🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. البَعْثُ وَأَوَّلُ مَنْ يُبْعَثُ مِنَ الْبَشَرِ
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13069
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر سے زمین پھٹے گی اورمجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13069]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4308، وأخرجه الترمذي مطولا بذكر قصة الشفاعة برقم (3148) ومختصرا برقم (3615)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11000»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرداری ہے، لیکن ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجز و انکساری کا اظہار کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13070
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاءُ تَطِيشُ عَلَيْهِمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو آسمان ان پر ہلکی ہلکی بارش برسا رہا ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13070]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه موقوفا ابويعلي: 4041، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13850»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13071
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ فَقَالَ: ”أَمَا مَرَرْتَ بِوَادٍ مُمَحَّلٍ ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَصِيبًا“ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ”ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا“ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ”كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى“
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی بے آباد وادی سے گزرے ہو کہ وہاں سے جب دوبارہ گزرے ہو تو وہ سر سبز ہوچکی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13071]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال وكيع بن عدس، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 470، والطيالسي: 1089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16294»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13072
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قَالَ: ”فَكَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ“
۔ (دوسری سند) اسی طرح ہی ہے، البتہ اس میں ہے: اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ مخلوق میں اس کی نشانی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13072]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16293»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13073
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ عَنْ أَبِيهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”هَا هُنَا تُحْشَرُونَ ثَلَاثًا رُكْبَانًا وَمُشَاةً وَعَلَى وُجُوهِكُمْ تُوفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أُمَّةً، أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، تَأْتُونَ فِي الْقِيَامَةِ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، أَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ“ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: ”إِلَى هَا هُنَا تُحْشَرُونَ“
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13073]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 234، والنسائي: 5/ 4، 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20258، 20259، 20260»
وضاحت: فوائد: … قیامت والے دن کل ستر امتیں ہوں گی، سب سے زیادہ تعداد والی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہو گی۔
کامل الایمان لوگ سوار ہو کر اور نیک و بد اعمال والے مؤمن پیدل جائیں گے۔
بڑی رسوائی ان کی ہو گی، جو پاؤں کے بجائے چہرے کے بل چل رہے ہوں گے، یہ کافر لوگ ہوں گے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ اَوْلِیَاء َ مِنْ دُوْنِہٖ وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیْرًا } … اور جنھیں گمراہ کر دے تو تو ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ (سورۂ اسرائ: ۹۷)
ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا گواہی دینے کو حجت و استدلال میں زیادہ بلیغ سمجھا جاتا ہے۔یہ موضوع قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَتّٰی اِِذَا مَا جَائُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (سورۂ حم السجدہ: ۲۰، ۲۱) … جب وہ (اللہ کے دشمن) جہنم کے قریب آ جائیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی۔ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت ِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ سورۂ یسین میںبھی یہ موضوع بیان ہوا ہے۔
یہ میدان حشر کے ہولناک مناظرہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ غَضَبِہٖ بِفَضْلِہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13074
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى وُجُوهِهِمْ قَالَ: ”إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے انہیں پاؤں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13074]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4760، ومسلم: 2806، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12738»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13075
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ: فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ“
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک بلند ٹیلے پر ہوں گے، میرا ربّ مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا، پھرمجھے اجازت دی جائے گی اور جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، میں اس کی تعریف کروں گا، یہی مقامِ محمودہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن حبان: 6479، والحاكم: 2/ 363، والطبراني في الكبير: 19/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15875»
وضاحت: فوائد: … یہ وہی مقام محمود ہو گا، جہاں رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہو ئے کلمات کے ذریعے اس کی حمد و ثنا بیان کریں گے اور پھر وہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے بعد اپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. الْحَشْرُ وَصِفَةُ النَّاسِ فِيهِ
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13076
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ مُشَاةٌ وَصِنْفٌ رُكْبَانٌ وَصِنْفٌ عَلَى وُجُوهِهِمْ“ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: ”إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو تین حالتوں میں اٹھایا جائے گا، بعض لوگ پیدل ہوں گے، بعض سوار ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چل رہے ہوں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ہستی نے ان کو ٹانگوں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے، خبردار! وہ اپنے چہروں کے ذریعے بلند اورسخت جگہ اور کانٹوں سے بچنے کی کوشش بھی کر یں گے۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13076]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8632»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب میں اس حدیث کی وضاحت کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13077
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: ”إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ}، فَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ثُمَّ يُؤْخَذُ بِقَوْمٍ مِنْكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ“ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ”وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشَّمَائِلِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أَصْحَابِي، قَالَ: فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُذْ فَارَقْتَهُمْ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} الآيَةَ إِلَى {إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 117]
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ تم ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور غیر مختون ہوگے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ} (سورۂ انبیاء: ۱۰۴) (جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتداء کی تھی، اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، بیشک ہم اسے پورا کرنے والے ہیں۔) مخلوقات میں سب سے پہلے خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، پھر تم میں سے ایک گروہ کو بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ ابن جعفر کے الفاظ یوں ہیں: میری امت کے کچھ لوگوں کو لا کر بائیں طرف کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات جاری کیں، آپ کے جانے کے بعد یہ لوگ اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹ جاتے رہے، تو میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا:{وَ کُنْتُ عَلَیْھِم شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} (سورۂ مائدہ: ۱۱۷،۱۱۸) (میں ان پر نگران تھا، جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر نگران ہے، اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے)۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13077]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2526، ومسلم: 2860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2096»
وضاحت: فوائد: … میدانِ حشر میں مختلف اوقات میں لوگوں کی کیفیتیں بھی مختلف ہوں گی، ان دو ابواب سے دو کیفیتیں ثابت ہو رہی ہیں:
۱۔ لوگ ننگے ہوں گے۔
۲۔ لوگوں کو پھر لباس پہنایا جائے گا، ان میں سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابراہیم علیہ السلام کو پہنایا جائے گا۔
۳۔ تیسری کیفیت کا ذکر درج ذیل احادیث میںہے:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا وَلِيَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحْسِنْ کَفَنَہٗ، فَإِنَّھُمْ یُبْعَثُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ، وَیَتَزَاوَرُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ۔)) … جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو کفن دینے کا ذمہ دار بنے تو اچھا کفن دے، کیونکہ مردوں کو اپنے کفنوں میں اٹھایا جائے گا اور اسی میں لباس ایک دوسرے سے وہ ملاقاتیں کریں گے۔ (الخطیب فی التاریخ: ۹/ ۸۰، صحیحہ: ۱۴۲۵)
عَنْ اَبِي سَعِیْدِ الْخُدْرِيِّ: اَنَّہُ لَمَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِیَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَھَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّ الْمَیِّتَ یُبْعَثُ فِي ثِیَابِہِ الَّتِي یَمُوْتُ فِیْھَا۔)) … جب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے جدید کپڑے منگوا کر زیبِ تن کئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک میت کو ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ فوت ہوتا ہے۔ (ابوداود: ۳۱۱۴)
یہ مختلف احادیث تین معانی پر مشتمل ہیں:
حافظ ابن حجر نے جمع و تطبیق کی یہ صورتیں پیش کیں:
۱۔ بعض لوگوں کو ننگا اٹھایا جائے گا اور بعض کو کپڑوں میں۔
۲۔ سب کا حشر اس حال میں ہو گا کہ وہ ننگے ہوں گے، پھر انبیا کو لباس دیا جائے گا اور ان میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو۔
۳۔ قبروں سے لوگ ان کپڑوں میں اٹھیں گے، جن میں وہ فوت ہوتے ہیں، لیکن جب حشر میں پہنچنا شروع ہوں گے، تو ان کا لباس گر جائے گا اور وہ ننگے ہو جائیں گے، پھر سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔
حشر والوں کی کیفیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بدعت کی قباحت بھی بیان کی گئی ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سنت کی پیروی کریں اور بدعت سے اجتناب کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13078
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا“ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ قَالَ: ”يَا عَائِشَةُ! إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں قیامت کے دن ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور غیر مختون اٹھایا جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس وقت معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ ان کو یہ خیال ہی نہیں آئے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13078]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6527، ومسلم: 2859، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24769»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں