🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ وَفَاةِ النَّجَاشِيُّ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَهَلَاكِ عَبْدِ الله بن أبي الْمُنَافِقِ الطَّالِح
نیک مرد نجاشی کی وفات اور بدبخت شخص عبداللہ بن ابی کی ہلاکت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10954
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَاتَ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں عبداللہ بن ابی کے مرض الموت کے دنوں میں اس کی بیمار پرسی کو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں تجھے یہود کی محبت سے منع کیا کرتا تھا۔ اس نے آگے سے کہا: اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بھی تو ان یہودیوںسے بغض رکھتے تھے، لیکن وہ بھی بالآخر مر ہی گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10954]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس ولم يصرح بالسماع، أخرجه ابوداود: 3094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22101»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَج أَبِي بَكْرِ رضي الله عنه وَبَعْثِ عَلَى رضي الله عنه إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَائَةٍ
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10955
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ بَرَاءَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَعَثَهُ بِهَا لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَيْثُمَا لَحِقْتَهُ فَخُذِ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَاقْرَأْهُ عَلَيْهِمْ فَلَحِقْتُهُ بِالْجُحْفَةِ فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ لَا وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر مجھ (علی کو) بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغامیا تو آپ خود پہنچائیںیا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10955]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر الحنفي، وحنش بن المعتمر الكناني ليس بالقوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1297»
وضاحت: فوائد: … اس اعلان کی درست صورت درج ذیل ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی أَبُو بَکْرٍ فِی تِلْکَ الْحَجَّۃِ فِی مُؤَذِّنِینَیَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًی أَنْ لَا یَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلِیًّا فَأَمَرَہُ أَنْ یُؤَذِّنَ بِبَرَاء َۃ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِیٌّ فِی أَہْل مِنًییَوْمَ النَّحْرِ لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَان۔)) … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حج میں نحر والے دن اعلان کرنے والوں میں بھیجا، سو ہم نے مِنٰی میں اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی آدمی ننگی حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا۔ حمید بن عبد الرحمن نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ سورۂ براء ۃ والا اعلان کریں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
کہتے ہیں: پس انھوں نے بھی مِنٰی میں نحر والے دن ہمارے ساتھ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گااور کوئی ننگا آدمی طواف نہیں کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۴۶۵۵)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10956
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ تُنَادُونَ قَالَ كُنَّا نُنَادِي أَنْ لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَإِنَّ أَجَلَهُ أَوْ أَمَدَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ وَلَا يَحُجُّ هَذَا الْبَيْتَ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ قَالَ فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحَلَ صَوْتِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو براء ت کا اعلان کرنے کے لیے اہلِ مکہ کی طرف روانہ کیا تو میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہم راہ تھا، محرر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کیا اعلان کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم یہ اعلان کرتے تھے کہ صرف اہل ایمان ہی جنت میں جائیں گے اور آئندہ کوئی شخص برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور جس آدمی کا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی قسم کا کوئی عہد ہے تو اس کی مدت چار ماہ ہے، چار ماہ کے بعد اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے یکسر لا تعلق ہو جائیں گے، اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکے گا۔ میں اس قدر بلند آواز سے اعلان کرتا تھا کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10956]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 5/ 234، وأخرجه بنحوه البخاري: 369، 1622، 4363، ومسلم: 1347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7964»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10957
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةٍ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ قَالَ لَا يَبْلُغُهَا إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کیا، جب وہ ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل مکہ کے سامنے یہ اعلان میں خود یا میرے اہل بیت میں سے کوئی کر سکتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پیغام دے کر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ فرمایا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10957]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لنكارة متنه، سماك بن حرب ليس بذاك القوي، وقد استنكر الحديثَ الخطابي وابن تيمية، أخرجه الترمذي: 3090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13246»
وضاحت: فوائد: … مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۶۱۴) والا باب۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں