🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ خُطْبَةٍ فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَصِفَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبُخْلِ وَالْكَذِبِ
حلال وحرام کے بیان، اہل جنت واہلِ جہنم کی صفات، اور بخل وکذب کے بیان پر مشتمل ایک خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11091
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي فِي يَوْمِ هَذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَأَضَلَّتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَجَمِيَّهُمْ وَعَرَبِيَّهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ يَا رَبِّ إِذَنْ يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً فَقَالَ اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ فَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ عَلَيْهِمْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جُنْدًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ وَرَجُلٌ فَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا أَوْ تُبَّعًا شَكَّ يَحْيَى لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى عَلَيْهِ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرَ الْفَاحِشَ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا:میرے رب عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے آج مجھے جو کچھ بتایا ہے، اس میں سے تم جو باتیںنہیں جانتے ہیں، وہ تمہیں وہ سکھا دوں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: میں نے اپنے بندوں کو جو مال بھی دیا ہے وہ ان کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو موحد پیدا کیا ہے، شیاطین نے ان کے پاس آکر انہیں راہ ہدایت سے گمراہ کیا ہے۔ میں نے ان کے لیے جو کچھ حلال ٹھہرایا تھا، شیاطین نے دھوکے سے ان پر اسے حرام کر دیا، اور میں نے جس شرک کے حق میں کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی، شیطانوں نے انہیں میرے ساتھ ان کو شریک کرنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین پر نظر ڈالی، وہ اہل کتاب کے چند بچے کھچے افرادکے سوا باقی تمام عجمیوں اور عربوں پر ناراض ہو گیا، اور اللہ نے کہا کہ میں نے آپ کو (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) آزمانے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے لوگوں کو آزمانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں مٹا سکتا، آپ نیند اور بیداری کی حالت میں اس کی تلاوت کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو جلا ڈالوں۔ (یعنی ان کا خاتمہ کر دوں) تو میں نے عرض کیا: اے رب! پھر تو یہ لوگ میرا سر پھوڑ ڈالیں گے اور اسے روٹی کی مانند بنا ڈالیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس طرح انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہر بدر کیا، آپ بھی اسی طرح ان کو جلا وطن کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے قتال کریں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر خرچ کریں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مزید عطا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لشکر بھیجیں اور ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے، جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو ساتھ لے کر اپنے نافرمانوں سے قتال کریں۔ تین قسم کے لوگ جنتی ہیں۔ انصاف کرنے والے اور خرچ کرنے والے حکمران، رحم کرنے والے اور ہر رشتہ دار اور مسلمان کے حق میں نرم دل رکھنے والے اور غریب لوگ جو گناہوں سے بچنے والے اور اللہ کی توفیق سے اس کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور پانچ قسم کے لوگ جہنمی ہیں: بے عقل غریب، جو تمہارے پیچھے پیچھے رہتے ہیں، انہیں اہل یا مال کی تمنا نہیں ہوتی،وہ خائن کہ جس پر طمع کی کوئی چیز مخفی نہ رہتی ہو، اگرچہ وہ چھوٹی ہو، مگر اس میں خیانت کر جاتا ہو، وہ آدمی جو صبح شام یعنی ہر لمحہ تجھے تیرے اہل و مال میں دھوکہ دینا چاہتا ہو۔ آپ نے بخل، کذب(جھوٹ) اور بدخلقی کا بھی ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11091]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17623»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2865
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ خُطْبَةِ اسْتَغْرَقَتْ يَوْمًا كَامِلًا ذَكَرَ فِيهَا النَّبِيُّ ﷺ مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنُ
اس خطبہ کا بیان جو سارا دن جاری رہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطبہ میں ماضی اور مستقبل کے سارے احوال بیان فرمائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11092
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمَنَا أَحْفَظَنَا
سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور خطبہ ارشاد فرماتے رہے تاآنکہ نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ جاری رکھا،یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیچے اتر کر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد پھر منبر پر تشریف لے گئے، اور خطبہ دیا،یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماضی اور مستقبل کے سارے احوال بیان فرمائے، ہم میں سے جس نے وہ باتیں زیادہیاد رکھیں، وہ ہم میں سے زیادہ علم والا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11092]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23276»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2892
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ خُطْبَةٍ فِي شَأْنٍ الْأَنْصَارِ رضی اللہ عنہم
اس خطبہ کا تذکرہ جس میں انصار کی شان اور فضیلت بیان ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11093
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمُ الْقَالَةُ حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ قَدْ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ قَسَمْتَ فِي قَوْمِكَ وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ وَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ قَالَ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي وَمَا أَنَا قَالَ فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ قَالَ فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسَ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ قَالَ فَجَاءَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ فَدَخَلُوا وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ فَقَالَ قَدِ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ وَجِدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ قَالُوا بَلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ قَالَ أَلَا تُجِيبُونَنِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَصُدِّقْتُمْ أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَعَائِلًا فَأَغْنَيْنَاكَ أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا وَوَكَلْتُكُمْ إِلَى إِسْلَامِكُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رِحَالِكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ قَالَ فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ وَقَالُوا رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ قِسْمًا وَحَظًّا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقْنَا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اموالِ غنیمت میں سے قریش اور دیگر عرب قبائل کو بہت کچھ عنایت فرمایا اور ان میں سے انصار کو کچھ بھی نہ ملا تو اس کی وجہ سے انصار کے اس گروہ نے اپنے دلوں میں کچھ انقباض محسوس کیایہاں تک کہ اس سلسلہ میں بہت سی باتیں ہونے لگیںیہاں تک کہ بعض نے تو یہ تک کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کی قوم کی محبت غالب آگئی ہے۔ سعد بن عبادہ خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر عرض کیا اللہ کے رسول آپ نے اس مال غنیمت کی جس انداز سے تقسیم کی ہے لوگوں کے دلوں میں اس کی وجہ سے وسوسے پیدا ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوم، قریش اور دیگر عرب قبائل کو تو بڑے بڑے عطیے عنایت فرما دئیے اور انصار کے قبیلہ کو کچھ بھی نہیں ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد رضی اللہ عنہ! ایسی باتیں ہو رہی ہیں تو تم کہاں ہو؟ انہوں نے عرض کیااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو اپنی ہی قوم کا فرد ہوں۔ لیکن میرے دل میں تو ایسی کوئی بات نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی قوم (انصار) کو اس باڑے میں جمع کرو۔ سعد رضی اللہ عنہ گئے اور اپنی ساری قوم جو جمع کر کے اس باڑے میں لے آئے۔ کچھ مہاجرین آئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آگئے کچھ اور بھی آنا چاہا تو سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس بھیج دیا، جب سب لوگ جمع ہو گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق انصار جمع ہو چکے ہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ کے شایانِ شان تعریف کی پھر فرمایا، اے انصار کی جماعت! تمہاری طرف سے یہ کیسی بات مجھ تک پہنچی ہے؟ کیا تم نے اپنے دلوں میں کچھ رنجش محسوس کی ہے؟ کیایہ حقیقت نہیں کہ میں تمہارے پاس آیا تو تم راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے تو اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز کیا؟ اور تم تنگ دست تھے تو اللہ نے تمہیں مال دار بنا دیا؟ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اللہ نے تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا؟ سب انصار نے کہا کہ یہ بالکل صحیح ہے اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بہت فضل اور احسان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے انصار! کیا تم میری ایک بات نہیں مانو گے؟ وہ بولے اللہ کے رسول! کونسی بات؟ ہم پر تو اللہ اور اس کے رسول کا بہت احسان اور فضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تمہاری بات ہو گی بھی درست (کہ تم یوں کہو) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ایسی حالت میں آئے جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (یعنی رسول کی) تکذیب کرتے تھے ہم (انصار) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (آپ کی قوم نے) بے یارومددگارچھوڑا ہوا تھا۔ ہم (انصار) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی، قوم نے آپ کو اپنے شہر اور وطن سے بے دخل کر دیا تھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رہنے کی جگہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رسول اور مسلمان،مہاجرین) تنگ دست تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مال دار کیا تو اے انصار کیا تم نے دنیوی معمولی متاع کی وجہ سے دلوں میں رنجش پیدا کر لی، میں نے تو ان لوگوں کو یہ مال اس لیے دیا ہے تاکہ وہ اسلام میں پختہ ہو جائیں اور میں نے تمہیںتو تمہارے اسلام کے سپرد کیا، اے انصار! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اللہ کے رسول کو ساتھ لے کر گھروں کو واپس لوٹو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے اگر ہجرت والی سعادت نہیں ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی دوسری گھاٹی میں سے گزریں تو میں بھی اس گھاٹی میں چلوں گا جہاں سے انصار چلیں گے۔ یا اللہ انصار پر، ان کی اولادوں پر اور ان کی اولادوں کی اولادوں پر سب پر رحم فرما۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن کر وہ لوگ اس قدر بلک بلک کر رونے لگے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ اور وہ کہنے لگے ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم اور اپنے حصہ پر راضی ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور ہم بھی چلے آئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11093]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11753»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11094
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ حَجَّاجٌ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور دریافت فرمایا: کیا تمہارے اندر تمہارے علاوہ کوئی دوسرا فرد تو نہیں ہے؟ انہوں نے بتلایا: جی نہیں، صرف ہمارا ایک بھانجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھانجا تو اسی قوم کا ہی فرد ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش تازہ تازہ کفر چھوڑ کر اور شکست کی مصیبت سے دوچار ہوئے ہیں، میں ان کو کچھ دے دلا کر ان کی تالیف قلبی کرنا چاہتا ہوں، کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ لوگ دنیا کا مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو جاتے ہوئے اللہ کے رسول کو ساتھ لے کر جاؤ، اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار کسی پہاڑی گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو ترجیح دیتے ہوئے اسی میں چلوں گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11094]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4334، ومسلم: 1059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12796»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4334
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ خُطبَتِهِ ﷺمِنِّى يَوْمِ النَّحْرِ غَيْرَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11095
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فِي رِوَايَةٍ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر منی میں خطبہ ارشاد فرمایا، میں اس وقت اونٹنی کی گردن کے نیچے کھڑا تھا اور وہ انتہائی مطمئن کھڑی جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب مجھ پر گر بھی رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، کسی بھی شرعی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ اسی کی طرف منسوب ہو گا، جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، اس بچے کی ولدیت کا دعویٰ کرنے والا زانی سنگساری کا مستحق ہے اور جس کسی نے خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی، اس کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11095]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابوداود: 5115، وابن ماجه: 2714، والترمذي: 2121، والنسائي: 6/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18251»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں موجود فقہی اور تفصیل طلب مسائل متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه ابوداود: 5115
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11096
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِي وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِي وَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ كَاهِلِ نَاقَتِهِ فَقَالَ وَلَا مَا يُسَاوِي هَذِهِ أَوْ مَا يَزِنُ هَذِهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
۔(دوسری سند) سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: صدقہ کا مال میرے لیے اور میرے اہل بیت کے لیے حلال نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کے کاندھے کے بالوں کا ایک گچھا پکڑ کر فرمایا: بلکہ میرےلیے تو صدقہ میں سے اس مقدار جتنی چیز بھی حلال نہیں اور جس نے خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ (باقی حدیث، گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔) [الفتح الربانی/حدیث: 11096]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17814»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11097
حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ قَالَ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ يُعَبِّرُ عَنْهُ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى أَدْخَلْتُ يَدِي بَيْنَ قَدَمِهِ وَشِرَاكِهِ قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ بَرَدِهَا
سیدنا عامر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خچر پر سوار خطبہ دیتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ رنگ کی چادر زیب تن کئے ہوئے تھے، ایک بدری صحابی آپ کے سامنے تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو (بلند آواز میں) دہرا کر لوگوں تک پہنچا رہا تھا۔ میں نے آکر اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم اور تسمے میں داخل کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کی ٹھنڈک سے از حد تعجب ہوا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11097]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 4073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16016»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، جن کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11098
عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ
۔(دوسری سند) سیدنا عامر مزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفید خچر پر سوار تھے اور لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی آواز سن کر اسے دہرا کر لوگوں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطاب پہنچا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11098]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16017»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11099
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَى ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى ثُمَّ قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَتِ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مِنْكُمْ فَلَعَلَّ مَنْ يُبَلَّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ يَسْمَعُهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ كَانَ ذَاكَ قَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ مَنْ بُلِّغَهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! بے شک، زمانہ اپنی اسی کیفیت اور ہیئت پر لوٹ آیا ہے، جس کیفیت اور ہیئت پر اللہ نے اسے اس دن بنایا تھا، جس دن اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا، سال کے بارہ مہینے ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ ان میں سے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، اور محرم متواتر ہیں اور چوتھا مہینہ رجب ہے،جو کہ جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے اور قبیلہ مضر کے لوگ جس کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر خاموش رہے کہ ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا کوئی نیانام تجویز کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا آج یوم النحر (یعنی دس ذوالحجہ والا قربانی کا دن) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حد تک خاموش رہے کہ ہم نے سمجھا شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کاکوئی نیا نام تجویز کریں گے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ ذوالحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر خاموش رہے کہ ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا کوئی نیا نام تجویز کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بلدۂ طیبہ(یعنی پاکیزہ شہر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارے خون، اموال اور عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے آج کے دن کی، اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے، عنقریب تمہاری اپنے رب سے ملاقات ہو گی، وہ تم سے تمہارے کاموں کا محاسبہ کرے گا خبردار تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، خبردار! کیا میں نے اللہ کا دین تم تک پہنچا دیا؟(یا نہیں) خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ عین ممکن ہے کہ براہ راست سننے والے بعض لوگوں کی نسبت وہ لوگ انہیں بہتر طور پر سمجھیں اور یاد رکھیں جن تک یہ باتیں پہنچائی جائیں۔ (محمد بن سیرین راویٔ حدیث نے کہا کہ) واقعی ایسا ہوا۔ براہ راست سننے والے بعض لوگوں کی نسبت ان بعض لوگوں نے ان باتوں کو زیادہیاد رکھا جن تک یہ باتیں پہنچیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3197، 4406، 5550، 7078، 7447، ومسلم: 1679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20657»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11100
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ أَشْرِفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ فَقَالُوا هَذَا أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍ
۔(دوسری سند) یہ حدیث اسی طرح ہی مروی ہے، البتہ اس میں ان الفاظ: تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ کے بعد ہے: جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو جلا یا تو اس نے برے ارادہ سے اپنے ساتھیوں سے کہا: اب ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چلو، لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ ہے، عبد الرحمن یعنی ابوبکرہ کے بیٹے نے کہا: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ ابوبکرہ نے کہا: اگر وہ لوگ میری طرف آتے تو میں اپنے دفاع کے لیے ان کی طرف ایک سر کنڈے کا بھی اشارہ نہ کرتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11100]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20678»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20678
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں