🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ فِيمَا قَاسَاهُ الصَّحَابَةُ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ مِنْ قِلَّةِ الظَّهْرِ وَضَعْفِهِ وَمَا ظَهَرَ مِنْ مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
غزوۂ تبوک میں صحابہ کرام کو سواریوں کی قلت وغیرہ سے جو سامنا رہا اس کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہونے والے معجزات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10934
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ لَهُمْ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ وَالْآخَرُ بِالْكِسْرَةِ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطْعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا مِنَ الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَؤُوهُ وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهَا عَبْدٌ غَيْرُ شَاكٍّ فَتُحْجَبَ عَنْهُ الْجَنَّةُ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سے مروی ہے کہ جب غزوۂ تبوک پیش آیا تو لوگوں شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اجازت ہو تو ہم اپنے اونٹوں کو نحر کر کے کھانے کا اور چربی کا انتظام کر لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھیک ہے۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر لوگوں نے اونٹوں کو نحر کیا تو سواریاں تھوڑی پڑ جائیں گی، آپ انہیں حکم دیں کہ وہ اپنے زائد از ضرورت خوردونوش کا سامان لے آئیں اور آپ ان کے لیے اس میں برکت کی دعا فرمائیں، امید ہے کہ اللہ اس میں برکت فرمائے گا، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چمڑے کا دسترخوان منگوا کر اسے بچھا دیا، پھر صحابہ کو بلا کر فرمایا: خوردونوش کا زائد سامان لے آئیں۔ کوئی ایک مٹھی مکئی لایا، کوئی ایک مٹھی کھجور لے آیا اور کوئی روٹی کے بچے کھچے ٹکڑے لے کر حاضر ہوا، یہاں تک کہ دسترخوان پر کچھ اشیاء جمع ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چیزوں پر برکت کی دعا کی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم یہ سامان اپنے برتنوں(اور تھیلوں وغیرہ) میں ڈالو۔ چنانچہ صحابہ کرام اس سامان کو اپنے برتنوں میں بھرنے لگے، یہاں تک کہ انہوں نے پورے لشکر میں جو برتن بھی پایا، اسے بھرلیا، اور خوب پیٹ بھر کر کھا بھی لیا، لیکن پھر بھی اس میں کافی بچ بھی رہا۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی صدقِ دل سے ان دوباتوں کی گواہی دیتا ہو، جب اس کی اللہ سے ملاقات ہو گی تو اسے جنت میں جانے سے روکا نہیں جائے گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10934]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11096»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ إِلَى هِرَقْلَ وَجَوَابِهِ عَلَيْهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10935
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ لَقِيتُ التَّنُوخِيَّ رَسُولَ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِمْصَ وَكَانَ جَارًا لِي شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ بَلَغَ الْفَنَدَ أَوْ قَرُبَ فَقُلْتُ أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ رِسَالَةِ هِرَقْلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرِسَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ بَلَى قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ فَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى هِرَقْلَ فَلَمَّا أَنْ جَاءَهُ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا قِسِّيسِي الرُّومِ وَبَطَارِقَتَهَا ثُمَّ أَغْلَقَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ بَابًا فَقَالَ قَدْ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ حَيْثُ رَأَيْتُمْ وَقَدْ أَرْسَلَ إِلَيَّ يَدْعُونِي إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ يَدْعُونِي إِلَى أَنْ أَتَّبِعَهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ عَلَى أَنْ نُعْطِيَهُ مَالَنَا عَلَى أَرْضِنَا وَالْأَرْضُ أَرْضُنَا أَوْ نُلْقِيَ إِلَيْهِ الْحَرْبَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُمْ فِيمَا تَقْرَءُونَ مِنَ الْكُتُبِ لَيَأْخُذَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ فَهَلُمَّ نَتَّبِعْهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ نُعْطِيَهُ مَالَنَا عَلَى أَرْضِنَا فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ بَرَانِسِهِمْ وَقَالُوا تَدْعُونَا إِلَى أَنْ نَدَعَ النَّصْرَانِيَّةَ أَوْ نَكُونَ عَبِيدًا لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَ مِنَ الْحِجَازِ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ إِنْ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ أَفْسَدُوا عَلَيْهِ الرُّومَ رَفَأَهُمْ وَلَمْ يَكَدْ وَقَالَ إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ لَكُمْ لِأَعْلَمَ صَلَابَتَكُمْ عَلَى أَمْرِكُمْ ثُمَّ دَعَا رَجُلًا مِنْ عَرَبِ تُجِيبَ كَانَ عَلَى نَصَارَى الْعَرَبِ فَقَالَ ادْعُ لِي رَجُلًا حَافِظًا لِلْحَدِيثِ عَرَبِيَّ اللِّسَانِ أَبْعَثُهُ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ بِجَوَابِ كِتَابِهِ فَجَاءَ بِي فَدَفَعَ إِلَيَّ هِرَقْلُ كِتَابًا فَقَالَ اذْهَبْ بِكِتَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَمَا ضَيَّعْتُ مِنْ حَدِيثِهِ فَاحْفَظْ لِي مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ انْظُرْ هَلْ يَذْكُرُ صَحِيفَتَهُ الَّتِي كَتَبَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ وَانْظُرْ إِذَا قَرَأَ كِتَابِي فَهَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ وَانْظُرْ فِي ظَهْرِهِ هَلْ بِهِ شَيْءٌ يَرِيبُكَ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى جِئْتُ تَبُوكَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِيًا عَلَى الْمَاءِ فَقُلْتُ أَيْنَ صَاحِبُكُمْ قِيلَ هَا هُوَ ذَا فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ كِتَابِي فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا أَحَدُ تَنُوخَ قَالَ هَلْ لَكَ فِي الْإِسْلَامِ الْحَنِيفِيَّةِ مِلَّةِ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ قُلْتُ إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ وَعَلَى دِينِ قَوْمٍ لَا أَرْجِعُ عَنْهُ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ [القصص: 56] يَا أَخَا تَنُوخَ إِنِّي كَتَبْتُ بِكِتَابٍ إِلَى كِسْرَى فَمَزَّقَهُ وَاللَّهُ مُمَزِّقُهُ وَمُمَزِّقٌ مُلْكَهُ وَكَتَبْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ بِصَحِيفَةٍ فَخَرَقَهَا وَاللَّهُ مُخْرِقُهُ وَمُخْرِقٌ مُلْكَهُ وَكَتَبْتُ إِلَى صَاحِبِكَ بِصَحِيفَةٍ فَأَمْسَكَهَا فَلَنْ يَزَالَ النَّاسُ يَجِدُونَ مِنْهُ بَأْسًا مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ قُلْتُ هَذِهِ إِحْدَى الثَّلَاثِ الَّتِي أَوْصَانِي بِهَا صَاحِبِي وَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهَا فِي جِلْدِ سَيْفِي ثُمَّ إِنَّهُ نَاوَلَ الصَّحِيفَةَ رَجُلًا عَنْ يَسَارِهِ قُلْتُ مَنْ صَاحِبُ كِتَابِكُمُ الَّذِي يَقْرَأُ لَكُمْ قَالُوا مُعَاوِيَةُ فَإِذَا فِي كِتَابِ صَاحِبِي تَدْعُونِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ فَأَيْنَ النَّارُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيْنَ اللَّيْلُ إِذَا جَاءَ النَّهَارُ قَالَ فَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهُ فِي جِلْدِ سَيْفِي فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ كِتَابِي قَالَ إِنَّ لَكَ حَقًّا وَإِنَّكَ رَسُولٌ فَلَوْ وُجِدَتْ عِنْدَنَا جَائِزَةٌ جَوَّزْنَاكَ بِهَا إِنَّا سَفَرٌ مُرْمِلُونَ قَالَ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْ طَائِفَةِ النَّاسِ قَالَ أَنَا أُجَوِّزُهُ فَفَتَحَ رَحْلَهُ فَإِذَا هُوَ يَأْتِي بِحُلَّةٍ صَفُورِيَّةٍ فَوَضَعَهَا فِي حِجْرِي قُلْتُ مَنْ صَاحِبُ الْجَائِزَةِ قِيلَ لِي عُثْمَانُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ يُنْزِلُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَا فَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا خَرَجْتُ مِنْ طَائِفَةِ الْمَجْلِسِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تَعَالَ يَا أَخَا تَنُوخَ فَأَقْبَلْتُ أَهْوِي إِلَيْهِ حَتَّى كُنْتُ قَائِمًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَلَّ حَبْوَتَهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَقَالَ هَاهُنَا امْضِ لِمَا أُمِرْتَ لَهُ فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضُونِ الْكَتِفِ مِثْلِ الْحَجْمَةِ الضَّخْمَةِ
سعید بن ابی راشد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ہرقل کے قاصد تنوخی کو حمص میں ملا،جسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تھا، وہ میرا ہمسایہ تھا، وہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا، یا شدید بڑھاپے کے قریب پہنچ چکا تھا، میں نے اس سے کہا: کیا آپ مجھے ہرقل کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہرقل کے نام ہونے والے نامہ پیام سے آگاہ کر سکتے ہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک میں وارد ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ہرقل کی طرف قاصد بنا کر روانہ فرمایا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکتوب اس کے پاس پہنچا تو اس نے روم کے عیسائی پادریوں اور زعماء کو بلوایا، دروازے بند کر لیے، اور کہا تم دیکھ رہے ہو کہ یہ شخص یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسا مقام حاصل کر گیا ہے۔ اس نے میرے نام پیغام بھیج کر مجھے بھی تین باتوں کی دعوت دی ہے: میں اس کے دین کے بارے میں اس کا پیروکار بن جاؤں، یا پھر میں اسے اپنا مال بطور جزیہ ادا کروں اور یہ سر زمین ہمارے کنٹرول ہی میں رہے یا ہم اس کے ساتھ قتال کے لیے تیار رہیں۔ اللہ کی قسم تم اللہ کی کتابوں میں پڑھ کر جان چکے ہو کہ وہ ضرور بالضرور میرے اس تخت پر قابض ہو گا۔ پس آؤ ہم دین کے بارے میں اس کی پیروی کر لیںیا اس سرزمین کے عوض جزیہ دینے کا فیصلہ کر لیں،یہ سن کر وہ سب قائدینشدت غضب سے مغلوب ہو کر بیک آواز دھاڑے، لگتا تھا کہ وہ اپنے لباس سے باہر نکل آئیں گے، وہ سب کہنے لگے: کیا آپ ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم نصرانیت کو ترک کر کے حجاز سے آنے والے ایک دیہاتی کی پیروی اختیار کر لیں؟ جب اسے یقین ہو گیا کہ اگر یہ لوگ یہاں سے باہر گئے تو اہلِ روم کو وہ اس کے خلاف اُکسا اور بھڑکا سکتے ہیں، تو اس نے ان سے کچھ تکرار نہیں کیا، بلکہ ان کو حوصلہ دلاتے ہوئے کہا، میں نے تو تم سے یہ بات صرف آزمانے کے لیے کہی تھی، میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم اپنے دین پر کس حد تک پختہ ہو، پھر اس نے عرب کے تجیب قبیلہ کے ایک آدمی کو بلوایا جو عرب کے نصرانیوں پر مقرر تھا، اور اس سے کہا: تم میرے لیے عربی جاننے والے کسی ایسے آدمی کو بلاؤ جو ذمہ دار قسم کا ہو، میں اسے اس شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس کے خط کا جواب دے کر بھیجنا چاہتا ہوں، وہ مجھے ہرقل کی طرف لے گیا اور ہرقل نے ایک خط میرے حوالے کیا اور کہا تم میرایہ خط اس آدمی کے پاس لے جاؤ، اس نے مجھ سے جو کچھ کہا مجھے اس میں سے کوئی بات بھولی نہیں، تو وہاں جا کر میرے لیے اس کی تین باتوں کا خیال رکھنا۔ (۱) دیکھنا کہ اس نے میرے نام جو خط لکھا تھا، وہ اس کا کسی حوالہ سے ذکر بھی کرتا ہے؟ (۲) اور دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھے تو رات کو یاد کرتا ہے؟(۳) اور یہ بھی دیکھنا کہ اس کی پشت پر تمہیں کچھ اجنبی سی چیز محسوس ہوتی ہے؟میں ہرقل کا خط لے کر تبوک آیا، آپ پانی کے ایک چشمے کے قریب آلتی پالتی مارے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کے سردار کہاں ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ یہ ہیں۔ میں چلتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور اپنا خط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنی گود میں رکھ لیا، اور دریافت فرمایا کہ تم کس قبیلہ سے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں تنوخ قبیلہ کا فرد ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اپنے روحانی باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت حنیفہ اسلام کی رغبت ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور اسی قوم کے دین کا حامل ہوں۔ میں اپنی قوم کے پاس واپس جانے تک تو اپنے دین سے واپس نہیں آسکتا۔ میرییہ بات سن کر آپ ہنس دیے اور فرمایا: {إِنَّکَ لَا تَہْدِی مَنْ أَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِینَ} … آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ اللہ جسے چاہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہی راہ یاب ہونے والوں کو بہتر طور پر جانتا ہے۔ (سورۂ قصص: ۵۶) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے تنوخی! میں نے کسری کے نام ایک خط لکھا تھا، اس نے اسے پھاڑ ڈالا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو ٹکڑے ٹکڑے کرے گا اور میں نے نجاشی کے نام مکتوب لکھا تھا، اس نے اسے پھاڑ ڈالا، اللہ کی قسم، اللہ اسے اور اس کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور میں نے تیرے بادشاہ ہرقل کے نام خط لکھا، اس نے اسے احترام سے پکڑا، جب تک اس کی حکومت ہے، لوگوں کو اس کی طرف سے ہمیشہ تکالیف پہنچتی رہیں گی۔ میں نے دل میں کہا کہ میرے آقا نے مجھ سے جو تین باتیں کہی تھیں،یہ ان میں سے ایک ہے، اور میں نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس جواب کو اپنی تلوار کی میان پر لکھ لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ خط اپنے بائیں طرف بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو دیا میں نے کہا اس خط کو کون پڑھے گا؟ لوگوں نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، میرے آقا کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے آسمانوں اور زمینوں کے برابر عرض والی جنت کی طرف بلاتے ہیں، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے تو جہنم کہاں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ، یہ کیسی بات ہوئی؟ جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ یہ سن کر میں نے اپنے ترکش سے ایک تیرنکال کر اپنی تلوار کی میان پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کو لکھ لیا، جب آپ میرے لائے ہوئے مکتوب کے پڑھنے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم ایک قاصد ہو اور تمہارا ایک حق ہے، اگر میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ ہوتا تو ضرور عنایت کرتا، ہم اس وقت سفر میں ہیں اور سارا سامان ختم ہو چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات سن کر لوگوں کے گروہ میں سے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پکار کر کہا: میں اسے تحفہ دیتا ہوں، اس نے اپنا سامان کھولا اور وہ اردن کے علاقے صفوریہ کا تیار شدہ ایک شان دار سوٹ لایا اور اس نے اسے میری گود میں رکھ دیا، میں نے پوچھا یہ تحفہ دینے والے کا کیا تعارف ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو اس کی میزبانی کرے گا؟ ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: جی میں،وہ انصاری اُٹھا اور میں بھی اس کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوا۔ جب میں لوگوں کے گروہ میں سے ذرا باہر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا: اے تنوخی! ذرا ادھر آنا۔ میں جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر، اپنی اسی جگہ پر کھڑا ہو گیا، جہاں پہلے میں بیٹھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت سے چادر ہٹا دی اور فرمایا: تمہیں جو بات کہی گئی تھی، ادھر آکر دیکھ لو۔ میں نے آپ کیپشت مبارک کو دیکھا تو وہاں کندھے کے قریب سینگی کے نشان جیسی بڑی جگہ تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10935]
تخریج الحدیث: «حديث غريب، واسناده ضعيف، لجھالة سعيد بن ابي راشد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15740»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10936
قَالَ ثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ مَوْلَى لِآلِ مُعَاوِيَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَقَالُوا لَا نَتَّبِعُهُ عَلَى دِينِهِ وَنَدَعُ دِينَنَا وَدِينَ آبَائِنَا وَلَا نُقِرُّ لَهُ بِخَرَاجٍ يَجْرِي لَهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ نُلْقِي إِلَيْهِ الْحَرْبَ (وَفِيهِ أَيْضًا) قَالَ قَالَ عَبَّادٌ فَقُلْتُ لِابْنِ خُثَيْمٍ أَلَيْسَ قَدْ أَسْلَمَ النَّجَاشِيُّ وَنَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ قَالَ بَلَى ذَاكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَهَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَدْ ذَكَرَهُمْ ابْنُ خُثَيْمٍ جَمِيعًا وَنَسِيتُهُمَا (وَفِيهِ أَيْضًا) قَالَ رَسُولُ قَيْصَرَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَقَالَ يَا أَخَا تَنُوخٍ هَلُمَّ فَامْضِ لِلَّذِي أُمِرْتَ بِهِ قَالَ وَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُهَا فَاسْتَدَرْتُ مِنْ وَرَاءِ الْحَلْقَةِ وَيَلْقَى بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَنْ ظَهْرِهِ فَرَأَيْتُ غُضْرُوفَ كَتِفِهِ مِثْلَ الْمِحْجَمِ الضَّخْمِ
آلِ معاویہ کے ایک غلام سعید بن ابی راشد سے مروی ہے، پھر انھوں نے سا بقہ روایت کی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں یہ بھی ہے: عیسائی پادریوں اور زعماء نے کہا کہ ہم دین کے بارے میں اس کی اتباع نہیں کریں گے، نہ ہی ہم اپنے اور اپنے آباء کے دین کو چھوڑ یں گے، نہ ہی ہم اسے خراج دینا قبول کرتے ہیں، البتہ ہم اس کے ساتھ لڑنے کو تیار ہیں۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ عباد نے بیان کیا کہ میں نے ابن خثیم سے کہا: کیا نجاشی نے اسلام قبول کر لیا تھا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کو اس کی وفات کی خبر دیتے ہوئے(غائبانہ) نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، وہ فلاں بن فلاں تھا اور یہ فلاں بن فلاں تھا۔ ابن خثیم نے ان سب کے نام لیے تھے، میں یہ نام بھول چکا ہوں۔ (اس روایت میں یہ بھی ہے کہ) قیصر کے قاصد نے کہا: جب میں واپس ہو کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایااور فرمایا: اے تنوخی ادھر آ، وہ کام بھی کر جا جس کا تجھے حکم دیا گیا تھا۔ دراصل میں اس کام کو بھول چکا تھا، میں لوگوں کے پیچھے سے چکر لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت پر جو چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ہٹایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کی ہڈی پر سینگی کے نشان جیسا بڑا نشان دیکھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10936]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن ابي راشد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16813»
وضاحت: فوائد: … یہ روایات تو ضعیف ہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھے تھے، ان میں سے ایک خط روم کے بادشاہ ہرقل کو بھی لکھا تھا،صحیح بخاری کی حدیث نمبر (۶) میں اس خط کی تفصیل موجود ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہرقل اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا مکالمہ بھی موجود ہے، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خط کے الفاظ یہ تھے:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلٰی ہِرَقْلَ عَظِیمِ الرُّومِ …
سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی
أَمَّابَعْدُ! فَإِنِّی أَدْعُوکَ بِدِعَایَۃِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ یُؤْتِکَ اللّٰہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ فَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَإِنَّ عَلَیْکَ إِثْمَ الْأَرِیسِیِّینَ وَ {یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَاء ٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا وَلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللّٰہِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْہَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ۔}
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے شاہِ روم ہرقل کی طرف!
اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے، اس کے بعد واضح ہو کہ میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں، اسلام لاؤ گے تو (قہرالہی) سے بچ جاؤ گے اور اللہ تمہیں تمہارا دو گنا ثواب دے گا اگر تم (میری دعوت سے) منہ پھیرو گے تو بلاشبہ تم پر (تمہاری) تمام رعیت (کے ایماننہ لانے) کا گناہ ہوگا اور اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، یعنییہ کہ ہم اور تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا پروردگار بنائے، پھر اگر اہل کتاب اس سے اعراض کریں تو تم کہہ دنیا کہ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم اللہ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبْشِيرِ النَّبِيِّ ﷺ وَهُمْ بِتَبُوكَ بِفَتْحِ فَارِسَ وَالرُّوْمِ وَخَصُوصِيَّاتٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَفِيهِ ذِكْرُ مَا فَعَلَهُ الْمُنَافِقُونَ مِنَ الْكَيْدِ أَثْنَاءَ الْعَوْدَةِ مِنْ تَبُوكَ
قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10937
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي فَاجْتَمَعَ وَرَاءَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُونَهُ حَتَّى إِذَا صَلَّى وَانْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ آكُلُهَا وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا كَانُوا يُحْرِقُونَهَا وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ وَالْخَامِسَةُ هِيَ مَا هِيَ قِيلَ لِي سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَهِيَ لَكُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک والے سال اللہ کے رسول قیام اللیل کے لیے کھڑے ہوئے،صحابہ کرام آپ کا پہرہ دینے کے لیے آپ کے پیچھے جمع ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ان کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: آج رات مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے کہ مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو وہ خصوصیات عطا نہیں کی گئیں، مجھے روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہے، مجھ سے پہلے محض اپنی اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیے جاتے تھے، دشمن پر رعب اور ہیبت کے ذریعے میریمدد کی گئی ہے، اگر چہ میرے اور اس کے درمیان ایک ماہ کی مسافت کیوں نہیں ہو، وہ اس کے باوجود مرعوب ہو جاتا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور میں اور میری امت اس مال کو کھا سکتے ہیں اور پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، مجھے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تو تیمم کر کے نماز ادا کر سکتا ہوں، مجھ سے پہلے لوگ اس خصوصیت سے محروم تھے، وہ اپنے گرجا گھروں اور مقررہ عبادت گاہوں میں ہی نماز ادا کر سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت کے تو کیا ہی کہنے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ آپ سوال کریں، ہر نبی اللہ تعالیٰ سے درخواست کر چکا ہے، تو میں نے اپنی درخواست کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، میرییہ درخواست تمہارے حق میں اور ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی جو صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10937]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7068»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پانچ خصوصیات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر بڑا احسان ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10938
عَنْ أَبِي هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَهَا ثَلَاثًا
ابو ہمام شعبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو خثعم کے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب اکٹھے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے فارس اور روم کے دو خزانے عطا فرما دئیے ہیں اور سرخ رنگ کے شاہانِ حمیر کے ذریعہ میری مدد فرمائی ہے، درحقیقت بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، یہ بادشاہ آتے ہیں اور اللہ کا مال لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10938]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي ھمام الشعباني، أخرجه عبد الرزاق: 19878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22691»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ممالک کے بارے میں یہ پیشین گوئی کر گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ان کوفتح کر لے گی اور صحابہ کے دور میں ہییہ پیشین گوئی پوری ہو گئی تھی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10939
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ حُذَيْفَةُ وَيَسُوقُ بِهِ عَمَّارٌ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وُجُوهَ الرَّوَاحِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحُذَيْفَةَ قَدْ قَدْ حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ فَقَالَ يَا عَمَّارُ هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَطْرَحُوهُ قَالَ فَسَأَلَ عَمَّارٌ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ كَمْ تَعْلَمُ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ فَقَالَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ فَعَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةً قَالُوا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ عَمَّارٌ أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ قَالَ الْوَلِيدُ وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنْ لَا يَرِدَ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک سے واپس ہوئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا اور اس نے اعلان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کے اوپر والا راستہ اختیار کریں گے، لہٰذا کوئی دوسراآدمییہ راستہ اختیار نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ او رپیچھے پیچھے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھے، منہ چھپائے اونٹوں پر سوار کچھ لوگ اچانک آگئے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پر ازدحام کر لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ کو ہانک رہے تھے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان حملہ آوروں کے اونٹوں کے مونہوں پر مارنا شروع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بس، بس۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اتر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیچے اترے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ واپس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمار! کیا آپ نے ان لوگوں کو پہنچانا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں اکثر اونٹوں کو تو پہچان چکا ہوں، البتہ وہ لوگ منہ چھپائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ ان کا کیا ارادہ تھا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا ارادہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الگ کر کے لے جائیں اور ان کو نیچے گرا دیں، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے چپکے سے ایک صحابی سے بات کی اور پوچھا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ اس نے کہا: چودہ، انہوں نے کہا کہ اگر تم بھی انہی میں سے ہو تو یہ کل تعداد پندرہ ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے تین آدمیوں کا نام لیا، جنہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم نے اللہ کے رسول کی طرف سے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا، اور نہ ہی ہمیں ان لوگوں کے ارادہ کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے باقی پندرہ آدمی سب ہی دنیا اور آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ ولید نے کہا کہ سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ نے اس غزوہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جب پانی کی قلت کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا اور اعلان کرایا کہ اللہ کے رسول سے پہلے کوئی آدمی پانی کے قریب نہ جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی کے قریب پہنچے تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ تو اس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر لعن طعن کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10939]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24202»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہاڑ کے اوپر والا راستہ اختیار کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان منافقین کو رسوا اور ناکام ظاہر کرنا چاہتے تھے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبوک سے واپسی پر قتل کر دینے کا مشورہ کیا تھا۔
حدیث کے آخر میں جس پانی کا ذکر ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۱۰۹۳۱)والے باب میں گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ رُجُوعِهِمْ إِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَفِيهِ أُمُورٌ شَتَّى
تبوک سے صحابہ کرام کی واپسی کا تذکرہ، یہ واپسی کئی امور پر مشتمل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10940
حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى جِئْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ اخْرُصُوا فَخَرَصَ الْقَوْمُ وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَخَرَجَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَبِيتُ عَلَيْكُمْ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومُ مِنْكُمْ فِيهَا رَجُلٌ فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ قَالَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فَعَقَلْنَاهَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ هَبَّتْ عَلَيْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ فِيهَا رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلِكُ أَيْلَةَ فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ كَمْ حَدِيقَتُكِ قَالَتْ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ خَرْصُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي مُتَعَجِّلٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ هِيَ هَذِهِ طَابَةُ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ هَذَا أُحُدٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم وادی ٔ قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک خاتون اپنے باغ میں موجود تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم اس باغ کے پھل کا تخمینہ لگاؤ۔ لوگوں نے اندازے لگائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس وسق کا تخمینہ لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اس باغ سے جو فصل حاصل ہو،اس کو یاد رکھنا، تاآنکہ میں تمہارے پاس ان شاء اللہ واپس آؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہو کر تبوک پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات انتہائی تیز ہوا اور آندھی چلے گی، تم میں سے کوئی آدمی آندھی میں کھڑا نہ ہو، جس کے پاس اونٹ ہے وہ اس کے پاؤں کی رسی کو مضبوط باندھ دے۔ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اونٹوں کو مضبوط باندھ دیا، جب رات ہوئی تو تیز آندھی چلی، ایک آدمی اس میں کھڑا ہو گیا تو آندھی نے اسے قبیلہ طے کے پہاڑوں میں جا گرا یا، بعدازاں ایلہ کا حاکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفید خچر بطور ہدیہ پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک چادر عنایت فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بستی اور علاقہ اس کو لکھ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم واپسی پر وادیٔ قری میں پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے دریافت فرمایا: تمہارے باغ سے کتنا پھل حاصل ہوا؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تخمینہ کے مطابق بتایا کہ دس وسق حاصل ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جلدی میں ہوں، میرے ساتھ جو کوئی جلدی جانا چاہتا ہے، تیار ہو جائے۔ آتے آتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: وہ مدینہ منورہ طابہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر احدپہاڑ پر پڑی تو فرمایا: یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، کیا میں تمہیں انصار کے بہترین قبائل سے آگاہ نہ کروں؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ضرور آگاہ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کے قبائل میں سب سے بہتر بنو نجار، ان کے بعد بنو عبدالاشھل اور ان کے بعد بنو ساعدہ ہے، پھر انصار کے تمام ہی قبائل میں خیر ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10940]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 1481، 3161، ومسلم: ص 1786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24002»
وضاحت: فوائد: … وادی ٔ قری سے مراد وہ وادی جو مدینہ اور شام کے درمیان ہے اور یہ بہت سی بستیوں پر مشتمل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابٌ فِي ذِكْرِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ لِعُذْرٍ
ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10941
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ ”إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفر کیا اور جس وادی کو طے کیا، وہ تمہارے ساتھ نہ جانے کے باوجود اجرو ثواب میں تمہارے ساتھ برابر شریک رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ منورہ ہی میں رہے اور سفر کے لیے نہیں نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مدینہ میں ہی رہے، دراصل بات یہ ہے کہ عذر نے ان کو روکا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10941]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2838، 4423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12032»
وضاحت: فوائد: … نیت اچھی ہو تو عمل کے بغیر ثواب مل جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10942
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي قَالَ فَقُلْتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَلَّفَهُ بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ سَعْدٌ خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَدْبَرَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ فَرَجَعَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا
سعید بن مسبب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے پوچھتے ہوئے ڈرتا بھی ہوں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، جب تم جانتے ہو کہ میرے پاس کسی بات کا علم ہے تو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، پوچھو، میں نے کہا: غزوۂ تبوک کے موقع پر جب اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ میں چھوڑنے کا اظہار فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے یہاں غزوہ سے پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کو تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یوںتیزی سے واپس ہوئے کہ گویا میں ان کے قدموں سے اُڑنے والے غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں، دوسری روایت میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ جلدی جلدی واپس لوٹ گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10942]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1490»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پرمدینہ کا انتظام سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو سونپا اور بال بچوں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10943
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى قَالَ فَابْتَدَؤُوا فَتَحَدَّثُوا فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا قَالَ فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ أُفٍّ وَتُفٍّ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ أَيْنَ عَلِيٌّ؟“ قَالُوا هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ قَالَ فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“ قَالَ وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟“ قَالَ وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ فَأَبَوْا فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟“ فَأَبَوْا قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ قَالَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] قَالَ وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ قَالَ وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَخْرُجُ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ لَا“ فَبَكَى عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي“ قَالَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ”أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“ وَقَالَ ”سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ“ فَقَالَ فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ قَالَ وَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ“ قَالَ وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ ”أَوَكُنْتَ فَاعِلًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ“
عمرو بن میمون سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میںبیٹھا تھا کہ نو آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: اے ابو العباس! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ چلیںیایہ لوگ اٹھ جائیں اور ہمیں خلوت دیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہارے ساتھ اٹھ جاتا ہوں، عمر و بن میمون کہتے ہیں: ان دنوں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحت مند تھے، یہ ان کے نابینا ہونے سے قبل کی بات ہے، عمرو کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ابتداء کرتے ہوئے بات کی، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا کہا؟ کچھ دیر بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آگئے، وہ کہہ رہے تھے، ہائے افسوس یہ لوگ اس آدمی پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، جسے دس امتیازات حاصل ہوں، یہ اس شخصیت پر معترض ہیں، جس کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں اب ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا کہ جسے اللہ کبھی ناکام نہیں کرے گا، وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کییہ بات سن کر بہت سے لوگوں نے گردنیں اوپر کو اٹھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ بتانے والے نے بتلایا کہ وہ اپنے خیمے میںآٹا پیس رہے ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اب تم میں سے کوئی آدمییہ کام نہیں کرتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھو ںمیں لعاب ڈالا، پھر جھنڈے کو تین بار لہرا کر ان کے حوالے کیا، وہ فتح یاب واپس ہوئے اور قیدیوں میں صفیہ بنت حیی بھی تھیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کو سورۂ توبہ دے کر روانہ کیا، اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ فرمایا، انہوں نے جا کر اس سے سورۂ توبہ لے لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس سورت کو ایسا آدمی لے جائے، جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی برادری سے فرمایا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو دنیا و آخرت میں میرا ساتھ دے اور میرے ساتھ رہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے تھے، لوگوں نے انکار کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ رہوں گا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا و آخرت میں تم میرے ساتھ ہی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں چھوڑ کر دوسرے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: تم میں سے کون دنیا و آخرت میں میرا ساتھ دے گا؟ لوگوں نے انکار کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دنیا و آخرت میں میں آپ کے ساتھ رہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے ساتھی ہو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد انہوں نے ہی سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر لے کر سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے اوپر ڈال دی اور فرمایا:{اِنَّمَایُرِیْدُ اللّٰہَ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الِّرجْسَ اَھْلَ الْبَیِتَ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا} … صرف اللہ تعالیٰیہ چاہتا ہے کہ وہ اے اہل بیت تم سے گندگی کو دور کر دے اور تم کو پاک صاف کر دے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی جان کا نذرانہ یوں پیش کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لباس زیب تن کر کے ان کی جگہ پر سوگئے اور مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مار رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے، انہوں نے سمجھا کہ یہ اللہ کے نبی ہیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی تو بئر میمون کی طرف تشریف لے گئے ہیں،یہ ایک کنویں کا نام تھا، آپ ان کے پاس مل جائیں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی پیچھے پہنچ گئے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ساتھ چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم راہ غار میں جا داخل ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح پتھر مارے گئے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارے جاتے تھے، اور وہ کپڑے ہی میں کپڑے کے نیچے ہی الٹ پلٹ رہے تھے، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں اچھی طرح چھپا لیا، سر کو باہر نہیں نکالتے تھے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، اس کے بعد انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، تو مشرکین نے کہا: تم بڑے ذلیل ہو، ہم تمہارے ساتھی کو پتھر مارتے تھے تو وہ اس طرح الٹتے پلٹتے نہیں تھے اور تم تو پتھر لگنے پر الٹے سیدھے ہوتے تھے، اور ہمیں یہ بات کچھ عجیب سی لگتی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو ساتھ لیے تبو ک کی طرف روانہ ہوئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آپ کے ہمراہ جاؤں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا تو وہ رونے لگے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو، میں جاؤں تو تم میرے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے یہاں رہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مزید فرمایا: میرے بعد تم ہر مومن کے دوست ہو۔ نیز فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو چھوڑ کر باقی تم سب لوگ اپنے اپنے دروازے بند کر دو۔ اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں داخل ہوجاتے تھے، کیونکہ ان کا ا س کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں بتلایا کہ کہ وہ اصحاب شجرہ یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں سے راضی ہے، اور ان لوگوں کے دلوں میںجو کچھ تھا، اللہ اس سے بھی واقف تھا، کیا اللہ نے اس کے بعد کسی موقع پر فرمایا کہ اب وہ ان سے ناراض ہو گیا ہے؟ نیز جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑادوں تو اللہ کے نبی نے فرمایا تھا: کیا تم ایسا کرو گے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر ڈالی اور فرمایا:اب تم جو چاہو کرتے رہو، (میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10943]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابو بلج يحيي بن سليميقبل حديثه فيما لا ينفرد به، اخرجه الحاكم: 3/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3061»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مقصود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا غزوۂ تبوک کے متعلقہ تذکرہ ہے، جس کے بارے میں امام ابن تیمیہi نے کہا: اس حدیث کے بعض جملے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ ہیں، جیسا کہ یہ جملہ ہے: ((أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍّ، إِنَّہُ لَا یَنْبَغِی أَنْ أَذْہَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِیفَتِی۔)) … (تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو، میں جاؤں تو تم میرے نائب کی حیثیت سے یہاں رہو)۔ کیونکہ کئی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اور نائب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور صحابی ہوا کرتا تھا، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرۂ حدیبیہ کے موقع پر تشریف لے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ خیبر کے لیے روانہ ہوئے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر خلیفہ کوئی اور صحابی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر تشریف لے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدینہ پر مقرر کردہ خلیفہ کوئی اور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں شرکت کی، ان میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر کے لیے تشریف لے گئے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا۔ یہ تمام تاریخی امور صحیح اسانید اور اہل علم کے اتفاق سے معروف ہیں، زیادہ تر غزوات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، اگرچہ لڑائی نہ لڑی گئی ہو۔ (منھاج السنۃ: ۵/ ۳۴)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں