الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ المَاءِ وَتَكْثِيرِهِ بِبَرَكَتِهِ
یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا
حدیث نمبر: 11318
عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ انْتَهَيْنَا إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ بِئْرٌ قَدْ نُزِحَتْ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ فَنُزِعَ مِنْهَا دَلْوٌ فَتَمَضْمَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ وَدَعَا قَالَ فَرُوِينَا وَأَرْوَيْنَا
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم حدیبیہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں ایک کنواں تھا، جس کا پانی ختم ہونے کے قریب تھا۔ ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ کنوئیں سے پانی کا ایک ڈول نکالا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کچھ پانی لے کر کلی کرکے وہ اس میں ڈال دیا اور دعا بھی فرمائی۔ پس پھر ہم پانی سے خوب سیراب ہوئے اور دوسروں کو بھی سیراب کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11318]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3577، 4150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18762»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11319
عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيَّةٍ ذَمَّةٍ يَعْنِي قَلِيلَةَ الْمَاءِ قَالَ فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَةً فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيَّةِ فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قِرَابَ ثُلُثَيْهَا فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَرَاءُ فَكِدْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ فَرُفِعَتِ الدَّلْوُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَنَا أُخْرِجَ بِثَوْبٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ قَالَ ثُمَّ سَاحَتْ يَعْنِي جَرَتْ نَهْرًا
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہم ایک ایسے کنوئیں تک پہنچے جس میں بہت تھوڑا پانی تھا، کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے پانچ آدمی اس میں اترے، میں چھٹا تھا، کنویں میں ہماری طرف ڈول ڈالا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں کے کنارے پر موجود تھے۔ ہم نے اس ڈول میں اس کے نصف تک یا دو تہائی تک پانی بھرا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اوپر کو کھینچ لیا گیا۔ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کوشش کی کہ اپنے برتن میں کچھ پانی ڈال کر اپنے حلق کو تر کر لوں، مگر مجھے اس قدر تھوڑا سا پانی بھی نہ مل سکا۔ ڈول اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھینچا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈبو کر اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور ڈول کو پانی سمیت کنویں کے اندر ہماری طرف واپس اتارا گیا۔ اس کی برکت سے کنویں میں اتنا پانی ہو گیا کہ ہمارے ڈوب جانے کے اندیشہ سے ہم میں سے ہر ایک کو کپڑے کے ساتھ باندھ کر باہر نکالا گیا، اس کے بعد وہ نہر کی طرح بہنے لگا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11319]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال يونس بن عُبيد، اخرجه الطبراني في الكبير: 1177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18785»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11320
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَفِيهَا جَرْعَةُ مَاءٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ ”لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا قَتَادَةَ ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”احْلِلْ لِي غُمَرِي“ يَعْنِي قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رَيٍّ“ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ لِي فَقَالَ ”اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ“ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کے ساتھ تھا، ان کے پاس وضو کا ایک برتن تھا، جس میں محض ایک چلو کی مقدارپانی تھا، جب دھوپ خوب تیز ہوئییعنی گرمی بڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے آئے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پیاس کی شدت کی وجہ سے ہم مر رہے ہیں، ہماری تو گردنیں ٹوٹ رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا: آج تم پر ہلاکت نہیں پڑے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! تم وضو والا برتن لے کر آؤ۔ میں نے وہ برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے فرمایا: تم میرا چھوٹا پیالہ کھول لاؤ۔ میں اسے کھول کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا، آپ اس میں پانی ڈال کر لوگوں کو پلانے لگے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی بھرنے کے لیے اچھا رویہ اپناؤ، تم میں سے ہر ایک سیراب ہو کر لوٹے گا۔ سب لوگوں نے خوب پانی پیا، صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میں بچ گئے، آپ نے پیالے میں میرے لیے پانی ڈالا اور فرمایا: ابو قتادہ! لو پیو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے آپ پئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ تب میں نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد نوش فرمایا اور وضو کے برتن میں پانی جتنا تھا، وہ تقریباً اتنا ہی رہا۔ اس دن صحابہ کی تعداد تین سو تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11320]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22546»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11321
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ أَوْ فِي جَفْنَةٍ فَنَضَحْنَا بِهِ قَالَ وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى
سیدناعائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانی تھوڑا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالےیا کھلے برتن میں وضو کیا، ہم نے اس سے پانی لے لے کر مختصر وضو کیا، ہم میں وہ آدمی خوش قسمت تھا، جسے اس پانی میں سے کچھ مل گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ پانی ہر آدمی کو مل گیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11321]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائذ بن عمرو، اخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20915»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس معجزہ کا بیان ہے کہ متعدد مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت پوری کر لی، جبکہ اصل پانی انتہائی معمولی مقدار میں ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
28. بَابٌ قِصَّةِ الْمَرْأَةِ صَاحِبَةِ الْمَزَادَتَيْنِ
دو مشکیزوں والی خاتون کا واقعہ
حدیث نمبر: 11322
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ فَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا قَالَ فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ كَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّابِعُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُحْدِثُ أَوْ يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا قَالَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا الَّذِي أَصَابَهُمْ فَقَالَ لَا ضَيْرَ أَوْ لَا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ قَالَ فَانْطَلَقَا فَيَلْقَيَانِ امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا فَقَالَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ فَقَالَتْ عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ قَالَ فَقَالَا لَهَا انْطَلِقِي إِذًا قَالَتْ إِلَى أَيْنَ قَالَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ قَالَا هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ فَانْطَلِقِي إِذًا فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا فَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ قَالَ وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا قَالَ وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْأَةً مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لَهَا فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنَ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسُوَيْقَةٍ حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَاكِ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ سَقَانَا قَالَ فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ فَقَالُوا مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ فَقَالَتْ الْعَجَبُ لَقِينِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي قَدْ كَانَ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مِنْ بَيْنِ هَذِهِ وَهَذِهِ قَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ يَعْنِي السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا قَالَ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا مَا أَرَى أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم راہ تھے، ہم ساری رات چلتے رہے، یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں ہم ایسی کیفیت میں چلے گئے، جس سے زیادہ پسندیدہ کیفیت مسافر کی نظر میں اور کوئی نہیں ہوتییعنی ہم سو گئے۔ ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، سب سے پہلے فلاں اور اس کے بعد فلاں آدمی بیدار ہوا۔ ابو رجاء (راوی) ان کے نام ذکر کیا کرتے تھے لیکن ان کے شاگرد عوف کویہ نام بھول گئے۔ ان کے بعد چوتھے نمبر پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، معمول یہ تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سوئے ہوتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیدا ر نہ کرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بیدار نہ ہو جائیں۔ کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہ ہو تا تھا کہ نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کیفیت در پیش ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو پیش آمدہ صورت حال ملاحظہ کی، وہ بلند آواز اور بہادر آدمی تھے۔ انہوں نے اللہ اکبر کہتے ہوئے اپنی آواز بلندی کی۔ یہاں تک کہ ان کی آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو صحابہ نے اپنے ساتھ پیش آمدہ صورت حال کا شکوہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، اب چلو۔ وہاں سے روانہ ہو کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دور جا کر رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کا پانی طلب فرما کر وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو الگ تھلگ بیٹھا تھا، اس نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا نہ کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے فلاں! تجھے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے جنابت کا عارضہ پیش آگیا ہے اور غسل کے لیے پانی موجود نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مٹی استعمال کر لو (یعنی مٹی سے تیمم کر لو)۔ تمہارے لیےیہی کافی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے روانہ ہوئے۔ لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری سے اتر کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کو بلایا۔ راوی حدیث ابو رجاء اس کا نام بیان کیا کرتے تھے، لیکن ان کے شاگرد عوف بھول گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں جا کر ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لائو۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ دونوں چلے گئے۔ ان کی ایک عورت سے ملاقات ہوئی, وہ اپنے اونٹ پر پانی کے دو مشکیزے لادے جا رہی تھی۔ انہو ںنے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں سے ملے گا؟ وہ بولی: پانییہاں سے بہت دور ہے, میں کل اس وقت سے یہ پانی لے کر چلی ہوں اور ابھی تک سفر میں ہوں, ہمارے مرد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے اس سے کہا: اچھا تو پھر ہمارے ساتھ چلو۔ وہ بولی: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف۔ وہ کہنے لگی: آیا اس شخص کی طرف جسے صابی(لا مذہب اور لادین) کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں وہ وہی ہے جسے تو اس طرح سمجھ رہی ہے، پس اب تو چل۔ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا۔ صحابہ نے اس خاتون کو سواری سے اترنے کو کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر مشکیزوں کے منہ کھول کر برتن میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ پانی پیو اور جانوروں کو پلاؤ۔جس نے پینا تھا اس نے پی لیااور جس نے جانوروں کو پلانا تھا پلالیا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو بھی پانی کا ایک برتن دیا جسے جنابت کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر یہ پانی اپنے اوپر بہا لو، یعنی غسل کر لو۔ وہ خاتون کھڑییہ سارے مناظر دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اللہ کی قسم! اس خاتون کو جب جانے کی اجازت دی گئی تو ہمیںیوں لگ رہا تھا کہ اس کے مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دینے کے لیے کچھ سامان جمع کرو۔ صحابہ نے اس کے لیے عجوہ کھجور، آٹا اور ستو وغیرہ کافی کچھ جمع کر دیا،یہ سارا سامان ایک کپڑے میں ڈالااور عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے یہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ کی قسم!تم جانتی ہو کہ ہم نے تیرے پانی میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں کی۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پینے کے لیے پانی مہیا کیاہے۔ وہ عورت اپنے خاندان میںواپس گئی، وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی، اس کے گھر والوںنے تاخیر کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ ایک عجیب واقعہ پیش آگیا۔ مجھے دو آدمی ملے۔ وہ مجھے اس آدمی کے پاس گئے جس صابی (لا دین و لا مذہب) کہا جاتا ہے۔ اس نے تو میرے پانی کے ساتھ یہیہ کیا۔ اس نے وہ سارا واقعہ بیان کیا جو پیش آ چکا تھا۔ اس نے اپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہا: اللہ کی قسم! وہ یا تو زمین و آسمان کے درمیان موجود لوگوں میں سب سے بڑا جادو گر ہے یا پھرواقعی اللہ کا رسول ہے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مسلمان اس علاقہ کے مشرکین پر حملہ آور ہوئے۔ لیکن جس قبیلہ کی وہ خاتون تھی اس پر حملہ نہ کرتے تھے۔ وہ ایک دن اپنی قوم سے کہنے لگی: میرا خیال ہے کہ یہ مسلمان جان بوجھ کر تم سے صرف نظر کرتے ہیں۔ کیا تم اسلام قبول نہیں کرلیتے؟ چنانچہ قبیلے کے لوگوں نے اس کی بات مان لی اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 344، 348،ومسلم: 682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20140»
الحكم على الحديث: صحیح
29. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ دَر لَبَنِ الشَّرْعِ بَعْدَ أَنْ لَّمْ یَكُنْ
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ تھنوں سے دودھ اتر آیا، حالانکہ اس سے پہلے ان میں دودھ نہیں تھا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ وَفِي رِوَايَةٍ ثُمَّ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِصَخْرَةٍ مُنْقَعِرَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ شَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابو معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! کیا دودھ موجود ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، لیکن مجھے اس مال پر امین بنایا گیا ہے (لہذا میں اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسی بکری ہے، جس کی بکرے سے جفتی نہ کرائی گئی ہو؟ پس میں اس قسم کی ایک بکری لے آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھن کو چھوا تو اس میں دودھ اتر آیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ایک برتن میں دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی پیا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا۔ پس وہ سکڑ گیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس دین میں کچھ تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالی تجھ پر رحم کرے، تو تو پیارا سا تعلیمیافتہ لڑکا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ نما پتھر لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دودھ دوہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اور میں نے دودھ پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا۔ پس وہ سکڑ گیا۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس دین میں کچھ سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو سکھایا ہوا لڑکا ہے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں سیکھی تھیں، اس میں کسی کا مجھ سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن اخرجه ابن حبان: 7061، والطبراني في الكبير: 8456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3598، 4412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3598»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ایسی بکری کے تھنوں میں دودھ اتر آیا تو دودھ والی تھی ہی نہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ قَيْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا قَالَ فَدَنَا مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَحَفَلَ فَاحْتَلَبَ قَالَ وَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنَ فَقَالَ لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّاءِ قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا قَالَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ صَدْرِهِ وَأَلْقَى السُّلَّاءَ ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَاضَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ
حمادبن سلمہ کہتے ہیں: میں نے قیس قبیلہ کے ایک بزرگ سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے کہا: نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہماری ایک سرکش اونٹنی تھی، ہم اس کو قابو نہیں کر سکتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب ہوئے، اس کے تھنوں کو چھوا، پس وہ تو دودھ سے بھر گئے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ دوہا۔ جب میرے باپ فوت ہوئے تو میں نے ان کو ان کے کفن میں لپیٹا اور کھجور کے درخت کا کانٹا لے کر اس کے ذریعے ان کے کفن کو باندھ دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو اس کانٹے کے ذریعے تکلیف نہ دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینے سے کپڑا ہٹایا، جھلی کو پھینک دیا اور ان کے سینے پر تھوکا،یہاں تک کہ میں نے باقاعدہ ان کے سینے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تھوک کے قطرے دیکھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الشيخ القيسي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20974»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ عَنْ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّةٍ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَعَاهَدُنَا حَتَّى كَانَ يَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا قَالَتْ فَكَانَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَطْفَحَ أَوْ يَفِيضَ فَلَمَّا رَجَعَ خَبَّابٌ حَلَبَهَا فَرَجَعَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ فَقُلْنَا لَهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَفِيضَ وَقَالَ مَرَّةً حَتَّى تَمْتَلِئَ فَلَمَّا حَلَبْتَهَا رَجَعَ حِلَابُهَا
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے باپ ایک لشکر میں چلے گئے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا بہت خیال رکھتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے لیے ہماری بکری بھی دوہ دیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دوہتے تھے تو دودھ برتن سے بہہ پڑتا تھا، لیکن جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ لوٹے اور اسی بکری سے دودھ دوہا تو پہلے کی طرح دودھ کم ہو گیا، ہم نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بکری کا دودھ دوہتے تھے تو دودھ بہہ پڑتا تھا، لیکن برتن بھر جاتا تھا، لیکن جب آپ نے دودھ دوہا ہے تو یہ دودھ واپس چلا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن زيد الفائشي اخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27637»
وضاحت: فوائد: … نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود مبارک بھی اس قدر برکت والا تھاکہ جو چیز مس ہو جاتی، وہ بھی برکت والی بن جاتی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
30. بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ إِخْبَارُهُ بِالشَّاةِ الْمَسْمُوْمَةِ لَّتِي صَنَعَتَها لَهُ الْمَرْأَةُ الْيَهُودِيَّةُ وَقَدَّمَتهَا إِلَيْهِ بصِفَةِ هَدِيَّةٍ
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی تھی
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سُمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا جَعَلَتْ فِيهِ سُمًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایکیہودی خاتون نے گوشت میں زہر ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور فرمایا: اس نے اس کھانے میں زہر ملایا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوے میں اس زہر کے اثر کو پہچانتا رہتا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2617، ومسلم: 2190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13318»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ اس کھانے میں زہر ملایا گیا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی کچھ مقدار تناول فرما چکے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
31. بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ إِضَاءَهُ عَصَاهُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ حَتَّى دَخَلَ بَيْنَهُ
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لاٹھی کسی صحابی کے لیے روشن ہو گئی،یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ قَالَ عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ وَقَالَ خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ قَالَ فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رات کو آسمان بادو باراں والا ہو گیا، جب نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشا کے لیے گئے اور بجلی چمکی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور پوچھا: قتادہ! کون سی چیز تم کو اس وقت میں لے آئی ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ نمازی کم ہوں گے، اس لیے میں نے چاہا کہ چلو میں تو پہنچ جاؤں۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ لو تو میرے آنے تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو ایک کھجور کی شاخ دی اور فرمایا: یہ شاخ لے لو، یہ تمہارے آگے اور پیچھے دس دس (ہاتھ) تک روشنی پیدا کرے گی، جب تم گھر میں داخل ہو جاؤ اور گھر کے ایک کونے میں کوئی وجود دیکھ لو تو کلام کرنے سے پہلے اس کو مارنا، کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، ہم اسی وجہ سے ان شاخوں اور چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11322M]
تخریج الحدیث: «حديث حسن اخرجه البزار: 620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11647»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ چھڑی نے روشنی دینا شروع کر دی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو نماز عشا میں آنے کی وجہ سے یہ شرف حاصل ہوا۔
ذہن نشین کر لیں کہ فرائض و واجبات اور مستحبات کی ادائیگی اور ممنوعات و محرّمات سے اجتناب دنیا و آخرت میں باعث ِ عزت و شرف ہے اور اسی چیز میں انجام بخیر و عافیت ہے۔
ذہن نشین کر لیں کہ فرائض و واجبات اور مستحبات کی ادائیگی اور ممنوعات و محرّمات سے اجتناب دنیا و آخرت میں باعث ِ عزت و شرف ہے اور اسی چیز میں انجام بخیر و عافیت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح