضائع نہیں کیا۔ حالات کو دیکھ کر حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا،یہ اجازت ہر آدمی کے لیے نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح