الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. مِنْهُمْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتبین کا تذکرہ ان میں سے عثمان بن عفان کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11510
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ قَالَتْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَيَقُولُ اكْتُبْ عُثْمَانُ قَالَتْ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا
عمر بن ابراہیم یشکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی والدہ کو بیان کرتے سنا کہ وہ حج کے ارادے سے بیت اللہ کی طرف گئیں، ان دنوں بیت اللہ کے دو دروازے تھے، وہ کہتی ہیں: میں طواف سے فارغ ہو کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئی، میں نے عرض کیا: اے ام المؤمنین آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہتا ہے، ان دنوں لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت غلط اور نار وا قسم کی باتیں کرتے تھے،آپ اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے کہا: جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی تھی، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ران پر سر رکھا ہوا تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ صاف کر رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے: عثمان! لکھو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے کسی بر گزیدہ بندے کو ہی اپنے نبی کے ہاں ایسا مقام دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11510]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن ابراهيم اليشكري لايعرف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26777»
الحكم على الحديث: ضعیف
2. وَمِنْهُمْ عَلَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
کاتبین میں سے ایک سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 11511
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ ”اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ“ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ ”اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ“ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ“ وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَكْتُبُ هَذَا قَالَ ”نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، ان کے وفد میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِلکھو۔ سہیل نے کہا: ہم تو نہیں جانتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِکیا ہے؟ آپ وہی کلمہ لکھیں جسے ہم جانتے ہاپنا اور اپنے والد کا نام لکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط طے کی کہ آپ لوگوں میں سے کوئی آیا تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے، لیکن ہمارا جو آدمی آپ کے پاس آیا، آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جو آدمی ہمیں چھوڑ کر ان کی طرف جائے، اللہ تعالیٰ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔ یں، بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ لکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے۔ اس پر پھر سہیل بولا کہ اگر ہم یہ مانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی اقتدا کر لیتے، آپ اس طرح کریں کہ [الفتح الربانی/حدیث: 11511]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13863»
الحكم على الحديث: صحیح
3. وَمِنْهُم زيد بن ثابِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
کاتبین میں سے ایک سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 11512
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ لَا يُوعَى وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ لِعُمَرَ وَكَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ بِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ فَقُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یمامہ کی لڑائی میں حفاظ کی شہادت کے سانحہ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، جب میں حاضر ہوا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یمامہ میں حفاظِ قرآن کی شہادتیں کثرت سے ہوئی ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر حفاظ قرآن کی شہادتوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو قرآن مجید کا بیشتر حصہ ضائع ہو جائے گا اور اس کو یاد نہیں رکھا جائے گا، اس لئے میری رائے یہ ہے کہ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دے دیں، لیکن میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ میں وہ کام کیسے کروں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، لیکن انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے، پھر یہ اس بارے میں مجھ سے تکرار کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے بھی اس رائے کو پسند کر لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے رہے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے زید! تم ایک عقلمند نوجوان اور قابل اعتماد آدمی ہو اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وحی بھی لکھا کرتے تھے، لہٰذا یہ خدمت تم نے ہی سرانجام دینی ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگریہ مجھے کسی پہاڑ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی تکلیف دیتے تو اس کا میرے اوپر اتنا بوجھ نہ ہوتا جو انہوں نے قرآن مجید جمع کرنے کی مجھ پر ذمہ داری ڈالی ہے، پس میں نے کہا: آپ لوگ وہ کام کس طرح کرو گے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، تاہم ان کی تکرار کے بعد میں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11512]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4679، 4986، 4989، 7191، 7452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 76 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 76»
وضاحت: فوائد: … عہد ِ نبوی میں قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا گیا تھا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک جلد میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا۔
خلافت ِ صدیقی میںیمامہ کی لڑائی مدعی ٔ نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، اس میں سات سو سے زائد صحابۂ کرام شہید ہو گئے تھے، ان میں اکثر قرآن کریم کے حفاظ و قراء تھے۔
اس روایت سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی منقبت ثابت ہوتی ہے، مؤخر الذکر نے حفاظت ِ قرآن کی رائے دی اور اول الذکر نے اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، بہرحال یہ دو ہستیاں اور ان کے معاونین {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗلَحَافِظُوْنَ} کامصداقبنتی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: أَعْظَمُ النَّاسِ اَجْرًا فِیْ الْمَصَاحِِف اَبُوْ بَکْرٍ، اِنَّ اَبَا بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ۔ … قرآنی مصاحف کے معاملے میں لوگوں میں سب سے زیادہ اجر پانے والے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں، بیشک سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے قرآن مجید کو دو جلدوں کے اندر جمع کیا۔ (فضائل القرآن لابی عبید: ص ۱۵۶، المصاحف لابن ابی داود: ص ۱۱)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے خوبصورت باتیں کرتے ہوئے کہا: فَجَمَعَ الصِّدِّیْقُ الْخَیْرَ وَکَفَّ الشُّرُوْرَ۔ … پس جناب ِ صدیق نے خیر کو جمع کر دیا اور شرور کو روک دیا۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۲۵)
اس باب میں تو صرف چند کاتبین کا ذکر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض کاتبین درج ذیل تھے:
سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا خالد، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عامر بن فہیرہ، سیدنا عبد اللہ بن ارقم، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ثابت بن قیس، سیدنا حنظلہ بن ربیع، سیدنا ابوسفیان، سیدنا معاویہ، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا شرحبیل بن حسنہ، سیدنا علاء بن حضرمی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ، سیدنا حذیفہ بن یمان، سیدنا حویطب بن عبد العزی العامری، سیدنا عبد اللہ بن سعد۔
خلافت ِ صدیقی میںیمامہ کی لڑائی مدعی ٔ نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، اس میں سات سو سے زائد صحابۂ کرام شہید ہو گئے تھے، ان میں اکثر قرآن کریم کے حفاظ و قراء تھے۔
اس روایت سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی منقبت ثابت ہوتی ہے، مؤخر الذکر نے حفاظت ِ قرآن کی رائے دی اور اول الذکر نے اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، بہرحال یہ دو ہستیاں اور ان کے معاونین {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗلَحَافِظُوْنَ} کامصداقبنتی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: أَعْظَمُ النَّاسِ اَجْرًا فِیْ الْمَصَاحِِف اَبُوْ بَکْرٍ، اِنَّ اَبَا بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ۔ … قرآنی مصاحف کے معاملے میں لوگوں میں سب سے زیادہ اجر پانے والے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں، بیشک سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے قرآن مجید کو دو جلدوں کے اندر جمع کیا۔ (فضائل القرآن لابی عبید: ص ۱۵۶، المصاحف لابن ابی داود: ص ۱۱)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے خوبصورت باتیں کرتے ہوئے کہا: فَجَمَعَ الصِّدِّیْقُ الْخَیْرَ وَکَفَّ الشُّرُوْرَ۔ … پس جناب ِ صدیق نے خیر کو جمع کر دیا اور شرور کو روک دیا۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۲۵)
اس باب میں تو صرف چند کاتبین کا ذکر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض کاتبین درج ذیل تھے:
سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا خالد، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عامر بن فہیرہ، سیدنا عبد اللہ بن ارقم، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ثابت بن قیس، سیدنا حنظلہ بن ربیع، سیدنا ابوسفیان، سیدنا معاویہ، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا شرحبیل بن حسنہ، سیدنا علاء بن حضرمی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ، سیدنا حذیفہ بن یمان، سیدنا حویطب بن عبد العزی العامری، سیدنا عبد اللہ بن سعد۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابٌ فِي ذِكْرِ دَوَابِهِ وَغَنَمِهِ وَلِقَاحِهِ وَخَيْلِهِ وَسَلَاحِهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانورں، اونٹوں، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 11513
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ ”اقْرَأْ“ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}“ [الفلق: 1] فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ ”لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا“
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںکیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو دہرایا،یہاں تک کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنی یہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11513]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17475»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11514
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَبُ حِمَارًا اسْمُهُ عُفَيْرٌ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سواری کیا کرتے تھے۔ اس کا نام عفیر تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11514]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 886»
وضاحت: فوائد: … عفیر کے معانی مٹیالہ رنگ کے ہیں، ممکن ہے کہ اس گدھے کا رنگ ایسے ہی ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک گدھے کا نام یعفور تھا، یعفور کا معنی ہرن کا بچہ ہے، ممکن ہے کہ تیز چلنے کی وجہ سے اس کو یہ نام دیا گیا ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک گدھے کا نام یعفور تھا، یعفور کا معنی ہرن کا بچہ ہے، ممکن ہے کہ تیز چلنے کی وجہ سے اس کو یہ نام دیا گیا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11515
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا فَكَادَتْ مِنْ ثَقْلِهَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَةِ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ پر سورۂ مائدہ نازل ہوئی، اس وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11515]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28127»
وضاحت: فوائد: … عضباء کا معنی وہ اونٹنی ہے، جس کے کان کٹے ہوئے ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے کان تو کٹے ہوئے نہیں تھے، بس کسی وجہ سے اس اونٹنی کا یہی نام منقول ہوتا چلا آ رہا تھا، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اس اونٹنی کے کان کٹے ہوئے ہوں۔
نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوتے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن کسی انسان پر پڑا ہوتا تو وہ بھی اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوتے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن کسی انسان پر پڑا ہوتا تو وہ بھی اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ وَقَالَ سَمُرَةُ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ حَنَفِيًّا
عثمان بن سعد کاتب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابن سیرین نے کہا:میں نے اپنی تلوار سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی تلوار جیسی بنوائی ہے اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں نے اپنی تلوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار جیسی بنوائی ہے، وہ تلوار (مسیلمہ کذاب کی قوم) بنو حنیفہ کی تلواروں کے ڈیزائن پر تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11516]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد الكاتب، اخرجه الترمذي: 1683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20492»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11517
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور نفل (یا مال غنیمت سے) کییہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک دندانہ دیکھا ہے اس کی تعبیریہ ہے کہ تمہیں شکست ہوگی میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے میں نے تاویل کی ہے کہ لشکر کا بہادر شہید ہوگا میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تاویلیہ کی ہے کہ مدینہ محفوظ رہے گا میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم یہ بہتر ہے۔ وہی ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11517]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرج أوله الي قوله يوم احد: الترمذي: بعد الحديث: 1561، وابن ماجه: 2808، وأخرج بأطول مما ھنا الحاكم: 2/ 128، والبيھقي: 7/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2445»
وضاحت: کے ذبح ہونے کی صورت میں سیدنا طلبہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت دکھائی گئی، جنہوں نے اس دن جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اور گائے ذبح ہونے کی صورت میں حضرات صحابۂ کرام میں سے ستر آدمیوں کی شہادت کی نشاندہی کی گئی تھی اور مدینہ بہترین پناہ گاہ ثابت ہوا، شکست و شہادت کے بعد مسلمان سرخرو ہوئے تھے اور آپ کے گھر والوں میں سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت مینڈھے کے ذبح ہونے کی صورت میں دکھائی گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11518
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے زیب تن کی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11518]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 2590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15813»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11519
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ ”اقْتُلُوهُ“ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11519]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»
الحكم على الحديث: صحیح