🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13171
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ایک آدمی سے مختلف سوالات کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اس پوچھ گچھ کے دوران اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا: جب تو نے دنیا میں گناہ کو دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ تو جس بندے کو اللہ تعالیٰ جواب سمجھا دے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تیری رحمت کی امید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13171]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحميدي: 739، والبيھقي في الشعب: 7575، وابويعلي: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11232»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13172
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ اسْمُهُ رُدُّوهُ فَيَرُدُّوهُ فَيَقُولُ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ يَعْنِي فَيَقُولُ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا“ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ
سیدنا فضالہ بن عبید اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں سے فارغ ہو گا، تو اُدھر دو آدمی بچے ہوئے ہوں گے۔پھر ا نہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، ان میں سے ایک آدمی مڑ مڑ کر دیکھے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے واپس لاؤ، فرشتے اسے واپس لے آئیں گے،اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو پیچھے مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہا تھا؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر اسے جنت میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، وہ جنت میں جا کر کہے گا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر نعمتیں دی ہیں کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کو بھی کھانا کھلاؤں تو میری نعمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13172]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24464»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13173
وَعَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ قَالَ فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ وَيُخْبَأُ عَنْهُ كِبَارُهَا فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا وَهُوَ مُقِرٌّ لَا يُنْكِرُ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْكِبَارِ فَيُقَالُ أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً قَالَ فَيَقُولُ إِنَّ لِي ذُنُوبًا مَا أَرَاهَا“ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو، پس اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے اور بڑے بڑے گناہوں کو اس سے اوجھل رکھا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا؟ وہ ان گناہوں کا اعتراف کرتا جائے گا اور انکار نہیں کرے گا، جبکہ وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ اسے ہر گناہ کے عوض ایک ایک نیکی دے دو، تب وہ بولے گا اور کہے گا: میں نے تو ایسے گناہ بھی کیے تھے، جو یہاں مجھے نظر نہیں آ رہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں بھی نمایاں ہوگئیں۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13173]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21721»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13174
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ يُؤْتَى بِرَجُلٍ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ ”فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً“
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس آدمی کو جانتا ہوں جسے سب سے آخرمیں جہنم سے نکال کر سب سے آخر میں جنت میں داخل کیا جائے گا، ایک آدمی کو لایا جائے گا، … …، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے لگیں یہاں تک پہلی حدیث کی طرح ہی ہے۔ اور یہ بات زیادہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اسے کہا جائے گا: پس بیشک تیرے لیے ہر برائی کے بدلے نیکی ہے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13174]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21824»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13175
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى فِي الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے سلسلہ میں بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ مومن کو دنیا میں نیکی کا عوض بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں ثواب بھی دیا جاتا ہے، رہا مسئلہ کافر کا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو کوئی نیکی نہیں ہوتی کہ اسے بدلہ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13175]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12262»
وضاحت: فوائد: … (۱) اس فصل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر انتہائی مہربان ہے وہ اپنے بعض مومن بندوں پر تو اس قدر مہربان ہوگا کہ انہیں اپنے قریب کر کے سرگوشی کے انداز میں ان سے کلام کرے گا۔ اور یاد دلائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ میں آج تمہارے گناہوں کو معاف کر تا ہوں۔ اور اسے جنت میں بھیج دیا جائے گا۔
(۲) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دورانِ طواف باتیں کرنا منع نہیں۔ حسب ضرورت کسی سے بات کی جاسکتی ہے۔ اور اہل علم سے مسائل بھی دریافت کیے جا سکتے ہیں۔
(۳) اس فصل سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور عقیدہ ٔ توحید کی عظمت بھی واضح ہوئی کہ ایک گناہ گار کے بڑے بڑے ننانوے دفتر گناہوں سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ایک نیکی بھی ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اعتراف کیا ہوگا تو اسی کی برکت سے اس کی نجات ہوجائے گی۔
(۴) نیز معلوم ہوا کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھے اللہ تعالیٰ بھی اسے مایوس نہیں کرتا۔
(۵) نیز معلوم ہوا کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اس دنیا میںانسان کے لیے اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ سب سے آخر میں جنت میں جانے والا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر کہے گا کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کی دعوت کروں تب بھی یہ نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہل توحید سے اس قدر خوش ہوگا کہ ان کے ہر ہر گناہ کے عوض انہیں نیکیاں دے گا۔
(۷) نیز معلوم ہوا کہ مومن کی ایک بھی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ اسے دنیا میں بھی اس کا اجر ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ثواب ملے گا۔ ان شاء اللہ۔
(۸) البتہ کفار کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ انہیں آخرت میں کوئی اچھا بدلہ نہیں ملے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. امْتِحَانُ الْمُؤْمِنِينَ وَفِدْيَتُهُمْ مِنَ النَّارِ بِالْكَافِرِينَ
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13176
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَتَّبِعُونَهُمْ حَتَّى يُقَحِّمُونَهُمُ النَّارَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتُمْ فَنَقُولُ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَقُولُ وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا فَيَقُولُ أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام امتوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ وہ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلے کرے توہر قوم جس جس کی پوجا کیا کرتی تھی، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس کی صورت پیش کرے گا، وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں چلے جائیں گے، جبکہ ہم ایک بلند جگہ پر ہوں گے، ہمارا ربّ ہمارے پاس آکر کہے گا: تم کون لوگ ہو؟ ہم عرض کریں گے: ہم مسلمان ہیں، وہ پوچھے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ ہم کہیں گے: ہم اپنے ربّ کا انتظار کر رہے ہیں، وہ پوچھے گا: کیا تم اسے دیکھ کر پہنچان جاؤ گے؟ ہم کہیں گے: جی ہاں، وہ پوچھے گا: تم نے تو اسے دیکھا ہی نہیں، پس تم اسے کیسے پہچانو گے؟ ہم کہیں گے: بس ہم اسے پہچان لیں گے، کیونکہ وہ بے مثل ہیں، اس جیسا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ مسکراتے ہوئے ان کے سامنے ظہور فرمائے گا اور کہے گا: مسلمانو! مبارک ہو، میں نے تمہارے ہر ہر فرد کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم میں پہنچادیا ہے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13176]
تخریج الحدیث: «قوله: لَيْسَ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهٗ فِيْ النَّارِ يَهُوْدِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًّا صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وجھالة عمارة القرشي، أخرجه ابن خزيمة في التوحيد: ص 236، والدارقطني في الصفات: 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19888»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13177
وَعَنْ عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذَكَرَ الشَّيْخُ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَالَ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَا أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عمارۃ قرشی کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میں عمربن عبدالعزیز کی خدمت میں گئے، وفد میں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، عمربن عبدالعزیز نے ہمارا کام کر دیا، جب سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان کو دیکھ کر کہا: بزرگ کو کیا یاد آگیا؟ کیا میں نے آپ لوگوں کا کام نہیں کر دیا؟ سیدناابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کام تو ہو گیا ہے، ایک حدیث رہ گئی ہے، جو میرے والد (سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ) نے مجھے بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن امتوں کو جمع کرے گا، … پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا۔ عمربن عبدالعزیز نے سیدنا ابوبردہ سے پوچھا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم نے سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں میں نے اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13177]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19889»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13178
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَا أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا“ قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَلَفَ لَهُ قَالَ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ
عون اور سعید بن ابی بردہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ وہ دونوں موجود تھے اور سیدنا ابوبردہ عمربن عبدالعزیز کے سامنے اپنے والد کے حوالہ سے یہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم رسید کرے گا۔ عمربن عبدالعزیز نے ان سے تین بار اس اللہ کی قسم لی کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ واقعی اس کے باپ نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ انھوں نے جواباً قسم اٹھائی۔ سعید راوی نے قسم اٹھوانے والی بات بیان نہیں کی تھی، لیکن انھوں نے عون کی اس بات کا انکار بھی نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13178]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19789»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13179
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ مُؤْمِنٌ إِلَّا أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ يُقَالُ لَهُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ“ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَاسْتَحْلَفَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَعَمْ فَسُرَّ بِذَلِكَ عُمَرُ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کابیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر مومن کو ایک یہودی یا ایک عیسائی دے کر یہ کہا جائے گا کہ جہنم سے تمہاری نجات کے لیے یہ آدمی تمہارا فدیہ ہے۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عمربن عبدالعزیز نے مجھ سے اللہ کے نام کا حلف اٹھوایا کہ کیا واقعی میں نے سیدنا ابو موسیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حدیث روایت کرتے سنا ہے، میں نے کہا جی ہاں، یہ سن کر عمربن عبدالعزیز خوش ہو گئے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13179]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوعوانة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19829»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. الصِّرَاطُ وَشَفَاعَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَتَحَتُنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ عَلَى عِبَادِهِ الْمُوَحِدِينَ
پل صراط،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13180
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ أَيْنَ النَّاسُ قَالَ ”إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس دن زمین اور آسمان کو تبدیل کیا جائے گا، اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے اس کے متعلق دریافت نہیں کیا، اس وقت لوگ پل صراط پر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13180]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25204»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں