مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ وَضْعِ الْمِنْبَرِ وَحَنِينِ الْجِذْعِ
منبر رکھنے اور کھجور کے تنے کے رونے کا بیان
حدیث نمبر: 469
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَتَتْ.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تو مسجد کے ستونوں میں سے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منبر بنا دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہوئے تو یہ ستون بے چین ہو گیا جیسے اونٹنی کا چھوٹا بچہ بے چین ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد والوں نے اس کی بے چینی کو سنا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس کو دلاسہ دیا (پیار کیا)۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الجمعة، باب الخطبة على المنبر (918)، (2095).»
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهُ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَعِدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ صَعِدَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى ثُمَّ سَجَدَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.
ابو حازم سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنا ہوا تھا؟ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زندہ لوگوں میں سے مجھ سے بڑھ کر یہ کوئی بھی نہیں جانتا، وہ غابہ کے جھاؤ سے بنا تھا۔ فلاں عورت کے آزاد کردہ فلاں غلام نے بنایا تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ کیا، پھر تکبیر کہی، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر پیچھے کو اترے اور سجدہ کیا، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر نیچے کو اتر کر سجدہ کیا۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الجمعة، باب الخطبة على المنبر (917) ومسلم، المساجد، باب جواز الخطوة والخطوتين في الصلاة وأنه لا كراهة ذلك ..... الخ (544).»