الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ تَفَجرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أصَابِعِهِ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ
اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
حدیث نمبر: 11298
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوا فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبَعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، لوگوں نے وضو کرنے کے لیے پانی تلاش کیا، مگر انہیں پانی نہ مل سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضوء کرنے کا پانی پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس پانی سے وضوء کریں۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے نیچے سے پانی پھوٹتے دیکھا، لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11298]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 169، 3573، ومسلم: 2279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12373»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11299
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهَا عَلَيْهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ وَيُصِيبُ مِنَ الْوَضُوءِ وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدْحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ ”أَدْنُوا فَتَوَضَّئُوا“ وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ كَمْ تَرَاهُمْ قَالَ بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ
ثابت سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! آپ ہمیں ان عجیب باتوں (یعنی معجزات) میں سے کچھ ایسے معجزات بیان فرمائیں جو آپ نے خودملاحظہ کئے ہوںاور وہ آپ کسی دوسرے سے روایت نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل کر ان مقامات پر جا بیٹھے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبریل علیہ السلام آیا کرتے تھے۔ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عصر کی نماز کے لیے آواز دی۔ (یہ سن کر)جن لوگوں کے رہائش گاہیں مدینہ منورہ میں تھیں، وہ سب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے تاکہ قضائے حاجت کرکے باوضو ہو کر آئیں، کچھ مہاجرین جن کے اہل و عیال مدینہ منورہ میں نہ تھے، وہ رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی کا ایک کھلا برتن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک ہتھیلی اس میں رکھ دی۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی برتن میں پوری نہ آسکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار انگلیاںاکٹھی کرکے برتن میں رکھ دیں اور فرمایا: قریب آجاؤاور وضو کرلو۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ برتن میں ہی رہا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ میں نے دریافت کیا: ابو حمزہ! کیا خیال ہے وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ستر سے اسی کے درمیان تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11299]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 200، ومسلم: 2279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12439»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةُ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَ الْقَوْمَ فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ يَمْسَحُونَ وَيَمْسَحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمْ حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ عُيُونَ الْمَاءِ يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّؤُوا أَجْمَعُونَ
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ یا سفر میں تھے، ہماری تعداد دو سو دس سے کچھ زائد تھی، اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس پانی ہے؟ (یہ سن کر) ایک آدمی دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیاجس میں معمولی سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی ایک پیالہ میں انڈیلا اور خوب اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے کو ہٹ گئے اور لوگوں کو وہیں رہنے دیا، سب لوگ پیالے کے قریب اکٹھے ہوگئے اور پانی کو چھونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کا ازدحام اور شور دیکھا تو فرمایا: حوصلہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پانی اور پیالے میں رکھی اور فرمایا: بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضوء مکمل کرو۔ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے بصارت کے متعلق آزمائش میں ڈالا ہے: اس دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے درمیان سے پانی کے چشمے رواں دیکھے،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11300]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الدارمي: 26، وأخرج نحوه مسلم: 3013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14161»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ متعدد مواقع پر جبکہ پانی کی قلت تھی، اللہ نے اپنے رسول کے ہاتھوں یہ معجزہ ظاہر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں کی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے اور پورے لشکر نے اپنی پانی کی ضروریات پوری کر لیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے، اس لیے انہوں نے اپنی حدیث میں کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے بصارت کے معاملہ میں مجھے آزمایا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
26. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
حدیث نمبر: 11301
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ“ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَبَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً“ أَوْ قَالَ ”أَمْ هَدِيَّةً“ قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى قَالَ وَأَيْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ قَالَ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس کھانے کی تقریباً ایک صاع کی مقدارتھی،پس اس کا آٹا گوندھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک آدمی بکریاں ہانکتے ہوئے آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور پرا گندہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکریاں فروخت کرو گے یا عطیہ کرو گے؟ اس نے کہا: عطیہ یا ہبہ نہیں، بلکہ فروخت کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی، اسے ذبح کر کے تیار کیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلیجی گردے وغیرہ بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کی کلیجی کا حصہ ہر آدمی کے لیے رکھا، جو کوئی موجود تھا اسے دے دیااور جو موجود نہیں تھا، اس کے لیے رکھ چھوڑا۔ بکری کے گوشت کے دو تھال تیار کیے گئے۔ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا اور دونوں میں گوشت بچا رہا، پھر ہم نے وہ بچا ہوا کھانا اونٹ پر لاد لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11301]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2216، 2618،ومسلم: 2056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1703»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ لِي ”اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ فَأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُنَّ“ قَالَ فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَ
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کھجوروں کو اپنے سامنے بکھیر لیا۔ پھر دعا فرمائی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کھجوروں کو چمڑے کے تھیلے میں ڈال لو۔ کھجوریں نکالنے کے لیے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر کھجوریں نکالنا اور اسے الٹ کر جھاڑنا نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس تھیلے سے اتنے اتنے وسق (ایک وسق ساٹھ صاع اور ایک صاع تقریباً دو کلو سو گرام ہوتا ہے) اللہ کی راہ میں نکالے۔ہم خود کھاتے بھی اور کھلاتے بھی۔ وہ تھیلا کبھی بھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتا تھا۔مگرجب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ پیش آیا تو وہ میری کمر سے کٹ کر گر گیا (اور گم ہوگیا) [الفتح الربانی/حدیث: 11302]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8613»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11303
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ يَنْحَرُونَهَا بَلِ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ قَالَ ”أَجَلْ“ قَالَ فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ“
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران مسلمانوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ کھانے کے سلسلہ میں محتاج ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس کی اطلاع عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوہوئی تو انہوں نے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! یہ اونٹ مسلمانوں کو اپنے اوپرسوار کرکے دشمن تک پہنچاتے ہیںتو کیایہ ان کو ذبح کر لیں؟ اللہ کے رسول! آپ اس کی بجائے لوگوں کے پاس جو بچا کھچا زاد راہ ہے وہ منگوا کر اللہ عزوجل سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں (تو زیادہ مناسب ہوگا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوںسے ان کے پاس بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔ لوگوں کے پاس جو جو چیزیں بچی ہوئی تھیںوہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ عزوجل سے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے برتن (اور تھیلے وغیرہ) منگوا کر ان کو کھانے سے بھر دیااور بہت سا کھانا بچ رہا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ جو کوئی صدق دل سے ان دو باتوں کی گواہی دیتا ہوا اللہ سے جا ملے اور اسے ان میں کسی قسم کا تردد نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11303]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه مسلم: 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9447»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11304
ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ (یہ شک اعمش کو ہوا ہے) سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11304]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11096»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11305
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ وَقَالُوا يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا أَوْ رِجَالًا وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَنَجْمَعَهَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَؤُوهُ وَبَقِيَ مِثْلُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
عبدالرحمن بن ابی عمرۃ انصاری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اس دوران لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کے بعض اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمارے اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کا اللہ مالک ہے۔ لیکن جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بعض اونٹوں کے نحر کرنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسو ل! کل جب ہم بھوکے یا پیدل دشمن کے مقابل ہوں گے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس کے بدلے اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی جو اشیاء بچی ہوئی ہوں،وہ منگوائیں۔ہم ان اشیاء کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ان میں برکت کی دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سے ہمارے لیے برکت فرمائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء منگوائیں، لوگ کھانے کی ایک ایک مٹھییا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، کوئی زیادہ سے زیادہ طعام لایا تو وہ ایک صاع کھجور تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اشیاء کو جمع کرکے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بقدردعائیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو بلوایا کہ وہ اپنے اپنے برتن (تھیلے، بوریاں وغیرہ) لے آئیں اور ان کو کھانے سے بھر لیں، پورے لشکر میں جتنے بھی برتن تھے، انہوں نے ان سب کو کھانے سے بھر لیااور اتنا ہی کھانا باقی بچا رہا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدت فرح سے اس حدتک مسکرائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،جو مومن ان دو باتوں کی شہادت اور دلی اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، قیامت کے دن اس سے آگ کو دور ہٹا دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11305]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه النسائي في الكبري: 8793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15528»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11306
عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدِّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ فَقَالَ ”أَنَا وَمَنْ مَعِي“ قَالَ فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدِّ شَعِيرٍ قَالَ فَدَخَلَ فَأُتِيَ بِهِ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ ”أَدْخِلْ عَشَرَةً“ قَالَ فَدَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ثُمَّ عَشَرَةٌ ثُمَّ عَشَرَةٌ حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ قَالَ فَأَكَلْنَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نصف مد جو پیسے، پھرگھی کے لیے چمڑے کا بنا ہوا ڈبہ اٹھایا، اس میں تھوڑا ساگھی تھا۔ انہوں نے اس سے دلیہ سا بنایا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے درمیان تشریف فرماتھے۔ میں نے عرض کی: ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مجھے بھیجا ہے، وہ آپ کو کھانے کے لئے بلا رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اور میرے ان ساتھیوں کو بھی؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے۔ میں نے گھر جا کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ باہرنکلے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو کے ساتھ چلنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو صرف دلیہ ہے، جو ام سلیم نے نصف مد جو سے تیار کیاہے (اتنی مقدار تو کھانے کی نہیں ہے کہ اتنے لوگ کھا لیں)۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندرتشریف لائے، وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھا اور فرمایا: دس آدمیوںکو اندر بلا لو۔ پس دس آدمیوں نے آکر پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے،پھر دس آدمی آئے، یہاں تک کہ چالیس افراد نے سیر ہو کر کھاناکھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی بچا رہا، پھر ہم گھر والوں نے وہ کھا لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11306]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12519»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11307
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ قَالَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَزَلْ يَتَدَاوَلُونَهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنَ الظُّهْرِ يَأْكُلُ كُلُّ قَوْمٍ ثُمَّ يَقُومُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ فَيَتَعَاقَبُوهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ قَالَ أَمَّا مِنَ الْأَرْضِ فَلَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ كَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَاءِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ثرید (وہ کھانا جس میں روٹی شوربے میں بھگو کر نرم کرکے کھائی جاتی ہے) کا ایک پیالہ پیش کیاگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دیگر لوگوں نے وہ کھایا، ظہر کے وقت تک لوگ کھاناکھاتے رہے، ایک گروہ کھانا کھا کر اٹھ جاتا تو ان کے بعد دوسرا گروہ آجاتا۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیاکھانے میں مزید کھانا شامل کیا جاتا رہا؟ انہوں نے جواب دیا: زمین سے تو شامل نہیں کیا گیا، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ آسمان سے اس میں اضافہ کیا جاتا رہا ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11307]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20397»
الحكم على الحديث: صحیح