الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. طَعَامُ أَهْلِ النَّارِ وَشَرَابُهُمْ وَصِفَةٌ عَذَابِهِمْ وَتَفَاوُتُهُمْ فِي ذَلِكَ
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
حدیث نمبر: 13235
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ“
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض جہنمیوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کے سینہ تک آگ ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2845، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20363»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13236
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّ الْكَافِرَ يَرَى جَهَنَّمَ وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةٍ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر کے لیے قیامت کے دن پچاس ہزار سال کی مدت مقرر کی جائے گی، جیسا کہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر جہنم کو دیکھ رہا ہوگا اور اسے یہ خیال آ رہا ہو گا کہ جہنم اسے چالیس برس کی مسافت سے بھی اپنی طرف کھینچ لے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13236]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 1385، والحاكم: 4/ 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11737»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین!
الحكم على الحديث: صحیح
13. صِفَهُ عَذَابِ إِبْلِيسَ وَذُرِّيَّتِهِ وَنِدَائِهِمْ بِالْوَيْلِ وَالثُبُوْرِ
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
حدیث نمبر: 13237
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ وَيَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ يُنَادِي: وَاثُبُورَاهْ وَيُنَادُونَ: يَاثُبُورَهُمْ“ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: قَالَهَا مَرَّتَيْنِ ”حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ: يَاثُبُورَاهْ وَيَقُولُونَ: يَاثُبُورَهُمْ فَيُقَالُ لَهُمْ: {لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا}“ قَالَ عَفَّانُ: وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ وَهُمْ يَقُولُونَ يَاثُبُورَهُمْ قَالَ عَفَّانٌ: حَاجِبَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے ابلیس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا، وہ اسے اپنی پلکوں پر رکھ کر پیچھے کو کھینچے گا، اس کے بعد اس کی اولاد کو بھی ایسا ہی لباس پہنایا جائے گا، ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت۔ دو دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، یہاں تک کہ وہ آگ پر کھڑے ہو جائیں گے، پھر ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت، اس وقت ان سے کہا جائے گا: { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا} (آج تم ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت ساری ہلاکتوں کو پکارو)(سورۂ فرقان: ۱۴)۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13237]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 168، والبزار: 3495، والبيھقي في البعث والنشور: 590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12564»
وضاحت: فوائد: … بہرحال ابلیس اور اس کی طرح کی اس کی نسل کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
14. آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ وَآخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ الْمُؤَحِدِينَ
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13238
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ: فَيَذْهَبُ يَدْخُلُ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ قَالَ: فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّهْ فَيَتَمَنَّى فَيُقَالُ: إِنَّ لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ وَأَنْتَ الْمَلِكُ“ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سب سے آخر میں جہنم سے رہا ہو کر آئے گا، میں اسے پہچانتا ہوں، وہ آدمی گھسٹ کر وہاں سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو وہ دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے مقامات میں سکونت پذیر ہیں (اور کوئی جگہ باقی نہیں رہی)، اس لیے وہ واپس آ جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! جنت میں تو لوگ اپنی اپنی منزلوں میں رہ رہے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے دنیا والا زمانہ یاد ہے، جس میں تو رہتا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو تمنا کر، چنانچہ وہ تمنا کرے گا پھراسے کہا جائے گا:تو نے جو تمنا کی ہے، وہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا کا دس گنا بھی تجھے ملے گا۔ وہ کہے گا: اے اللہ! تو توبادشاہ ہے، پھر بھی مجھ سے مذاق کرتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6571، 7511، ومسلم: 186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3595»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13239
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ وَجَدْتُّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُّهَا مَلْأَى ثَلَاثًا فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا قَالَ: فَيَقُولُ: رَبِّ أَتَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے آخر میں جنت میں جانے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا آدمی وہ ہے جو گھسٹتا ہوا جہنم سے نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں چلا جا۔ وہ وہاں آکر یوں محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! یہ تو ساری بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا جنت میں داخل ہوجا، وہ اسے پہلے کی طرح بھری ہوئی سمجھ کر واپس آجائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! وہ تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن وہ آکر پھر یہی محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے رب! جنت تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا، تیرے لیے جنت میں پوری دنیا بلکہ اس سے دس گنا زیادہ جگہ موجود ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو تو بادشاہ ہے۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم تر جنتی ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13239]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4391»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13240
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ آخِرَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ فَيَنْكِبُ مَرَّةً وَيَمْشِي مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا جَاوَزَ الصِّرَاطَ الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكَ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مَالَمْ يُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ قَالَ: فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ: أَيْ عَبْدِي فَلَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهُمَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَالرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا يَصْبِرْ لَهُ يَعْنِي عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ وَهِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ: أَيْ عَبْدِي أَلَمْ تُعَاهِدْنِي يَعْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَيُعَاهِدُهُ وَالرَّبُّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا فَيَقُولُ: رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ: أَيْ عَبْدِي أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُ غَيْرَهَا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ هَذِهِ الشَّجَرَةُ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَيُعَاهِدُهُ وَالرَّبُّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا يَصْبِرْ لَهُ عَلَيْهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ الْجَنَّةَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ: عَبْدِي أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ: فَيَقُولُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا يَصْرِيَنِي مِنْكَ أَيْ عَبْدِي أَيُرْضِيهِ أَنْ أُعْطِيَهُ مِنَ الْجَنَّةِ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ“ قَالَ: فَضَحِكَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ ضَحِكْتُ؟ قَالُوا لَهُ: لِمَ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: لِضِحْكِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَنَا: ”أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: لِضِحْكِ الرَّبِّ حِينَ قَالَ: أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے آخر میں جنت میں جانے والا پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، وہ کبھی گرے گا اور کبھی چلے گا اور کبھی آگ اسے جھلسائے گی، بالآخر جب وہ پل صراط کو پار کر جائے گا تو جہنم کی طرف دیکھ کر کہے گا: وہ اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے، جس نے مجھے تجھ سے نجات دلائی، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا کرم کیا ہے کہ اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی پر بھی ایسا کرم نہیں کیا، پھر اسے ایک درخت دکھائی دے گا، چنانچہ وہ اسے دیکھ کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ میں بیٹھ سکوں اور اس کا پانی پی سکوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے! اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو مجھ سے اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ!! میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اس کے علاوہ مزید کوئی چیز نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ ہر صورت میں اس سے مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ وہاں پہنچنے کے بعد ایسی چیزیں دیکھے گا کہ وہ صبر نہیں کر سکے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے ایک اور درخت دکھائی دے گا، جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہوگا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور وہاں کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز طلب نہیں کرے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! بس میری یہی گزارش ہے، اسے پورا کر دے، میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس بات کا پختہ عہد کرے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے جنت کے دروازے کے قریب پہلے درختوں سے زیادہ حسین درخت دکھائی دے گا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کے سائے میں آرام کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید سوال نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت تک جانے کی اجازت دے دے، میں پختہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس کے بعد تجھ سے مزید کچھ نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو علم ہے کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھے گا کہ اس سے صبر نہیں ہو سکے گا، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، جب وہ وہاں پہنچ کر اہل ِ جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا: اے میرے ربّ!مجھے جنت میں داخل کر دے، جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! بس تو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: میرے بندے! کون سی چیز مجھے تجھ سے روک سکتی ہے،کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے جنت میں پوری دنیا، بلکہ اس کی مثل ایک اور دنیا بھی دے دوں؟ وہ کہے گا: اے اللہ!تو تو ربّ العزت ہے، میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ یہ بات بیان کر کے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس قدر زور سے ہنسے کہ ان کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر انھوں نے پوچھا: تم مجھ سے میرے اس قدر زور سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ان کے شاگردوں نے کہا: جی بتلائیں کہ آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انھوں نے کہا: بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حدیث بیان کر کے ہنسے تھے اور پھر ہم سے فرمایا تھا: تم مجھ سے میرے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بندے نے جب کہا کہ اے اللہ! تو تو ربّ العزت ہے، تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ تو اس کی بات سن کر اللہ تعالیٰ مسکرا دیئے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13240]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3714»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13241
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ يُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْمُرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا فَيَقُولُ فَلَا نُعِيدُكَ فِيهَا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں کو جہنم سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پھر ان کو جہنم کی طرف واپس لے جانے کا حکم دے گا۔ ان میں سے ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ! مجھے تو ا مید تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال دے گا تو دوبارہ اس میں نہیں لوٹائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ٹھیک ہے، ہم تجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجتے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13241]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13346»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13242
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُكِبِّينَ يَبْكُونَ فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ فَيُخْبِرُهُ فَيَقُولُ ائْتِنِي بِهِ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ لَهُ يَا عَبْدِي كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرَّ مَكَانٍ وَشَرَّ مَقِيلٍ فَيَقُولُ رُدُّوا عَبْدِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تَرُدَّنِي فِيهَا فَيَقُولُ دَعُوا عَبْدِي“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بندہ جہنم میں ایک ہزار سال تک ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ!، بالآخراللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ اورمیرے اس بندے کو میرے پاس لے آؤ، جب وہ وہاں جا کر دیکھیں گے کہ جہنمی تو منہ کے بل پڑے رو رہے ہوں گے، وہ واپس آجائیں گے اور آ کر اللہ تعالیٰ کو یہ صورتحال بتائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں جگہ میں پڑے ہوئے میرے بندے کو لے آؤ، پس وہ اسے لا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے میرے بندے! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! بہت بری جگہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتو! میرے بندے کو وہیں واپس لے جاؤ، وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! مجھے تو یہ امید نہیں تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال لے گا تو دوبارہ اس میں بھیج دے گا، یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13242]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابو ظلال ھلال بن ابي ھلال القسملي مجمع علي ضعفه، أخرجه ابويعلي: 4210، والبيھقي في الاسماء والصفات: ص 84، وابن خزيمة في التوحيد: 2/ 749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13444»
الحكم على الحديث: ضعیف
15. مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَولادُ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْكَافِرِينَ
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
حدیث نمبر: 13243
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا فِي النَّارِ“ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ ”لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ ”فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ“ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} [الطور: 21]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے انجام کے بارے میں پوچھا جو دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائیں گے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس کیے تو فرمایا: اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھ لو تو تم بھی ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے، اس کا انجام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی، بیشک اہل ِ ایمان اور ان کی اولادیں جنت میں جائیں گی اور مشرکین اور ان کی اولادیں جہنم میں جائیں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُم} (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں)ان سے ملا دیں گے۔) (سورۂ طور: ۲۱) [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13243]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة محمد بن عثمان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1131»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13244
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَقُولُ أَوْلَادُ الْمُسْلِمِينَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهُمْ فَقَالَ ”اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“ قَالَ فَلَقِيتُ الرَّجُلَ فَأَخْبَرَنِي فَأَمْسَكْتُ عَنْ قَوْلِي
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک ایسا دور بھی رہا کہ جس میں میں یہ فتوی دیا کرتا تھا کہ آخرت میں مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ اورمشرکوں کی اولادمشرکوں کے ساتھ ہوں گی، یہاں تک کہ فلاں آدمی نے فلاں آدمی کے حوالے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب ان کی اولادوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے؟ پھر میں یہ حدیث بیان کرنے والے اُس آدمی کو جا کر ملا، اس نے مجھے اس حدیث کی خبردی، پھر میں نے اپنی پہلی بات کہنا چھوڑ دی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13244]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرج المرفوع منه البخاري: 6597، ومسلم: 2660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20973»
الحكم على الحديث: صحیح