الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ مُشْتَرِكًا فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ وَجُرْح سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
حدیث نمبر: 10772
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَحَسَمَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَنَزَفَهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ لِيَسْتَعِينَ بِهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمْ انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:غزوۂ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ایک تیر لگا اور دشمن نے ان کے بازو کی اکحل رگ کاٹ ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خون روکنے کے لیے اسے آگ سے داغ دیا، لیکن اس سے ان کا بازو پھول گیا، اسے دوبارہ داغا تو وہ دوبارہ پھول گیا۔ اسے تیسری دفعہ داغا تو تب بھی وہ پھول گیا اور اس سے بہت زیادہ خون بہنے لگا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو دعا کی: یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے، جب تک کہ بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں، چنانچہ ان کی رگ کا خون بہنا بند ہو گیا اور اس سے اس وقت تک کوئی قطرۂ خون نہ نکلا، جب تک کہ وہ لوگ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلوایا تو انہوں نے فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان کے ذریعے مسلمان مدد حاصل کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے بارے میں تم نے اللہ کی پسند کا فیصلہ کیا ہے۔ بنو قریظہ کی تعداد چار سو تھی، جب ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد رضی اللہ عنہ کی رگ پھوٹ پڑی اور اس کے نتیجہ میں ان کی موت واقع ہوئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10772]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 1582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14832»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کرامت اور فضیلت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10773
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُطُمِ حَسَّانَ فَكَانَ يَرْفَعُنِي وَأَرْفَعُهُ فَإِذَا رَفَعَنِي عَرَفْتُ أَبِي حِينَ يَمُرُّ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَكَانَ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيُقَاتِلَهُمْ فَقُلْتُ لَهُ حِينَ رَجَعَ يَا أَبَتِ تَاَللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُكَ حِينَ تَمُرُّ ذَاهِبًا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفَدِّينِي بِهِمَا يَقُولُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ خندق کے موقع پر میں اور سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ حسان کے قلعوں میں سے اس قلعہ میں تھے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات تھیں، وہ مجھے اور میں انہیں اوپر اُٹھاتا اور ہم باہر کے مناظر دیکھتے، جب اس نے مجھے اٹھایا تو میں نے اپنے والد کو پہچان لیا، وہ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے اور وہ خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو بنی قریظہ کی طرف جا کر ان سے قتال کرے؟ جب وہ واپس آئے تو میں نے عرض کیا: ابا جان اللہ کی قسم! جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے تو میں آپ کو پہچان چکا تھا۔ انھوں نے کہا: بیٹا! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے داد اور دعا دیتے ہوئے یوں فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہو ں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10773]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3720، ومسلم: 2416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1409»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10774
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَحَدَّثَنِي قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَابْنُ الزُّبَيْرِ حَوَارِيِّي
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن معاملہ سنگین ہو گیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: کوئی ایسا آدمی ہے، جو بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ گئے اور ان کی خبریں لے کر آئے، پھر جب معاملہ سنگین ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا، چنانچہ تین مرتبہ ایسے ہی ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص آدمی ہوتا ہے اور زبیر میرا خاص آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10774]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2847، 2997، ومسلم: 2415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14428»
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابٌ مِمَّا جَاءَ خَاصًا بِغَزْوَةِ بَنِي قُرَيْظَةَ
غزوۂ بن قریظہ سے متعلقہ بعض مخصوص روایات کا بیان
حدیث نمبر: 10775
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَلَى رَأْسِهِ الْغُبَارُ قَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهَا اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ قَالَ هَاهُنَا فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقَتَّلَ الْمُقَاتِلَةُ وَتُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ قَالَ هِشَامٌ قَالَ أَبِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوۂ خندق سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، ان کے سر پر غبار تھا، انہوں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اتار دئیے؟ اللہ کی قسم میں نے تو ہتھیار نہیں اتارے ہیں، آپ بنو قریظہکی طرف روانہ ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر روانہ ہو گئے۔ عروہ نے بیان کیا کہ بنو قریظہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلے کا اختیار سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: (اے سعد رضی اللہ عنہ) تو نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ والا فیصلہ کیا ہے، یعنی ایسا فیصلہ کیا ہے جو اللہ کو بھی پسند اور منظور ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10775]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2813، ومسلم: 1769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24799»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10776
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ مَوْكِبِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَاطِعًا فِي سِكَّةِ بَنِي غَنَمٍ حِينَ سَارَ إِلَى قُرَيْظَةَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں گویا کہ اس وقت بھی جبریل علیہ السلام کی سواری کا اُٹھنے والا غبار بنی غنم کی گلی میں آسمان کی طرف اُڑتا دیکھ رہا ہوں، جب وہ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13262»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10777
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً قَالَتْ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ قَالَتْ أَنَا وَاللَّهِ قَالَتْ قُلْتُ وَيْلَكِ وَمَا لَكِ قَالَتْ أُقْتَلُ قَالَتْ قُلْتُ وَلِمَ قَالَتْ حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ قَالَتْ فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا وَكَثْرَةِ ضِحْكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو قتل کیا گیا، اللہ کی قسم وہ میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار میں ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ تو میرے نام کی پکار ہے۔ میں نے کہا: تیرا بھلا ہو، تجھے کیا ہوا؟ وہ بولی: مجھے قتل کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: میں نے ایک جرم کیا تھا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں: پس اسے لے جا کر اس کی گردن اُڑا دی گئی۔ سیّدہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ کی قسم! مجھے اس کی خوش طبعی اور کثرت سے ہنسنا نہیں بھولتا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کیا جانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10777]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26896»
وضاحت: فوائد: … یہ وہ خاتون تھی جس نے سیدنا خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ پر چکی پھینک کر ان کو قتل کر دیا تھا، ان کے قصاص میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کو قتل کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي زِوَاجِهِ ﷺ بِزَينَبَ بِنْتِ جَحْشِ رضي الله عنها وَنُزُولِ آيَةِ الْحِجَابِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے¤اور پردے والی آیت کے نازل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10778
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ اذْهَبْ فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَاهَا قَالَ وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَرَكَضْتُ عَلَى عَقِبَيَّ فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ يَعْنِي الْقُرْآنَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ قَالَ هَاشِمٌ حِينَ عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهَا قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُطْعِمْنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ فَجَعَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ {لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ} [الأحزاب: 53]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم جا کر ان کو میری طرف سے نکاح کا پیغام دو۔ وہ ان کے ہاں گئے، وہ اس وقت آٹا گوندھ رہی تھیں۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان کو دیکھا تو میرے سینے میں ان کا اس قدر عظیم مقام محسوس ہوا کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی جرأت نہ ہو سکی، کیونکہ ان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زوجہ بنانے کے ارادہ سے یاد فرمایا تھا، سو میں نے اپنی پشت ان کی طرف پھیری اور اپنی ایڑیوں پر پیچھے کو مڑا اور میں نے کہا: زینب! تمہیں خوش خبری ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے، وہ تمہیں اپنی بیوی بنانے کے لیےیاد کرتے ہیں۔ وہ بولیں میں جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں، اس وقت تک میں کوئی بات نہیں کروں گی۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں نماز کے لیے مقرر کردہ جگہ پر کھڑی ہوئیں۔ اسی دوران قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں بلا اجازت ہی چلے آئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گوشت روٹی کھلائی۔ امام احمد کے شیخ ہاشم یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کھانا دیا، تب مجھے علم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نکاح کا پیغام دیا ہے۔ ہاشم اپنی حدیث میںیوں بھی بیان کرتے ہیں کہ جب سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گوشت روٹی کھلائی، لوگ کھانا کھا کر چلے گئے تو کچھ لوگ کھانے کے بعد وہیں گھر میں بیٹھے باتوں میں مصروف ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر جا کر اپنی ازواج کے حجروں میں چکر لگانے لگے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر حجرہ میں جا کر اپنی ازواج کو سلام کہتے اور وہ دریافت کرتیں: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ کو بتلایایا کسی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی کہ لوگ چلے گئے ہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں آئے، میں بھی اندر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکا دیا اور حجاب کا حکم نازل ہوا۔ اور لوگوں کو خوب نصیحت کی گئی۔ امام احمد کے شیخ ہاشم نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ یہاں حجاب کے حکم سے یہ آیات مراد ہیں: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ … … وَلَا مُسْتَأْنِسِینَ لِحَدِیثٍ إِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِی مِنْکُمْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیِی مِنَ الْحَقِّ … } … ایمان والو! تم نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو۔ الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے تو ایسے وقت جایا کرو کہ تمہیں اس کے پکنے کی انتظار نہ کرنی پڑے۔لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب جاؤ اور کھانا کھا چکنے کے بعد وہاں سے آجاؤ اور وہاں بیٹھ کر باتوں میں مصروف نہ ہو جاؤ۔ بے شک تمہارایہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دیتا ہے اور وہ تم سے جھجکتا ہے۔ اس لئے تمہیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اور اللہ تو حق بات کہنے سے نہیں جھجکتا۔ اور جب تم نبی کی ازواج سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ حکم تمہارے اور ان کے دلوں کو شیطانی وساوس سے پاک کرنے کے لیے ہے۔ اور تمہیںیہ زیبا نہیں کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء پہنچاؤ۔ اور نہ تم اس کے بعد اس کی ازواج سے کبھی نکاح کر سکتے ہو۔ اللہ کے نزدیکیہ بہت بڑا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۵۳) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10778]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13056»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۱۲) والا باب۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10779
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ وَأَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ
عبدالعزیز بن صہیب سے مروی ہے کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسا ولیمہ اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ولیمہ دوسری کسی زوجہ کے موقع پر نہیں کیا۔ ثابت بنانی نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس چیز کا ولیمہ کیاتھا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس قدر روٹی گوشت کھلایا کہ لوگوں نے سیر ہو کر کھایا، تب بھی وہ باقی چھوڑآئے یعنی کھانا بچ گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10779]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4793، ومسلم: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12789»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10780
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَأَوْلَمَ بِشَاةٍ أَوْ ذَبَحَ شَاةً
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قدر ولیمہ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کرنے کے موقع پر کیا تھا، میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی دوسری زوجہ کے موقع پر ایسا ولیمہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بکری ذبح کر کے ولیمہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10780]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13411»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10781
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ خَرَجَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ فَيَأْتِي حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَ لَهُ ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ وَثَبَا فَزِعَيْنِ فَخَرَجَا فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ مَنْ أَخْبَرَهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے تزویج کے موقع پر ولیمہ کیا اورمسلمانوں کو سیر کر کے روٹی گوشت کھلایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے معمول کے مطابق باہر نکلے، جیسے آپ قبل ازیں شادی کر کے باہر جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امہات المؤمنین کے حجروں میں جا کر انہیں سلام کہتے، ان کے حق میں دعا کرتے اور جواباً وہ بھی آپ کو سلام کہتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دعا کرتیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے قریب پہنچے تو گھر کے اندر دو آدمی ابھی تک محوِ گفتگو تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو واپس لوٹ آئے، ان دونوں نے جب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے ہیں۔ تو وہ جلدی سے گھبرا کر اُٹھے اور چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایایا کسی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی (کہ وہ آدمی بھی چلے گئے ہیں)، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10781]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13103»
الحكم على الحديث: صحیح