الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: Q11044]
14. بَابُ مَا جَاءَ مِنْ ذَلِكَ مُشْتَرِكًا
ان احادیث کا بیان، جن میں ان سب چیزوں کا ذکر ملتا ہے
حدیث نمبر: 11044
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اجْتَمَعَ الْقَوْمُ لِغُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهْلُهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَالِحٌ مَوْلَاهُ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا لِغُسْلِهِ نَادَى مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ نَشَدْتُكَ اللَّهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ ادْخُلْ فَدَخَلَ فَحَضَرَ غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَلِ مِنْ غُسْلِهِ شَيْئًا قَالَ فَأَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ وَكَانَ الْعَبَّاسُ وَالْفَضْلُ وَقُثَمُ يُقَلِّبُونَهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَصَالِحٌ مَوْلَاهُمَا يَصُبَّانِ الْمَاءَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يَغْسِلُهُ وَلَمْ يُرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ مِمَّا يُرَى مِنَ الْمَيِّتِ وَهُوَ يَقُولُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا حَتَّى إِذَا فَرَغُوا مِنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُغَسَّلُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ جَفَّفُوهُ ثُمَّ صُنِعَ بِهِ مَا يُصْنَعُ بِالْمَيِّتِ ثُمَّ أُدْرِجَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدِ حِبَرَةٍ ثُمَّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ فَقَالَ لِيَذْهَبْ أَحَدُكُمَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَضْرَحُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَلْيَذْهَبِ الْآخَرُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَلْحَدُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَهُمَا حِينَ سَرَّحَهُمَا اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ قَالَ فَذَهَبَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا عُبَيْدَةَ وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِي طَلْحَةَ أَبَا طَلْحَةَ فَجَاءَ بِهِ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کے لیے لوگ جمع ہوئے، گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا فضل بن عباس، سیدنا قثم بن عباس، سیدنا اسامہ بن زید بن حار ثہ اجمعین اور ان کا غلام سیدنا صالح رضی اللہ عنہ تھے، یہ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کے لیے جمع ہوئے تو دروازہ کے باہر سے بنو عوف بن خزرج کے ایک فرد سیدنا اوس بن خولی انصاری بدری رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو آواز دیتے ہوئے کہا: اے علی! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، ہمارا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حق اور حصہ ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اندر آجاؤ، سو وہ اندر آگئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے موقع پر حاضر رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے میں شریک نہیں ہو سکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قمیض اسی طرح رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے سے لگا لیا، سیدنا عباس، سیدنا فضل اور سیدنا قثم، سیدنا علی بن ابی طالب کے ساتھ مل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو کو بدلتے اور سیدنا اسامہ بن زید اور ان کا غلام سیدنا صالح رضی اللہ عنہ پانی ڈالتے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیتے، عام طور پر فوت ہونے والوں کے جسم میں جو ناروا باتیں دیکھی جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیتے جاتے اور کہتے: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی کس قدر پاکیزہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیری کے پتے ملے پانی سے غسل دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کو خشک کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ سارے کام کئے گئے جو میت کے ساتھ کئے جاتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں داخل کیا گیا، ان میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار چادر تھی، اس کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلوا کر ایک کو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف اور دوسرے کو سیدنا ابو طلحہ بن سھل رضی اللہ عنہ انصاری کو بلانے کے لیے بھیجا، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مکہ میں اہل مکہ کے لیے قبر کھودا کرتے تھے، یہ صندوقییعنی شق والی قبر بناتے تھے اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اہل مدینہ کے لیے بغلییعنی لحد والی قبر تیار کیا کرتے تھے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو روانہ کرنے کے بعد کہا: اے اللہ! ان دونوں میں سے تو جسے چاہے، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اختیار فرما، وہ دونو ں گئے، جو آدمی سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بلانے گیا تھا، وہ اسے نہیں مل سکے، اور جو آدمی سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلانے گیا تھا، وہ اسے مل گئے، چنانچہ وہ ان کو ساتھ لے آئے اور انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحدوالی (بغلی قبر) تیار کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11044]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2357»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11045
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِيهِ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى وَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ نَائِمًا قَالَتْ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ فَقَالَ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَثَارُوا إِلَيْهِ فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قَمِيصِهِ يُفَاضُ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَالسِّدْرُ وَيُدَلِّكُهُ الرِّجَالُ بِالْقَمِيصِ وَكَانَتْ تَقُولُ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب اہل خانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کریں؟ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اسی طرح برہنہ کریں، جیسے ہم اپنے مردوں کو برہنہ کیا کرتے ہیں؟یا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت ہی غسل دے دیں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: جب ان میں اس بات پر اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب پر اونگھ سی طاری کر دی،یہاں تک کہ نیند کی حالت میں سب لوگوں کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر جا لگیں، پھر گھر کے ایک کونے سے کسی نے ان سے بات کی، ان کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون تھا؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دو، وہ سب جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قمیص سمیت غسل دیا، اس کے اوپر سے ہی پانی اور بیری کے پتوں کو بہایا گیا، اور مرد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کو قمیص سمیت ملتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے معلوم ہو جاتی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ہی غسل دیتیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11045]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3141، وابن ماجه: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26837»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں کو سمجھانے کا کیسا معجزاتی انداز اختیار کیا، سبحان اللہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11046
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ الْمَاءُ مَاءُ غُسْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَسَّلُوهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ يَسْتَنْقِعُ فِي جُفُونِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَحْسُوهُ
جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب غسل دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برتنوں میں جمع ہو گیا اور علی رضی اللہ عنہ اسے گھونٹ بھر بھر نوش کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11046]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، جعفر بن محمد الصادق لم يدرك ذالك ولم يسنده، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2403»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَكْفِينِهِ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکفین کا بیان
حدیث نمبر: 11047
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ (عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11047]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به، ولمخالفته الحديث الصحيح الذي رواه البخاري ومسلم عن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كفِّن في ثلاثة أثواب يمانية بيض سحولية من كرسف۔ والقول الفصل في عبد الله بن محمد بن عقيل ما قال ابن حجر في التلخيص الحبير أنه سيء الحفظ يصلح حديثه للمتابعات، فأما اذا انفرد فيحسن، وأما اذا خالف فلايقبل۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 262، والبزار: 646، وابن سعد: 2/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 728، 801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 728»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به
حدیث نمبر: 11048
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک قمیص تھی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تھے اور نجرانی حُلّہ (جوڑا) تھا، حلہ دو کپڑوں کا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11048]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يزيد بن أبي زياد ضعيف أخرجه أبوداود: 3153، وابن ماجه: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1942»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 11049
(وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا) قَالَ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدٍ أَحْمَرَ
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفید رنگ کی دو اور سرخ رنگ کی ایک چادر میں کفن دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11049]
تخریج الحدیث: «حسن، محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلي قد توبع أخرجه البيھقي: 3/ 400، والطبراني: 12056، وعبد الرزاق: 6166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2284، 2861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2863»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 11050
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي ثَلَاثَةِ رِيَاطٍ يَمَانِيَّةٍ) قَالَ كَفِّنُونِي فِي ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَاشْتَرُوا ثَوْبًا آخَرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سحول مقام کے بنے ہوئے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (اپنی وفات کے وقت) دریافت کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ تین کپڑوں میں، ایک روایت میں ہے کہ تینیمنی چادروں میں،یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے میرے ان دو (زیر استعمال) کپڑوں میں کفن دینا اور مزید ایک کپڑا خرید لینا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11050]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1271، ومسلم: 941، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24623»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے کفن دیا گیا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۳۱۱۴)والا باب۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1271
حدیث نمبر: 11051
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ ثُمَّ أُخِذَ عَنْهُ قَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ
قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھاری دار کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا، پھر اس کپڑے کو اتار لیا گیا تھا۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا: اس کپڑے کے کچھ بچے ہوئے ٹکڑے تاحال ہمارے پاس موجود ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11051]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25794»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
17. بَابُ مَا جَاء فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
حدیث نمبر: 11052
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ قَالَ بَهْزٌ إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا قَالَ فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ قَالَ فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُغِيرَةُ قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو عسیبیا ابو عسیم رضی اللہ عنہ،جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ کے موقع پر حاضر تھے، بیان کرتے ہیں: صحابہ کہنے لگے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز کیسے پڑھیں، انھوں نے کہا: تم گروہوں کی صورت میں اندر جاؤ، سو وہ اس دروازے سے داخل ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ادا کرتے اور پھر دوسرے دروازے سے باہر چلے جاتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لحد میں رکھ دیا گیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی جانب کچھ جگہ قابلِ اصلاح رہ گئی ہے، صحابہ نے ان سے کہا: تم لحد میں داخل ہو کر اسے ٹھیک کر آؤ، وہ اندر گئے، اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کو مس کیا اور ساتھ ہی کہا کہ تم میرے اوپر مٹی ڈال دو، صحابہ نے ان کے اوپر مٹی ڈال دی،یہاں تک کہ ان کی نصف پنڈلیوں تک مٹیآگئی، اس کے بعد وہ باہر آگئے، وہ کہا کرتے تھے تم سب کی نسبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے آخر میں مس کرنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11052]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21047»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے شروع میں جس نماز کا ذکر ہے، اس کو نمازِ جنازہ پر ہی محمول کرنا چاہیے، نہ کہ درود اور دعائے رحمت کرنے پر، کیونکہ میت کے ساتھ جب صَلّٰییُصَلِّی کے الفاظ آتے ہیں تو ان کے شرعی اور متبادر الی الذہن معانی نماز جنازہ کے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح