🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر البيان بأن حب المرء المال والعمر مركب في البشر عصمنا الله من حبهما إلا لما يقربنا إليه منهما
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کا مال اور عمر سے محبت اس کی فطرت میں شامل ہے، اللہ ہمیں ان کی اس محبت سے بچائے سوائے اس کے جو ہمیں اس کے قریب کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3219
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَلْبُ ابْنِ آدَمَ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: طُولِ الْعُمُرِ وَالْمَالِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انسان کا دل دو چیزوں کی محبت میں ہمیشہ جوان رہتا ہے: لمبی زندگی اور مال۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6420، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1046، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3219، 3230، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8026، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11766، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6603، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8328» «رقم طبعة با وزير 3209»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1906)، «التعليق الرغيب» (3/ 105). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر البيان بأن الله جل وعلا جعل الأموال حلوة خضرة لأولاد آدم
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا نے ابن آدم کے لیے مال کو میٹھا اور ہرا بھرا بنایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3220
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، حدثاه أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، وَالِيَدُ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى" ، قَالَ حَكِيمُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنِيَا، قَالَ عُرْوَةُ، وَسَعِيدٌ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا فَيُعْطِيهِ الْعَطَاءَ فَيَأْبَى، ثُمَّ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعْطِيهِ فَيَأْبَى، فَيَقُولُ عُمَرُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قُسِمَ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى يَأْخُذُهُ، قَالَ: فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کر دیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حکیم بن حزام! «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ» ”یہ مال مزیدار اور سرسبز ہے“، جو شخص مزاج کی سخاوت کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص لالچ کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے“۔“ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں مرتے دم تک کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔ عروہ اور سعید رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں کچھ ادائیگی کرنا چاہی، تو انہوں نے وہ لینے سے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) انہیں کچھ دینا چاہا، تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے گروہ میں حکیم بن حزام کے بارے میں تم لوگوں کو گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان کا حق ان کے سامنے رکھا تھا جو مال غنیمت میں سے ان کا حصہ بنتا ہے، تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے (وصالِ ظاہری کے بعد) سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے مرتے دم تک کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6420، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1046، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3219، 3230، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8026، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11766، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6603، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8328» «رقم طبعة با وزير 3210»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من حفظ نفسه عن الدنيا وآفاتها عند انبساطه في الأموال
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے نفس کو دنیا اور اس کی آفات سے بچائے جب اس کے پاس مال کی فراوانی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الدُّنِيَا خَضِرَةٌ حُلُوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ سَيُخْلِفُكُمْ فِيهَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنِيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتِ النِّسَاءَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں رکھا ہے تاکہ اس بات کو ظاہر کرے کہ تم لوگ کیا عمل کرتے ہو، تو تم لوگ دنیا سے بچو اور خواتین سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل کا سب سے پہلا فتنہ (خواتین کی وجہ سے ہوا تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1738، 2252، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 275، 278، 1378، 3221، 5591، 5592، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1904، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3158، 4344، والترمذي فى (جامعه) برقم: 991، 992، 2174، 2191، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2873، 4000، 4007، 4011، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11173» «رقم طبعة با وزير 3211»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (486 و 911): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر تخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته من التكاثر في الأموال والتعمد في الأفعال
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر مال کے کثرت اور اعمال میں تعمد سے خوف تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3222
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ بَعْدِي الْفَقْرَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرُ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے بارے میں (مال و دولت کی) کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تمہارے بارے میں (غلطی سے کیے جانے والے گناہوں) کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے بارے میں جان بوجھ کر کیے (جانے والے گناہوں) کا اندیشہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6446، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1051، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 679، 3222، 6217، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3992، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11786، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4137، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7436» «رقم طبعة با وزير 3213»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (593). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر البيان بأن المال قد يكون فيه فتنة هذه الأمة
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ مال اس امت کے لیے فتنہ ہو سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3223
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةٌ، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ" .
سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر امت کی ایک آزمائش ہوتی ہے، میری امت کی آزمائش مال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3223، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7991، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11795، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2336، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17743، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4325، والطبراني فى(الكبير) برقم: 404، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3295» «رقم طبعة با وزير 3212»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2216). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر الإخبار بأن التنافس في هذه الدنيا الفانية مما كان يتخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته منه
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اس فانی دنیا میں مقابلہ بازی وہ چیز ہے جس سے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر خوف تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3224
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: آخِرُ مَا خَطَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ صَلَّى عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ فِي مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو آخری خطبہ دیا تھا، اس میں یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر ارشاد فرمایا: ”بے شک میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا، اور میں اس وقت بھی اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، اللہ کی قسم! مجھے یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ بات دکھائی گئی ہے کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں، تو مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1344، 3596، 4042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3198، 3199، 3224، 6595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1953، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3223، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6910، 6911، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1849، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17617» «رقم طبعة با وزير 3214»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (ص 107): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر تخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته زينة الدنيا وزهرتها
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر دنیا کی زینت اور اس کی چمک دمک سے خوف تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3225
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ أَخُوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زِينَةِ الدُّنِيَا وَزَهْرَتِهَا"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يُكَلِّمُكَ؟ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، وَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" وَرَأَيْنَا أَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ حَبَطًا، أَلَمْ تَرَ إِلَى آكِلَةِ الْخَضِرِ، أَكَلَتْ حَتَّى امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ الْمَالَ حُلُوَةٌ خَضِرَةٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ إِنْ وَصَلَ الرَّحِمَ، وَأَنْفَقَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهُ، كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زیب و زینت، آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، اس شخص سے کہا گیا: کیا وجہ ہے کہ تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ساتھ بات نہیں کی؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسینے کو پونچھا اور دریافت کیا: ”سوال کرنے والا کون شخص ہے؟“ جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی برائی کو نہیں لے کر آئے گی، لیکن بہار میں جو چیز اُگتی ہے وہ کسی کو مار دیتی ہے اور کسی کو موٹا تازہ کر دیتی ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں سبزہ کھانے والا جانور کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، وہاں لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر چلتا ہے، بے شک مال میٹھا اور سرسبز ہے اور مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، اگر مسلمان صلہ رحمی سے کام لے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے، اور جو شخص ناحق طور پر اسے حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس شخص کے خلاف گواہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3225]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1052، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3995، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11192» «رقم طبعة با وزير 3215»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (1465)، م (3/ 101 - 102). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3226
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" لا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنِيَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ قُلْتَ"؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِخَيْرٍ، وَلَكِنْ هُوَ أَنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ، وَبَالَتْ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ، فَأَكَلَتْ، فَمَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ يُبَارَكُ لَهُ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش تمہارے سامنے ظاہر کر دے گا۔“ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا کہا ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: میں نے یہ گزارش کی ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی لاتی ہے۔ لیکن اس کی مثال اسی طرح ہے، جس طرح بہار کا موسم (زیادہ کھانے والے جانور) کو مار دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا معاملہ مختلف ہے، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے، وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، تو وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر چرتا ہے اور واپس آتا ہے، تو جو شخص مال کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے، تو اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص مال کو ناحق طور پر حاصل کرتا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1052، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3995، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11192» «رقم طبعة با وزير 3216»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر وصف المال الذي يأخذه المرء بحقه
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس مال کی کیفیت کا ذکر جو آدمی اپنے حق کے ساتھ لیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3227
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنِيَا وَزِينَتِهَا"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَلُمْنَا الرَّجُلَ حِينَ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يُكَلِّمُهُ، فَلَمَّا جُلِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ يَمْسَحُ الرُّحَضَاءَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟"، فَكَأَنَّهُ قَدْ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا هِيَ امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ نِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ لِمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، فَأَعْطَى مِنْهُ الِيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ وَالسَّائِلَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ مجھے اس بات کا ہے کہ تمہارے سامنے دنیا کی چمک اور زیب و زینت کو کھول دیا جائے گا“، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو ہم نے اس شخص کو ملامت کی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تھی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے پسینے کو پونچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ تو گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی تعریف کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بھلائی برائی کو نہیں لے کر آتی، لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ کسی کو مار دیتا ہے اور کسی کو ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے، وہ کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے اور پیشاب کرتا ہے، تو یہ مال مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، لیکن اس شخص کا جو اسے حق کے ساتھ حاصل کرے اور اس میں سے یتیم، مسکین اور مانگنے والے کو دے اور جو شخص اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3227]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1052، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3995، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11192» «رقم طبعة با وزير 3217»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مكرر (3215). تنبيه!! رقم (3215) = (3225) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من مجانبة الحرص على المال والشرف إذ هما مفسدان لدينه
حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ مال اور شرف کے حرص سے بچے کیونکہ یہ دونوں اس کے دین کو خراب کرنے والے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3228
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمَخَرِّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الرَّجُلِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ" .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو بھوکے بھیڑیوں کو اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، تو وہ اسے اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال اور شرف کا لالچ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3228، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11796، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2376، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16025، 16036، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 35521، والطبراني فى(الكبير) برقم: 189» «رقم طبعة با وزير 3218»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (رقم 5 - 7). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں