الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِحْنَةِ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ بِحَدِيثِ الْإِنكِ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
حدیث نمبر: 10762
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ وَقَدِ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ فَرَأَى عَمَّارًا فَقَالَ وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ عَنْ أُمِّهِ قُلْتُ نَعَمْ أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا تَلِجُ عَلَيْهَا
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے خندق والے دن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات نہیں بھولی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور آپ کے سینہ مبارک کے بال غبار آلود ہو چکے تھے اور آپ یوں فرما رہے تھے: اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: سمیہ کے بیٹے پر افسوس ہے کہ اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ حسن ابن سیرین کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو محمد بن سیرین کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام لے کر فرمایا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ وہ(سمیہ رضی اللہ عنہا) سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آتی جاتی رہتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10762]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2916، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27015»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10763
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ قَالَ فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَضَعَ ثَوْبَهُ ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَضَرَبَ أُخْرَى فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَلَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا، کھدائی کے دوران ایک مقام پر چٹان آگئی، جہاں گینتیاں کام نہیں کرتی تھیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور چٹان کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گینتی کو پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اسے زور سے مارا،چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے فرمایا: اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں ہیں، اللہ کی قسم! میں اپنی اس جگہ سے اس وقت وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ گنتی چلائی، چٹان کا دوسرا ایک تہائی ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے ایران کیچابیاں دے دی گئی ہیں، اللہ کی قسم میں مدائن کو اور وہاں کے سفید محل کو اپنی اس جگہ سے اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر تیسری مرتبہ گینتی چلائی تو باقی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اس وقت اس جگہ سے صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10763]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ميمون ابي عبد الله، أخرجه النسائي في الكبري: 8858، وابويعلي: 1685، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18898»
وضاحت: فوائد: … لیکن اس موضوع سے ملتی جلتی درج ذیل حدیث صحیح ہے:
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاء َہُ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ قَائِمٌ یَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَرْقَۃٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ وَقَالَ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ فَرَآہَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ وَقَالَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِی وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخَذَ رِدَاء َہُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ رَأَیْتُکَ حِینَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَۃً إِلَّا کَانَتْ مَعَہَا بَرْقَۃٌ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَا سَلْمَانُ رَأَیْتَ ذٰلِکَ فَقَالَ إِی وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ فَإِنِّی حِینَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الْأُولٰی رُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ کِسْرٰی وَمَا حَوْلَہَا وَمَدَائِنُ کَثِیرَۃٌ حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ لَہُ مَنْ حَضَرَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بِلَادَہُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِذٰلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الثَّانِیَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ قَیْصَرَ وَمَا حَوْلَہَا حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بِلَادَہُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِذٰلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ الْحَبَشَۃِ وَمَا حَوْلَہَا مِنَ الْقُرَی حَتّٰی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ دَعُوا الْحَبَشَۃَ مَا وَدَعُوکُمْ وَاتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ۔))
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کی کھدائی کا حکم فرمایا تو اس وقت (یعنی خندق کھودنے کے وقت)ایک بڑا پتھر نکل آیا تو اس کی وجہ سے خندق کھودنے میں مشکل پیش آگئی اور لوگوں کو اس کا توڑنا مشکل ہوگیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ہتھیار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جس سے پتھر توڑا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک خندق کے کنارہ پر رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت کریمہ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} … تیرے پروردگار کا کلام سچائی اور انصاف میں پورا ہوا اور کوئی اس کی باتوں کو تبدیل کرنے والا نہیں تلاوت فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اٹھا کر مارا اور پتھر ٹوٹ کر گر پڑا۔اس وقت سیدنا سلمان فارسی وہاں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضرب کے وقت ایک بجلی جیسی چمک ہوئی۔ پھر دوسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ہتھیار سے مارا، پھر ایسی ہی بجلیجیسی چمک ظاہر ہوئی اور دوتہائی پتھر اور الگ ہو گیا، تیسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر جب مارا تو تیسرا ٹکڑا بھی گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے پھر اپنی چادر مبارک لے کر تشریف فرما ہو گئے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا تھا کہ جس وقت آپ ضرب لگاتے، تو اس کے ساتھ ایک بجلی چمک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ دیکھ رہے تھے؟ سلمان!؟ اس پر سیدنا سلمان نے عرض کیا: اس ذات کی قسم کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا ہے میں نے دیکھا ہے، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں نے پہلی چوٹ ماری تو میرے سامنے سے پردے ہٹا دئیے گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے شہر فارس کے اور جو اس کے نزدیک کی بستیاں ہیں اور بہت سے شہر دیکھے ہیں جو لوگ اس جگہ موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ان شہروں کو ہم لوگوں کے ہاتھوں فتح فرما دے اور ہم لوگوں کو وہاں کا مال و دولت عطا فرما دے اور فرمایا: جس وقت میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر کے شہر روم اور اس کے نزدیک کے علاقے سب کے سب میرے سامنے کر دئیے گئے اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کے ہاتھوں سے ان شہروں کو تباہ و برباد کر دے ہم لوگ وہاں کا مال غنیمت لوٹ لیں اور ہم کو ان پر فتح حاصل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی پھر ارشاد فرمایا: جس وقت میں نے تیسری چوٹ ماری تو میرے سامنے حبشہ کے شہر اور اس کی آس پاس کی بستیاں کر دی گئیں، جن کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ ترک اور حبشہ کے لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑنا جس وقت تک وہ تم کو نہ چھڑیں (یعنی جب تک وہ لوگ تم پر حملہ نہ کریں تو تم بھی ان پر حملہ نہ کرنا)۔ (سنن نسائی: ۳۱۲۵)
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاء َہُ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ قَائِمٌ یَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَرْقَۃٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ وَقَالَ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ فَرَآہَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ وَقَالَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِی وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخَذَ رِدَاء َہُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ رَأَیْتُکَ حِینَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَۃً إِلَّا کَانَتْ مَعَہَا بَرْقَۃٌ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَا سَلْمَانُ رَأَیْتَ ذٰلِکَ فَقَالَ إِی وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ فَإِنِّی حِینَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الْأُولٰی رُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ کِسْرٰی وَمَا حَوْلَہَا وَمَدَائِنُ کَثِیرَۃٌ حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ لَہُ مَنْ حَضَرَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بِلَادَہُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِذٰلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الثَّانِیَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ قَیْصَرَ وَمَا حَوْلَہَا حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بِلَادَہُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِذٰلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ الْحَبَشَۃِ وَمَا حَوْلَہَا مِنَ الْقُرَی حَتّٰی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ دَعُوا الْحَبَشَۃَ مَا وَدَعُوکُمْ وَاتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ۔))
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کی کھدائی کا حکم فرمایا تو اس وقت (یعنی خندق کھودنے کے وقت)ایک بڑا پتھر نکل آیا تو اس کی وجہ سے خندق کھودنے میں مشکل پیش آگئی اور لوگوں کو اس کا توڑنا مشکل ہوگیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ہتھیار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جس سے پتھر توڑا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک خندق کے کنارہ پر رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت کریمہ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} … تیرے پروردگار کا کلام سچائی اور انصاف میں پورا ہوا اور کوئی اس کی باتوں کو تبدیل کرنے والا نہیں تلاوت فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اٹھا کر مارا اور پتھر ٹوٹ کر گر پڑا۔اس وقت سیدنا سلمان فارسی وہاں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضرب کے وقت ایک بجلی جیسی چمک ہوئی۔ پھر دوسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ہتھیار سے مارا، پھر ایسی ہی بجلیجیسی چمک ظاہر ہوئی اور دوتہائی پتھر اور الگ ہو گیا، تیسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر جب مارا تو تیسرا ٹکڑا بھی گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے پھر اپنی چادر مبارک لے کر تشریف فرما ہو گئے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا تھا کہ جس وقت آپ ضرب لگاتے، تو اس کے ساتھ ایک بجلی چمک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ دیکھ رہے تھے؟ سلمان!؟ اس پر سیدنا سلمان نے عرض کیا: اس ذات کی قسم کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا ہے میں نے دیکھا ہے، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں نے پہلی چوٹ ماری تو میرے سامنے سے پردے ہٹا دئیے گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے شہر فارس کے اور جو اس کے نزدیک کی بستیاں ہیں اور بہت سے شہر دیکھے ہیں جو لوگ اس جگہ موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ان شہروں کو ہم لوگوں کے ہاتھوں فتح فرما دے اور ہم لوگوں کو وہاں کا مال و دولت عطا فرما دے اور فرمایا: جس وقت میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر کے شہر روم اور اس کے نزدیک کے علاقے سب کے سب میرے سامنے کر دئیے گئے اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کے ہاتھوں سے ان شہروں کو تباہ و برباد کر دے ہم لوگ وہاں کا مال غنیمت لوٹ لیں اور ہم کو ان پر فتح حاصل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی پھر ارشاد فرمایا: جس وقت میں نے تیسری چوٹ ماری تو میرے سامنے حبشہ کے شہر اور اس کی آس پاس کی بستیاں کر دی گئیں، جن کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ ترک اور حبشہ کے لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑنا جس وقت تک وہ تم کو نہ چھڑیں (یعنی جب تک وہ لوگ تم پر حملہ نہ کریں تو تم بھی ان پر حملہ نہ کرنا)۔ (سنن نسائی: ۳۱۲۵)
الحكم على الحديث: ضعیف
4. بَابُ فِيمَا أَبْدَاهُ المُجَاهِدُونَ مِنَ الشَّجَاعَةِ وَالاسْتِبْسَالِ فِي الْقِتَالِ
غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
حدیث نمبر: 10764
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا يُسَفِّلُهُ بَعْدُ قَالَ فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدَمًّا فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَلَمَّا قَالَ هَكَذَا يُسَفِّلُ التُّرْسَ رَمَيْتُ فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقِدْحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ قَالَ وَسَقَطَ فَقَالَ بِرِجْلِهِ فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُهُ قَالَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَ لِفِعْلِ الرَّجُلِ
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس روز خندق کی لڑائی کا موقع تھا اور کفار کے لوگ اپنی اپنی ڈھال کی اوٹ میں چھپ رہے تھے، ساتھ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال کو اپنی ناک کے سامنے کر کے دکھایا کہ آدمی اپنی ڈھال کو یوں اپنے سامنے کرتا اور پھر کبھی اسے یوں نیچے کو کرتا تھا تاکہ مخالفین کی طرف دیکھ لے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ترکش کا قصد کر کے اس سے خون آلود تیرنکالا اور اسے کمان کی قوس پر رکھا، جب اس کا فر نے ڈھال کو ذرا نیچے کی طرف کیا تو میں نے فوراً تیر چلا دیا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیر اس ڈھال کے فلاںفلاں حصے پر جا کر لگا اور وہ نیچے گر گیا اور اُس کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں،یہ منظر دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں، میں نے دریافت کیا: آپ کے ہنسنے کا سبب کیا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کی حالت دیکھ کر۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة محمد بن محمد بن الاسود، أخرجه الترمذي في الشمائل: 234، والبزار: 1131، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1620»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10765
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ되는آلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ الْيَوْمَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا: آج کے بعد ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ اب ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10765]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27748»
وضاحت: فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، غزوۂ خندق کے بعد نہ تو مشرکینِ مکہ، مدینہ منورہ کا رخ کر سکے اور نہ کسی میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کا سامنا کر سکے۔ ۵ سن ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تھا، ۶ سن ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن عمرہ کی ادائیگی نہ ہو سکی اور حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے صلح کا واقعہ پیش آیا، جو مسلمانوں کے حق میں فتح مبین کا پیغام تھا، پھر مشرک یہ معاہدہ برقرار نہ رکھ سکے اور ۸ھمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کر کے مشرکین مکہ کا سلسلہ ہی ختم کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10766
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، انہوں نے ہمیں نمازِ وسطی یعنی نمازِ عصر سے مشغول کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10766]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 1/ 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1151»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10767
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} [الأحزاب: 25] أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن ہمیں نماز سے روک دیا گیا،یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا، دوسری روایت میں ہے:یہاں تک کہ رات کا بھی کچھ حصہ بیت گیا،یہ اس وقت کی بات ہے جب قتال کے متعلق مفصل احکامات نازل نہیں ہوئے تھے، جب لڑائی میں اللہ کی طرف سے ہماری مدد کی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَکَفیٰ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔} … لڑائی میںمومنین کے لیے اللہ کافی رہا اور اللہ بہت ہی قوت والا سب پر غالب ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھائی، جس طرح اس کے اصل وقت میں پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی تو آپ نے اسی طرح نماز پڑھائی جیسے وقت پر پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی جس طرح اس کے وقت میں پڑھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10767]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 2/ 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11216»
وضاحت: فوائد: … دشمن کے ساتھ مصروفیت کی وجہ سے یہ نمازیں وقت سے لیٹ ہو گئی تھیں، نماز کو اس طرح تاخیر سے ادا کرنے کی رخصت منسوخ ہو چکی ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۳۴)والا باب۔
اس رخصت کے منسوخ ہونے کی کوئی دلیل نظر نہیں گزری۔ خوف کی وجہ سے نماز با جماعت اور وقت پر پڑھنی ممکن ہو تو ٹھیک ہے اوراصل یہی ہے، ورنہ اگر شدت خوف کی وجہ سے ایک سے زائد نمازیں جمع ہو جائیں تو زیر مطالعہ حدیث کی روشنی میں اس کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
اس رخصت کے منسوخ ہونے کی کوئی دلیل نظر نہیں گزری۔ خوف کی وجہ سے نماز با جماعت اور وقت پر پڑھنی ممکن ہو تو ٹھیک ہے اوراصل یہی ہے، ورنہ اگر شدت خوف کی وجہ سے ایک سے زائد نمازیں جمع ہو جائیں تو زیر مطالعہ حدیث کی روشنی میں اس کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10768
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى إِلَى مَسْجِدٍ يَعْنِي الْأَحْزَابَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَقَامَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَدْعُو عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ ثُمَّ جَاءَ وَدَعَا عَلَيْهِمْ وَصَلَّى
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ احزاب کے دن مسجد کی طرف آئے، اپنی چادر رکھ دی اور کھڑے ہو کر کفار پر بددعا کے لیے ہاتھ پھیلادئیے اور نماز ادا نہ کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ آئے اور ان پر بددعا کی اور نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10768]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جابر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15300»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10769
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ هَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کی جماعتو ں پر بددعا کی اور فرمایا: کتاب کو نازل کرنے والے، جلد حساب کرنے والے، لشکروں اور جماعتوں کو شکست دینے والے! تو انہیں شکست دے دے اور ان کے پاؤں اکھاڑ دے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10769]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2933، 4115، ومسلم: 1742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19627»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کی اور ایک مہینہ کے بعد دشمن اس دعا کا مصداق بن کر ناکام و نامراد بھاگ گئے اور پھر مدینہ منورہ کا رخ ہی نہ کر سکے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى دُعَاءَ نَبِيهِ ﷺ وَفَضْلِ الاحْزَابِ وَتَفَرُّقِهِمْ وَإِنْدِحَارِهِمْ وَرُجُوعِهِمْ بِالْخَيْبَةِ وَالنَّدَامَةِ
غزوۂ خندق(احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 10770
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قَالَ فَتًى مِنَّا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبْتُمُوهُ قَالَ نَعَمْ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ كُنَّا نَجْهَدُ قَالَ وَاللَّهِ لَوْ أَدْرَكْنَاهُ مَا تَرَكْنَاهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَلَجَعَلْنَاهُ عَلَى أَعْنَاقِنَا قَالَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخَنْدَقِ وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ هَوِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ يَشْتَرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَرْجِعُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَمَا قَامَ رَجُلٌ ثُمَّ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ ثُمَّ يَرْجِعُ يَشْرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّجْعَةَ أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَمَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ مَعَ شِدَّةِ الْخَوْفِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ وَشِدَّةِ الْبَرْدِ فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ أَحَدٌ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُنْ لِي بُدٌّ مِنَ الْقِيَامِ حِينَ دَعَانِي فَقَالَ يَا حُذَيْفَةُ فَاذْهَبْ فَادْخُلْ فِي الْقَوْمِ فَانْظُرْ مَا يَفْعَلُونَ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنَا قَالَ فَذَهَبْتُ فَدَخَلْتُ فِي الْقَوْمِ وَالرِّيحُ وَجُنُودُ اللَّهِ تَفْعَلُ مَا تَفْعَلُ لَا تَقِرُّ لَهُمْ قِدْرٌ وَلَا نَارٌ وَلَا بِنَاءٌ فَقَامَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لِيَنْظُرْ امْرُؤٌ مَنْ جَلِيسُهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذْتُ بِيَدِ الرَّجُلِ الَّذِي إِلَى جَنْبِي فَقُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ مَا أَصْبَحْتُمْ بِدَارِ مُقَامٍ لَقَدْ هَلَكَ الْكُرَاعُ وَأَخْلَفَتْنَا بَنُو قُرَيْظَةَ بَلَغَنَا مِنْهُمْ الَّذِي نَكْرَهُ وَلَقِينَا مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ مَا تَرَوْنَ وَاللَّهِ مَا تَطْمَئِنُّ لَنَا قِدْرٌ وَلَا تَقُومُ لَنَا نَارٌ وَلَا يَسْتَمْسِكُ لَنَا بِنَاءٌ فَارْتَحِلُوا فَإِنِّي مُرْتَحِلٌ ثُمَّ قَامَ إِلَى جَمَلِهِ وَهُوَ مَعْقُولٌ فَجَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ ضَرَبَهُ فَوَثَبَ عَلَى ثَلَاثٍ فَمَا أَطْلَقَ عِقَالَهُ إِلَّا وَهُوَ قَائِمٌ وَلَوْلَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي وَلَوْ شِئْتُ لَقَتَلْتُهُ بِسَهْمٍ قَالَ حُذَيْفَةُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ لِبَعْضِ نِسَائِهِ مُرَحَّلٍ فَلَمَّا رَآنِي أَدْخَلَنِي إِلَى رَحْلِهِ وَطَرَحَ عَلَيَّ طَرَفَ الْمِرْطِ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَإِنَّهُ لَفِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ وَسَمِعَتْ غَطَفَانُ بِمَا فَعَلَتْ قُرَيْشٌ وَانْشَمَرُوا إِلَى بِلَادِهِمْ
محمد بن کعب قرظی سے مروی ہے کہ کوفہ کے ہمارے ایک جوان نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور ان کی صحبت میں رہے؟ انہوں نے کہا: ہاں بھتیجے، اس نے پوچھا: تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا رویہ اور برتاؤ ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان دنون سخت مشقت میں تھے، تو اس جوان نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم آپ کے زمانہ کو پالیتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین پر نہ چلنے دیتے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کندھوں پر اُٹھاتے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے بھتیجے میں نے ہم صحابہ کو خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو کافی دیر تک نماز پڑھی، بعدازاں ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کون ہے جو اُٹھ کر جا کر دیکھ کر آئے کہ اب دشمن کیا کر رہا ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور شرط (ضمانت) فرمایا کہ وہ واپس آئے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافی دیر تک نماز پڑھی، بعدازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کون ہے جو جا کر دشمن کو دیکھ کر آئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور شرط، ضمانت فرمایا کہ وہ واپس آئے گا۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ جنت میں میرا ساتھی ہو۔ لیکن دشمن کے خوف کی شدت، بھوک کی شدت اور سردی کی شدت کی وجہ سے کوئی بھی نہ اُٹھا، جب کوئی بھی نہ اُٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا چوں کہ آپ نے مجھے ہی خاص طور پر بلایا تھا اس لیے میرے لیے اُٹھے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذیفہ! تم جا کر دشمن کے افراد کے اندر گھس جاؤ۔ اور دیکھو کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ اور تم ہمارے پاس واپس آنے تک کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا، حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جا کر ان میں شامل ہو گیا، تیز آندھی اور اللہ کے لشکران کی تباہی مچا رہے تھے، تیز آندھی کی وجہ سے نہ ان کی دیگیں ٹھہرتی تھیں نہ آگ نہ خیمے۔ اسی دوران ابو سفیان بن حرب نے کھڑے ہو کر کہا اے قریش! ہر آدمی دیکھے کہ اس کے ساتھ کون بیٹھا ہوا ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جلدی سے اپنے قریب والے آدمی کا ہاتھ پکڑ لیا اور پوچھا تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، پھر ابو سفیان نے کہا اے جماعت ِ قریش! اب تم اس مقام پر قرار نہیں کر سکتے۔ سارے گھوڑے ہلاک ہو گئے ہیں۔اور بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے انہوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا وہ ہمیں انتہائی ناگوار گزرا اور تیز آندھی کی صورت حال بھی تم دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی قسم! ہماری دیگیں کہیں ٹھہر نہیں رہیں۔ آگ جلتی نہیں اور خیمے بھی نہیں ٹھہر رہے۔ تم کوچ کی تیاری کرو۔ میں تو جا رہا ہوں۔ پھر وہ اپنے اونٹ کی طرف اُٹھ گیا جس کے پاؤں کو رسی سے باندھا ہوا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا، اسے مارا اس نے اس کی رسی کو کھولا نہیں تھا، اس لیے اونٹ نے تین بار کود کر اُٹھنے کی کوشس کی، تاہم وہ اُٹھ کھڑا ہوا، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس آنے تک وہاں کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنے کا عہد نہ ہوتا تو میں چاہتا تو اسے ایک ہی تیر سے قتل کر سکتا تھا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا، آپ اس وقت اپنی کسی اہلیہ کی منقش اونی چادر اوڑھے نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے اپنے خیمے میںداخل کر کے چادر کا ایک پہلو میرے اوپر دے دیا۔ آپ چادر ہی میں تھے۔ آپ نے اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو میں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کی اور جب بنو غطفان نے قریش کی ساری کار گزاری سنی تو انہوں نے اپنے اونٹوں کو اپنے وطن کی طرف موڑ لیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10770]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه اخصر مما ھنا مسلم: 1788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23723»
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ مَا جَاءَ مُشْتَرِكًا فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ وَجُرْح سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
حدیث نمبر: 10771
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ وَرَائِي يَعْنِي حِسَّ الْأَرْضِ قَالَتْ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنِ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ قَالَتْ فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ قَالَتْ وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَتْ فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ لَيْتَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَاءَ جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ سَبْغَةٌ لَهُ يَعْنِي مِغْفَرًا فَقَالَ عُمَرُ مَا جَاءَ بِكِ لَعَمْرِي وَاللَّهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءٌ أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ قَالَتْ فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا قَالَتْ فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا عُمَرُ وَيْحَكَ إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَتْ وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ فَقَالَ لَهُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ قَالَتْ وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ وَمَوَالِيهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَرَقَأَ كَلْمُهُ وَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَكَفَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَوِيًّا عَزِيزًا فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي صَيَاصِيهِمْ وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَنَقْعَ الْغُبَارِ فَقَالَ أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ قَالَتْ فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ فَقَالَ مَنْ مَرَّ بِكُمْ فَقَالُوا مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ وَسِنُّهُ وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَتْ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ قِيلَ لَهُمْ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ قَالُوا نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَنَزَلُوا وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ فَقَالُوا يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ قَالَتْ وَأَنَّى لَا يُرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمْ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ قَدْ آنَ لِي أَنْ لَا أُبَالِيَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزَلُوهُ فَقَالَ عُمَرُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْكُمْ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ وَقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ وَيُقْسَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ قَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَتْ فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَتْ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} [الفتح: 29] قَالَ عَلْقَمَةُ قُلْتُ أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَالَتْ كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ
یزید نے ہمیں بتلایا کہ ہمیں محمد بن عمر و نے اپنے والد سے اور انہوں نے اسے اس کے دادا علقمہ بن وقاص سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں خندق والے دن لوگوں کے نقوش پا پر چلتی ہوئی روانہ ہوئی۔ مجھے اپنے پیچھے زمین پر کسیکے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ہمراہ ان کے برادر زادے سیدنا حارث بن اوس رضی اللہ عنہ ڈھال اُٹھائے ہوئے تھے۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:انہیں دیکھ کر میں زمین پر بیٹھ گئی۔ سعد رضی اللہ عنہ قریب سے گزرے تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے لوہے کی ایک زرہ زیب تن کی ہوئی تھی۔ ان کے بازو اور ٹانگیں زرہ سے باہر تھیں مجھے سعد رضی اللہ عنہ کے ان اعضاء کے متعلق خدشہ ہوا کہ کہیں دشمن ان پر حملہ نہ کر دے۔ سعد رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے طویل القامت تھے۔ وہ قریب سے گزرے تو یہ رجز پڑھتے جا رہے تھے: لَیتَ قَلیلًایُدْرِکُ الہَیْجَائَ جَمَلٌمَا اَحْسَنَ الموتَ اِذَا حَانَ الْاَجَلْ۔ … 1 (کاش کہ اونٹ لڑائی میں اپنی قوت وبہادری کے کچھ جوہر دکھا ئے موت کتنی اچھی ہے جس کا وقت آجائے وہ تو آنی ہی ہے۔)اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ان کے گزر جانے کے بعد میں اُٹھ کر ایک باغ میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے، انہی میں عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہاں ایک آدمی تھا جس کے سر پر خود یعنی لوہے کی ٹوپی تھی! شعر کے الفاظ کی تحقیق اور مفہوم کی وضاحت کے لیے دیکھیں مسند احمد محقق۔ ج: ۴۲، ص: ۲۷۔
ساتھ ہی اس نے لوہے کا حفاظتی سامان باندھا ہوا تھا جس سے گردن اور زرہ کے سامنے والے حصہ کو محفوظ کیا ہوا تھا۔مجھے دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے آپ کیوں آئی ہیں؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! اللہ کی قسم! آپ بڑی دلیر ہیں۔ کیا آپ اس بات سے نہیں ڈریں کہ کوئی پریشانی آسکتیہےیا شدید لڑائی ہو سکتی ہے یا دشمن گرفتار کر سکتا ہے؟ سیّدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ برابر مجھے سرزنش کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کا کاش اسی وقت میرے لیے زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلی جاؤں۔ اس مسلح آدمی نے اپنے چہرے سے اوزار ہٹائے تو دیکھا کہ وہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ بولے عمر! بڑے افسوس کی بات ہے۔ آپ نے آج بہت زیادتی کر ڈالی۔ کہاں ہے لڑائی اور اللہ تعالیٰ کے سوا فرار کس کی طرف ہو سکتا ہے؟ سیّدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ ایک مشرک قریشی نے جس کا نام ابن العرقۃ تھا، نشانہ لے کر ان پر تیرچلا دیا۔ اور ساتھ ہی کہا میں ابن عرقہ ہوں، لے میری طرف سے یہ تیر،وہ تیر ان کے بازو کے اکحل نامی رگ پر آکر لگا۔ اور اسے کاٹ ڈالا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا یا اللہ تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک تو بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھوں کو ٹھندا نہ کر دے۔ سیّدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بنو قریظہ جاہلیت کے دور میںیعنی قبل از اسلام ان کے حلیف اور ساتھی تھے، سیدہ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے زخم سے خون بہنے لگا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر تیز آندھی بھیج دی اور اس نے لڑائی میں اہل ایمان کیکفایت کی، اللہ تعالیٰ بڑا ہی صاحب قوت اور سب پر غالب ہے۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ کی طرف چلے گئے اور عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد کی طرف چلے گئے اور بنو قریظہ واپس آکر اپنے قلعوں میں بند ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف واپس آئے، ہتھیار اُٹھا کر رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں چمڑے کا ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم صادر فرمایا، اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اسی دوران جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ان کے دانتوں پر ابھی غبار کے آثار تھے۔ انہوں نے کہا (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اتار کر رکھ دئیے؟ اللہ کی قسم! فرشتوں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے۔ آپ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے قتال کریں۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار سجا لئے اور لوگوں کو (بنو قریظہ کی طرف) روانگی کا حکم دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ بنو غنم کے پاس سے گزرے، وہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابھی تمہارے پاس سے کون گزر کر گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گزر کر گئے ہیں، دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی داڑھی، دانت اور چہرہ جبریل علیہ السلام سے مشابہت رکھتا تھا۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے اور پچیس(۲۵) راتوں تک ان کا محاصرہ کیا۔ جب ان کا محاصرہ سخت اور ان کی مصیبت بھی فزوں ہوئی تو ان سے کہا گیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤ۔انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمندر رضی اللہ عنہ سے مشاورت کی تو انہوں نے اشارے سے ان کو بتلا دیا کہ وہ تو تمہیں ذبح، قتل، کریں گے بنو قریظہ نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم انہی کے فیصلہ کو تسلیم کر لو۔ انہوں نے بھی اس پر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو پیغامبھیج کر بلوایا۔ ان کو لایا گیا تو وہ گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی کاٹھی تھی۔ انہیں گدھے پر سوار کیا گیا تھا اور ان کی قوم کے لوگ ان کے اردگرد تھے انہوں نے کہا اے بو عمرو! وہ آپ کے حلیف اور دوست ہیں اور وہ بدعہدی بھی کر چکے ہیں ان کا مطلبیہ تھا کہ ذرا سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ ان کے سارے احوال سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ وہ ان کی باتیں خاموشی سے سنتے آئے اور ان کی کسی بات کا انہیں جواب نہ دیا۔ اور نہ ہی ان کی طرف انہوں نے دیکھا۔ جب وہ بنو قریظہ کے گھروں کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف رخ کر کے کہا اب مجھ پر ایسا موقعہ آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کروں۔ابو سعید (راوی) کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سیّدیعنی سردار کی طرف اُٹھ کر جاؤ اور پکڑ کر انہیں گدھے سے اتار و،یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا سیّد (مالک، آقا) تو اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو، انہیں اتارو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم ان کی بابت فیصلہ کرو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا میں ان کے متعلق یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جن لوگوں نے مسلمانوں سے قتال کیا انہیں قتل کر دیا جائے۔ اور ان کی اولادوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال بطور مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔ ان کا فیصلہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کے متعلق ایسا فیصلہ دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلہ اور منشا کے عین مطابق ہے۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کییا اللہ! اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونی باقی ہے تو مجھے اس لڑائی میں شرکت کے لیے زندہ رکھ اور اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونے والی نہیں تو مجھے اپنی طرف اُٹھا لے۔ ان کا زخم پھٹ گیا۔ حالانکہ وہ تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا اور اس میں سے صرف ایک بالی، کان کے زیور کے بقدر زخم باقی تھا۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد سعد رضی اللہ عنہ اپنے اس خیمہ کی طرف لوٹ آئے جو ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصب کرایا تھا۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنے کمرے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ دونوں کے رونے کی آوازوں کو الگ الگ شناخت کر رہی تھی۔ ان صحابہ کی آپس میں محبت ایسی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ} کہ یہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے از حد شفیق ومہربان ہیں۔ علقمہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اماں جان! ایسے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح کیا کرتے تھے؟ فرمایا ان کی آنکھیں کسی کی وفات پر آنسو نہیں بہاتی تھیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10771]
ساتھ ہی اس نے لوہے کا حفاظتی سامان باندھا ہوا تھا جس سے گردن اور زرہ کے سامنے والے حصہ کو محفوظ کیا ہوا تھا۔مجھے دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے آپ کیوں آئی ہیں؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! اللہ کی قسم! آپ بڑی دلیر ہیں۔ کیا آپ اس بات سے نہیں ڈریں کہ کوئی پریشانی آسکتیہےیا شدید لڑائی ہو سکتی ہے یا دشمن گرفتار کر سکتا ہے؟ سیّدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ برابر مجھے سرزنش کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کا کاش اسی وقت میرے لیے زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلی جاؤں۔ اس مسلح آدمی نے اپنے چہرے سے اوزار ہٹائے تو دیکھا کہ وہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ بولے عمر! بڑے افسوس کی بات ہے۔ آپ نے آج بہت زیادتی کر ڈالی۔ کہاں ہے لڑائی اور اللہ تعالیٰ کے سوا فرار کس کی طرف ہو سکتا ہے؟ سیّدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ ایک مشرک قریشی نے جس کا نام ابن العرقۃ تھا، نشانہ لے کر ان پر تیرچلا دیا۔ اور ساتھ ہی کہا میں ابن عرقہ ہوں، لے میری طرف سے یہ تیر،وہ تیر ان کے بازو کے اکحل نامی رگ پر آکر لگا۔ اور اسے کاٹ ڈالا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا یا اللہ تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک تو بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھوں کو ٹھندا نہ کر دے۔ سیّدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بنو قریظہ جاہلیت کے دور میںیعنی قبل از اسلام ان کے حلیف اور ساتھی تھے، سیدہ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے زخم سے خون بہنے لگا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر تیز آندھی بھیج دی اور اس نے لڑائی میں اہل ایمان کیکفایت کی، اللہ تعالیٰ بڑا ہی صاحب قوت اور سب پر غالب ہے۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ کی طرف چلے گئے اور عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد کی طرف چلے گئے اور بنو قریظہ واپس آکر اپنے قلعوں میں بند ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف واپس آئے، ہتھیار اُٹھا کر رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں چمڑے کا ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم صادر فرمایا، اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اسی دوران جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ان کے دانتوں پر ابھی غبار کے آثار تھے۔ انہوں نے کہا (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اتار کر رکھ دئیے؟ اللہ کی قسم! فرشتوں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے۔ آپ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے قتال کریں۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار سجا لئے اور لوگوں کو (بنو قریظہ کی طرف) روانگی کا حکم دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ بنو غنم کے پاس سے گزرے، وہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابھی تمہارے پاس سے کون گزر کر گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گزر کر گئے ہیں، دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی داڑھی، دانت اور چہرہ جبریل علیہ السلام سے مشابہت رکھتا تھا۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے اور پچیس(۲۵) راتوں تک ان کا محاصرہ کیا۔ جب ان کا محاصرہ سخت اور ان کی مصیبت بھی فزوں ہوئی تو ان سے کہا گیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤ۔انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمندر رضی اللہ عنہ سے مشاورت کی تو انہوں نے اشارے سے ان کو بتلا دیا کہ وہ تو تمہیں ذبح، قتل، کریں گے بنو قریظہ نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم انہی کے فیصلہ کو تسلیم کر لو۔ انہوں نے بھی اس پر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو پیغامبھیج کر بلوایا۔ ان کو لایا گیا تو وہ گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی کاٹھی تھی۔ انہیں گدھے پر سوار کیا گیا تھا اور ان کی قوم کے لوگ ان کے اردگرد تھے انہوں نے کہا اے بو عمرو! وہ آپ کے حلیف اور دوست ہیں اور وہ بدعہدی بھی کر چکے ہیں ان کا مطلبیہ تھا کہ ذرا سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ ان کے سارے احوال سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ وہ ان کی باتیں خاموشی سے سنتے آئے اور ان کی کسی بات کا انہیں جواب نہ دیا۔ اور نہ ہی ان کی طرف انہوں نے دیکھا۔ جب وہ بنو قریظہ کے گھروں کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف رخ کر کے کہا اب مجھ پر ایسا موقعہ آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کروں۔ابو سعید (راوی) کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سیّدیعنی سردار کی طرف اُٹھ کر جاؤ اور پکڑ کر انہیں گدھے سے اتار و،یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا سیّد (مالک، آقا) تو اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو، انہیں اتارو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم ان کی بابت فیصلہ کرو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا میں ان کے متعلق یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جن لوگوں نے مسلمانوں سے قتال کیا انہیں قتل کر دیا جائے۔ اور ان کی اولادوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال بطور مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔ ان کا فیصلہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کے متعلق ایسا فیصلہ دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلہ اور منشا کے عین مطابق ہے۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کییا اللہ! اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونی باقی ہے تو مجھے اس لڑائی میں شرکت کے لیے زندہ رکھ اور اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونے والی نہیں تو مجھے اپنی طرف اُٹھا لے۔ ان کا زخم پھٹ گیا۔ حالانکہ وہ تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا اور اس میں سے صرف ایک بالی، کان کے زیور کے بقدر زخم باقی تھا۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد سعد رضی اللہ عنہ اپنے اس خیمہ کی طرف لوٹ آئے جو ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصب کرایا تھا۔ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنے کمرے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ دونوں کے رونے کی آوازوں کو الگ الگ شناخت کر رہی تھی۔ ان صحابہ کی آپس میں محبت ایسی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ} کہ یہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے از حد شفیق ومہربان ہیں۔ علقمہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اماں جان! ایسے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح کیا کرتے تھے؟ فرمایا ان کی آنکھیں کسی کی وفات پر آنسو نہیں بہاتی تھیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10771]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وجزء منه حسن، وللحديث شواهد يصح بھا دون قولھا: كانت عينه لا تدمع علي احد، أخرجه ابن حبان: 7028، والطبراني في المعجم الكبير: 5330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25610»
الحكم على الحديث: صحیح