🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْمِ انْقِطَاعِ الْهَجْرَةِ مَادَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10633
عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ لَا تَنْقَطِعُ مَا جُوهِدَ الْعَدُوُّ
۔ سیدنا حیوہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے جہاد جا ری رہے گا، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10633]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23467»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10634
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ
۔ سیدنا جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرامf میں ایک بحث ہونے لگی، کسی نے کہا کہ ہجرت منقطع ہو چکی ہے، بہرحال اس بارے میں ان کا اختلاف ہو گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت منقطع ہو چکیہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک جہاد جاری رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10634]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23573»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10635
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ طَلَعَ عَلَى الْمِنْبَرِ
۔ سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر وہ منبر پر چڑھ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10635]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح من رواية عقبة بن عامر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27799»
وضاحت: فوائد: … جب تک دنیا میں دار الکفر موجود ہے، اس وقت تک ہجرت اور جہاد کا حکم باقی رہے گا۔

الحكم على الحديث:
اثر صحيح من رواية عقبة بن عامر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ يَعْنِي فَتَحَ مَكَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10636
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10636]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3335»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: ص 1488
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10637
عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ
۔ سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنا بھتیجا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اب اسلام پر بیعت ہو گی، فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، اب یہ آدمی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں میں سے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10637]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4307، 4308، ومسلم: 1863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15847 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15941»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10638
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا وَفِي لَفْظٍ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا فَقُلْتُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ قَالَ فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَكَانَ هُوَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد رضی اللہ عنہ کوملا، جبکہ وہ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10638]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15945»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15945
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10639
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن اپنے باپ امیہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے باپ سے ہجرت کی بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں جہاد پر بیعت لوں گا، ہجرت تو منقطع ہو چکی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10639]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه النسائي: 7/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18122»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10640
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ قِيلَ لَهُ هَلَكَ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَصِلُ إِلَى أَهْلِي حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمُوا أَنَّهُ هَلَكَ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ قَالَ كَلَّا أَبَا وَهْبٍ فَارْجِعْ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ
۔ سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ا س سے کہا: ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں، میں (صفوان) نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ جا لوں، اس وقت اپنے اہل والوں کے پاس نہیں جاؤں گا، پس میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز ایسا نہیں ہے، اے ابو وہب، پس تو لوٹ جا مکہ کی وادیوں کی طرف۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10640]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28189»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10641
عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ هَاجَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتَنْفَرْتُمْ فَانْفِرُوا) )
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، جنھوں نے ہجرت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہیں اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیاجائے تو تم نکل پڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10641]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه النسائي مختصرا: 7/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28192»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10642
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ قَالَ ( (لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ) ) قَالَ فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِهِ فَقَالَ ( (إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ) )
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچ جائیں گے، اگرچہ تم لومڑی کے بل میں ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جبير بن مطعم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16886»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو اس کے نیک عمل کا صلہ دیا جائے گا، اگر اس میں دار الکفر سے ہجرت کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ کے کامل اجر کا مستحق ہو گا اور جو استطاعت کے باوجود ہجرت نہیں کرے گا، یہ اس کی نافرمانی ہو گی، ممکن ہے کہ وہ اس ایک نافرمانی کی وجہ سے کئی گناہوں میں مبتلا ہو جائے، بہرحال اس کو اس کے نیک اعمال کا اجر و ثواب دیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جبير بن مطعم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں