🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. صَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً رَكْعَةً
نمازِ خوف ایک ایک رکعت کر کے ادا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني الأشعث بن سُلَيم، عن الأسود بن هلال، عن ثعلبة بن زَهْدَم قال: كنا مع سعيد بن العاص بطَبَرِسْتان فقال: أيُّكم صلَّى مع رسول الله ﷺ صلاةَ الخوف؟ فقال حذيفة: أنا، فقام حذيفةُ فصفَّ الناسَ خَلْفَه، وصفًّا موازيَ العدو، فصلى بالذين خَلْفَه ركعةً، ثم انصرف هؤلاء مكانَ هؤلاء، وجاء أولئك فصلى بهم ركعةً ولم يَقضُوا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
سیدنا ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سعید بن عاص کے ہمراہ طبرستان میں تھے، انہوں نے فرمایا: تم میں سے کس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صلوۃ الخوف پڑھی ہے؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ایک صف ان کے پیچھے بنائی اور ایک صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی، انہوں نے اپنے پیچھے کھڑے ہوؤں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ نماز چھوڑ کر ان کی جہ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور وہ ان کے پیچھے آ گئے، آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی اور کسی نے بھی (امام کے پیچھے پوری) نماز نہیں پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس طرح نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1260]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1261
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّنعاني، حدثنا محمد بن جُعْشُم، عن سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني أبو بكر بن أبي الجَهْم، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى بذِي قَرَدٍ صلاةَ الخوف ركعةً ركعةً ولم يَقضُوا (1) . هذا شاهد للحديث الذي قبله، وهو صحيح الإسناد.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد میں صلوۃ الخوف کی ایک ایک رکعت پڑھائی۔ اور لوگوں نے نماز قضا نہیں کی۔ ٭٭ یہ ھدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1261]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن أبي بكر بن أبي الجَهْم، عن عبيد الله بن عبد الله بن عُتْبة، عن ابن عباس قال: صلَّى رسول الله ﷺ صلاةَ الخوف بذي قَرَدٍ، فصفَّ خَلفَه صفًّا، وصفًّا موازيَ العدو، فصلَّى معه ركعةً ثم ذهبوا إلى مَصافِّ أولئك، وجاء أولئك إلى مَصافِّ هؤلاء، فصلَّوا مع النبي ﷺ ركعةً ثم سلَّم عليهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد میں (اس طریقے سے) نماز خوف پڑھائی کہ ایک صف آپ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر یہ لوگ (ایک رکعت پڑھنے کے بعد) ان کی جگہ پر چلے گئے اور وہ ان کی جگہ پر آ گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک رکعت پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1262]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1263
أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر المقرئ، حدثنا عبد الله بن محمد (1) ، حدثنا إسحاقُ بن إبراهيم، أخبرنا عقبة بن خالد السَّكُوني، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم، عن أبيه، عن سَلَمة بن الأكوع: أنه سأل رسولَ الله ﷺ عن الصلاة في القوس، فقال:"صَلِّ في القَوس، واطرَحِ القَرَن" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد (3) إن كان محمد بن إبراهيم التَّيمي سمع من سَلَمة بن الأكوع، ولم يُخرجاه.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہودیوں کے عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں نماز پڑھ لو اور جو (بت وغیرہ) سامنے ہو اس کو گرا دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگر محمد بن ابراہیم تیمی نے سلمہ بن اکوع کا یہ بیان سن رکھا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہودیوں کے عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں نماز پڑھ لو اور سامنے جو بت وغیرہ ہو، اس کو گرا دو اس حدیث کو شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1263]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني يزيد بن الهاد، حدثني شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ في صلاة الخوف قال: قام رسول الله ﷺ وطائفةٌ من خَلْفِه، وطائفةٌ من وراء الطائفة التي خَلْفَ رسول الله ﷺ قعودٌ، وجوهُهم كلُّهم إلى رسول الله ﷺ، فكبَّر رسولُ الله ﷺ، فكبَّرت الطائفتان، فركع فركعت الطائفةُ التي خَلْفَه، والآخرون قعودٌ، ثم سجد فسجدوا أيضًا، والآخرون قعودٌ، ثم قام فقاموا، ونكَصُوا خَلْفَه حتى كانوا مكانَ أصحابهم قعودًا، وأتت الطائفةُ الأخرى فصلى بهم ركعةً وسجدتين ثم سلَّم، والآخرون قعودٌ، ثم سلَّم، فقامت الطائفتان كلتاهما فصلَّوا لأنفسهم ركعةً وسجدتين، ركعةً وسجدتين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رواته غيرَ شُرَحْبيل وهو تابعيٌّ مدنيٌّ غيرُ متّهم (2) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز خوف کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے پیچھے کھڑی ہوئی۔ اور ایک جماعت ان کے پیچھے بیٹھ گئی، ان سب کے چہرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی: تو دونو جماعتوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو جو جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی، انہوں نے رکوع کر لیا اور جو ان کے بھی پیچھے تھے، وہ بیٹھے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والوں نے بھی سجدہ کیا۔ اور ان کے پیچھے والے بیٹھے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والے بھی کھڑے ہو گئے۔ پھر یہ لوگ پیچھے کھسکتے ہوئے ان لوگوں کی صف تک چلے گئے جو بیٹھے ہوئے تھے اور وہ دوسری جماعت (جو پہلے بیٹھی رہی انہوں) نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کیے۔ پھر حضور علیہ السلام نے سلام پھیر دیا اور دوسرے بیٹھے رہے۔ پھر جب آپ علیہ السلام نے سلام پھیر دیا تو دونوں جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے خود بخود ایک رکعت اور دو سجدے ادا کیے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں سوائے شرحبیل کے، حالانکہ یہ مدنی، تابعی غیر متہم ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1264]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1265
حدثنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُروة، عن عائشة قالت: صلَّى رسول الله ﷺ صلاة الخوف، قالت: فصَدَعَ رَسولُ الله ﷺ الناسَ صَدْعَتَين، فصفَّت طائفة وراءَه، وقامت طائفة وِجاهَ العدوّ، قالت: فكبَّر رسولُ الله ﷺ وكبَّرت الطائفةُ الذين صفُّوا خلفَه، ثم رَكَع وركعوا، ثم سَجَد وسجدوا، ثم رفع رأسه فرفعوا، ثم مَكَثَ رسول الله ﷺ جالسًا وسجدوا لأنفسهم السجدةَ الثانية، ثم قاموا، ثم نَكَصُوا على أعقابهم يمشون القَهْقَرى حتى قاموا من ورائهم، وأقبلت الطائفةُ الأخرى فصفُّوا خلفَ رسول الله ﷺ، فكبَّروا ثم ركعوا لأنفسهم، ثم سَجَدَ رسول الله ﷺ سجدتَه الثانيةَ فسجدوا معه، ثم قامَ رسول الله ﷺ في ركعتِه وسجدوا لأنفسهم السجدةَ الثانية، ثم قامتِ الطائفتانِ جميعًا فصفُّوا خلفَ رسول الله ﷺ، فركع بهم ركعةً فركعوا جميعًا، ثم سجد فسجدوا جميعًا، ثم رفع رأسه ورفعوا معه، كلُّ ذلك من رسول الله ﷺ سريعًا جدًّا لا يَألُو أن يخفِّف ما استطاع، ثم سلَّم رسول الله ﷺ فسلَّموا، ثم قام رسول الله ﷺ وقد شَرَكَه الناسُ في صلاته كلِّها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو أتمُّ حديثٍ وأشفاهُ في صلاة الخوف.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوۃ الخوف پڑھائی، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری دشمن کے آگے کھڑی ہو گئی، ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس جماعت نے بھی تکبیر کہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، انہوں نے بھی رکوع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، انہوں نے بھی سجدہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا انہوں نے بھی ست اٹھا لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں چلتے ہوئے پیچھے لوٹ گئے، یہاں تک کہ یہ لوگ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے، پھر دوسری جماعت آئی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی پھر انہوں نے تکبیر کہی پھر خود ہی سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا، تو انہوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اگلی) رکعت میں کھڑے ہو گئے اور ان لوگوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا، پھر دونوں جماعتیں اکٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا کر کھڑی ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رکوع کروایا، ان س نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ان سب نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھا لیا، اور انہوں نے بھی اپنا سر اٹھا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام عمل بہت تیزی سے کیا اور انہوں نے نماز کے مختصر کرنے میں ذرا کوتاہی نہ کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، انہوں نے بھی سلام پھیرا، پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز سے فارغ ہو کر جب) کھڑے ہوئے تو تمام لوگ آپ کی تمام نماز میں شرکت کر چکے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور نماز خوف کے حوالے سے یہ حدیث سب سے جامع ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1265]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. صَلَاةُ الْمَغْرِبِ فِي الْخَوْفِ مَرَّتَيْنِ مَعَ كُلِّ طَائِفَةٍ مَرَّةً
حالتِ خوف میں مغرب کی نماز دو مرتبہ پڑھنا، ہر جماعت کے ساتھ ایک مرتبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1266
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا محمد بن مَعمَر بن رِبْعي القيسي، حدثنا عمرو بن خليفة البكراوي، حدثنا أشعث بن عبد الملك الحُمراني، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ صلى بالقوم في الخوف صلاة المغرب ثلاثَ رَكَعَاتٍ ثم انصرف، وجاء الآخرون فصلَّى بهم ثلاثَ ركعات (2) . سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول:
هذا حديث غريب أشعث الحُمْراني لم يكتبه إلّا بهذا الإسناد. قال الحاكم وإنه صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز خوف کے طور پر مغرب کی نماز کی تین رکعتیں پڑھائیں، یہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے (اور چلے گئے) اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم (جنہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی) آ گئے۔ حضور علیہ السلام نے ان کو بھی تین رکعتیں پڑھائیں۔ ٭٭ (امام حاکم کہتے ہیں) میں نے ابوعلی الحافظ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ اشعث الحمرانی نے اس حدیث کو اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے، امام حاکم کہتے ہیں: یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1266]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1267
أخبرنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدَّبَّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا جَرِير بن عبد الحميد، عن منصور، عن مجاهد، عن أبي عيّاش الزُّرَقي قال: كنا مع رسول الله ﷺ بعُسْفان وعلى المشركين خالدُ بن الوليد، فصلَّينا الظُّهر، فقال المشركون: لقد أصبنا غِرّةً، لقد أَصبنا غَفْلةً، لو كنا حَمَلْنا عليهم وهم في الصلاة، فنزلت آية القَصْر بين الظهر والعصر، فلما حَضَرَت العصرُ قام رسولُ الله ﷺ مستقبلَ القبلة والمشركون أمامه، فصفَّ خلفَ رسول الله ﷺ صَفٌّ، وصفَّ بعد ذلك الصفِّ صفٌّ آخر، فرَكَع رسولُ الله ﷺ ورَكَعوا جميعًا، ثم سجد وسجد الصفُّ الذين يَلُونَه، وقام الآخَرون يَحرسُونهم، فلما صلَّى هؤلاء السجدتين وقاموا سجد الآخَرون الذين كانوا خَلفَهم، ثم تأخر الصفُّ الذي يليه إلى مقام الآخرين، وتقدم الصفُّ الأخير إلى مقام الصفِّ الأول، ثم ركع رسولُ الله ﷺ وركعوا جميعًا، ثم سجد الصفُّ الذي يليه، وقام الآخَرون يَحرسُونهم، فلما جلس رسولُ الله ﷺ والصفُّ الذي يليه سَجَدَ الآخرون، ثم جلسوا جميعًا، فسلَّم عليهم جميعًا، فصلَّاها بعُسْفان وصلَّاها يومَ بني سُلَيم (1) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عسفان میں تھے اور مشرکوں کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے، ہم نے نماز ظہر ادا کی، مشرکوں نے پروگرام بنایا کہ ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے کہ مسلمان نماز میں (جنگ کی طرف) متوجہ نہیں ہوتے، اگر ہم ان پر اس وقت حملہ کریں جب یہ نماز کی حالت میں ہوتے ہیں (تو ہمیں کامیابی مل سکتی ہے) تو ظہر اور عصر کے درمیان نماز قصر کی آیت نازل ہو گئی، جب نماز عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک صف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک اور صف بنا لی، پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں صفوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو جو صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا اور ان سے پیچھے والی صف والے صحابہ رضی اللہ عنہم ان کی حفاظت کی غرض سے کھڑے رہے پھر اگلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو پچھلی صف والوں نے سجدے کر لیے پھر اگلی صف والے پیچھے کھسک گئے اور پچھلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے (اور پیچھے والے آگے ہو گئے) پھر دونوں صفوں والوں نے رکوع کیا اور اگلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ پیچھے والے ان کی حفاظت کی غرض سے کھڑے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اگلی صف والے بھی بیٹھ گئے اور پیچھے والوں نے سجدہ کر لیا۔ پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا سلام پھیرا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز عسفان میں پڑھی اور بنی سلیم کے دن پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1267]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1268
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح، أخبرنا أبو الأسود، أنه سَمِع عروة بن الزُّبير يحدِّث عن مروان بن الحكم، أنه سأل أبا هريرة: هل صلَّيتَ مع رسول الله ﷺ صلاة الخوف؟ قال أبو هريرة: نعم، قال مروان: متى؟ فقال أبو هريرة: عامَ غزوة نَجْد؛ قام رسول الله ﷺ إلى الصلاة، صلاةِ العصر، فقامت معه طائفة، وطائفةٌ أخرى مقابلَ العدوِّ، وظهورُهم إلى القِبلة، فكبَّر رسول الله ﷺ، فكبَّروا جميعًا، الذين معه والذين مقابلَ العدوِّ، ثم رَكَع رسول الله ﷺ ركعةً واحدةً، وركعت الطائفةُ التي خَلفَه، ثم سَجَد فسجدتِ الطائفةُ التي تليه، والآخرونَ قيامٌ مقابلَ العدو، ثم قام رسولُ الله ﷺ وقامت الطائفةُ التي معه وذهبوا إلى العدوِّ فقابلوهم، وأقبلتِ الطائفةُ [التي كانت] (1) مُقابِلي العدو فرَكَعوا وسَجَدوا، ورسولُ الله ﷺ قائمٌ كما هو، ثم قاموا فرَكَع رسول الله ركعةً أخرى وركعوا معه، وسَجَد وسجدوا معه، ثم أقبلت الطائفةُ التي كانت مُقابِلي العدو فرَكَعوا وسجَدَوا، ورسولُ الله ﷺ قاعدٌ ومن معه، ثم كان السلامُ، فسلَّم رسول الله ﷺ وسلَّموا جميعًا، فكان لرسولِ الله ﷺ ركعتين (2) ، ولكل رجلٍ من الطائفتين ركعةً ركعة (3) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب صلاة الخوف [من كتاب الجنائز]
مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے (کبھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صلوۃ الخوف پڑھی ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ مروان نے پوچھا: کب؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: غزوہ نجد کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ کے ہمراہ کھڑی ہو گئی اور دوسری جماعت دشمنوں کے مقابلے میں کھڑی رہی، ان کی پشت قبلہ کی طرف تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو جتنے لوگ آپ کے ہمراہ جماعت میں شریک تھے ان سب نے تکبیر کہی اور جو دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تھے، انہوں نے بھی تکبیر کہی۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا تو آپ کے ہمراہ جو جماعت تھی، انہوں نے بھی رکوع کیا، جبکہ دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ کے ہمراہ جو جماعت تھی وہ جا کر دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور یہ جماعت جو کہ دشمن کے مقابلے میں تھی آئی، انہوں نے آ کر خود ہی رکوع بھی کیا اور سجدہ بھی کیا اور اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدستور کھڑے رہے۔ پھر یہ لوگ (دو سجدے کرنے کے بعد) کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کا رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ رکوع کیا، آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا۔ پھر وہ جماعت بھی آ گئی جو دشمن کے مقابلے میں کھڑی تھی انہوں نے آ کر خود ہی رکوع اور سجدہ کیا اور اس دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے والی پہلی جماعت کے لوگ بیٹھے رہے، اس کے بعد سلام کا موقع تھا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور آپ کے ہمراہ تمام لوگوں نے سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں اور دونو جماعتوں کی ایک ایک ہوئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1268]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں