الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. مَارُوی فِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث
حدیث نمبر: 13101
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ ”أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ لِمَ ذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغَ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكُرَبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا قَدْ بَلَغَكُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَبُو الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ تَعَالَى عَبْدًا شَكُورًا فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ نُوحٌ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ فَذَكَرَ كَذِبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ اشْفَعْ إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ قَالَ هَكَذَا هُوَ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونَنِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْهُ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَأَقُومُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهُ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْأَبْوَابِ“ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کیا گیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند بھی بڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دانتوں سے اس سے گوشت نوچا اور پھر فرمایا: قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ ہو گا کیسے؟ اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں سب کو ایک میدان میں جمع کرے گا، وہ سب یوں جمع ہوں گے کہ ایک آواز دینے والا آدمی سب کو اپنی بات سنا سکے گا اور دیکھنے والے کی نظر سب پر پڑ سکے گی، سورج انتہائی قریب آچکا ہوگا، لوگ ناقابل ِ برداشت غم اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے، اس کیفیت میں وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ تمہارا حال کیا ہوا ہوا ہے؟ تم جس صورت ِ حال سے دو چار ہو وہ تمہیں نظر نہیں آتی؟ ذرا دیکھو کہ کون آدمی ایسا ہوسکتا ہے، جو تمہارے رب کے سامنے تمہارے حق میں شفاعت کر سکے؟ بعض لوگ کہیں گے: تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہی اس قابل ہوسکتے ہیں، پھر لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر کہیں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آپ کو پیدا کیا،اس نے تمہارے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں، آپ اپنے رب کے ہاں ہمارے لیے یہ سفارش تو کر دیں، ہم کس قدر تکلیف سے دو چار ہیں؟کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس قدر پریشان ہیں؟ آدم علیہ السلام جواب دیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا۔ اس نے مجھے ایک درخت کے قریب جانے سے منع کیا تھا اور مجھ سے اس کی نافرمانی ہوگئی تھی، میری جان!میری جان! میری جان! میری جان! تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے کہیں گے: اے نوح! آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ِ زمین کی طرف بھیجے گئے رسولوں میں سب سے پہلے آپ تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا شکر گزار بندہ قرار دیا ہے، آپ آج ربّ تعالیٰ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش تو کر دیں، کیا آپ ہماری حالت ِ زار نہیں دیکھ رہے؟ اور کیا آپ ہماری پریشانی کو ملا حظہ نہیں کر رہے؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا، میں تو اپنی امت کے عذاب کے سلسلہ میں ایک دعا کرچکا ہوں، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، میری جان، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاو، پس وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جائیں گے اور ان سے کہیں گے: اے ابراہیم! آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور تمام انسانوں میں سے اس کے خلیل ہیں، آپ ربّ تعالیٰ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش تو کر دیں، کیا آپ ہماری پریشان حالی اور حالت ِ زار نہیں دیکھ رہے؟ ابراہیم علیہ السلام ان سے فرمائیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا۔ پھر وہ اپنے جھوٹوں کا ذکر کریں گے (اور سفارش کرنے سے انکار کر دیں گے) ہائے میری جان، میری جان، میری جان، میری جان، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، سو وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے گزارش کریں گے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے آپ کو اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لیے منتخب فرمایا، آپ ہمارے حق میں اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں، دیکھیں کہ ہم کس قدر پریشان اور غم و تکلیف میں مبتلا ہیں، موسی علیہ السلام ان سے کہیں گے: میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا، جبکہ میں ایک ایسے آدمی کو قتل کر چکا ہوں کہ جسے مارنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، میری جان، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں جا کر ان سے عرض گزار ہوں گے اور کہیں گے: اے عیسی!آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ اللہ کا وہ کلمہ ہیں، جسے اس نے سیدہ مریم علیہا السلام کی طرف القاء کیا اور آپ اللہ تعالیٰ کی خاص انداز میں پیدا کردہ روح ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: ہاں یہ بات درست ہے۔ اور آپ نے ماں کی گود میں لوگوں سے کلام کی، آپ ہمارے لیے اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں، دیکھیں ہم کس قدر پریشان حال ہیں، عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے:میرا ربّ آج اتنے شدید غصے میں ہے کہ ایسا غصہ نہ کبھی پہلے آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا، وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، پس اس کے بعدلوگ میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کیے ہیں، آپ اپنے ربّ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں۔ دیکھیں ہم کیسی پریشانی اور کرب و غم میں مبتلا ہیں، میں اٹھ کر عرش کے نیچے جا کر اپنے ربّ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثناء کے ایسے ایسے کلمات میری طرف الہام فرمائے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو یہ کلمات نہیں سکھلائے ہوں گے، بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: اے محمد! تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں د یا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میری امت، میری امت، اے میرے ربّ! میری امت، میری امت، اے میرے ربّ! میری امت، میری امت، اے میرے ربّ! تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جنت کی دائیں طرف والے دروازے سے جنت میں لے جاؤ، جن کا کوئی حساب نہیں ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ باقی دروازوں سے بھی داخل ہونے کا حق رکھتے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت کے دروازے کے دو پٹوں میں اتنی مسافت ہے، جتنی مکہ مکرمہ اور ہجر یا مکہ مکرمہ اور بصریٰ شہر کے درمیان ہے۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3340، 3361، ومسلم: 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9621»
الحكم على الحديث: صحیح
6. مَارُويَ فِي ذلِكَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث
حدیث نمبر: 13102
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَالَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَشَفِّعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ يُرِيحُنَا مَكَانَنَا هَذَا فَيَقُولُ لَهُمْ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ وَسُؤَالَهُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ بِذَلِكَ وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمُ النَّفْسَ الَّتِي قَتَلَ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْ ذَلِكَ وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَتَهُ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونَنِي“ قَالَ الْحَسَنُ هَذَا الْحَرْفَ فَأَقُومُ فَأَمْشِي بَيْنَ سِمَاطَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَنَسٌ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيُؤْذَنَ لِي فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي قَالَ ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ“ فَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَيُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ثُمَّ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ثُمَّ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل ِ ایمان اکٹھے ہوں گے، ان کوالہام کیا جائے گا، چنانچہ وہ کہیں گے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کو سفارشی مقرر کریں تاکہ وہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کرے، تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے کہیں گے: اے آدم!آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے حق میں اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دلا دے، آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے: میں اس کی جسارت نہیں کر سکتا،پھروہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے اور اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو کر سفارش کرنے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول ہیں، جنہیں اہل زمین کی طرف مبعوث کیا گیا۔ چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے یہی سفارش کی درخواست کریں گے تو وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے کہ وہ یہ کام نہیں کرسکتے، پھر وہ اپنی ایک غلطی کا ذکر کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی دعا کر بیٹھے تھے کہ جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس کی وجہ سے وہ اپنے ربّ کے سامنے جانے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ پس وہ لوگ ان کی خدمت میں جائیں گے، لیکن وہ بھی یہ کام نہ کر سکنے کا کہیں گے اور یہ مشورہ دیں کے کہ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے برگزیدہ بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلا م کیا اور انہیں تورات عطا کی، لہٰذا لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے لیکن وہ بھی معذرت کریں گے کہ کہیں گے کہ میں تو ایک آدمی کو بلاوجہ قتل کر چکاہوں اور اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اسکی روح ہیں۔ سو وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جائیں گے، لیکن وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا، البتہ تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو معاف کر دیا ہے،ان کے بعد لوگ میرے پاس آئیں گے،میں ان کی درخواست سن کر اہل ایمان کے دو گروہوں کے درمیان چلتا ہوا جاؤں گا اورجاکر اپنے ربّ سے اجازت طلب کروں گا، مجھے اجازت مل جائے گی اور میں اپنے ربّ کو دیکھ کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ کرنے دے گا، اس کے بعد کہاجائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ،کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، تب میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا کہ جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کرو ں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جا سکتے ہیں، میں انہیں جنت میں داخل کر آؤں گا اور دوبارہ آجاؤں گا اور اپنے ربّ کو دیکھتے ہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ کرنے دے گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کروتمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسی وقت وہ الفاظ سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جاسکتے ہیں، میں تیسری دفعہ آ جاؤں گا اور اپنے ربّ کودیکھ کر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اور میں سجدہ ریز رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ،کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کروتمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں سجدہ سے سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے وہ الفاظ اسی وقت سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جا سکتے ہیں، میں انہیں جنت میں داخل کرا کے چوتھی مرتبہ آجاؤں گا اور کہوں گا: اے ربّ! اب یہاں جہنم میں وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن نے روک رکھاہے، (یعنی جن کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے)۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے گا جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہوگا اور جس کے دل میں ایک جو کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ پھر اس کے بعد جہنم سے ہر اس آدمی کو بھی نکال لیا جائے گا جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہو گااور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، بعد ازاں جہنم سے ہر اس آدمی کو بھی نکال لیا جائے گا، جس نے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہو اور اس کے دل میں ایک ذراہ برابر ایمان ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13102]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4476، 6565، ومسلم: 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12177»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13103
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ إِذْ جَاءَنِي عِيسَى فَقَالَ هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمٍّ مَا هُمْ فِيهِ وَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزُّكْمَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ“ قَالَ قَالَ لِعِيسَى ”انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ“ قَالَ ”فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ“ قَالَ ”فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أَخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا“ قَالَ ”فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پل صراط کو عبور کر رہی ہوگی اور میں ان کے انتظار میں کھڑا ہوں گا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! یہ تمام انبیاء آپ کی خاطر جمع ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ تمام امتیں جس غم میں مبتلا ہیں، وہ انہیں اس سے نکال کر ان کا حساب کتاب شروع کرے اور جدھر چاہے ان کو بھیج دے، جبکہ سب لوگوں کو منہوں تک پسینہ آ رہا ہو گا، اہل ایمان کی تکلیف تو زکام کی سی ہوگی اور کافروں پر تو موت کی کیفیت طاری ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائیں گے: آپ انتظار کریں، میں آپ کے پاس واپس آتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کا ایسا ذکر کریں گے، جو کسی مقرب فرشتے یا بھیجے ہوئے نبی کو نصیب نہیں ہوا ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ تم جا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو:اپنا سر اٹھاؤ اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش مقبول ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں اتنی سفارش قبول کی جائے گی کہ آپ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار اللہ تعالیٰ کے ہاں جاتے رہیں گے اور ہر دفعہ آپ کی سفارش قبول کی جاتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے گا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت میں جتنے افراد پیدا کیے، ان میں سے جس جس نے اخلاص کے ساتھ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوا تو اسے جنت میں داخل کر لو۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13103]
تخریج الحدیث: «رجاله رجال الصحيح، وفي متن ھذا الحديث غرابة، أخرجه ابن خزيمة في التوحيد: 2/ 616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12855»
الحكم على الحديث: صحیح
7. مَارُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي بَكْرِ نِ الصَّدِيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13104
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ كُلَّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ”نَعَمْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَأَمْرِ الْآخِرَةِ فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ فَزِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ حَتَّى انْطَلَقُوا إِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ فَقَالُوا يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ وَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ قَالَ لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ انْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ إِلَى نُوحٍ {إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} قَالَ فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ وَلَمْ يَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا فَيَقُولُ لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي انْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ خَلِيلًا فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي وَلَكِنْ انْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا فَيَقُولُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي وَلَكِنْ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى فَيَقُولُ عِيسَى لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي وَلَكِنْ انْطَلِقُوا إِلَى سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالَ ”فَيَنْطَلِقُ فَيَأْتِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَبَّهُ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ ”فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَقُلْ يُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ“ قَالَ ”فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ“ قَالَ ”فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِضَبْعَيْهِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ خَلَقْتَنِي سَيِّدَ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مِمَّا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ“ ثُمَّ يُقَالُ ”ادْعُوا الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ“ ثُمَّ يُقَالُ ”ادْعُوا الْأَنْبِيَاءَ“ قَالَ ”فَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ“ ثُمَّ يُقَالُ ”ادْعُوا الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا“ وَقَالَ ”فَإِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ادْخُلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا“ قَالَ ”فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ“ قَالَ ”ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا فِي النَّارِ هَلْ تَلْقَوْنَ مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ“ قَالَ ”فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ“ فَيَقُولُ ”لَا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ“ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ”اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَاسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي“ ثُمَّ يُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُ لَهُ ”هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ“ فَيَقُولُ ”لَا غَيْرَ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُ وَلَدِي إِذَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ ثُمَّ اطْحَنُونِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ فَاذْهَبُوا بِي إِلَى الْبَحْرِ فَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ فَوَاللَّهِ لَا يَقْدِرُ عَلَيَّ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَبَدًا“ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ”لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ“ قَالَ ”مِنْ مَخَافَتِكَ“ قَالَ ”فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرْ إِلَى مُلْكِ أَعْظَمِ مَلِكٍ فَلَكَ مِثْلُهُ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ“ فَيَقُولُ ”لِمَ تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ“ قَالَ ”وَذَلِكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى“
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز ادا کر کے بیٹھ گئے، یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں بیٹھے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں بھی وہیں ادا کیں اور کسی سے کوئی بات نہیں کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کی اور اٹھ کر اپنے اہل ِ خانہ کی طرف چلے گئے تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول سے دریافت نہیں کرتے کہ کیا وجہ ہے کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا عمل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں کیا، چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، دنیا اور آخرت میں جو کچھ ہونے والا ہے، آج میرے سامنے پیش کیا گیا، پہلے والے اور بعد والے لوگوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کیا جائے گا، وہاں وہ شدید کر ب و اذیت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لوگوں کو منہوں تک پسینہ آیا ہوگا، وہ کہیں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلوق میں سے منتخب کیا، آپ اپنے ربّ کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں۔ وہ کہیں گے:میں بھی اسی قسم کی بے چینی میں مبتلا ہوں، جس میں تم پھنسے ہوئے ہو، تم اس طرح کرو کہ میرے بعد اپنے دوسرے باپ نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرَھِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلٰی الْعٰلَمِیْنَ} (بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، آلِ ابراہیم اور آل عمران کو سارے جہان والوں میں سے منتخب فرمایا ہے۔) چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں جا کر ان سے گزارش کریں گے کہ وہ ان کے حق میں ربّ سے سفارش کریں، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کولوگوں میں سے منتخب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، جس کے نتیجے میں اس نے زمین پر بسنے والے ایک کافر کو بھی نہیں چھوڑا، لیکن نوح علیہ السلام معذرت کرتے ہوئے کہیں گے:میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل بنایا تھا، پس وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے اپنی بات ذکر کریں گے، لیکن وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے:میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اعزاز عطا کیا ہے کہ ان سے براہ راست کلام کیا۔لیکن موسی علیہ السلام بھی یہ کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ خصوصیت دی تھی کہ وہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دیتے تھے، برص کے مریضوں کو ٹھیک کر دیتے اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے، لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا، البتہ تم اولادِ آدم کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے جاؤ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے زمین ان سے پھٹی ہے اور وہ سب سے پہلے اٹھے ہیں، بس تم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی چلے جاؤ، وہ تمہارے ربّ کے ہاں تمہارے حق میں سفارش کر سکتے ہیں۔ اُدھر جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے گے اور اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتے ہوئے کہیں گے: تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دے دو، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ لے کر جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ہفتے کے برابر طویل سجدہ کریں گے،بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے، لیکن جونہی اپنے ربّ کو دیکھیں گے تو دوبارہ سجدہ ریز ہوجائیں گے اور ایک ہفتہ بھر سجدہ کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:سر اٹھاؤ، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سفارش کرو آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، آپ پھر سجدہ ریز ہونے لگیں گے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازوؤں سے پکڑ لیں گے، تب اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی ایسی دعائیں سکھا دے گا کہ اس نے ایسی دعائیں آج تک کسی فرد کو نہیں سکھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں گے: اے میرے رب! تو نے مجھے اولادِ آدم کا سردار بنایا، میں اس پر فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے میں اٹھا، میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا اور صنعاء اور ایلہ کے درمیان میں سما جانے والے لوگوں سے زیادہ لوگ پانی پینے کے لیے میرے حوض پر آئیں گے۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ صدّیقوں کو بلاؤ، وہ آکر گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے، پھر اعلان کیا جائے گا کہ انبیاء کو بلاؤ،چنانچہ کوئی نبی آئے گا اوراس کے ساتھ امتیوں کی چھوٹی سی جماعت ہوگی، کسی نبی کے ساتھ پانچ،کسی کے ساتھ چھ افراد ہوں گے اور بعض نبی ایسے بھی ہوں گے کہ جن کے ساتھ کوئی آدمی نہیں ہوگا، پھر اعلان کیا جائے گا کہ شہداء کو بلاؤ، وہ بھی جن جن کے حق میں چاہیں گے سفارشیں کر یں گے، جب شہداء سفارش سے فارغ ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں ارحم الرحمین (سب سے زیادہ رحم کرنے والا) ہوں، تم ہر اس آدمی کو جنت میں لے جاؤ، جو میرے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا، چنانچہ ایسے لوگ جنت میں چلے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم میں دیکھو، کیا تمہیں کوئی ایسا آدمی نظر آ رہا ہے، جس نے کبھی کوئی نیکی کی ہو؟ چنانچہ جہنم میں ایک آدمی سے کہا جائے گا: تو نے بھی کبھی کوئی نیکی کی تھی؟ وہ کہے گا: جی نہیں، کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، البتہ خرید و فروخت کرتے وقت میں لوگوں سے نرمی کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ جس طرح میرے بندوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتا تھا، تم بھی میرے اس بندے کے ساتھ اسی طرح نرمی کرو۔اس کے بعد پھر وہ جہنم سے ایک آدمی کو نکال کر لائیں گے، اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا: جی نہیں، میں نے تو اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو تم مجھے آگ سے جلا ڈالنا، پھر میری راکھ کو پیسنا، جب میں سرمہ کی مانند باریک ہوجاؤں تو میری راکھ کو سمندر کی طرف لے جاکر ہواؤں میں اڑاد ینا، اللہ کی قسم، ایسا کرنے سے اللہ ربّ العالمین کو مجھ پر کوئی قدرت نہیں رہے گی، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو نے یہ کام کیوں کیا تھا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! تیرے خوف کی وجہ سے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کی بادشاہت کو تصور کرو، تمہیں جنت میں وہ اور اس کا دس گنا دیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ کہے گا: اے اللہ! تو تو بادشاہ ہے، تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ بات تھی، جس کی وجہ سے میں چاشت کے وقت مسکرایا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13104]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 56، 57، والبزار: 76، وابن حبان: 6476، وابوعوانة: / 175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15»
وضاحت: فوائد: … علامہ ابن ابی العز الحنفی رحمتہ اللہ علیہ عقیدہ طحاوہ کی شرح لکھتے ہوئے کہتے ہیں:
وَالْعَجَبُ کُلَّ الْعَجَبِ مِنْ إِیرَادِ الْأَئِمَّۃِ لِہَذَا الْحَدِیثِ مِنْ أَکْثَرِ طُرُقِہِ، لَا یَذْکُرُونَ أَمْرَ الشَّفَاعَۃِ الْأُولٰی فِی مَأْتَی الرَّبِّ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی لِفَصْلِ الْقَضَائِ، کَمَا وَرَدَ ہٰذَا فِی حَدِیثِ الصُّورِ، فَإِنَّہُ الْمَقْصُودُ فِی ہٰذَا الْمَقَامِ، وَمُقْتَضٰی سِیَاقِ أَوَّلِ الْحَدِیثِ، فَإِنَّ النَّاسَ إِنَّمَا یَسْتَشْفِعُونَ إِلَی آدَمَ فَمَنْ بَعْدَہُ مِنَ الْأَنْبِیَاء ِ فِی أَنْ یَفْصِلَ بَیْنَ النَّاسِ وَیَسْتَرِیحُوا مِنْ مَقَامِہِمْ، کَمَا دَلَّتْ عَلَیْہِ سِیَاقَاتُہُ مِنْ سَائِرِ طُرُقِہِ، فَإِذَا وَصَلُوا إِلَی الْجَزَاء ِ إِنَّمَا یَذْکُرُونَ الشَّفَاعَۃَ فِی عُصَاۃِ الْأُمَّۃِ وَإِخْرَاجَہُمْ مِنَ النَّارِ وَکَانَ مَقْصُودُ السَّلَفِ فِی الِاقْتِصَارِ عَلٰی ہَذَا الْمِقْدَارِ مِنَ الْحَدِیثِ ہُوَ الرَّدُّ عَلَی الْخَوَارِجِ وَمَنْ تَابَعَہُمْ مِنَ الْمُعْتَزِلَۃِ، الَّذِینَ أَنْکَرُوا خُرُوجَ أَحَدٍ مِنَ النَّارِ بَعْدَ دُخُولِہَا، فَیَذْکُرُونَ ہٰذَا الْقَدْرَ مِنَ الْحَدِیثِ الَّذِی فِیہِ النَّصُّ الصَّرِیْحُ فِی الرَّدِّ عَلَیْہِمْ، فِیمَا ذَہَبُوا إِلَیْہِ مِنَ الْبِدْعَۃِ الْمُخَالِفَۃِ لِلْأَحَادِیثِ وَقَدْ جَاء َ التَّصْرِیحُ بِذٰلِکَ فِی حَدِیثِ الصُّورِ، وَلَوْلَا خَوْفُ الْإِطَالَۃِ لَسُقْتُہُ بِطُولِہِ، لٰکِنْ مِنْ مَضْمُونِہِ: أَنَّہُمْ یَأْتُونَ آدَمَ ثُمَّ نُوحًا، ثُمَّ إِبْرَاہِیمَ، ثُمَّ مُوسٰی، ثُمَّ عِیسٰی، ثُمَّ یَأْتُونَ رَسُولَ اللّٰہِ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَیَذْہَبُ فَیَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فِی مَکَانٍ یُقَالُ لَہُ: الْفَحْصُ، فَیَقُولُ اللّٰہُ: مَا شَأْنُکَ؟ وَہُوَ أَعْلَمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَأَقُولُ: یَا رَبِّ، وَعَدْتَنِی الشَّفَاعَۃَ، فَشَفِّعْنِی فِی خَلْقِکَ، فَاقْضِ بَیْنَہُمْ، فَیَقُولُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی: شَفَّعْتُکَ، أَنَا آتِیکُمْ فَأَقْضِی بَیْنَہُمْ، قَالَ: فَأَرْجِعُ فَأَقِفُ مَعَ النَّاسِ، ثُمَّ ذَکَرَ انْشِقَاقَ السَّمَاوَاتِ، وَتَنَزُّلَ الْمَلَائِکَۃِ فِی الْغَمَامِ، ثُمَّ یَجِیئُ الرَّبُّ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی لِفَصْلِ الْقَضَاء ِ، وَالْکَرُوبِیُّونَ وَالْمَلَائِکَۃُ الْمُقَرَّبُونَ یُسَبِّحُونَ بِأَنْوَاعِ التَّسْبِیحِ، قَالَ: فَیَضَعُ اللّٰہُ کُرْسِیَّہُ حَیْثُ شَائَ مِنْ أَرْضِہِ، ثُمَّ یَقُولُ: إِنِّی أُنْصِتُ لَکُمْ مُنْذُ خَلَقْتُکُمْ إِلَی یَوْمِکُمْ ہٰذَا أَسْمَعُ أَقْوَالَکُمْ، وَأَرَی أَعْمَالَکُمْ، فَأَنْصِتُوا إِلَیَّ، فَإِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ وَصُحُفُکُمْ تُقْرَأُ عَلَیْکُمْ، فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلَا یَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَہُ، إِلٰی أَنْ قَالَ: فَإِذَا أَفْضٰی أَہْلُ الْجَنَّۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ، قَالُوا: مَنْ یَشْفَعُ لَنَا إِلٰی رَبِّنَا فَنَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ فَیَقُولُونَ: مَنْ أَحَقُّ بِذٰلِکَ مِنْ أَبِیکُمْ، إِنَّہُ خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہِ، وَنَفَخَ فِیہِ رُوحَہُ، وَکَلَّمَہُ قَبْلًا، فَیَأْتُونَ آدَمَ، فَیَطْلُبُونَ ذٰلِکَ إِلَیْہِ، وَذَکَرَ نُوحًا، ثُمَّ إِبْرَاہِیمَ، ثُمَّ مُوسٰی، ثُمَّ عِیسٰی، ثُمَّ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلٰی أَنْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: فَآتِی الْجَنَّۃَ، فَآخُذُ بِحَلْقَۃِ الْبَابِ، ثُمَّ أَسْتَفْتِحُ، فَیُفْتَحُ لِی،فَأُحَیَّی وَیُرَحَّبُ بِی، فَإِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَنَظَرْتُ إِلٰی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ خَرَرْتُ لَہُ سَاجِدًا، فَیَأْذَنُ لِی مِنْ حَمْدِہِ وَتَمْجِیدِہِ بِشَیْء ٍ مَا أَذِنَ بِہِ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِہِ، ثُمَّ یَقُولُ اللّٰہُ لِی: اِرْفَعْ یَا مُحَمَّدُ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَہْ، فَإِذَا رَفَعْتُ رَأْسِی، قَالَ اللّٰہُ وَہُوَ أَعْلَمُ: مَا شَأْنُکَ؟ فَأَقُولُ: یَا رَبِّ، وَعَدْتَنِی الشَّفَاعَۃَ، فَشَفِّعْنِی فِی أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ شَفَّعْتُکَ، وَأَذِنْتُ لَہُمْ فِی دُخُولِ الْجَنَّۃِ …۔)) الْحَدِیثَ رَوَاہُ الْأَئِمَّۃُ ابْنُ جَرِیرٍ فِی تَفْسِیرِہِ، وَالطَّبَرَانِیُّ، وَأَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ، وَالْبَیْہَقِیُّ وَغَیْرُہُمْ۔
ترجمہ: بڑا تعجب ہے کہ ائمہ و محدثین نے اس حدیث کو کئی طرق سے ذکر کیا، لیکن اس پہلی سفارش کا ذکر نہیں کیا، جس میں حساب و کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے آنے کا بیان ہے، جیسا صور والی حدیث میں وارد ہوا ہے، جبکہ اس مقام پر اسی سفارش کا ذکر مطلوب تھا اور ان احادیث کے شروع والے حصے کا تقاضا بھی یہی ہے، کیونکہ لوگ آدم علیہ السلام اور بعد والے انبیاء و رسل کے پاس یہ سفارش کروانے کے لیے جائیں گے کہ لوگوںکے درمیان فیصلہ کیا جائے تاکہ وہ اس مقام سے راحت حاصل کر سکیں، جیسا کہ تمام طرق کا سیاق دلالت کرتا ہے، لیکن اس سفارش کا وقت آتا ہے تو محدثین امت کے نافرمانوں کے حق میں کی جانے والی سفارش اور ان کو جہنم سے نکالنے کا ذکر کرتے ہیں۔ دراصل سلف کا سفارش کی یہ قسم ذکر کرنے سے مقصود خوارج اور اس مسئلہ میں ان کے پیروکار معتزلہ کا ردّ تھا، جنھوں نے جہنم میں داخل ہو جانے کے بعد اس سے نکلنے کا انکار کیا تھا، اس لیے ائمہ و محدثین ان احادیث میں سے صرف وہ حصہ ذکر کرتے ہیں، جن سے ان (باطل فرقوں) کی بدعت اور مخالفت ِ احادیث کا ردّ ہوتا ہے۔ جب کہ صور والی حدیث میں شفاعت ِ عظمی کی مکمل وضاحت کی گئی ہے، اگر طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو میں وہ مکمل حدیث ذکر کر دیتا، بہرحال اس موضوع سے متعلقہ اِس حدیث کا مضمون یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ یکے بعد دیگرے آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰR کے پاس جائیں گے اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچیں گے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑیں گے اور عرش کے نیچے فحص مقام پر سجدہ کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہیں گے: تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ جبکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے: اے میرے ربّ! آپ نے مجھ سے سفارش کا وعدہ کیا تھا، پس اب میری سفارش قبول کریں اور اپنی مخلوق کا فیصلہ کریں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں نے تمہاری سفارش قبول کر لی ہے اور میں اِن کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے آ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا، …، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمانوں کے پھٹنے اور فرشتوں کے بادلوں میں نازل ہونے کا ذکر کیا، پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے کے لیے تشریف لائیں گے اور اس وقت مقرب فرشتے مختلف قسم کی تسبیحات بیان کریں گے، پس اللہ تعالیٰ جہاں چاہیں گے، اپنی زمین پر کرسی رکھیں گے، پھر فرمائیں گے: (اے میری مخلوق سنو) جب سے میں نے تم کو پیدا کیا، اس وقت سے لے کر آج تلک میں خاموش رہا، تمہاری باتیں سنتا رہا اور تمہارے اعمال دیکھتا رہا، پس آج تم میرے لیے خاموش ہو جاؤ، صرف یہ ہو گا کہ تم پر تمہارے اعمال اور صحیفے پڑھیں جائیں گے، پس جو خیر و بھلائی پائے وہ اللہ کی تعریف کرے اور جو دوسری چیز پائے، وہ صرف اپنی مذمت کرے …، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل جنت، جنت تک پہنچیں گے تو وہ کہیں گے: کون ہے، جو ہمارے ربّ کے سامنے سفارش کرے، تاکہ ہم جنت داخل تو ہو سکیں؟ جواباً دوسرے لوگ کہیں گے: تمہارے باپ (آدم علیہ السلام) سے زیادہ مستحق کون ہو سکتا ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا، ان میں اپنی روح پھونکی اور ان سے آمنے سامنے باتیں کیں، پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے یہ مطالبہ کریں گے، … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰR اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں جنت کے پاس آ کر دروازے کا کڑا پکڑوں گا اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا، سو دروازہ میرے لیے کھول دیا جائے گا اور سلام پیش کیا جائے گا اور مرحبا کہا جائے گا، پس جب میں جنت میں داخل ہو کر اپنے ربّ کی طرف دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد اور بزرگی پر دلالت کرنے والے ایسے کلمات کا مجھ پر اِلقاء کریں گے، جو اس نے کسی کو نہیں سکھائے ہوں گے، بالآخر اللہ تعالیٰ کہیں گے: اے محمد! اٹھو، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے، مانگو، تم کو دیا جائے گا، پس جب میں سر اٹھاؤں گا تو اللہ تعالیٰ کہیں گے: تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے، میں کہوں گا: اے میرے ربّ! آپ نے مجھے سے سفارش کا وعدہ کیا تھا، پس اب جنت والوں کے حق میں میری سفارش قبول کرو، تاکہ وہ جنت میں داخل ہو سکیں، اللہ تعالیٰ جواب دیں گے: میں نے تمہاری سفارش قبول کر لیی ہے اور ان کو جنت میں داخل دینے کی اجازت دے دی ہے۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اور امام طبرانی، امام ابویعلی موصلی اور امام بیہقی وغیرہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (شرح عقیدہ طحاویہ: ۲/ ۶۲۔ ۶۵)
وَالْعَجَبُ کُلَّ الْعَجَبِ مِنْ إِیرَادِ الْأَئِمَّۃِ لِہَذَا الْحَدِیثِ مِنْ أَکْثَرِ طُرُقِہِ، لَا یَذْکُرُونَ أَمْرَ الشَّفَاعَۃِ الْأُولٰی فِی مَأْتَی الرَّبِّ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی لِفَصْلِ الْقَضَائِ، کَمَا وَرَدَ ہٰذَا فِی حَدِیثِ الصُّورِ، فَإِنَّہُ الْمَقْصُودُ فِی ہٰذَا الْمَقَامِ، وَمُقْتَضٰی سِیَاقِ أَوَّلِ الْحَدِیثِ، فَإِنَّ النَّاسَ إِنَّمَا یَسْتَشْفِعُونَ إِلَی آدَمَ فَمَنْ بَعْدَہُ مِنَ الْأَنْبِیَاء ِ فِی أَنْ یَفْصِلَ بَیْنَ النَّاسِ وَیَسْتَرِیحُوا مِنْ مَقَامِہِمْ، کَمَا دَلَّتْ عَلَیْہِ سِیَاقَاتُہُ مِنْ سَائِرِ طُرُقِہِ، فَإِذَا وَصَلُوا إِلَی الْجَزَاء ِ إِنَّمَا یَذْکُرُونَ الشَّفَاعَۃَ فِی عُصَاۃِ الْأُمَّۃِ وَإِخْرَاجَہُمْ مِنَ النَّارِ وَکَانَ مَقْصُودُ السَّلَفِ فِی الِاقْتِصَارِ عَلٰی ہَذَا الْمِقْدَارِ مِنَ الْحَدِیثِ ہُوَ الرَّدُّ عَلَی الْخَوَارِجِ وَمَنْ تَابَعَہُمْ مِنَ الْمُعْتَزِلَۃِ، الَّذِینَ أَنْکَرُوا خُرُوجَ أَحَدٍ مِنَ النَّارِ بَعْدَ دُخُولِہَا، فَیَذْکُرُونَ ہٰذَا الْقَدْرَ مِنَ الْحَدِیثِ الَّذِی فِیہِ النَّصُّ الصَّرِیْحُ فِی الرَّدِّ عَلَیْہِمْ، فِیمَا ذَہَبُوا إِلَیْہِ مِنَ الْبِدْعَۃِ الْمُخَالِفَۃِ لِلْأَحَادِیثِ وَقَدْ جَاء َ التَّصْرِیحُ بِذٰلِکَ فِی حَدِیثِ الصُّورِ، وَلَوْلَا خَوْفُ الْإِطَالَۃِ لَسُقْتُہُ بِطُولِہِ، لٰکِنْ مِنْ مَضْمُونِہِ: أَنَّہُمْ یَأْتُونَ آدَمَ ثُمَّ نُوحًا، ثُمَّ إِبْرَاہِیمَ، ثُمَّ مُوسٰی، ثُمَّ عِیسٰی، ثُمَّ یَأْتُونَ رَسُولَ اللّٰہِ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَیَذْہَبُ فَیَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فِی مَکَانٍ یُقَالُ لَہُ: الْفَحْصُ، فَیَقُولُ اللّٰہُ: مَا شَأْنُکَ؟ وَہُوَ أَعْلَمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَأَقُولُ: یَا رَبِّ، وَعَدْتَنِی الشَّفَاعَۃَ، فَشَفِّعْنِی فِی خَلْقِکَ، فَاقْضِ بَیْنَہُمْ، فَیَقُولُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی: شَفَّعْتُکَ، أَنَا آتِیکُمْ فَأَقْضِی بَیْنَہُمْ، قَالَ: فَأَرْجِعُ فَأَقِفُ مَعَ النَّاسِ، ثُمَّ ذَکَرَ انْشِقَاقَ السَّمَاوَاتِ، وَتَنَزُّلَ الْمَلَائِکَۃِ فِی الْغَمَامِ، ثُمَّ یَجِیئُ الرَّبُّ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی لِفَصْلِ الْقَضَاء ِ، وَالْکَرُوبِیُّونَ وَالْمَلَائِکَۃُ الْمُقَرَّبُونَ یُسَبِّحُونَ بِأَنْوَاعِ التَّسْبِیحِ، قَالَ: فَیَضَعُ اللّٰہُ کُرْسِیَّہُ حَیْثُ شَائَ مِنْ أَرْضِہِ، ثُمَّ یَقُولُ: إِنِّی أُنْصِتُ لَکُمْ مُنْذُ خَلَقْتُکُمْ إِلَی یَوْمِکُمْ ہٰذَا أَسْمَعُ أَقْوَالَکُمْ، وَأَرَی أَعْمَالَکُمْ، فَأَنْصِتُوا إِلَیَّ، فَإِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ وَصُحُفُکُمْ تُقْرَأُ عَلَیْکُمْ، فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلَا یَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَہُ، إِلٰی أَنْ قَالَ: فَإِذَا أَفْضٰی أَہْلُ الْجَنَّۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ، قَالُوا: مَنْ یَشْفَعُ لَنَا إِلٰی رَبِّنَا فَنَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ فَیَقُولُونَ: مَنْ أَحَقُّ بِذٰلِکَ مِنْ أَبِیکُمْ، إِنَّہُ خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہِ، وَنَفَخَ فِیہِ رُوحَہُ، وَکَلَّمَہُ قَبْلًا، فَیَأْتُونَ آدَمَ، فَیَطْلُبُونَ ذٰلِکَ إِلَیْہِ، وَذَکَرَ نُوحًا، ثُمَّ إِبْرَاہِیمَ، ثُمَّ مُوسٰی، ثُمَّ عِیسٰی، ثُمَّ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلٰی أَنْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: فَآتِی الْجَنَّۃَ، فَآخُذُ بِحَلْقَۃِ الْبَابِ، ثُمَّ أَسْتَفْتِحُ، فَیُفْتَحُ لِی،فَأُحَیَّی وَیُرَحَّبُ بِی، فَإِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَنَظَرْتُ إِلٰی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ خَرَرْتُ لَہُ سَاجِدًا، فَیَأْذَنُ لِی مِنْ حَمْدِہِ وَتَمْجِیدِہِ بِشَیْء ٍ مَا أَذِنَ بِہِ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِہِ، ثُمَّ یَقُولُ اللّٰہُ لِی: اِرْفَعْ یَا مُحَمَّدُ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَہْ، فَإِذَا رَفَعْتُ رَأْسِی، قَالَ اللّٰہُ وَہُوَ أَعْلَمُ: مَا شَأْنُکَ؟ فَأَقُولُ: یَا رَبِّ، وَعَدْتَنِی الشَّفَاعَۃَ، فَشَفِّعْنِی فِی أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ شَفَّعْتُکَ، وَأَذِنْتُ لَہُمْ فِی دُخُولِ الْجَنَّۃِ …۔)) الْحَدِیثَ رَوَاہُ الْأَئِمَّۃُ ابْنُ جَرِیرٍ فِی تَفْسِیرِہِ، وَالطَّبَرَانِیُّ، وَأَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ، وَالْبَیْہَقِیُّ وَغَیْرُہُمْ۔
ترجمہ: بڑا تعجب ہے کہ ائمہ و محدثین نے اس حدیث کو کئی طرق سے ذکر کیا، لیکن اس پہلی سفارش کا ذکر نہیں کیا، جس میں حساب و کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے آنے کا بیان ہے، جیسا صور والی حدیث میں وارد ہوا ہے، جبکہ اس مقام پر اسی سفارش کا ذکر مطلوب تھا اور ان احادیث کے شروع والے حصے کا تقاضا بھی یہی ہے، کیونکہ لوگ آدم علیہ السلام اور بعد والے انبیاء و رسل کے پاس یہ سفارش کروانے کے لیے جائیں گے کہ لوگوںکے درمیان فیصلہ کیا جائے تاکہ وہ اس مقام سے راحت حاصل کر سکیں، جیسا کہ تمام طرق کا سیاق دلالت کرتا ہے، لیکن اس سفارش کا وقت آتا ہے تو محدثین امت کے نافرمانوں کے حق میں کی جانے والی سفارش اور ان کو جہنم سے نکالنے کا ذکر کرتے ہیں۔ دراصل سلف کا سفارش کی یہ قسم ذکر کرنے سے مقصود خوارج اور اس مسئلہ میں ان کے پیروکار معتزلہ کا ردّ تھا، جنھوں نے جہنم میں داخل ہو جانے کے بعد اس سے نکلنے کا انکار کیا تھا، اس لیے ائمہ و محدثین ان احادیث میں سے صرف وہ حصہ ذکر کرتے ہیں، جن سے ان (باطل فرقوں) کی بدعت اور مخالفت ِ احادیث کا ردّ ہوتا ہے۔ جب کہ صور والی حدیث میں شفاعت ِ عظمی کی مکمل وضاحت کی گئی ہے، اگر طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو میں وہ مکمل حدیث ذکر کر دیتا، بہرحال اس موضوع سے متعلقہ اِس حدیث کا مضمون یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ یکے بعد دیگرے آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰR کے پاس جائیں گے اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچیں گے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑیں گے اور عرش کے نیچے فحص مقام پر سجدہ کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہیں گے: تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ جبکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے: اے میرے ربّ! آپ نے مجھ سے سفارش کا وعدہ کیا تھا، پس اب میری سفارش قبول کریں اور اپنی مخلوق کا فیصلہ کریں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں نے تمہاری سفارش قبول کر لی ہے اور میں اِن کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے آ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا، …، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمانوں کے پھٹنے اور فرشتوں کے بادلوں میں نازل ہونے کا ذکر کیا، پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے کے لیے تشریف لائیں گے اور اس وقت مقرب فرشتے مختلف قسم کی تسبیحات بیان کریں گے، پس اللہ تعالیٰ جہاں چاہیں گے، اپنی زمین پر کرسی رکھیں گے، پھر فرمائیں گے: (اے میری مخلوق سنو) جب سے میں نے تم کو پیدا کیا، اس وقت سے لے کر آج تلک میں خاموش رہا، تمہاری باتیں سنتا رہا اور تمہارے اعمال دیکھتا رہا، پس آج تم میرے لیے خاموش ہو جاؤ، صرف یہ ہو گا کہ تم پر تمہارے اعمال اور صحیفے پڑھیں جائیں گے، پس جو خیر و بھلائی پائے وہ اللہ کی تعریف کرے اور جو دوسری چیز پائے، وہ صرف اپنی مذمت کرے …، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل جنت، جنت تک پہنچیں گے تو وہ کہیں گے: کون ہے، جو ہمارے ربّ کے سامنے سفارش کرے، تاکہ ہم جنت داخل تو ہو سکیں؟ جواباً دوسرے لوگ کہیں گے: تمہارے باپ (آدم علیہ السلام) سے زیادہ مستحق کون ہو سکتا ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا، ان میں اپنی روح پھونکی اور ان سے آمنے سامنے باتیں کیں، پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے یہ مطالبہ کریں گے، … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰR اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں جنت کے پاس آ کر دروازے کا کڑا پکڑوں گا اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا، سو دروازہ میرے لیے کھول دیا جائے گا اور سلام پیش کیا جائے گا اور مرحبا کہا جائے گا، پس جب میں جنت میں داخل ہو کر اپنے ربّ کی طرف دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد اور بزرگی پر دلالت کرنے والے ایسے کلمات کا مجھ پر اِلقاء کریں گے، جو اس نے کسی کو نہیں سکھائے ہوں گے، بالآخر اللہ تعالیٰ کہیں گے: اے محمد! اٹھو، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے، مانگو، تم کو دیا جائے گا، پس جب میں سر اٹھاؤں گا تو اللہ تعالیٰ کہیں گے: تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے، میں کہوں گا: اے میرے ربّ! آپ نے مجھے سے سفارش کا وعدہ کیا تھا، پس اب جنت والوں کے حق میں میری سفارش قبول کرو، تاکہ وہ جنت میں داخل ہو سکیں، اللہ تعالیٰ جواب دیں گے: میں نے تمہاری سفارش قبول کر لیی ہے اور ان کو جنت میں داخل دینے کی اجازت دے دی ہے۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اور امام طبرانی، امام ابویعلی موصلی اور امام بیہقی وغیرہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (شرح عقیدہ طحاویہ: ۲/ ۶۲۔ ۶۵)
الحكم على الحديث: صحیح
8. وفِيهِ أَيْضًا شَفَاعَةُ الصِّدِيقِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ وَالشُّهَدَاءِ شَفَاعَتُهُ ﷺ لِفَرِيقِ مِّنْ أُمَّتِهِ اسْتَحَقُوا الْعَذَابَ قَبْلَ دُخُولِهِمُ النَّارَ وَاخْرَاجُ فَرِيْقٍ مِنْهَا بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُمُ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
حدیث نمبر: 13105
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأُعْطِي لِوَاءَ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَإِنِّي آتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَتِهَا فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا فَأَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُونَ لِي فَأَدْخُلُ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنَ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأُقْبِلُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ ذَلِكَ فَأُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ نِصْفَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنَ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُمُ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أَدْخَلْتُهُمُ الْجَنَّةَ وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِيَ النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ فَبِعِزَّتِي لَأُعْتِقَنَّهُمْ مِنَ النَّارِ فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ فَيَخْرُجُونَ وَقَدِ امْتُحِشُوا فَيُدْخَلُونَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ وَيُكْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهَبُ بِهِمْ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ بَلْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے میرے وجود سے زمین پھٹے گی اور اس بات پر مجھے فخر نہیں ہے، قیامت کے دن مجھے حمد کا جھنڈا دیا جائے گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا، اس پر بھی فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اس پر بھی مجھے فخر نہیں ہے، میں جنت کے دروازے پر جا کر اس کے کڑے کو پکڑوں گا، وہ پوچھیں گے کہ کون ہے؟ میں کہوں گا: میں محمد ہوں، پس وہ میرے لیے جنت کا دروازہ کھول دیں گے، جب میں جنت کے اندر داخل ہوں گا تو اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، کہو تمہاری بات قبول کی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی،چنانچہ میں سجدہ سے اپنا سر اٹھا کر کہوں گا:اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اور جس آدمی کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو، اسے جنت میں لے آؤ، میں آکر جس جس آدمی کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا اسے جنت میں داخل کردوں گا، پھر جب اللہ تعالیٰ میرے سامنے آئے گا تو میں اس کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ،کہوتمہاری بات سنی جائے گی،بات کرو، تمہاری بات مقبول ہوگی، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول ہوگی، سو میں سجدہ سے سر اٹھا کر کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اورجس کے دل میں نصف جو کے برابر بھی ایمان پاؤ، اسے جنت میں لے آؤ، چنانچہ میں جا ؤں گا اور جن لوگوں کے دلوں میں اتنا ایمان پاؤں گا، ان کو جنت میں لے آؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہوگا اور میں پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، کہو تمہاری بات مقبول ہو گی،سفارش کرو، تمہاری قبول کی جائے گی،میں سجدہ سے سر اٹھا کر عرض کروں گا: اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اورجس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان پاؤ، اسے جنت میں لے آؤ۔ پس میں جس جس کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا، اسے جنت میں لے آؤں گا، اُدھر اللہ تعالیٰ لوگوں کے محاسبہ سے فارغ ہوکر میری امت کے باقی لوگوں کو جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں داخل کر چکا ہوگا، لیکن اہل جہنم ان سے کہیں گے: تم تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، لیکن تمہیں اس بات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت کی قسم: میں ان لوگوں کو ضرور بالضرور جہنم سے آزاد کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ان کی طرف بھیجے گا، چنانچہ ان کو جہنم سے نکالا جائے گا، جبکہ وہ جل جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر ان کو نہر حیات میں ڈالا جائے گا، وہ وہاں اس طرح اگ آئیں گے، جیسے سیلاب کے پتے تنکوں اور جھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، ان کی آنکھوں کے درمیان یعنی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ بندے اللہ تعالیٰ کے آزاد کیے ہوئے ہیں، پھر انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت انہیں جہنم والے کہیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا:نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13105]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الدارمي: 52، والنسائي في الكبري: 7690، وابويعلي: 4130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12496»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13106
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ قَوْمٌ شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی وجہ سے جہنم سے ایک قوم کو نکالا جائے گا، ان کو جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13106]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20139»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13107
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمُ النَّارُ بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ قَالَ حَجَّاجٌ: الْجَهَنَّمِيِّينَ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفارش کرنے والوں کی سفارش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو جہنم سے نکالے گا، جو سڑچکے ہوں گے اور آگ نے انہیں جلا کر سیاہ کر دیا ہوگا، پھر ان کو جنت میں داخل کر دے گا، ان کو جہنمی کا نام دیا جائے گا۔ راویٔ حدیث حجاج نے جہنمیوں کی بجائے لفظ جہنمیین کہا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13107]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 419، وابن خزيمة في التوحيد: 2/ 664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23817»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13108
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُخْرَجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا مَحَشَتْهُمُ النَّارُ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بعض لوگوں کو نکالا جائے گا، جبکہ آگ نے جلا جلا کر ان کو کالا سیاہ کر دیا ہوگا، انہیں جہنمی کہا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13108]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23712»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں دو قسم کی سفارشوں کا ذکر ہے۔ جو توحید پرست اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو جائیں گے، جب ان کی سزا پوری ہو جائے گی، یا جب اللہ تعالیٰ کی رحمت تقاضا کرے گی تو ان کو آگ سے نکال لیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. شَفَاعَةُ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمُؤْمِنِينَ وَفِيهِ تَتَجَلَّى رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى بِعِبَادِهِ الْمَوَحَدِينَ
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
حدیث نمبر: 13109
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ تَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدِّ مُجَادَلَةٍ لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ“ قَالَ: أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} ”قَالَ: فَيَقُولُونَ رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ أَوْ قَالَ: قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلَّهِ خَيْرًا قَطُّ قَدِ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ: فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللَّهِ قَالَ فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَايِ عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اہل ایمان جہنم سے نجات پا کر مطمئن ہو جائیں گے تو دنیامیں کوئی مومن اپنے حق کے بارے میں اس قدر نہیں جھگڑتا، جتنا زیادہ یہ ایمان والے اپنے ان اہل ایمان بھائیوں کے بارے میں اپنے ربّ سے جھگڑا کریں گے، جن کو جہنم میں داخل کر دیا گیا ہوگا، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا جاؤ، تم ان میں سے جن جن کو پہچانتے ہو، ان کونکال لاؤ۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کو چہروں سے پہچان لیں گے، کیونکہ آگ ان کے چہروں کو نہیں جلائے گی، ان میں کسی کو آگ نے اس کی نصف پنڈلی تک اور کسی کو ٹخنوں تک جلایا ہوا ہوگا، وہ ان کو نکال لائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جن لوگوں کو وہاں سے نکال لانے کی اجازت دی تھی ان کو تو ہم لے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہو، اب اس کو بھی نکال لاؤ، اس کے بعد فرمائے گا:جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، اس کو بھی نکال لاؤ، یہ سلسلہ جاری رہے گایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کو اس حدیث پر یقین نہیں آتا،وہ یہ آیت پڑھ لے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} (بے شک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اگر کسی کی وہ (ذرہ برابر) بھی نیکی ہو تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے)۔اہل ایمان کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جن لوگوں کو نکال لانے کی اجازت دی تھی، ان کو تو ہم نکال لائے ہیں، اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا، جس کے دل میں کوئی خیر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتے سفارش کر چکے، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور اہل ایمان نے بھی سفارش کر لی ہے، اب ارحم الرحمین باقی رہ گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک یا دو مٹھیاں بھر کر ایسے جہنمیوں کو نکالے گا، جنہوں نے کبھی بھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ جل جل کر کوئلے بن چکے ہوں گے، پھر انہیں ماء الحیاۃ کی طرف لایا جائے گا اور وہ ان پر ڈالا جائے گا،اس سے وہ یوں اگنے لگیں گے، جیسے سیلاب کے تنکوں اورجھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، وہ اپنے جسموں میں سے موتیوں کی مانند صاف شفاف چمکتے ہوئے نکلیں گے، ان کی گردنوں پر ایک مہر ہوگی اس پر عُتَقَاءُ اللّٰہ لکھا ہوا ہوگا، ان سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤاور تم جو تمنا کرو گے اور جو چیز دیکھو گے، وہ تمہاری ہو گی۔ اور تمہارے لیے میرے پاس اس سے بھی ایک بہترین چیز ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ ہے تمہارے اوپر میری رضا مندی، چنانچہ اب میں کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13109]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2598، والنسائي: 8/ 112، وابن ماجه: 60، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11920»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13110
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَتَمَجَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ قَطُّ فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا احْتَرَقُوا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يَشْفَعُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے لیے بہت زیادہ قابل تعظیم اس طرح ٹھہریں گے کہ ان لوگوں نے کبھی بھی کوئی نیکی نہیں کی ہوگی، لیکن وہ سفارش کرنے والوں کی سفارش کے بعد اپنی رحمت سے ان کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا، جبکہ وہ وہاں جل چکے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13110]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9190»
وضاحت: فوائد: … ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی میں توحید ورسالت کا اقرار تو کیا ہو گا، لیکن اس عمل کے علاوہ ان کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح