الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. قَوْله ﷺ: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» الخ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے …
حدیث نمبر: 13195
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ قَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُّ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُّ لِأَهْلِهَا فِيهَا قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهَا وَإِذَا هِيَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى النَّارِ فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُّ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَإِذَا هِيَ تَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَسْمَعَ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور اس سے کہا: جنت کو اور اس میں اہل جنت کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھو، انھوں نے جنت میں آکر اسے دیکھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ جنت کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے بھی دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آکر کہا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں تو جو بھی سنے گا، وہ اس میں داخل ہو گا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کے ارد گرد ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، اور ان کو دوبارہ حکم دیا کہ اب جا کر جنت کو دیکھواور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں، جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف گئے اور اس کے ارد گرد انسانوں کے ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو اندیشہ ہے کہ ایک آدمی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جاؤ اور جہنم اور اس میں اہل جہنم کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھ کر آؤ، انہوں نے جا کر دیکھا کہ جہنم کے بعض حصے بعض حصوں پر چڑھ رہے ہیں، وہ واپس چلے گئے اور جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی بھی ا س جہنم کے بارے میں سنے گا، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جہنم کے ارد گرد شہوات یعنی انسانوں کے پسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو دیکھ کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13195]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4744، والترمذي: 2560، والنسائي: 7/ 3، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8379»
وضاحت: فوائد: … جنت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس میں ہر قسم کا آرام، راحت اور آسائش موجود ہے۔ تاہم اس کے ارد گرد ایسے مشکل کاموں کی باڑ لگا دی گئی ہے، جن پر عمل کرنا عام طور پر انسان مشکل سمجھتے ہیں، اس کے برعکس جہنم عذاب کا مقام ہے، جہاں پر دکھ، تکلیف اور سزائیں ہی سزائیں ہیں، مگر جہنم کے اردگرد ایسے پر کشش کاموں کی باڑہے، جنہیں سب لوگ خوشی سے کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جہنم میں جائیں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. شَفَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَنَعِيمُ أَهْلِ الْجَنَّةِ
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
حدیث نمبر: 13196
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً قَالَ: وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي قَالَ: فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر جہنمی جنت میں اپنی جگہ کو دیکھے گا اور کہے گا: کاش کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہوتی، اس طرح سے یہ چیز اس کے لیے باعث ِ حسرت ہوگی، اور ہر جنتی جہنم میں اپنی جگہ دیکھے گا اور کہے گا: اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں اس مقام میں ہوتا، اس طرح سے یہ چیز اس کے لیے مزید شکر کا باعث بنے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13196]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 6569، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10660»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13197
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَيُوْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ: ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ شَرَّ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ: أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نَعَمْ فَيَقُولُ: كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ابن آدم! تم نے اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ!! بہترین ٹھکانہ، اللہ تعالیٰ کہے گا: مزید سوال کرو اورمزید تمنا کرو۔ وہ کہے گا:میں کوئی سوال نہیں کرتا اور میں کوئی تمنا نہیں کرتا، مگر یہ کہ تو مجھے دنیا میں واپس لوٹا دے تاکہ میں دس دفعہ تیرے راستے میں شہید ہو سکوں، اس کی اس بات کی وجہ شہادت کی فضیلت ہو گی، پھر ایک جہنمی آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے پوچھے گا: آدم کے بیٹے! کیسا پایا تو نے اپنے ٹھکانے کو؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بدترین جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اگر روئے زمین کے برابر تیرے پاس سونا ہوتو کیا تو اس جگہ سے بچنے کے لیے وہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، میرے ربّ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، میں نے تو تجھ سے اس سے کم اور آسان بات کامطالبہ کیا تھا لیکن تو نے تو وہ بھی نہیں کیا تھا، پھر اسے جہنم کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13197]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 1329، وابن حبان: 7350، والحاكم: 2/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13194»
وضاحت: فوائد: … آخرت کی ناکامی ملنے کے بعد زمین بھر سونا دینے کے لیے تیار ہے، لیکن آج دنیا میں ہلکی سی پابندی کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13198
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُوْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی کو لایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی اچھائی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تو نے کوئی نعمت استعمال کی؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے ربّ! اسی طرح ایک جنتی آدمی کو بلایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ دکھوں اور شدتوں والا تھا، اسے جنت میں ایک چکر دیا جائے گا، اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھے کوئی پریشانی آئی ہے؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے رب! نہ مجھے کوئی تکلیف آئی ہے اور نہ کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13198]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13143»
وضاحت: فوائد: … یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ موجودہ حالات کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے، ماضی کو بھول جاتاہے، وہ جیسا بھی ہو، یہی معاملہ اہل جنت اور اہل جہنم کا ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ صُفُوفًا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ إِذْ رَأَيْنَاهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذَهُ ثُمَّ تَنَاوَلَهُ لِيَأْخُذَهُ ثُمَّ حِيلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرْنَا ثُمَّ تَأَخَّرَ الثَّانِيَةَ وَتَأَخَّرْنَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ الْيَوْمَ تَصْنَعُ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ؟ قَالَ: ”إِنَّهُ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ قِطْفًا مِنْ عِنَبِهَا لِآتِيَكُمْ بِهِ وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَنْتَقِصُونَهُ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُّ حَرَّ شُعَاعِهَا تَأَخَّرْتُ وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي إِنْ ائْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ وَإِنْ سُئِلْنَ أَحْفَيْنَ“ قَالَ أَبِي: قَالَ زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ: الْحَفَنَ وَإِنْ أُعْطِيْنَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ قَالَ مَعْبَدٌ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ يُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شُبْهِهِ فَإِنَّهُ وَالِدُ قَالَ: ”لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْعَرَبَ عَلَى الْأَصْنَامِ“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر یا عصر کی نماز کی بات ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صفیں بنائے یہ نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے دوران اپنے سامنے کسی چیز کو بار بار پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، پھر آپ پیچھے کو ہٹے اور ہم بھی پیچھے ہٹ گئے، آپ دوبارہ پیچھے کو ہوئے،ہم بھی پیچھے ہوگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایسا عمل کرتے دیکھا ہے کہ آپ اس سے قبل تو نماز میں ایسا کوئی عمل نہیں کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت اپنی نعمتوں سمیت پیش کی گئی، میں نے اس کے انگوروں کا گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دکھاؤں، اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا اورزمین و آسمان کے درمیان موجود تمام مخلوقات اسے کھاتیں، تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہوتی، لیکن پھر میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، اسی طرح میرے سامنے جہنم کوپیش کیا گیا، جب میں نے اس کی شعاعوں کی حرارت محسوس کی تومیں پیچھے کو ہٹا، میں نے اس میں زیادہ تعداد ان عورتوں کی دیکھی کہ جنہیں جب کسی چیز کا امین بنایا جاتا ہے تو وہ اسے راز نہیں رکھتیں، اسی طرح جب سوال کرتی ہیں تو خوب اصرار کرتی ہیں، اور جب انہیں کوئی چیز دے دی جاتی ہے تو وہ خیانت کرتی ہیں، اور میں نے جہنم میں لحی بن عمرو کو دیکھا، وہ اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا تھا،اس کی شکل معبد بن اکثم کے مشابہ تھی۔ یہ سن کر سیدنا معبد بن اکثم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اس مشابہت سے ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ آخر وہ نسبی طور پر والد بنتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، (اس کا تجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا، کیونکہ) تم مومن ہو اور وہ کافر تھا، بلکہ یہ وہی شخص ہے جو عربوں کو سب سے پہلے بت پرستی کی طرف لے گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13199]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به بھذه السياقة، أخرجه عبد بن حميد: 1036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21570»
وضاحت: فوائد: … بعض روایتوں میں لحی بن عمرو کی بجائے عمرو بن لحی ہے اور یہی صحیح ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
5. التَّعَوذُ مِنَ النَّارِ وَسُوَّالُ اللَّهِ الْجَنَّةَ وَأَنَّهُمَا أَقْرَبُ إِلَى الْإِنْسَانَ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
حدیث نمبر: 13200
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس کو مجھ سے دور رکھنا، اسی طرح جوآدمی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے، توجنت کہتی ہے: اے اللہ! اس بندے کو میرے اندر داخل کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13200]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2572، والنسائي: 8/279، وابن ماجه: 4340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12194»
وضاحت: فوائد: … اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کرم نوازی ہے تو ہمیں بھی باشعور رہنا چاہیے اور کثرت سے جنت کا سوال کرنا چاہیے اور جہنم سے پناہ مانگنی چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13201
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے زیادہ تمہارے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13201]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3923»
وضاحت: فوائد: … بس موت کے قریب ہونے کی دیر ہے، سب کچھ واضح ہو جائے گا اور جنت یا جہنم کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذُ بِہٖ مِنَ النَّارِ۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. حَرُهَا وَبَرْدُ زَمْهَرِيرِهَا
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
حدیث نمبر: 13202
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ”إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا والی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ کو دو دفعہ سمندر پر ما رکر ہلکا اور ٹھنڈا کیا گیا، اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی آدمی بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13202]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البيھقي في البعث والنشور: 500، وابن حبان: 7462، وأخرجه بنحوه البخاري: 3265، ومسلم: 2843، وھو الحديث الآتي برقم (13204)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7323»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13203
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا (۱۰۰) واں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13203]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، وقد صح الحديث من طرق عن ابي ھريرة بلفظ: ((سبعين جزء ا))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8910»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13204
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَارُكُمْ هَذِهِ مَا يُوقِدُ بَنُو آدَمَ جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ“ قَالُوا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ آگ، جسے انسان جلاتے ہیں، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو عذاب دینے کے لیے تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال جہنم کی آگ اِس آگ کی بہ نسبت مزید انہتر گنا تیز ہے، ہر ایک کی حرارت اس کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13204]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3265، ومسلم: 2843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8111»
الحكم على الحديث: صحیح