الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبَرُّكِهِمْ بِأَثْرِ شُرْبِهِ وَفَضْلٍ وُضُوئِهِ
صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا
حدیث نمبر: 11322M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْهَا قَائِمًا فَقَطَعْتُ فَاهَا وَإِنَّهُ لَعِنْدِي
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے ماں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا اور اس نے مشکیزہ کا منہ کاٹ لیا، اب وہ میرے پاس موجود ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27976»
وضاحت: فوائد: … دراصل یہ واقعہ سیدہ کبشہ بنت ثابت انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیش آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر ان کے مشکیزے سے پانی پیا، انھوں نے اس حصے کو کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک والی جگہ کی برکت کی امید وارتھیں۔
(ملاحظہ ہو: جامع ترمذی: ۱۸۹۲، ابن ماجہ: ۳۴۲۳، مسند احمد: ۲۷۴۴۸)
(ملاحظہ ہو: جامع ترمذی: ۱۸۹۲، ابن ماجہ: ۳۴۲۳، مسند احمد: ۲۷۴۴۸)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ قُبَّةً حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ بِوَضُوءٍ لِيَصُبَّهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ
سیدنا سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے چمڑے کا سرخ رنگ کا چھوٹا سا خیمہ دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نصب کیا گیا تھا، پھر میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی لائے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈالیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کریں)، پس لوگ (وضو والا پانی سے تبرک حاصل کرنے کے لیے) لپکے، جس کو کچھ پانی مل گیا، اس نے اس کو اپنے جسم پر مل دیا اور جو آدمی پانی حاصل نہ کر سکا، اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے پانی لینا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 376، 5786، ومسلم: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18967»
وضاحت: فوائد: … پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود بابرکت تھا، وہاں وہ چیز بھی برکت والی ہو جاتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مبارک کو مس کرتی تھی، تبرک حاصل کرنے کی مزید مثالیں ابھی تک جاری ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 376
35. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَبَرُّكهم بأثر يده وأصابعه الشَّرِيْفَةِ ﷺ
صحابۂ کرام کاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز ادا کر لیتے تو اہل مدینہ کے نوکر چاکر برتن لے کر آ جاتے، ان میں پانی ہوتا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو برتن بھی لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں ہاتھ ڈبو دیتے تھے، بسا اوقات تو ایسے ہوتا کہ لوگ سردی والی صبح کو پانی لے آتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12428»
وضاحت: فوائد: … اس طرح سے وہ پانی بابرکت ہو جاتا تھا اور صحابۂ کرام اس سے برکت حاصل کرتے تھے، اس حدیث ِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن اخلاق کا بیان بھی موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2324
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَسٍ يَا أَنَسُ مَسَسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرِنِي أُقَبِّلُهَا
جناب ثابت l سے مروی ہے، انھوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے انس! کیا تم نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ مس کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تو انھوں نے کہا: لیجئے، مجھے وہ دکھاؤ، میں اس کا بوسہ لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره اخرجه الدارمي: 50، والبخاري في الادب المفرد: 974، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12118»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره اخرجه الدارمي: 50
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ ابْنُ رَزِينٍ أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابٌ لَهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ قِيلَ لَهُمْ هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًا
جناب عطاف کہتے ہیں: عبد الرحمن بن رزین اپنے ساتھیوں سمیت ربذہ مقام پر اترے، وہ حج کرنے کے لیے جا رہے تھے، ان سے کسی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ یہاں موجود ہیں، وہ کہتے ہیں: پس ہم ان کے پاس آئے، ان کو سلام کہا اور پھر ہم نے ان سے سوالات کیے، انھوں نے کہا: میں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، پھر انھوں نے اپنا ہاتھ نکالا، ان کی ہتھیلی بڑی تھی، پس ہم نے اٹھ کر ان کی طرف گئے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن اخرجه البخاري في الادب المفرد: 973، والطبراني في الاوسط: 661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16666»
وضاحت: فوائد: … یہ تابعین عظام اور سلف صالحین کی نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری محبت کا نتیجہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن اخرجه البخاري في الادب المفرد : 973
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ فَوَضَعْتُ إِصْبَعِي عَلَيْهَا فَقَالَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ ذَا جُمَّةٍ
حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے کنارے پر ایک تل دکھایا، میں نے اپنی انگلی اس پر رکھی، دراصل انھوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تل پر اپنی انگشت ِ مبارک رکھی تھی اور فرمایا تھا کہ تو ضرور ضرور ایک صدی عمر پائے گا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ لمبے لمبے بالوں والے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن اخرجه الحاكم: 2/ 549، 4/ 500، والبيھقي في الدلائل: 6/ 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17841»
وضاحت: فوائد: … حسن بن ایوب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی وجہ سے اس تل پر ہاتھ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی تھی اور سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے ایک صدی عمر پائی تھی۔ مونڈھوں تک لٹکی ہوئی زلفوں کو جُمّہ کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن اخرجه الحاكم: 2/ 549
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَحْفَةٍ فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَذُقْهَا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ“ قَالَ لِمَ تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَا تَأْكُلُ فَقَالَ ”إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ“
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانالایا جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کھاتے اور بچ جانے والا کھانا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشانات کو تلاش کرتے اور اپنی انگلیاں وہاں رکھتے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کا اثر نظر آتا تھا، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پلیٹ میں کھانا لایا گیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے لہسن کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نہیں کھایا اور سارا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشان نہیں دیکھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کھانے میں آپ کی انگلیوں کے آثار نظر نہیں آ رہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کھانے میں لہسن کی بو محسوس کی ہے۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ خود نہیں کھاتے، وہ میری طرف کیوں بھیجتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرا پاس فرشتہ آتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه الترمذي: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20622»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی اس سے سابقہ حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب مسجد میں نہ جاناہو تو لہسن اور پیاز وغیرہ کھائے جا سکتے ہیں، لیکن بیچ میں اتنا وقت ہونا چاہیے کہ مسجد میں جانے تک منہ سے بو کے اثرات زائل ہو جائیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح اخرجه الترمذي: 1807
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً عَلَيْهَا لَبِنَةُ شَبْرٍ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ قَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا يَسْتَشْفِي بِهَا
مولائے اسماء جناب عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27481»
وضاحت: فوائد: … عجموں کے ایک لباس کو طیالسہ کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2069