الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. الْحَشْرُ وَصِفَةُ النَّاسِ فِيهِ
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 13079
(وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ قَالَ: {لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ}
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! شرمگاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً یہ آیت تلاوت فرمائی: {لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ} (اس دن ان میں سے ہر شخص کا حال ایسا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گا۔) (سورۂ عبس:۳۷)۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13079]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25095»
وضاحت: فوائد: … گھبراہٹ، خوف اور دہشت کی وجہ سے کسی کو ہمت نہیں کہ وہ دوسرے کی اس کی ننگی حالت میں دیکھ سکے۔ نَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. هَوْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَدُنُو الشَّمْسِ مِنْ رُءُوسِ الخلائق
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13080
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے کہا: قیامت کا دن، جو پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا،وہ کس قدر طویل دن ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ دن مومن کے لیے اس قدر مختصر ہوگا کہ جتنی دیر میں دنیا میں ایک فرضی نماز ادا کرتا ہے، اس وقت سے بھی کم محسوس ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13080]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه ابو يعلي:1390، وابن حبان: 7334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11740»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13081
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ“ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا ”وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ“ وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج زمین کے بہت قریب آجائے گا، اس وجہ سے لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ایڑیوں تک، بعض نصف پنڈلی تک، بعض کا گھٹنوں تک اور بعض کا دبر تک، بعض کا کوکھ تک، بعض کا کندھوں تک، بعض کا گردن تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے منہ تک کی کیفیت بیان کی اور بعض لوگوں کا پسینہ تو ان کو ڈھانپ لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13081]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 844، وابن حبان: 7329، والحاكم: 4/ 571، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17576»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13082
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ وَزَادَ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا، يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا يَغْلِي الْقُدُورَ يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغَ إِلَى سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغَ إِلَى وَسَطِهِ، وَمِنْهُمْ مَن يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج ایک نیزے کے بقدر قریب آجائے گا اور اس کی حرارت بھی کئی گناہ بڑھ جائے گی، اس کی حرارت کی وجہ سے دماغ یوں کھولیں گے، جیسے ہنڈیا ابلتی ہیں، لوگ اپنے اپنے گناہوں کے حساب سے پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ٹخنوں تک، بعض کا پنڈلیوں تک، بعض کا کمر تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13082]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الطبراني في الكبير: 7779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22539»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13083
عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قَدْرَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ، قَالَ: فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ، فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْجَامَ“
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو سورج انسانوں کے اتنا قریب ہو جائے گا کہ وہ ایک یا دومیل کے فاصلے پر ہو گا، سورج ان کو جھلسے گا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض کا ایڑیوں تک اور بعض کا کمر تک ہو گا اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13083]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24314»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13084
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور وہ لوگوں کے مونہوں یا گردنوں تک پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13084]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6532، ومسلم: 2863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9416»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13085
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَرَقَ لَيُلْجِمُ الرِّجَالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن رحمان کی تعظیم کے لیے لوگ ربّ العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے، یہاں تک کہ پسینہ ان کے نصف کانوں تک پہنچا ہوا ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13085]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 4938، ومسلم: 2862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4862»
وضاحت: فوائد: … لوگ گرمی کی شدت کی وجہ سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ زمین میں ستر ہاتھ تک پسینہ ہی پسینہ ہوگا، اور اپنے اپنے اعمال کے حساب سے لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کوئی ایڑیوں تک، کوئی ٹخنوں تک، کوئی نصف پنڈلیوں تک، کوئی گھٹنوں تک، کوئی دبر تک، کوئی کمر تک، کوئی کندھوں تک، کوئی گردن تک، کوئی منہ تک اور کوئی نصف کانوں تک پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کی سختی، گرمی، پریشانی اور گھبراہٹ سے محفوظ رکھے اور ہمارے لیے آسانی فرمائے۔ آمین۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بعْتُ أَهْلِ النَّارِ وَعَلَامَاتُ بَعْضِهِمْ
جہنم والوں کی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
حدیث نمبر: 13086
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا آدَمُ! قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، يَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، قَالَ: فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ“، قَالَ: فَيَقُولُ: فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ“، قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“، قَالَ: فَكَبَّرَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! اٹھ کر جہنم کا حصہ الگ کرو، وہ کہیں گے: اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں، ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، جہنم کا حصہ کتنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں نو سو ننانوے۔ اس وقت (گھبراہٹ کا ایسا عالم طاری ہو گا کہ) بچے بوڑھے بن جائیں گے،ہر حاملہ اپنے حمل کو گرادے گی اور لوگ بے ہوش دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے، درحقیقت اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید اور سخت ہوگا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات پانے والا وہ ایک آدمی ہم میں سے کون ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یاجوج ماجوج کی تعداداتنی زیادہ ہو گی کہ) نو سو ننانوے افراد ان سے ہوں گے اور تم میں سے ایک ہو گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! بلکہ مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں نصف تعداد تمہاری ہوگی۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دوسرے لوگوں کے بہ نسبت تمہاری تعداد یوں ہو گی، جیسے سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر معمولی سفید بال ہوتے ہیں یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر سیاہ بال ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13086]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3348، 4741، ومسلم: 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11304»
وضاحت: فوائد: … اس روایت سے معلوم ہوا کہ ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے، لیکن درج ذیل روایت میں ایک سو میں سے ننانوے کا ذکر ہے، پہلی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے، اس لیے اس کو راجح قرار دیں گے، لیکن جمع تطبیق کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں کے مختلف گروہوں کے بارے میں نسبتیں بھی مختلف ہوں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13087
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُنَادِيًا يَنَادِي: يَا آدَمُ! إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّيَّتِكَ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ آدَمُ: يَا رَبِّ! وَمِنْ كَمْ؟ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ“، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَنْ هَذَا النَّاجِي مِنَّا بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”هَلْ تَدْرُونَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي صَدْرِ الْبَعِيرِ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک اعلان کرنے والے کو بھیجے گا، وہ یہ اعلان کرے گا: اے آدم! اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ جہنم کی طرف بھیج دے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے رب! کتنے لوگوں میں سے کتنے؟ ان سے کہا جائے گا: ہر سو میں سے ننانوے کو جہنم کی طرف بھیج دے۔ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ نجات پانے والا کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس دن لوگوں میں تمہاری تعداد اس طرح ہوگی، جیسے اونٹ کے سینے پر تل کا نشان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13087]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي بنحوه مطولا: 5124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3677»
وضاحت: فوائد: … دونوں احادیث میں امت ِ مسلمہ کو پرامید رہنے کا مژدہ دیا گیا ہے، بہرحال زیادہ سے زیادہ توشۂ آخرت جمع کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13088
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رُفِعَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ، فَقِيلَ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر دھوکہ باز کے لیے بطور علامت ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کے دھوکے کی علامت ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13088]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6177، ومسلم: 1735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4839»
الحكم على الحديث: صحیح