🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُومِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ وَخُرُوجِ أَهْلِهَا بِهِ وَاسْتِقْبَالِهِمْ إِيَّاهُ جَمِيعًا رِجَالًا وَنِسَاءً ونُزُولِهِ بِدَارِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اترنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10624
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا ثُمَّ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا قَالَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكُنَّا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لِيُؤَذِّنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِمِائَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ يَقُلْنَ أَيُّهُمْ هُوَ أَيُّهُمْ هُوَ قَالَ رَأَيْنَا مَنْظَرًا مُشْبِهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَنَسٌ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ مُشْبِهًا بِهِمَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں میں دوڑ کر آتا اور ہم یہ کہہ رہے ہوتے: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ گئے ہیں، پس میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی شخص نظر نہ آتا، پھر جب بچوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ گئے ہیں تو میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی چیز نظر نہ آتی، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آ گئے، ہم اس وقت مدینہ کے بعض حرّوں میں تھے، پھر ایک آدمی نے ہمیں بھیجا تاکہ انصاریوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی آمد کا بتایا جائے، پس تقریباً پانچ سو انصاری آئے اور ان دو ہستیوںکے پاس پہنچ گئے اور کہا: تم دونوں امن و اطمینان کے ساتھ آگے بڑھو، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی دونوں مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئے، اُدھر سے اہل مدینہ نکل پڑے، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں گھروں کے چھتوں پر چڑھ گئیں اور کہنے لگیں: ان میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہیں؟ ان میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہیں؟ ہم نے اس دن ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (مسرت و شادمانی میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تھے، میں نے وہ دن بھی دیکھا تھا، اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تھی، پس اس دن بھی میں نے ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (غم و حزن میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10624]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم وانظر حديث رقم (10621)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13351»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت سے متعلقہ طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِینَۃِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ مَکَّۃَ فَکَانُوا یَغْدُونَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ فَیَنْتَظِرُونَہُ حَتّٰییَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیرَۃِ فَانْقَلَبُوا یَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَہُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ عَلٰی أُطُمٍ مِنْ آطَامِہِمْ لِأَمْرٍ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِینَیَزُولُ بِہٖمُالسَّرَابُفَلَمْیَمْلِکِ الْیَہُودِیُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِفَعَدَلَ بِہٖمْذَاتَالْیَمِینِ حَتَّی نَزَلَ بِہٖمْفِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ مِنَ شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاء َ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ یَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُحَیِّی أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتّٰی ظَلَّلَ عَلَیْہِ بِرِدَائِہِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَسَارَ یَمْشِی مَعَہُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْمَدِینَۃِ۔ … ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی، وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے، ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایکیہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو اس یہودی نے بے اختیار بلند آواز سے کہا: اے عربوں کی جماعت! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود، جس کا تم انتظار کرتے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام حرہ کے پیچھے استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش بیٹھے رہے، جن انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا تو وہ آتے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کہتے (اور سمجھتے کہ یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کردیا، اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، …۔ (صحیح بخاری: ۳۶۱۶)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم وانظر حديث رقم (10621)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10625
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يَأْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَعَهُمْ أَبُو أَيُّوبَ فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَوْمًا فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطَّلَعَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ قَالَ رَأَيْتُ فِيهَا بَصَلًا قَالَ وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ قَالَ بَلَى فَكُلُوهُ وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ وَقَالَ حَيْوَةُ إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاریوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلے جگہ دے گا، قرعہ میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا نام نکلا، پس انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاں ٹھہرایا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کا ہدیہ پیش کیا جاتا تھا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی ہدیہ دیا جاتا تھا، ایک دن جب سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو ایک پیالے میں پیاز ڈالا ہوا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس پیالے سے کیوں نہیں کھایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس میں پیاز دیکھا ہے۔ میں نے کہا: کیایہ ہمارے لیے حلال نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اس کو کھا سکتے ہو، بس میرے پاس (وحی اور فرشتوں کی صورت میں) وہ کچھ آتا ہے، جو تمہارے پاس نہیں آتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10625]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 6629، والطبراني في الكبير: 4091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23903»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت سے متعلقہ طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِینَۃِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ مَکَّۃَ فَکَانُوا یَغْدُونَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ فَیَنْتَظِرُونَہُ حَتّٰییَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیرَۃِ فَانْقَلَبُوا یَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَہُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ عَلٰی أُطُمٍ مِنْ آطَامِہِمْ لِأَمْرٍ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِینَیَزُولُ بِہٖمُالسَّرَابُفَلَمْیَمْلِکِ الْیَہُودِیُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِفَعَدَلَ بِہٖمْذَاتَالْیَمِینِ حَتَّی نَزَلَ بِہٖمْفِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ مِنَ شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاء َ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ یَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُحَیِّی أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتّٰی ظَلَّلَ عَلَیْہِ بِرِدَائِہِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَسَارَ یَمْشِی مَعَہُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْمَدِینَۃِ۔ … ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی، وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے، ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایکیہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو اس یہودی نے بے اختیار بلند آواز سے کہا: اے عربوں کی جماعت! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود، جس کا تم انتظار کرتے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام حرہ کے پیچھے استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش بیٹھے رہے، جن انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا تو وہ آتے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کہتے (اور سمجھتے کہ یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کردیا، اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، …۔ (صحیح بخاری: ۳۶۱۶)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10626
عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلُوِّ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلَ فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السُّفْلُ أَرْفَقُ بِي فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا فَتَحَوَّلَ أَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَتْبَعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرَ أَصَابِعُهُ فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثَوْمٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَمْ يَأْكُلْ فَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْرَهُهُ قَالَ إِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اترے تو گھر کے زیریں مقام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور بالائی مقام میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ خود، ایک رات کو جب سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے اوپر چل رہے ہیں، پس انھوں نے اپنی جگہ بدل لی اور کسی ایک جانب رات گزار دی، جب صبح ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیریں منزل میرے لیے زیادہ سہولیت آمیز ہے۔ لیکن سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں چڑھوں گا، جس کے نیچے اللہ کے رسول ہوں، پس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نچلی منزل میں آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے، چونکہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، اس لیے جب وہ کھانا بھیجتے اور کھانا بچ کر واپس آ جاتا تو وہ کھانے کے اس مقام کے بارے میں سوال کرتے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیاں لگی ہوتیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشان کو تلاش کرتے اور وہاں سے کھاتے، روٹین کے مطابق ایک دن ہم نے کھانا تیار کیا، اس میں لہسن بھی تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھائے بغیر وہ کھانا واپس بھیج دیا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مقام کے بارے میں سوال کیا، لیکن جب ان کو یہ بتلایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کھایا ہی نہیں ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو ناپسند کرتاہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کروں گا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (وحی اور فرشتے) آتے تھے، (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکروہ بو والا کھانا نہیں کھاتے تھے، جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10626]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23914»
وضاحت: فوائد: … کیا بات ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت وجود کے احترام کے تقاضے سمجھ لیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2053
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: Q10627]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا وَأَى الْهَجْرَةِ أَفْضَلُ
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10627
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ قَالَ فَقَالَ حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزَعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ قَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ قَالَ قَالَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ قَالَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ
۔ سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو مضبوط قلعے کی اور عزت و دفاع کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں دوس قبیلے کا ایک قلعہ تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کی خاطر اس کی اس پیشکش کا انکار کر دیا، جو اللہ تعالیٰ نے انصاریوں کے لیے ذخیرہ کر رکھی تھی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک اور آدمی نے بھی ہجرت کی، انھوں نے مدینہ کی آب و فضا کو ناموافق پایا اور وہ آدمی بیمار ہوگئے، پھر اس نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے (نیزے والا) پھلکا پکڑا اور اپنی انگلی کے جوڑ کاٹ دیئے، اس کے ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اس کو خواب میں دیکھا کہ وہ اچھی حالت میں ہے، البتہ اس نے اپنے ہاتھ کو ڈھانپا ہوا ہے، انھوں نے اس سے پوچھا: تیرے ربّ نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس نے کہا: اس نے اپنے نبی کی طرف میرے ہجرت کی وجہ سے مجھے بخش دیا ہے، انھوں نے کہا: میں تجھے ہاتھ ڈھانپا ہوا کیوں دیکھ رہی ہوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا: جو چیز تو نے خود خراب کی ہے، ہم اس کی اصلاح نہیں کریں گے، جب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10627]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15045»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 116
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10628
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ امور کو چھوڑ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10628]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 756، وابن ماجه: 1421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15280»
وضاحت: فوائد: … اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِمبارک میں صحابۂ کرام نے اپنے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر، خاص طور پر مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ لیکنیاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 756
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10629
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ فَقَامَ ذَلِكَ أَوْ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِي فَهِجْرَةُ الْبَادِي أَنْ يُجِيبَ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعَ إِذَا أُمِرَ وَالْحَاضِرُ أَعْظَمُهَا بَلِيَّةً وَأَفْضَلُهَا أَجْرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی اٹھا اور اس نے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل اسلام یہ ہے کہ تیرے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سالم رہیں۔ وہی صحابی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے پروردگار کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا، دراصل ہجرت کی دو قسمیں ہیں: (ا) دیہاتی لوگوں کی ہجرت (۲) شہری لوگوں کی ہجرت۔ دیہاتی کی ہجرت یہ کہ جب اسے امیر کی طرف سے حکم دیا جائے تو وہ اسے تسلیم کرے اور جب اسے بلایا جائے تو بلاوے کا جواب دے‘ رہا مسئلہ شہری کی ہجرت کا تو اس کی مصیبت و آزمائش زیادہ سخت اور اجر عظیم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10629]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 1/11، وابن حبان: 5176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6487»
وضاحت: فوائد: … شہر میں رہنے کے تقاضے زیادہ ہیں، مثلا جب جہاد کی ضرورت پڑے تو فوراً لبیک کہنا، دشمنوں کا شہروں پر حملہ کرنے کو ترجیح دینا اور ان کو اذیت پہنچانے کی کوشش میںلگے رہنا، مزید بھی کئی وجوہات پائی جاتی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْمِ انْقِطَاعِ الْهَجْرَةِ مَادَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10630
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ يَرُدُّهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْهِجْرَةَ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ وَالْأُخْرَى أَنْ تُهَاجِرَ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ فَإِذَا طَلَعَتْ طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ وَكَفَى النَّاسُ الْعَمَلَ
۔ سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی۔ سیدنا معاویہ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصf سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہجرت کی دو قسمیں ہیں: ایکیہ کہ تو برائیوں کو چھوڑ دے اور دوسرییہ کہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر جائے، ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی اور اس وقت تک توبہ کی قبولیت ہوتی رہے گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے، جب اُس سمت سے طلوع ہو جائے گا تو ہر دل کے اندر جو کچھ ہو گا، اس سمیت اس پر مہر لگا دی جائے گی اور لوگ عمل سے کافی ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10630]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1671 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1671»
وضاحت: فوائد: … ہر دل کے اندر جو کچھ ہو گا، اس سمیت اس پر مہر لگا دی جائے گی …۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا تو اس کے بعد والا ایمان اور نیکی مقبول نہیں ہو گی، اس علامت کے ظہور سے پہلے دل کے اندر ایمانیا کفر کی جو صورت ہو گی، اسی کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10631
عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ وَقَدْ غَمَّضَ عَيْنَيْهِ فَتَذَاكَرْنَا الْهِجْرَةَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ قَدِ انْقَطَعَتْ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ لَمْ تَنْقَطِعْ فَاسْتَنْبَهَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ مَا كُنْتُمْ فِيهِ فَأَخْبَرْنَاهُ وَكَانَ قَلِيلَ الرَّدِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
۔ ابوہند بَجَلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ اپنی چارپائی پر اونگھ کی وجہ سے آنکھوں کو بند کر کے تشریف فرما تھے، ہم نے وہاں ہجرت کا تذکرہ کیا، کسی نے کہا: ہجرت منقطع ہو چکی ہے اور کسی نے کہا کہ ابھی تک وہ منقطع نہیں ہوئی، اتنے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جاگ گئے اور کہا: تم لوگ کیا بات کر رہے تھے؟ ہم نے ان کو تفصیل بتائی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کم احادیث منسوب کرتے تھے، بہرحال اس بار انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک توبہ منقطع نہیں ہو جاتی اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10631]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17030»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10632
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ احْفَظْ رِحَالَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ ثُمَّ قَالُوا لَهُ ادْخُلْ فَدَخَلَ فَقَالَ حَاجَتُكَ قَالَ حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي أَنْقَضَتِ الْهِجْرَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ
۔ بنو مالک بن حنبل کا ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، چونکہ وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، اس لیے لوگوں نے اس سے کہا: تو ہمارے کجاووں اور سامانِ سفر کی حفاظت کر، پھر اندر آ جانا، پس اس نے ان کی ضرورت پوری کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: اب تو اندر چلا جا، پس اندر داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہجرت منقطع ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری ضرورت باقی لوگوں کی ضرورتوں سے بہتر ہے، جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10632]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22680»
وضاحت: فوائد: … دشمن سے لڑائی جاری رہنے کا مطلب یہ ہو گا کہ دار الکفر موجود ہے اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میںپہنچے، اگر اس کو طاقت ہوتو۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں