مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الْإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ
خطبہ خاموشی سے سننے کا بیان
حدیث نمبر: 429
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَغَيْتَ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: (لَغَيْتَ) لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
ایک دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں ﴿لَغَوْتَ﴾ کی بجائے ﴿لَغَيْتَ﴾ ہے۔ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَغَيْتَ﴾ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «اخرجہ مسلم، الجمعۃ، باب فی الإنصات یوم الجمعۃ فی الخطبۃ، رقم: 851.»
11. بَابُ مِنْهُ اسْتِمَاعُ الْخُطْبَةِ وَحَظُّ الْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ
خطبہ سننے اور اس خاموش رہنے والے کے اجر کا بیان جو آواز نہیں سن پاتا
حدیث نمبر: 430
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى [ ص: 20 ] عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: فِي خُطْبَتِهِ، قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ: إِذَا قَامَ الْإِمَامُ أَنْ يَخْطُبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا، وَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنَ الْحَظِّ، مِثْلَ مَا لِلسَّامِعِ الْمُنْصِتِ، وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ، وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ، فَإِنَّ إِعْدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ عُثْمَانُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، فَيُخْبِرُونَهُ بِأَنْ قَدِ اسْتَوَتْ فَيُكَبِّرُ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ جمعہ میں اکثر فرماتے کہ جب امام جمعہ کے دن خطبہ کے لیے کھڑا ہو تو تم خاموش رہو اور غور سے سنو، اور وہ خاموش رہنے والا جو غور سے نہیں سنتا اس کے لیے بھی خاموش رہ کر غور سے سننے والے جتنا ثواب ہے۔ اور جب نماز کھڑی ہو جائے تو اپنی صفوں کو برابر کر لیا کرو اور کندھے ساتھ ملالیا کرو، کیونکہ صفوں کو برابر کرنا نماز کے مکمل ہونے سے ہے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت تک تکبیر تحریمہ نہ کہتے جب تک وہ لوگ جنھیں انہوں نے صفوں کی درستگی کی خاطر صفوں میں بھیجا ہوتا، آکر نہ کہتے کہ صفیں درست ہو چکیں، جب اطلاع ملتی پھر تکبیر تحریمہ کہتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 430]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البیہقی: 220/3 - و فی المعرفۃ السنن والآثار لہ (1755) و عبد الرزاق (5373). ومالک فی الموطا، الجمعۃ، باب ماجاء فی الإنصات یوم الجمعۃ والإمام یخطب.»
12. بَابُ صَلَاةِ رَكْعَتَيِ الْمَسْجِدِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ
امام کے خطبہ دینے کے دوران مسجد کی دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 431
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ:"أَصَلَّيْتَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:"فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" .
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: ”نہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الجمعۃ، باب من جاء والامام یخطب صلی رکعتین خفیفتین (931) ومسلم، الجمعۃ، باب التحیہ والإمام یخطب (875).»
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَابِرٍ: وَهُوَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ.
ایک اور سند سے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے، اس حدیثِ جابر میں یہ زیادتی ہے کہ وہ (داخل ہونے والے) سلیک الغطفانی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «اخرجہ مسلم، الجمعۃ، باب التحیہ والإمام یخطب (875).»
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي [ ص: 22 ] سَرْحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ جَاءَ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لَأَدَعَهَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ:"أَصَلَّيْتَ"؟ قَالَ: لَا، قَالَ:"فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، قَالَ: ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا الرَّجُلَ ثَوْبَيْنِ. فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَصَلَّيْتَ"؟ قَالَ: لَا، قَالَ:"فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ يَعْنِي: فَطَرَحَ، يَعْنِي: ذَلِكَ الرَّجُلُ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:"خُذْهُ خُذْهُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"انْظُرُوا إِلَى هَذَا جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَطَرَحُوا ثِيَابًا فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ". أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ آئے جبکہ مروان کھڑا خطبہ دے رہا تھا تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں، پولیس والے ان کو بٹھانے کے لیے آئے، تو انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ دو رکعتیں مکمل پڑھ لیں۔ جب ہم نے نماز مکمل کی تو ہم ان کے پاس آئے۔ ہم نے کہا: ”اے ابوسعید! قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ زیادتی کرتے“، تو ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا اسے کسی اور وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ خطبہ دے رہے تھے کہ پراگندہ حالت والا ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے (تحیۃ المسجد) پڑھی؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھ“۔ ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی تو انہوں نے کپڑے (صدقہ میں) دیے۔ ان کپڑوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو دو کپڑے دیے۔ جب دوسرا جمعہ آیا، وہ آدمی پھر آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”کیا تو نے نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“۔ پھر لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی تو اس آدمی نے بھی اپنا ایک کپڑا اتار کر بطور صدقہ پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکارا اور فرمایا: ”اس کو اٹھا لے، اس کو اٹھا لے“۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کی طرف دیکھو، یہ پچھلے جمعہ کو پراگندہ حالت میں آیا تو میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا، لوگوں نے کپڑے دیے تو میں نے ان میں سے اسے بھی دو کپڑے دے دیے۔ اور یہ اس جمعہ کو آیا، میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک دے دیا ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذي، الجمعة، باب ماجاء في الركعتين اذا جاء الرجل والإمام يخطب (511) . وقال: حسن صحيح والنسائي، الجمعة، باب حث الامام على الصدقة يوم الجمعة في خطبته (1409) . وابوداود (1116) . وابن ماجة (1113).»
13. بَابُ تَحْوِيلِ النَّاعِسِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ
امام کے خطبہ دینے کے دوران اونگھنے والے کی جگہ بدلنے اور چھینکنے والے کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 434
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ [ ص: 23 ] ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: لِلرَّجُلِ إِذَا نَعَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْ يَتَحَوَّلَ مِنْهُ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ایک آدمی کو جب جمعہ کے دن اونگھ آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اپنی جگہ بدل لے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 434]
تخریج الحدیث: «اخرجہ ابن ابی شیبہ، رقم: 5248 . والبیہقی فی المعرفۃ السنن والآثار (1794) . وقال الموقوف اصح وفى الکبری لہ: 338/3 . وقال ”ولا يثبت رفع هذا الحديث والمشهور عن ابن عمر.“»
حدیث نمبر: 435
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَشَمِّتْهُ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کے روز کسی آدمی کو چھینک آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تو اس کو جواب دے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف لضعف شیخ الشافعی والإرسالہ، اخرجہ البیہقی (2233) . وفى المعرفۃ السنن والآثار (1763).»
14. بَابُ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَا قُرِئَ فِيهَا وَالِاعْتِمَادِ عَلَى الْعَصَا
جمعہ کے دن خطبہ، اس میں کی جانے والی قرات اور لاٹھی پر ٹیک لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 436
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ قَائِمًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز دو خطبے کھڑے ہو کر دیتے اور ان کے درمیان بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 436]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف، لضعف شیخ الشافعی، لکن المتن صحیح من طريق آخر، وانظر الحديث الآتي، اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1705) . والبغوى: (1073).»
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «صحیح من غیر ھذا الطریق، اخرجہ البخاری، الجمعۃ، باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ (928)، (920) ومسلم، الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة (861).»
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَخْطُبُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ قِيَامًا يَفْصِلُونَ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ حَتَّى جَلَسَ مُعَاوِيَةُ فِي الْخُطْبَةِ الْأُولَى فَخَطَبَ جَالِسًا، وَخَطَبَ فِي الثَّانِيَةِ قَائِمًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جمعہ کے روز منبر پر کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے اور ان دو خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فرق کرتے، یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلا خطبہ بیٹھ کر دیا اور دوسرا خطبہ کھڑے ہو کر۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف، لضعف شیخ الشافعی، اخرجہ البیہقی فی المعرفۃ السنن والآثار (1709).»